تنگ نظر،کم ظرف اور متعصب ذہنوں کی پوشیدہ سازشوں کا نتیجہ
گیا شہر کے انوگرہ میموریل کالج کے بورڈ سے اردو عبارت کو ہٹانا افسوس ناک
اردو زبان ہندوستانی تہذیب کی عکاس ہے۔ بے شمار ہندو ، مسلم اور سکھ کے دلوں پر ابھی بھی راج کر تی ہے ۔گنگا جمنی تہذیب کی وارث اردو کے ساتھ جو سوتیلا بر تاؤتقسیم ہند کے بعد شروع ہو ا تھا اس کا سلسلہ ہنوز باقی ہے ۔ویسے تو ہمارا ملک دل میں ’وشو گرو‘ بننے کا خواب لئے دن بدن ترقی کی راہ پر گامزن ہے مگر چند کم ظرف حضرات اپنے ذاتی مفاد کی خاطرملک میں نفرت ، تعصب اوار فرقہ واریت ہوا دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے ۔اس قسم کے لو گوں کوگنگا جمنی تہذیب کے خوبصورت سنگم سے کوئی سرو کارنہیں۔ مذہبی رواداری اوربھائی چارگی کا گلا گھونٹ کر ملک میں قائم امن و سکون کو بر باد کر دینا چاہتے ہیں ۔ ملک کی تعریف میں قصیدے پڑھنے اورشور و غوغہ کر کے بھولی بھالی عوام کو اپنا گرویدہ بنا لینے کا ہنر جانتے ہیں ۔ کم علمی ، تنگ نظری اور جہالت کی کو کھ سے ہی ایسے افراد جنم لیتے ہیں جب تک ان کے سروں پر عدالت کا ہتھوڑا نہیں چلتا تب تک ان کے دماغ پر تعصب کا بھوت سوار رہتا ہے۔
ابھی چند دنون قبل کا واقعہ ہے جب صوبہ بہارکے گیا شہر میں انوگرہ میموریل کالج کے بورڈ سے اردو عبارت میں تحریر کالج کے نام کو ہٹادیا گیا ۔ ہزاروں محبانِ اردو میں کالج کے پرنسپل کے اس فیصلے سے ناراضگی ہے ۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ جلد از جلد اس معاملے کی جانچ ہواور اور اس متعصبا نہ ذہنیت کے خلاف سخت قدم اٹھایا جائے۔ اردو کو صوبہ بہارکی دوسری سرکاری زبان ہونے کا درجہ حاصل ہے۔اس سلسلے میں حکومت بہار کی جانب سے یہ احکام جاری ہیں کہ سرکاری اداروں اور دفتروں کے بورڈ پر ہندی اور اردو دونوں زبانوں میں نام لکھا ئے ۔انوگرہ میموریل کالج کے طلبہ کے احتجاج کے بعد کالج کے پرنسپل نے یہ تو نہیں کہا کہ کالج کے بورڈ پر اردو میں نام پھر سے لکھا جائے گا بلکہ انہوں نے یہ کہہ کر طلبہ کو واپس کر دیا کہ اس کی تفتیش کرائیں گے کہ بورڈ کس فنڈ سے تیا ر کیا گیا ہے۔ یہ ایک غیر ذمہ دارانہ جملہ ہے ۔اس جملے سے کسی سازش بو آتی ہے ۔ بہر کیف یہ کوئی پہلا معاملہ نہیں ہے جو اردو دشمنی کو ظاہر کر تا ہو بلکہ ماضی میں بھی ایسے واقعات ہوتے رہے ہیں ۔اس طرح کے واقعات تنگ نظراور متعصب ذہنوں کی پوشیدہ سازشوں کا نتیجہ ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں ’اماوس میں خواب ‘ قربانی کی انوکھی داستان – ابوحذیفہ )
ملک کی آزادی میں نمایاں کردار ادا کرنے والی زبان آج اپنے ہی گھر میں سوتیلا پن کا شکا ر ہے ۔ ایک دور تھا جب اردو زبان ملک کی سب سے پسندیدہ زبان تھی اور بلا تفریق مذہب و ملت یہ زبان بولی و سمجھی جاتی تھی ۔ اس کی شہرت اور مقبو لیت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ’مہاتما گاندھی اور جواہر لا ل نہرو‘جیسی عظیم شخصیتیں اپنی تحریر ، تقریر اور گفتگو میں اس زبان کا بھر پور استعمال کر تی تھیں۔سیاست کے علاوہ اد ب میں ’پنڈت رتن نا تھ سر شار،پریم چند ، کرشن چندر ، راجیند رسنگھ بیدی ،چکبست اور فراق گورکھپوری ‘جیسے با کمال ادیب اردو ادب میں اپنی خدمات انجام دے رہے تھے۔یہ وہ لوگ تھے جو عوام سے جڑے ہوئے تھے اور انہیں کے مسائل کو اپنے ادب کا حصہ بنا تے تھے ۔مندر جہ بالا سطور علی الاعلان اس بات کی طرف دلالت کرتی ہیں کہ اس وقت عوام بلا تفریق مذہب وملت اس زبان کو جانتی اور سمجھتی تھی۔
غیرمنقسم ہندو ستان میں اس کی جڑیں کافی مضبوط تھیں ۔مگر جس طرح تقسیم ہند کے مضرو منفی اثرات دیگر شعبوں پر پڑے لازمی تھا کہ اس کا اثر زبان پر بھی پڑتا جو پڑا اور تقسیم ہندکے ساتھ ہی تقسیم زبان کا بھوت بھی نمودار ہو گیا ۔تنگ نظرومتعصب سیاسی رہنماؤں نے اپنی سیاست چمکا نے کیلئے ملک کے قانون کو طاق پر رکھ کرکبھی پوشیدہ اور کبھی اعلانیہ اس بھوتیا کھیل کا کھیل شروع کر دیا ۔تقسیم ہند کے ہولناک واقعات سے کراہتی و سسکتی معصوم عوام رہنماؤں کے اس کھیل کا حصہ بنا دی گئی اور اردو و ہندی زبان مسلم و غیر مسلم کے نام سے منسوب کر دی گئی۔جس کا سلسلہ ہنوز بر قرار ہے ۔ اسی کی ایک کڑی انوگرہ میمور یل کالج میں پیش آنے والا یہ ایک واقعہ ہے۔
یہ ایک ایسی زبان ہے جو بارہا ان عتاب کا شکار ہوتی رہی ہے مگر اس کا جادو ایسا ہے کہ وہ اس عتاب کو جھلنے کی بھر پور صلا حیت رکھتی ہے ۔ سوتیلا بر تاؤ اور حکومتوں بے توجہی کے با وجود یہ زبان دلوں پر راج کرتی ہے۔کسی زبان کو کسی مخصوص مذہب جو ڑ کردیکھنا سرار غلط ہے ۔سیاسی مفاد کی خاطرملک میں فر قہ واریت کو ہوا دیکر اپنا الو سیدھا کرنے والے کم ظرف حضرات ملک میں امن و امان ختم کر دینا چاہتے ہیں۔ حکومت بہار سے ہم پر امیدہیں کہ اس صوبے میں اردو کے ساتھ ہو نے والے سوتیلا بر تاؤ پر جلد از جلد روک لگائے گی ۔
ابو حذیفہ
اسسٹنٹ پروفیسر ،شعبہ اردو
مرزا غالب کالج ۔گیا
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

