Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
ناول شناسی

 ’اماوس میں خواب ‘ قربانی کی انوکھی داستان –    ابوحذیفہ

by adbimiras ستمبر 23, 2021
by adbimiras ستمبر 23, 2021 0 comment

’اماوس میں خواب‘ صرف ایک ناول ہی نہیں بلکہ ہندوستان کی تہذیبی ،معاشرتی اور تاریخی حقائق کی ایک ایسی داستان ہے جس میں انسانیت لہو لہان نظر آتی ہے اور کسی نامعلوم مددگار کے انتظار میں ہے کہ وہ آئے اور اسے اپنی جادوئی طاقت سے اس کے برسوں پرانے ناسور کو پل بھر میں ختم کردے ۔حقیقت یہ ہے کہ اپنے فن میں ماہر سینکڑوں جادوگر آئے مگر ناسور میں کمی کے بجائے اس کی شدت میں مزیداضافہ کر کے چلے گئے۔ وقت کے بادشاہ اپنے اپنے حصے کا حق لوٹتے چلے گئے اور بے چاری عوام ہر نئے بادشاہ کی تاج پوشی پرامیدکا دامن تھامے مستی میں ناچتی رہی، اپنے خوابوں کے شرمندہ تعبیر ہونے کی لالچ میں پچھلے سارے درد بھول گئی۔ہمارے ملک پر اماوس کی کئی راتیں آئیں اور سرکتی چلی گئیں ، عوام خواب پر خواب دیکھتی رہی اور اماوس تاریک پر تاریک ہوتی رہی ۔ پروفیسر حسین الحق کا ناول ’اماوس میں خواب‘ انہیں خوابوں کاگلدستہ ہے جسے ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ۲۰۲۰سے نوازہ گیا ہے۔ اس خواب میں تقسیم ہند کا درد، ہندو مسلم فسادات، فرقہ واریت ، نقلی چہرے، اوجھی سیاست وغیر ہ سب کچھ ہے مگرجس صبح کی تلاش ہے ابھی اس کا انتظار ہے۔ ناول کاایک ایک واقعہ ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ جس صبح کی خاطرملک کو ذبح کیا گیا اور دو دھڑوں میںتقسیم کر دیا گیا اور ساتھ ہی اس کے رستے لہو سے سرحدیں آباد کر دیں گئیں۔ نہ وہ خواب شرمندہ تعبیر ہوئے اور نہ ہی وہ صبح نمودار ہوئی جس کی ہمیں تلاش تھی ۔

حسین الحق کا ناول ’اماوس میں خواب۲۰۱۷میں منظر عام پر آیا۔ ان کے دیگر ناولوں میں’’بولومت چپ رہو ۱۹۹۰‘ اور ’’فرات ۱۹۹۲‘‘ شائع ہو چکے ہیں۔افسانوں کے سات مجموعے ’’پسِ پردہ شب، صورتِ حال، بارش میں گھرا مکان، گھنے جنگلوں میں،مطلع، سوئی کی نوک پررکا لمحہ اور نیو کی اینٹ‘‘ قارئین کی دلچسپیاں بٹور چکے ہیں۔انہوں نے فکشن کے علاوہ شاعر ی میں بھی قسمت آزمائی ہے۔ ان کی نظموں کا مجموعہ’آخری گیت‘ ہے۔ان کے ناولوں اوربیشتر افسانوں کا موضوع ہندو ستان میں فرقہ وارانہ فسادات ہیں ۔ ناول نگار نے تقسیمِ ہند، فسادات ِبھیونڈی، مالیگاؤں، گجرات، بابری مسجد،لو جہاد اور گئو رکچھا جیسے موضوعات پر پینی نظر رکھتے ہوئے موجودہ سیا سی و سماجی تنا ظر میں ان کا گہر ائی سے مطالعہ کیا ہے تب جا کر ناول’اماوس میں خواب‘ منظر عام پر آیا۔یہ ناول۳۴۷ صفحات پر مشتمل ہے۔ ناول کے ابتدائی صفحات ،مادروطن کی مٹی اور قربانی کے جذبات سے سر شار ہیں۔اس کا انتساب ’’مادر وطن ہندستان کے نام‘‘ کیا گیاہے۔ اور ایک شعر بھی درج ہے جسے اس ناول کا نچوڑ کہا جا سکتا ہے۔

مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے

وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے

اس سے پہلے صفحے پر ایک شعر تحریر ہے ۔

نہ ہا را ہے عشق اور نہ  دنیا تھکی ہے

دیا جل رہا ہے، ہو ا چل رہی ہے۔

ناول میں موجود یہ دو اشعار ہندوستان میں مسلمانوں کی روداد کو بیان کرتے ہیں۔ یہاں مسلمانو ں کو ایک ایسے عاشق سے تعبیر کیا گیا ہے جو اپنے دکھ درد کی پرواہ کئے بغیر آزادی کے بعد سے آج تک مادر وطن کے لئے اپنے آپ کو قربان کرتا رہا ہے۔ مصائب کی لا کھ آندھیاں چلیں مگر یہ ثابت قدم رہا، ہر غم کو پینے کا ہنر اس عاشق میں موجود ہے۔ مگر اس بے لو ث محبت کا نتیجہ یہ ہواکہ ملک کے ماہر جادوگر وں نے اس کے ایثار و قر بانی سے اپنا مستقبل تو سنوارلیا مگر عشق میں سر شار اس عاشق کواس بات کا احساس تک نہ ہونے دیا کہ وہ اس کی نسلوں کا کتنا نقصان کر گئے۔ انہیں عا شوں میں سے ایک عاشق حسین الحق نے جب ا پنے عشق کا جائزہ لیا تو پتہ چلا کہ ’ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں‘۔ایسے بہت سے جا دو گر آئیں گے ،اپنا ہنر دیکھا ئیں گے اور اس گنگا جمنی تہذیب کی چمک کو دھندلا کر کے نکل جائیں گے۔ مگر ابھی مادر وطن سب کچھ خاموش دیکھ رہی ہے ایک نہ ایک دن وہ اپنے عاشق کا دیدار کر یگی۔ ابھی تو اماوس کی رات ہے صبح ہو ئی نہیں ہے جسے ہم صبح سمجھ رہے ہیں وہ حقیقی نہیں ہے بلکہ وہ خواب اور صرف خواب ہے۔ (یہ بھی پڑھیں اماوس میں خواب : معاصر ہندستان کا استعارہ- ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی )

اسماعیل اس ناول کا مر کزی کر دار ہے۔ وہ بھونڈی،مہا راشٹرا میں ہو ئے فسادات سے پریشان ہو کر وہاں سے نکل جا تا ہے اور سکون کی تلاش میں ملک کے مختلف حصوں کا سفر کرنے پر مجبور ہو جا تاہے آخر کا ر بہار کا رخ کر تا ہے جس کے لئے یہ مشہور تھا کہ یہاں فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوتے، مگر یہاں بھی وہ چین سے نہیں رہ پاتا۔یہاں کے حالات بھی سیاست کے ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ایک دن وہ کسی بم دھماکے میں موت کی نیند سلا دیا جا تا ہے، اس کی موت کے بعد اس کی اولا د اذیت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جا تی ہے ۔ ناول نگار نے اسماعیل کی اولاد کو ہندوستانی مسلمانوں کی نئی نسل سے تعبیر کیا ہے کہ اسماعیل کی یہ اولاد آ ج بھی اسی مشکلات سے دو چار ہے۔

اسما عیل کے خواب سے ناول کی شروعات ہو تی ہے۔وہ دن میں بھی خواب دیکھتا ہے اور رات میں بھی، حالت یہ ہوگئی ہے کہ اسے یہ سمجھ نہیں آتا کہ آخر یہ خواب اسے کیوں آتے ہیں؟ کیا اس کے وجود پر کسی اور قبضہ ہے؟ اگر یہ خواب اس کے نہیں ہیں تو کون ہے جو اس کی مرضی کے بغیر اسے خواب دیکھنے پر مجبور کر تاہے۔ آزادی کے بعد لوگوں کے ذہن میں جس طرح کی بے چینی ، نفرت اور غصہ تھا، مذہبی عداوت بڑھ رہتی تھی، بھائی بہن کو، باپ بیٹے کو، شوہر بیوی کو، بیوی شوہر کو،کھو چکے تھے، ہر ایک دل درد و غم کے بو جھ سے دبا تھا، اس وقت انہیں سہارے کی ضروت تھی مگر مدد گار کوئی نہیں تھا، ایسے میں خواب ہی ایک سہار ا تھا ۔مگر خواب پر بھی ان کا اختیار نہیں تھا کیونکہ ایک ہوں تو خیر مگر یہاں تو قطاریں لگی پڑیں ہیں، ناول کا مرکزی کردار اسماعیل ان  لاوارث سپوتوں میں سے ایک ہے جن کے اجداد تقسیم ہند کی نذر ہو گئے۔ تقسیم ہند سے پیدا کربناکی اور ذہنی انتشاراور اس کے مضراثرات جو ہندوستانی تہذیب کے لئے ایک ناسور بن چکے ہیں جس سے ملک ابھی تک ابھر نہیں پایا ہے۔ جووقت بوقت فرقہ وارانہ فسادات کی شکل میں گنگا جمنی تہذیب پر کاری ضرب بن کر گرتا رہتا ہے۔ ناول میں انسان اسی کے ذہنی کرب کو بیان کیا ہے۔اقتباس ملاحظہ ہو۔

’’اسے نہیں معلوم تھا اسے بار بار بس یہ احساس ہو تا کہ وہ بھکاری ہے ، خواب کا بھی اور بیداری کا بھی ۔سارے کا سارا ہندو ستان جاگتے سوتے اس کے آپے سرآپے میںچو کڑیاں بھر تا، کچوکے لگا تا، غراتا،نوچتا،بھنبھوڑتا، پھر کبھی پاس آ تا، اس کے آنسوپونچھتا، اس کی مرہم پٹی کر تا، اسے پیار کر تا اور رگ و ریشے میں اپنے تما م ذائقوں کے ساتھ اتر تا چلا آتااور دماغ میں ہا ہا کار سی مچی رہتی۔‘‘۲۲

جس طرح خواب میں کوئی ترتیب نہیں ہو تی ۔ کب کون سا واقعہ ختم ہوجائے کو ن شروع ہو جائے اس کا کوئی پتہ نہیں۔ اسی طرح ناول کے ابتدائی صفحات میںمتعدد واقعات ایک ساتھ چلتے رہتے ہیں ۔ عشق کے ساتھ ساتھ ، تاریخی حقا ئق بھی اسماعیل کے ذہن میں ہیں وہ انہیں ایسے ہی قبول نہیں کر لتیا ہے بلکہ اس پر تنقید بھی کر تاہے۔ناول کے ابتدائی صفحات سے ہی کئی کہانیاں اور کردار ایک ساتھ چلتے ہیں ۔ رکمنی ایک ایسا کردار ہے جس کا بال وواہ ہو اہے اور اس کے شوہر کا انتقال ہو گیا ہے۔وہ بھجن کر تن کرتی ہے اور بہت ہی سادہ لو ح ہے، اسماعیل سے ا س کی دوستی ہے۔ مگر جب وقت بد لتا ہے اور رکمنی چار نامعلوم لڑکوں کے زنا با الجبر کا شکا ر ہو جاتی ہے، سسر ال والے اسے ان چار لڑکوں کی غلطی کی سزا دیتے ہیں اور اسے گھر سے نکال دیتے ہیں۔ بعد میں و ہ سنگھ پریوار کا حصہ بن جا تی ہے اورمسلمانوں کے خلاف زہر اگلتی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کے بر باد ہونے میں مسلمانوں کا کوئی رول نہیں ہے۔دوسرا کردار ’تمکنت‘ ہے جو مسلم معاشرے کی ان لڑکیوں کا کردار ہے جو وفا و اور قر بانی کی دیوی ہیں۔تمکنت‘اپنی مرضی کے خلاف زبر دستی بیاہ دی جا تی ہے ۔ وہ اپنے رشتے سے پریشان ہے مگر بھائی کی مرضی اور خوشی کی خاطر اپنی زندگی داؤں پر لگادیتی ہے۔ اس کے علاوہ تقسیم ہند، آزادی، بنگلہ دیش،جے پر کا ش نرائن، کانگریسی و غیر کا نگریسی،چھا تر نیتا لا لو یادو اور اندرا گاندھی اور سنگھ پریوار یعنی ہندوستانی سیاست کا رخ موڑنے والے تمام جادوگرایک ایک کر کے سامنے آتے رہتے ہیں اور ساتھ ہی ایک طرف بیچارہ مسلمان اپنی قربانی کاجھولالئے اس امیدمیں ہے گھڑاہے کہ مادروطن کبھی تو اس پرنظر کرم کرے گی ۔

آزادی کے بعد مسلم قوم نے آنکھ موند کر کانگریس پر بھر وسہ کیا اور ہر قدم پر اس کا ساتھ دیا مگر دوسری جانب سیاسی ہو انے رخ بدلا اور غیر کانگریسی خیمہ مد مقابل آیا ۔ کانگریس کی نییا ڈوب گئی تب بھی مسلمانوں نے مورچہ سنبھالے رکھا۔چین سے جنگ ہو ئی اس کے بعد جمشید پو رکا فساد ہواپھر ۱۹۶۷میں اردو کے مسئلے پر رانچی رائٹ ہو ا۔ اس کے بعد بھیونڈی اور بمبئی میں بھی مسلمان مارے گئے۔ اند را گاندھی کی امرجنسی میں بھی مسلمانوں کو خاصہ نقصان ہوا ان تما م کے با وجود مسلمانوں کے پاس کوئی دوسرا راستہ ہی نہیں تھا۔ کانگریس نے اس مجبوری کو اپنی طاقت کے طور پر استعمال کیا اور اس کا خامیاضہ مسلمانوں کو بھگتناپڑا، جو خواب دکھائے گئے وہ بس خواب ہی رہے۔ مسلمانوں کو سہارے کی ضرورت تھی اور مٹی کا حق ادا کرنے کی ذمہ داری بھی انہیں مسلمانوںکے سر تھی کیونکہ یہ بائی چا نس نہیں بلکہ بائی چوائس ہندوستانی تھے۔ ناول میں اس مسئلے کو بڑی ہی خوبی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔اقتباس ملاحظہ ہو۔

’’کہتے ہیں کہ پہلا پیار اور آخری پیار سانس ٹوٹنے تک ساتھ نباہتا ہے۔ کانگریس ہندوستانی مسلمانوں کا پہلا پیار ہے۔ کانگریس بھی جا نتی ہے کہ ہندوستانی مسلمان لا کھ بدکیں مگر جائیںگے کہاں۔۔۔۔ غیر کانگریسیوں نے تو مسلمانوں کو کانگریس کی داشتہ تک کہہ دیا۔‘‘ص۔۲۳

بہار کی سیاست اور تبدیل ہوتے سیاسی ماحول پر ناول نگار گہری نظر رکھتے ہیں ۔اس سیاست کو انہوں نے قریب سے دیکھا اور سمجھا بھی ہے۔بہار کی سیاست میں مسلم یادو کے ایک پلیٹ فار م پر آ جانے سے نئے سیاسی دور کا آ غاز ہو ا سیاسی جادو گروں نے ان دونوں کے آگے خوب ڈو مری بجائی اوردونوں ان کے اشارے پر ناچتے رہے ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ یہاں بھی دیگر  برادریوں کی نظر میں مسلمان کھٹکنے لگا اور دوریاں بڑیتی گئیں۔ بہار میں لالو ، نتیش، یادو ، بھومیہار اور راجپوت کے درمیان ہی سیاست کی کرسی کھومتی ہے ۔ذات پات اس سیاست میں اہم کر دار ادا کرتے ہیں۔آزادی کے بعد ملک کی سیاست نے کئی کروٹیں بدلیں مگر بہار میں سیاست ذات پات کے دائرے سے باہر نہ نکل سکی ۔ اسماعیل جب در در کی ٹھوکریں کھاتا ہوابہار پہنچتا ہے ۔یہاں اس کی ملاقات فیضان میرانی اور انیل شر ما سے ہوتی ہے ۔ جب وہ ایک گوالا کے بجائے بھومیہار کا ساتھ دیتا ہے تب اس پر یہاں کی سیاست کے راز عیاں ہوتے ہیں ۔ (یہ بھی پڑھیں حسین الحق : جوزف کے زندہ ہے – مشرف عالم ذوقی )

’’اِس سالے کو دیکھو،یہ میاں ہے سالا؟ یہ بھومیہار کا ساتھ دیتاہے؟ سالا بھومیہارکا ساتھ دیتاہے‘‘فیضان اُس وقت وہاں نہیں تھا،بعد میں پہنچا۔اسماعیل نے تفصیل بتائی۔۔۔۔۔۔۔وہ لڑکا گوالا ہے،بہار میں مسلمان گوالوں کے ساتھ ہیں اور گوالا بھومیہار کیخلاف ہے۔اب تم گوالے کے خلاف جاکر اور بھومیہار کے ساتھ ہوکے لڑنے لگے تو اُس پر جھلاہٹ تو طاری ہونی ضروری تھی۔یہ ایک نیا منظرنامہ تھا اور اسماعیل کو جگہ جگہ اس کا سامنا کرنا پڑا‘‘(ص۔۹۴)

بہا رکی اس سیاست سے مسلمانوں کا صرف اتنا فائدہ ہو اکہ وہ حکومت بنانے میں شامل رہے اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ بہار ہندو مسلم فساد سے محفو ظ ہے۔ یہاں ان کے ووٹ کی اہمیت تو ہے مگر صرف اس حد تک کہ وہ کسی پارٹی کے وٹربنیں۔نہ ہی مسلمانوں نے سیاسی پارٹی بنائی اور نہ ہی مسلم لیڈروں کو ابھرنے کا موقعہ دیا گیا۔اس کا نقصان یہ ہو ا کہ تعلیمی و معاشی میدان میں وہ دوسری برادری سے پیچھے رہ گئے۔مسلم اور یادو وٹروں نے اتحاد قائم کیا اور اپنی سرکار بنائی مگر یادو ہر میدان میں اپنی جگہ پکی کرتے گئے اور سر کاری و غیر سرکاری نوکریوں تک پر ان کا قبضہ ہو تا گیا اور مسلمان حاشئے پر چلا گیا اور اسے احساس تک بھی نہ ہونے دیا۔بہا رجیسی پر امن ریاست میں بھی اس کے خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے۔

بہار میں الیکشن کے طریقہ کار کو بھی اس ناول میں بڑی ہی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ یہاں الیکشن ڈیوٹی عذاب سے کم نہیں ہے۔ اسکول سے کالج تک کے ٹیچر اس ذمہ داری سے بھاگتے پھر تے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح اس لسٹ سے ان نام کٹ جائے۔ بو تھ کیپچرنگ، لڑائی، گولی باری بہار میں عام بات ہو گئی تھی۔ ابھی بھی نچلے سطح کے الیکشن میں اس کا نمونہ مل ہی جا تا ہے۔ یہاں عام انسا ن کی زبا ن کی کوئی وقعت نہیں وہ بس تماشائی ہے اور اس کا مقدر بھی یہی ہے۔وہ بول نہیں سکتا اورنہ ہی احتجاج کر سکتا ہے ورنہ بوتھ کے ساتھ اس کو بھی ا ٹھا لیا جا ئے گا۔یہ کسی قانون میں لکھا نہیں ہے مگر اس قانون کا حصہ ہے جو لکھا نہیں گیاہے۔قانون دلی میں بنائے جاتے ہیں مگر ہندوستان کی آبادی زیادہ ہونے کی وجہ سے ان تک بر سوں بعد پہنچتے ہیں اور بیشتر تو پہنچتے بھی نہیں۔

’’ابھی وہ شنا سا لو ٹا بھی نہیں تھا کہ اچانک اسکول کے اندر سے پہلے تڑا تڑ لاٹھی چلنے کی آواز آنے لگی، اور پھرہوائی فائر ہوا۔ پل بھر میں کچھ لوگ اسکول کے اندر باہر بھاگے ، باہر بھگدڑ مچ گئی اور منٹوں میں جہاں اسمعیل کھڑا تھا وہاں سنا ٹا چھا گیا۔اب نہ تو کہیں کسی پارٹی کا ورکر نظر آرہا تھا ، نہ پولنگ ایجنٹ دکھائی دے رہا تھا۔اسمعیل نے سو چا کہ اس کو بھی یہاں سے ہٹ جا نا چاہئے۔ ۔۔۔۔ ابھی وہ ایک گلی میں مڑنے والا ہی تھا کہ اس کے پیچھے پولیس وین رکی اور چند سپاہیوں نے بہت تیزی سے گاڑی سے کودتے ہوئے پیچھے سے اس کا کا لر پکڑ لیا۔۔۔۔۔سالا بھاگ رہا تھا حرامی کا جنا، ایک سپاہی نے اسے گاڑی میں ٹھونستے ہوئے کہا۔‘‘ص ۲۰۱

بابری مسجد کا واقعہ ہندوستانی سیاست میں ایسا موڑ تھا جس کی کو کھ سے نہ ختم ہونے والے زہر نے جنم لیا اس نے قومی سطح پر مسلمانوں کو اور پیچھے ڈھکیل دیا۔ مندر و مسجد کے سہارے گندی سیا ست نے اپنا پھن پھیلا یا جس کا توڑ آج تک جمہوریت کے علمبر دارپیدا نہ کر سکے، مسلمانوں کو قدم قدم پر ثابت کر نا پڑا کہ وہ ہندوستانی ہی ہیں۔ یہ وہ سازش تھی جس نے ہندوتو کی چنگاری کو مزید ہواد ی گئی اور ملک میں ہندو مسلم کے درمیان کھائی بڑھتی چلی گئی اور ایک ایسا گروپ تیار ہو گیا جو مسلم دشمنی کے عنصر کو سیاسی گلیاروں میں ایک ہتھیا ر کی طرح منظم طریقے سے استعمال کیا ۔یہ ساری چیزیں کانگریس کی سرپرستی میں ان کی حکمت عملی کے طور پر انجام دی جارہی تھی۔چند ہندوؤں کے ووٹ کی خاطر کانگریس نے مسلمانوں کا خاصہ نقصان کیا ۔اب انکشاف ہو ا کہ مسلمانوں کا پہلا پیار بے وفانکلا، بابری مسجد کا سا را مسئلہ اسی پیار کا نتیجہ تھا۔ غیر کانگریسی دباؤ بناتے رہے اور کا نگریس بھی مسلمانوں کی طرح یہ ثابت کرنے کے چکر میں کہ وہ بھی ہندوستانی ہی ہے ۔وہ کرسی بچانے کیلئے اپنی حکمت عملی کے ایک ایک دروازے کھولتی رہی اور پھنستی چلی گئی۔ آج حالت یہ ہو گئی ہے کہ سنگھ ’کانگریس مکت بھارت‘ کا نعرہ لگا رہا ہے۔اوجھی سیاست کے مکر جال میں مسلمان ایسا پھنسا ہے کہ اسے راہ فرار نصیب نہیں۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک میں یہی ایک ایسا مسئلہ ہے جس کی مدد سے کرسی پر قبضہ کیا جا سکتا ہے۔ آزادی کے بعد سے تاحال یہی دستوررہا ہے کہ ہندو مسلم کی را گ الاپو اور اقتدار پر قبضہ برقرار رکھو۔ایسے حالات میں مسلمان کے پاس صبر کے علاوہ کوئی اور راستہ باقی نہ رہا۔

’’میں اسماعیل رضا ولد ابراہیم رضا بابر ی مسجد کے گرنے پر کچھ نہیں کرسکتا۔شاہ بانو کیس کی بے معنویت پر اپنے ہم مذہبوں سے کوئی مکالمہ نہیں کرسکتا،الیکشن (ووٹ) دیتے ہوئے بلا وجہ گرفتار کر لینے پر اور دن بھر کے لئے حراست میں ڈال دینے پر کچھ نہیں کرسکتا۔یہاں اجماع چاہئے۔بھیڑ،جاہلوں کی یا ایسے پڑھے لکھے لوگوں کی جنہیں جاہلوں کی بھیڑ پڑھالکھا مان لے۔یہاں ایک آدمی کی تنہا رائے کا کوئی معنی نہیں بنتا۔جمہوریت وہ طرز حکومت ہے۔۔۔۔(ص۔۲۰۶)

ناول میں موجودہ عہد کے سیاسی منظر نامہ کو بھی پیش کیا ہے۔ جس میں قومی و صوبائی اور خاص کر صوبہ بہارکے مسائل کو اہمیت دی گئی ہے۔ سو شاسن با بو اور بی جے پی کا یا را نہ، افضل گرو، جے این یو،سیمی ، انڈین مجاہدین،مسلم سیاسی پارٹی مجلس اتحادالمسلمین کے اثرات، اخلا ق کی موت اور ماب لنچنگ، ریزرویشن، بے روز گاری اور گئورکچھا، وندے ماترم ،جئے شری رام،جیسے موضوعات اس ناول کے اہم جز ہیں۔ یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ حالا ت پہلے بھی خراب تھے مگر جس تیزی سے فسادات میں اصافہ ہو ا ہے اور نفرت نے پیر پھیلا یا ہے وہ حیرت انگیز ہے۔ نفرتوں کا بازاز اتنا گرم نہیں تھا جتنا اب ہو گیا ہے۔ہولی،دیوالی سے مسلمان اور شب برات محرم سے ہندو الگ کب اور کیسے ہو گئے یہ کوئی محسوس نہ کرسکا۔وقت کے ساتھ ساتھ جادوگروں نے اس گھائی کو مزید گہرا کردیا اور اپنی اپنی روٹیاں سینکتے رہے۔اقتباس ملاحظہ فرمائیں

’’آوازوں کا ایک بھیانک، زہریلااور گردن تک غلاظت میں لت پت سیاہ شور تھا۔ گھر واپسی۔۔ لوجہاد، دیش دروہی۔۔فخر سے کہوہم ۔۔غیرمسلم جہنمی۔۔ ہم طے کریںگے کافر کون ہے۔۔ قبر پو جوا۔۔بد عتی ۔۔ کافر۔۔مشرک۔۔۔۔۔۔۔۔۔گئو رکچھا ۔۔ وندے ماترم ۔۔ رام مندر ۔۔ انہی آوازوں میں کچھ اور آوازیں گڈمڈ ہو رہی تھیں ۔۔ اسلام واحد راہِ نجات ہے۔۔۔کافروں سے قتال کا رِثواب۔۔۔۔۔۔۔۔ہندو واہنی۔۔بجرنگ دل۔۔گئو رکچھا سمیتی۔۔شیوسینا۔۔۔آرایس ایس۔۔جھنڈوں کے چیختے چلاتے رنگوں میں ۔۔۔بیچ بیچ سے کچھ مدھم ہم رنگ سر اٹھاتے ۔۔مجلس اتحاد المسلمین۔۔۔سیمی۔۔ انڈین مجاہدین۔

قیدار ایک طرف سے نظر چراتا تو دوسری سمت کچھ ایسا تھا جو راستہ روک کے کھڑا ہو جا تا ۔۔۔ہر طرف اونچی اونچی دیواریں ۔۔۔ہر دیوار پر جھنڈے۔۔ ہر دیوار کی ہر اینٹ سے گندا خون اچھلتا کودتا باہر آتا۔‘‘ص۔۲۶۹

ناول میں کئی ایسے کر دار ہیں جو ناول کے ارتقا میں اہم کر دار ادا کر تے ہیں اسماعیل کے علاوہ فیضان،قیدار اور نائلہ ہیں۔مبشر رجائی،میاں والا،بنسی دھر،رمیش،رکمنی،دلبیر سنگھ،انیل شرما،ٹوپو اور شوبھا ہیں۔ اسماعیل کے ساتھ ساتھ بیشتر ایسے کر دار ہیں جو ملک و قوم کے بہتر مستقبل کے لئے کوشاں ہیں۔ملک میں امن و امان کے خواہاں ہیں ، گنگا جمنی تہذیب کے پا سدار ہیں اوراس کی بقا کی خاطر ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔انہیں معلوم ہے کہ ہندو مسلم اتحاد اس ملک کی خوبصورتی ہے اور اس سے بین الاقوامی سطح پر ملک کی پذیرائی بھی ہوتی ہے ۔ مگر ملک کے جا دو گروں نے اپنے اعمال سے ہر ممکن کوشش کی کہ ملک سے پہلے ان کا مستقبل سنو رے۔ سیاست کے گندے کھیل نے ملک کے ساتھ انسانیت کو بھی شرمسار کر دیا ۔آزادی کے ستر سال کے بعد بھی اس ہندستانی معاشرے میں سدھا ر نہ آ سکا ۔ یہاں رہبر ہی راہ زن ہوگئے۔ قاتل ہی انصاف کی کر سی پر براجمان ہو گئے اور عوام سسکتی رہی ۔ معاشرے کا شیرازہ بکھر تا چلا گیا ، تہذیب و معاشرتی اقدار کا گلا کھونٹ دیا گیا ۔برسوں کے اس گندے کھیل نے انسان کو بے حس کر دیا ،ناول میں اس کیفیت کو کچھ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں اکیسویں صدی میں اردو ناول۔ ایک تنقیدی مطالعہ – ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی )

’’وہ کتنی دیر بے ہوش رہی ، اس کا اسے پتہ نہیں ، مگر جب و ہ ہوش میں آئی تو دیکھا کہ وہ زمین پر پڑی ہے، کسی طرح گھسٹ گھسٹ کر چوکی تک آئی اور چوکی پر بے سدھ پڑگئی ۔ اسے احساس ہو اکہ وہ بخار میں تب رہی ہے۔۔۔۔۔ گھنٹوں بعد اسے لگا کہ شام ہورہی ہے، وہ آئے گا اور کھانا تیار نہیں رہا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ آیا،کھانا کھایا،دیر تک بلو فلم دیکھی،گندے گانے سنے اور اس کو پکڑکر اپنی طرف کھینچا۔اس نے سکینہ کی طرح اپنا ازاربند کھول دیا۔۔۔۔۔۔۔یہ آزادی وطن کے بعد کی سترویں رات تھی۔ نائلہ کی وہ رات جاگتے کراہتے گزری۔‘‘ (ص۔۳۲۸)

مسلمانوں کی حالت زار اور ان کی مرجھاتے خواب کا ناول میں بڑی ہی باریکی سے احاطہ کیا گیا ہے۔آزادی کے بعد سے آج تک یہ جس بے راہ روی کی شکارہیں، ناول کا کردار اسماعیل اور اس کی نسلیں اس کی زندہ مثال ہیں۔ سیاسی گلیاروں میں اس کے مستقبل کے ساتھ جو کھیل کھیلا گیا اس نے اسے کبھی ابھرنے ہی نہیں دیا سیاسی ہو یا معاشی، تعلیمی ہو یا معاشرتی، ہر میدان میں اس کو پیچھے دکھیل دیا گیا۔کچھ واقعات ایسے ہیں جنہیں انجام دے دیا گیااور کچھ دلوں میں ٹیس کی شکل میں ہمیشہ دھڑکن بڑھا تے رہتے ہیں۔ گنگا جمنی تہذیب کی خوبصورت مثال والا یہ دیس آج تک فرقہ وارانہ فساد سے پاک نہ ہو سکا۔ ناول کے پس پر دہ ناول نگار نے بڑی ہی دلیری سے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ ملک کی دوسری قوموں نے آزادی میں جو قربانیا دیں۔ان کی قربانیاں قبول کر لی گئیں مگرہندوستان کے مسلمانوں نے جو قربانیاں دیں وہ کافی نہیں تھی انہیں قدم قدم پر قربانیاں  دے کر ثابت کر نا ہو گا کہ وہ ہندوستانی ہیں اور بائی چاوائس ہندوستانی ہیں۔ موجودہ سیاست میں ناول کے نہا خانوں کو قریب دیکھا  سے جائے تو وہ اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ آج تو ہندو کوبھی ہندو ہونے کا سرٹیفیکٹ لینا پڑ رہا ہے، اپوزیشن کو مندرمیںحاضری اور ہنومان چالیسا پڑھ کر میڈیا کو سنا نا پڑ رہا ہے ایسے میں اللہ اکبر کی صدا بلند کرنے والے کو ہندوستانی ہو نے کی سر ٹیکفیٹ ملنی مشکل ہے۔ اماوس میں خواب، میں مسلمانوں کے درد و کرب کو استعاراتی انداز میں بڑی ہی خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اس ناول میں ہندو ستان میں تبدیل ہو تے سیاسی اقدار، فرقہ پر ستی، تعصب سب کچھ ہے اور ساتھ ہی ان سب کے بیچ پستا مسلمان، اپنے خواب کو شرمندہ تعبیر ہونے کی آس میں آج بھی اسی قر بان گاہ اپنی میں قربانیوں کی فہرست میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔

اماوس اور خواب ،ہندوستان کی تاریخ اور مسلم قوم کا استعارہ ہے ۔ ہندوستان کی اُس سیاہ تاریخ کااستعارہ جس میں مسلمانوں کے ساتھ دھوکا ، استحصال ، ظلم و جبر، ناانصافی اور سوتیلا پن کا رویہ اختیا ر کیا گیا۔ ہندوستان کی تاریخ میں یہ وہ سیاہ باب ہے جو بر صغیر ہند کی تاریخ پر اماوس کی شکل میں چھا یا ہوا ہے ۔مجاہد آزادی نے جس خواب کی تعبیر کی خاطر اپنی جانیں ہاتھوں میں لئے ملک کو انگریزوں کے خونی پنجوں سے آزادکرایا تھا اور لاکھوں کی تعداد میں قربانیاں دیں تھیں۔ ان مجاہدوں  مسلمان پیش پیش تھے وہ اس لئے کہ ان کی آنے والی نسلیں ایک آزاد ملک میں آزاد باشندوں کی طرح سانسیں لیں سکیں گی۔ ان کا یہ خواب خواب ہی رہا اورملک کی آزادی کے ساتھ ہی ملک کے دو ٹکڑے ہو گئے اور قتل و غارت گری کا سلسلہ شروع ہو گیا جو تا حال ہندو مسلم فسادات کی شکل میں موجود ہے۔مسلم قوم ابھی بھی قربانیاں دے رہی ہے کہ اس کی آزادی کا خواب شرمند تعبیر ہو مگر ہنوز خواب خواب ہی ہے ۔

’ اماوس میں خواب‘ ملک کی آزادی سے عصر حاضر تک کے حالات کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے ۔وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی سیاسی چالیں اور ان میں پستی مسلم قوم کے ہر پہلو پر ناول نگار کی گہری نظر ہے۔حسین الحق نے جس مہارت سے اتنے لمبے عرصے کو اس ناول میں سمیٹا ہے اس سے ان کے وسیع مطالعہ، بلند تخیل اورفن پر قدرت کا اندازہ ہو تا ہے۔ ان کے کردار بخوبی اپنا کردار ادا کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ہندو مسلم اتحاد کے علمبردار فنکار کے اس ناول میں ہندو مسلم دونوں مذہب سے تعلق رکھنے والے بیشتر کردار موجود ہیں جو ملک کے مستقبل کو سنوارنے میں ایک ساتھ جٹے ہوئے ہیں اور کسی بھی حالت میں اوجھی سیاست کا حصہ نہیں بنتے ۔ناول کے ابتدائی صفحات میں کہانی دھندلی سی ہے ۔یہاں قاری کے صبر امتحان بھی ہے ۔کہانی آگے بڑھنے کے ساتھ ہی دلچسپ ہو تی جاتی ہے او ر قاری کو اپنے اندر سمو لیتی ہے ۔ ناول کے ابتدائی صفحات سے ایک ساتھ متعدد واقعات چلتے رہتے ہیں۔ عشق او رتاریخ کا بیان اس ناول کے دو اہم جز ہیں ۔یہاں فن کار کی فنکاری کا بخوبی اندازہ ہوتاہے کہ جس ہنر مندی سے اس نے واقعات کے تار ایک دوسرے میں باندھے ہیں اس میں برسوں کے تجربہ کی جھلک نظر آتی ہے۔

 

 (مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

 

ابو حذیفہاماوس میں خوابحسین الحق
0 comment
1
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
حضرتِ علی کے نام میرا ایک خط۔ – ڈاکٹر غلام مصطفےٰ ضیا
اگلی پوسٹ

یہ بھی پڑھیں

ناول ’آنکھ جو سوچتی ہے‘ ایک مبسوط جائزہ...

نومبر 17, 2024

ناول ”مراۃ العُروس “ایک مطالعہ – عمیرؔ یاسرشاہین

جولائی 25, 2024

ڈاکٹر عثمان غنی رعٓد کے ناول "چراغ ساز”...

جون 2, 2024

گرگِ شب : پیش منظر کی کہی سے...

اپریل 7, 2024

حنا جمشید کے ناول ’’ہری یوپیا‘‘  کا تاریخی...

مارچ 12, 2024

طاہرہ اقبال کے ناول ” ہڑپا “ کا...

جنوری 28, 2024

انواسی :انیسویں صدی کے آخری نصف کی کہانی...

جنوری 21, 2024

مرزا اطہر بیگ کے ناولوں کا تعارفی مطالعہ...

دسمبر 10, 2023

اردو ناول: فنی ابعاد و جزئیات – امتیاز...

دسمبر 4, 2023

نئی صدی کے ناولوں میں فکری جہتیں –...

اکتوبر 16, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں