چراغِ راہ: امت مسلمہ کے لیے ایک روشن چراغ – وزیر احمد مصباحی
زیر تبصرہ کتاب "ضیاء الصراط علی حیلۃ اسقاط” موسوم بہ "چراغ راہ” موضوع کی مناسبت سے پروفیسر عبد الرحمن مروت [پاکستان] کی ایک بلند اور ارفع و اعلی کتاب ہے. کتاب ھذا میں "حیلہ اسقاط” جو ایصال ثواب کا ایک طریقہ ہے اور اس پر برسوں سے متفقہ طور پر عمل در آمد ہوتا چلا آیا ہے، اس پر مولف موصوف نے ابتدا تا انتہا تحقیقی گفتگو کی ہے اور انصاف کا پیمانہ کہیں جھکنے نہیں دیا ہے. واقعی اس دورِ پرآشوب میں، جب کے اسلام و بانی اسلام کے برخلاف مسلم دشمن عناصر طرح طرح کے نت نئے ہتھکنڈے اپنا رہے ہیں، آج اسلام کے بھیش میں کچھ ایسے فرقے بھی وجود میں آئے ہیں جو سرے ہی سے اسے تسلیم نہیں کرتے اور کتاب و سنت کی خاک چھانے بغیر دھڑ لے سے مسئلہ "حیلہ اسقاط” کا انکار کر بیٹھتے ہیں. مگر اس دور ناامیدی میں ہماری یہ خوش قسمتی ہی کہیے کہ اس ضروری گوشہ پر مولانا موصوف نے کتاب ہٰذا کو اس امر ضروری کی عمدہ نقاب کشائی کے لیے منتخب فرما لیا اور آپ ہی کے نوک قلم سے منصہ شہود پہ آ کر تحقیق و مرجع کا مقام پائی ہے. سچ پوچھیں تو موضوع کی مناسبت سے زیر نظر کتاب اپنے اندر تحقیق و جستجو کا ایک بیش بہا خزانہ سمیٹے ہوئی ہے. موصوف کی جنون تحقیق و تفتیش اور علمی خاک چھاننے و کتاب کھنگالنے کے حوالے سے محنت شاقہ و جذبہ صادقہ کا کما حقہ اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ موصوف نے ٢١٣/صفحات پر مشتمل اس کتاب میں محض اسی ایک مسئلہ کے اثبات (یعنی حیلہ اسقاط) میں ١٢٤ کتب و رسائل سے اخذ کردہ دلائل و براہین کے سانچے میں حقیقت بیانی کی ہے. میری مانیں تو تطویل لا طائل سے بچتے ہوئے موصوف نے اپنے عالمانہ ذہن اور تحقیقی مزاج کا جو حسین امتزاج پیش کیا ہے وہ دور حاضر کے نوخیز مصنفین و مولفین کی امنڈتی سیلاب کے لیے ایک خوبصورت قابل تقلید آئڈیل کی حیثیت رکھتا ہے. اس موضوع پر میں نے اپنی جماعت میں شامل درس کتاب "الاشباہ و النظائر” کا جب مطالعہ کیا تو پتہ چلا کہ اپنے وقت کے عظیم حنفی عالم، علامہ زین الدین ابراہیم بن نجیم حنفی مصری قدس سرہ العزیز نے بھی اپنی اس شاہکار علمی گلدستہ میں فن خامس کے تحت "فن حیل” کا باب قائم کر کے تقریباً پندرہ مسائل پر بڑی اچھی گفتگو کی ہیں ، پر وہ ہمارے ہند و پاک میں اردو داں طبقہ کے خاطر زیادہ مفید نہیں. دراصل ہوتا یہ ہے کہ لوگ عربی دیکھ کر دامن چھڑانے کی بات کرنے لگتے ہیں. اس لیے یہ ضروری تھا کہ اس موضوع پر عام فہم اردو زبان میں کوئی ایسی کتاب ہو جس طرف بآسانی رجوع کیا جا سکے اور مخالفین حیلہ اسقاط ہوش کے ناخن لیں.پر بھلا ہو مولانا موصوف کا کہ انھوں نے اس سلگتے موضوع پر ایک گراں قدر تحقیقی گلدستہ کو وجود بخشا.
موصوف سمندر شریف، ضلع لکی مروت ‘سرحد’ پاکستان کے باشندہ ہیں جو انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد، پاکستان، سے سیرت میں ایم – فل اور حدیث میں ایم – اے کرنے کے ساتھ ساتھ ماضی قریب کی ایک شش جہات شخصیت یعنی پیر کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ کے لگائے ہوئے گلستان علم و ادب "دارالعلوم محمدیہ غوثیہ، بھیرہ شریف، سرگودھا پنجاب (پاکستان) کے لائق فرزند اور ہونہار طالب علم بھی ہیں. موصوف علمی صلاحیت و لیاقت سے مالا مال ہونے کے ساتھ ساتھ سنجیدہ مزاج اور تحقیقی ظرف سے مکمل ہم آہنگی رکھتے ہیں. سوشل میڈیا سے جڑے ہونے کے باعث اختلافی پوسٹ سے گریز کرتے ہوئے وہ گاہے بگاہے اپنے علمی بیانات سے استفادہ کا موقع بھی عنایت فرماتے رہتے ہیں. خیر! زیر تبصرہ کتاب آپ کی علمی کمالات و خصوصیات کا منہ بولتا ثبوت ہے. اس کی اصل وجہ یہی ہے کہ موصوف نے "حیلہ اسقاط” کے مسئلے پر قرآن و حدیث اور اقوال فقہا و ائمہ کی روشنی میں مبرہن گفتگو کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے اکثر و بیشتر ضروری و توجہ طلب گوشوں پر بڑی اچھی روشنی ڈالی ہے. عام فہم اردو زبان میں اس طرح سادہ اور سلیس انداز میں اپنی بات پیش کرنے کی سعی مشکور کی ہیں کہ ایک عام قاری بھی اسے پڑھنے کے بعد اصل مقصود تک بآسانی پہنچ سکتا ہے. بر صغير ہندو و پاک میں کسی نزاعی مسئلہ پر تصنیف و تالیف کے سلسلے میں اکثر یہی دیکھا جاتا ہے کہ مصنفین و مولفین بڑا تیکھا تیور اپناتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ کرخت لہجہ بھی. جس کی وجہ سے وہ سنجیدگی و متانت سے کوسوں دور ہو جاتے ہیں اور پھر ثمرہ یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مخالفین اسے انتقام کی بھڑکتی آگ سمجھ کر اس کے قریب بھی نہیں آتے، چہ جائے کہ وہ حق بات تسلیم کریں. مگر مولانا موصوف کی یہ بہت بڑی خوبی ہے کہ انھوں نے اس روش سے بالکل دور ہٹ کر سنجیدگی کا دامن تھاما ہے. قرآن و احادیث اور اقوال ائمہ و فقہا کی روشنی میں جوابات عنایت فرمانے کے ساتھ ساتھ ہی خود پیشوایان مخالفین کے ارشادات و اقوال کی رو سے بھی مسئلہ "حیلہ اسقاط” کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے.
اس حقیقت کا اندازہ آپ مولانا موصوف کے اس اقتباس سے بخوبی لگا سکتے ہیں، جسے انھوں نے صفحہ نمبر /٤١، ٤٢ پر دو ٹوک انداز میں رقم فرمایا ہے. لکھتے ہیں :”آج اس امر کی سخت ضرورت ہے کہ اصلاحی لٹریچر اور متنازع فیہ مسائل کو اس طرح پیش کیا جائے کہ اس میں حق کو واضح کرنا مقصود ہو اس میں کسی بھی فرقہ پر دشنام طرازی سے احتراز کیا جائے تاکہ تحقیق حق کو لوگ مساویانہ نگاہ سے پڑھیں اور دنیا میں ایسا مسئلہ ہی نہیں جو لا ینحل ہو بشرطیکہ اسے حل کرنے کی خواہش کار فرما ہو. آج بھی اگر ہم عقیدت و محبت کے چراغ جلائیں تو آگ کر سکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا ". (یہ بھی پڑھیں مسلکی و فکری مناظرے اور ان کا حل – الطاف جمیل ندوی )
صفحہ نمبر /٢ سے بنام” نشان منزل "کتاب کی فہرست قائم کی گئی ہے جو تقریباً دس صفحات پر مشتمل ہے. فہرست پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے کتاب کی اہمیت اور اس میں ڈھکے چھپے تمام نشیب و فراز کا اندازہ لگ جاتا ہے. میرے خیال سے یہی وہ کمال ہے جو قاری کو پوری کتاب پڑھ ڈالنے پر یک لخت مجبور کر دیتا ہے. ساتھ ہی موصوف نے کلمات تشکر، دعائیہ کلمات اور مختلف تقاریظ کے بعد ہی عنوان "اہداف تحقیق” کے تحت صفحہ ٣٤ و ٣٥ پر جو چار زریں و وصولی باتیں رقم کی ہیں، وہ واقعی گوشہ ذہن میں نوٹ کر لینے کے قابل ہیں. پھر لگے ہاتھوں جناب والا نے "ضیاء اولین” (یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی) کی صورت میں ایک سرخی قائم کر کے اس کے تحت درد بھری لے میں دلی جذبات اور خصوصیات اسلام بیان کرنے کے ساتھ ساتھ کچھ مفید باتیں بھی رقم کی ہے. حدیث مبارکہ "من سن فى الاسلام سنۃ حسنۃ” میں سنت حسنہ سے کون سا امر مراد ہے، اس کی پہچان کیا ہے اور اس کے شرائط کیا ہیں؟ ایک اچھوتے پیمانے پر ان ساری چیزوں کی تقریباً پانچ بڑی خوبیاں بیان کی گئی ہیں اور پھر لگے ہاتھوں جواز و عدم جواز کے سلسلے میں تین گروہوں کی نشاندہی بھی کر دی گئی ہیں. میں سمجھتا ہوں کہ قارئین کرام حضرات کو کم از کم ایک دفعہ اسے غیر جانبدارنہ طور پر ضرور مطالعہ کرنا لینا چاہیے تا کہ شرک و بدعت کا بازار نہ گرم ہونے پائے. اور آج لوگ جو انجانے میں میلاد، فاتحہ، چہلم، تیجہ، برسی، جلوس محمدی اور سلام و قیام وغیرہ کرنے والوں پر فوراً بغیر سوچے سمجھے بدعتی ہونے کا فتویٰ داغ دیتے ہیں، وہ اس حدیث سے کما حقہ واقفیت نہ ہونے کا نتیجہ اور بغض و حسد ہی کا پیش خیمہ ہے.
کتاب کی اصل ابتدا صفحہ، ٤٥ سے ہوئی ہے جو صفحہ، ٢٣٠ تک محیط ہے. اس درمیان مصنف موصوف نے اسی ایک نہایت دقیق فروعی موضوع پر جس طرح کتاب و سنت و اقوال فقہا و مفسرین کی روشنی میں یہ بیان کیا ہے کہ ایصال ثواب ایک مستحسن امر ہے، وہ اپنے آپ میں تحقیق و جستجو کا ایک گنج گراں مایہ معلوم پڑتا ہے. کتاب پانچ ابواب پر مشتمل ہے :
باب اول : الحيلة فى الشريعة تعريفها و حكمها و اقسامها.
باب دوم : اثبات الحیلۃ فی ضوءالقرآن و ملحقاتھا.
باب سوم : اثبات الحیلۃ فی ضیاء الحدیث و ملحقاتھا.
باب چہارم : حیلہ اسقاط کے مختلف طرق کے بیان میں.
باب پنجم : چوتھے باب میں جو طرق اور ضروری باتیں بیان کرنے سے رہ گئی تھیں اسے اس باب "پنجم”میں تحریر کر دی گئی ہیں.
پہلے ہی باب کے تحت،جو کہ تقریباً ٢١،صفحات پر مشتمل ہے، حیلہ اسقاط کی متعدد گیارہ تعریفات، ائمہ فن جیسے : فقیہ ابو لیث ثمرقندی، شمس الائمہ امام سرخسی، علامہ ابن حجر، سعدی ابو جبیب اور شاہ عبد العزیز محدث دہلوی وغیرہم کے اقوال و افعال اور لغوی و شرعی تحقیق بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اس گو شہ پر بھرپور روشنی ڈالی گئی ہے کہ ہر وہ حیلہ جو احقاق حق اور ابطال باطل کے لیے ہو،جائز و روا ہے پر وہ حیلہ جو اس کے برعکس ہو یعنی ابطال حق اور احقاق باطل کے لیے، تو وہ قطعاً جائز نہیں. صفحہ ٥٨ تا ٦٠ جناب موصوف نے دکتورہ نشوۃ العلوانی کی حیلہ کے حوالے سے زبردست عربی تحقیق کا خلاصہ نہایت دیانتداری کے ساتھ رقم کر دی ہے اور پھر دکتورہ موصوفہ کے ذریعہ بیان کردہ پانچ حیل یعنی: (١)حیلہ واجبہ،(٢)حیلہ مندوبہ، (٣)حیلہ مباحہ، (٤)حیلہ مکروہ، اور (٥)حیلہ محرمہ کو بھی مثالوں کی روشنی میں بڑی تفصیل سے اجاگر فرمایا ہے.
باب دوم میں قدم رکھتے ہی جناب والا نے واقعہ حضرت ایوب علیہ السلام کے پس منظر میں نازل ہونے والی آیت کریمہ اور حیلہ کی سب سے قوی دلیل "خذ بیدک ضغثا فاضرب بہ و لا تحنث” پیش کر دی ہے تا کہ اول نظر ہی میں کوئی قاری اس شک و شبہ میں مبتلا ہو کر نہ رہ جائے کہ لو! قرآن سے تو اس کی دلیل ہی نہیں دی گئی ہے؟ خیر میرے خیال سے اس اٹھنے والے شبہ کو جنم لینے سے پہلے دفع کر دیا گیا ہے. اس باب میں اس کے علاوہ اور بھی متعدد آیاتِ قرآنیہ کے ساتھ ساتھ اس کے تحت مفسرین کرام مثلاً : رئیس المفسرين حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ، علامہ جوزی، علامہ خازن، صاحب بیضاوی شریف ومدارک، علامہ جریر طبری، خطیب شربینی، علامہ شوکانی و امام ماتریدی وغیرہم کی عمدہ تفاسیر نقل کرنے کے ساتھ ماضی قریب کی معتمد علیہ شخصیات کے آرا بڑی عمدگی سے پیش کر دی گئی ہیں.اور گاہے بگاہے قارئین کی آسانی کے لیے علما کی گنجلک عبارتوں کی تلخیصات بصورت تبصرہ بھی مرقوم ہیں. خاص کر صفحہ، ٧٦ پر دارالعلوم دیوبند کے استاذ التفسیر علامہ محمد نعیم کی رائے پر مولف موصوف نے جو تبصرہ رقم فرمایا ہے، وہ واقعی قابل مطالعہ ہے. (تفصیل کے لیے دیکھیں کتاب ہٰذا کا صفحہ نمبر : ٧٦) اسی باب کے تحت منکرین حیلہ کے طرف سے اکثر پیش کی جانے والی آیت کریمہ ” و لقد علمتم الذین اعتدوا منکم فی السبت” اور وہ یہود کے فعل شکار پر نفی وارد ہونے کو حیلہ سے جوڑ کر جو قوی بہانہ بناتے ہیں، اس کا دندان شکن جواب صاحب تفسیر روح المعانی کی طرف سے دیا ہے اور اس حقیقت کو بڑی شد و مد کے ساتھ ثابت کرنے کی سعی جمیل کی گئی ہے کہ "یہودیوں نے رب تعالی کے منع کرنے کے باوجود بھی اپنے خاطر امور غیر مشروعہ حرام کام کے لیے حیلہ کیا تھا، جو کہ احقاق باطل و ابطال حق کی صورت ہے اور یہ سرے ہی سے ناجائز ہے”. (ملخصا و مفہوما)
باب سوم میں شریعت اسلامیہ کے ماخذ دوم، یعنی احادیث رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے اثبات حیلہ کی کوشش کی گئی ہے. تقریباً آٹھ احادیث ذکر کرنے کے ساتھ اس کے تحت محدثین عظام کی تحقیقات و بیان کردہ باریک بینیاں بھی قید تحریر میں لائی گئی ہیں. ایک بات جو میرے لیے عدم علم کے درجہ میں تھی، وہ کان چھیدنے کی ابتدا اور صورت حال سے متعلق ہے، جو کتاب ھذا کے مطالعہ سے علم میں آئی. اگر آپ بھی علم سے آگاہی چاہتے ہیں تو کتاب ہٰذا کا صفحہ نمبر، ١٠٧ کا مطالعہ کریں. اس باب میں جو نکتے اور اہم پوائنٹس والی باتیں ہیں، وہ یہ ہیں کہ اس میں "نظائر الحیلہ فی الفقہ الحنفی” قلم بند کیا گیا ہے ، مختلف حیلے کتب فقہ سے استخراج شدہ ہیں اور پھر چلتے چلتے یہ بھی ثابت کیا گیا ہے کہ علما، فقہا اور صلف صالحین "اولی الامر” کے زمرے میں داخل ہیں.(یہ بھی پڑھیں قرآن کریم ہمارے لئے کیا ہے؟ – ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی )
باب چہارم میں جہاں حیلہ کے حوالے سے چل کر مفصل و مبرہن گفتگو کی گئی ہے وہیں پانچویں و آخری باب میں تحقیق و جستجو کی وہ قیمتی موتیاں بکھیری گئی ہیں کہ مطالعہ کرنے بعد ایسا معلوم پڑتا ہے کہ سارا لب لباب اور کتابوں کا نچوڑ یہی جمع کر دیا گیا ہے، حالانکہ ابتدا تا انتہا پوری کتاب ہی تحقیق کے موضوع پر کھری اترتی ہے. اس باب میں حیلہ کا تیسرا طریقہ بھی ذکر کیا گیا ہے. اس کی اہمیت در اصل میرے اپنے خیال سے اس لیے بھی زیادہ ہے کہ اس میں تقریباً وہ تمام امور ذکر کر دیے گیے ہیں جن سے روز مرہ کی زندگی میں اکثر و بیشتر سابقہ ہوتا رہتا ہے اور اس میں بغیر حیلہ اختیار کیے زندگی کا پہیا ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکتا.خاص کر مقدار فدیہ جو جدید پیمانہ اور مشہور زمانہ کتاب فتاوی رضویہ کی روشنی میں ذکر کیا گیا ہے، وہ بڑی جامع و مانع ہے. فدیہ کی ادائیگی کرنے والوں کو تو کم از کم ایک دفعہ ضرور مطالعہ کر لینا چاہئے. پھر لگے ہاتھوں فتاوی عالمگیری، جامع الرموز،التیسیر، حاشیہ شیخ شلبی، بحر الرائق، عین الھدایہ، خلاصۃ الفتاوی ،کفایت المفتی، منحتہ الخالق اور بنفع المفتی و السائل جیسے اہم، مستند و معتمد کتابوں کی روشنی میں حیلہ اسقاط کو ثابت کیا گیا ہے.یہ باب تقریباً ٥٤،صفحات پر مشتمل ہے . اس میں دیوبندی مذہب کے پیشوا مفتی محمد شفیع دیوبندی، رشید گنگوہی اور اشرف علی تھانوی صاحب کی تصنیف کردہ کتابوں سے حیلہ کو ثابت کرنے کے ساتھ ساتھ آج کے منکرین پر حیرت و استعجاب اور تآسف کا اظہار بھی کیا گیا ہے. مولف موصوف رقم طراز ہیں : "افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ مخالفین حیلہ کی ایسی تحریریں جس میں اہل سنت و الجماعت کو ثبوت مل رہے ہوں وہ تحریریں صرف کتابوں میں لکھنے تک محدود ہوتی ہیں. مقام حیرت ہے کہ یہ لوگ عقائد صحیحہ کی تشہیر اور پبلسٹی اپنے دامن کو پاک کرنے کے لیے کتب کی زینت تو بنا لیتے ہیں لیکن اندرون خانہ ان عقائد صحیحہ کے منکر ہوتے ہیں اور دوغلی پالیسی (منافقت) کے مرتکب ہوتے ہیں.(کتاب ھذا، صفحہ نمبر :٢٠٥)
بعدہ "تدویر فدیہ کے شرائط” اور "شرائع من قبلنا” کی عمدہ توضیح پیش کرنے کے ساتھ دور حاضر میں رائج عمل یعنی میت کے جنازہ کے ساتھ قرآن مجید لے جانے کا تذکرہ بھی پیش خدمت ہے . لکھتے ہیں :
"اس بارے میں عرض یہ ہے کہ قرآن پاک کو میت کے ساتھ لے جانا ایک مستحسن امر ہے اور اس سے مقصود ذریعہ و وسیلہ مغفرت ہے، اور اس کی دلیل فرمان خداوندی ہے. ارشاد باری تعالیٰ ہے :” و قال لھم نبیھم ان آیۃ ملکہ ان یاتیکم التابوت فیہ سکینۃ ". باب خامس ہی کے آخر میں مؤلف موصوف نے معترضین کے طرف سے حیلہ پر کیے جانے والا ایک بھاری بھرکم اعتراض یعنی "لیس للانسان الا ما سعی” کا کئی زبردست علمی جوابات بیک وقت تین اہم کتب تفاسیر یعنی تفسیر صاوی، خازن اور جمل کی روشنی میں رقم کی ہیں. یقیناً اس علمی و تحقیقی جواب کے مطالعہ کے بعد میں ہی کیا، ایک کہنہ مشق محقق بھی اس حقیقت کا برملا اعتراف کر لینے پر مجبور ہوں گے مولف موصوف نے اس کتاب کی رنگ آمیزی میں جو کردار ادا کیا ہے وہ اپنے آپ میں ایک انوکھی مثال ہے. اور حقیقت بھی یہی ہے کہ کتاب ابتدا تا انتہا بالکل تحقیق و جستجو کا اس طرح آئینہ دار ہے جو موصوف کی علمی جنون اور عشق و لگن کو خوب خوب اجاگر کرتی ہے. سطر سطر سے محنت و لگن کا سراغ ملتا ہے.
سچ پوچھیں تو مطالعہ کتب کے بعد اس غریب کے دل سے بھی بے اختیار یہ دعائیں نکلی کہ "اللھم زد فزد”. آج ہماری جماعت میں یوں تو مصنفوں و مولفوں کی ایک دھوم سی مچی ہوئی ہے. پر کف افسوس اس وقت بڑی ہی شدت سے ملنا پڑتا ہے جب یہ پتہ لگتا ہے کہ جناب والا نے تو تحقیق اور اپنی محنت سے انتہائی کم بلکہ نا کہ برار،بس زیادہ تر نقالی و سرقہ بازی ہی سے سارے گل کھلا ئے بیٹھے ہیں، اور خوب خوب داد و تحسین وصول کر رہے ہیں. زیر تبصرہ کتاب جہاں معنوی جہت سے پر مغز اور علمی مواد سے پر ہے وہیں ظاہری اعتبار سے بھی دیدہ زیب ہونے کے ساتھ ساتھ عمدہ ٹائٹل اور ہر طرح کے رنگ و آہنگ سے مزین ہے. جی ہاں! حقیقت یہی ہے کہ یہ "چراغ راہ "علمی دنیا میں اہل علم و دانش کے لیے ایک بیش بہا قیمتی تحفہ ہے، خصوصاً ان حضرات کے لیے جو اس موضوع پر مزید کام کرنے کی تمنا رکھتے ہیں کہ (انشاءاللہ) یہی کتاب انھیں مزید کتب کی تلاش و جستجو سے بےنیاز کر دے گی. خدا نے چاہا تو یہ کتاب اہل عقل و خرد جلد ہی ہاتھوں ہاتھ لے لیں گے. پر، پتہ نہیں مجھے کبھی ایسا کیوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ شاید اس مسئلہ میں یہی چراغ جلے گا تو روشنی ہوگی.
خیر خدائے پرور دگار کی بارگاہ میں دعا ہے کہ مولی تعالی کتاب ھذا کو مقبول انام کرنے کے ساتھ ساتھ مولف موصوف کو بھی جزائے دارین سے خوب خوب شادکام فرمائے. (آمین یا رب العالمین)
ایں دعا از من و جملہ جہاں آمین باد
وزیر احمد مصباحی
جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

