کچھ ہے فضا میں اذنِ جفا ظلمِ ناروا
ہر سو ہے شورِ آہ و بکا و ستم بلا
دارِ عنانِ ظلمت و وحشت میں شب چراغ
لبہاے بے ضمیری پہ قفل و دغل ریا
کب تک یدِ شرور میں ہٹلر کا نظم ہو
کب تک دلوں میں خوفِ دروغ و دجل دغا
اے اہلِ ہند صحنہ ءِ ہستی میں رو سیاہ
کیوں کر مٹاتے عزتِ اسلاف یوں بھلا
اب بھی اگر نہ ہوش میں آئے تو جان لو
ڈر ہے کہیں نفوسِ وطن بھی ہوں بے رسا
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

