بچوں کے لیے لکھنا کوئی ہنسی کھیل نہیں۔یہ بڑی جگر کاری ،محنت طلب اوردشوراکن کام ہے۔بچوں کے لیے لکھنے کا مطلب ہے بچہ بننا۔لکھنے والا جب تک بچوں کی نفسیات سے واقف نہیں ہوگا وہ بچوں کے لیے نہیں لکھ سکتا۔وہ جب تک خود بچہ نہیں بنے گا تب تک وہ بچوں کے لیے اچھا ادب تخلیق نہیں کر سکتا یعنی تخلیق کار ان کے کھیلوں ،ضروریات ،ذہانت استعداد اور عمر کی زمرہ بندیوں کا مطلق خیال رکھنا تخلیق کار کے لیے اشد ضروری ہے۔جب تک مندرجہ بالا صفات ایک تخلیق کار میں پیدانہ ہوں گی وہ تب تک بچوں کے لیے خاطر خواہ اوردل چسپ ادب تخلیق نہیں کر سکتا۔
اُردو ادب کے تاریخی جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ شروعاتی دور میں بچوں کے لیے علاحدہ ادب تخلیق نہیں کیاجاتاتھا بلکہ بڑوں کے ادب میں جو آسان اور بچوں کی مناسبت سے تحریر ہوتا تھا اس کو ہی بچوں کی درسی کتابوں میں شامل کر لیا جاتا تھا۔فارسی زبان اول دور ہی سے اُردو کے تمام ادب پر اثر انداز رہی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ فارسی روز مرہ بول چال کی زبان ہونے کے ساتھ ساتھ ایک لمبے عرصے تک ہندوستان کی سرکاری زبان بھی رہی ہے۔اس لیے بچوں کے ادب میں جو ابتدائی کتابیں ملتی ہیں ان پر فارسی کا غلبہ نظر آتا ہے۔اس اعتبار سے دیکھا جائے تو اُردو ادب ِ اطفال کی پہلی کتاب ابو النصرفر اہمی کی تصنیف ’’نصاب الصبیان‘‘کو مانا جاتا ہے۔یہ کتاب مدارس کے بچوں کے نصاب میں شامل تھی۔لیکن چند محققین اس بات سے اتفاق نہیں رکھتے ۔وہ حضرت امیر خسرو کی تصنیفـ’’خالق باری‘‘کو ترجیح دیتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ ’’نصاب الصبیان‘‘میں چوں کہ عربی کے الفاظ فارسی اشعار میں بتائے گئے ہیں جب کہ’’خالق باری‘‘بھی ایک منظوم لغت ہے جس میں امیر خسرو نے اپنے ہندی الفاظ کے فارسی مترادفات فراہم کیے ہیں جو عام ہندوستانی بول چال میں کثرت سے استعمال ہو رہے تھے۔اس لیے اس کو اُردو ادب ِ اطفال کی پہلی تخلیق اور حضرت امیر خسرو کو بچوں کا پہلا شاعر تسلیم کیا گیا ہے۔اس بارے میں پروفیسر مظفر حنفی رقم طراز ہیں:
’’میرا خیال ہے ہے کہ ’’نصاب الصبیان‘‘جو ابو النصر فراہمی کی شہرہ آفاق نصابی کتاب ہے اور اسی نوع کی دو سری تدریسی تصنیفات اُردو کے طفلی ادب کے لیے مثالی نمونے رہے ہوں گے۔مذکورہ بالا تصانیف در اصل عربی فارسی کی مختصر منظوم لغات تھیں۔حالاں کہ کچھ محققین کو اس بارے میں شبہات ہیں اور وہ اسے زیادہ مستند نہیں گردانتے۔لیکن میں ان دوسرے محققین سے اتفاق کرتا ہوں جن کے خیال میں ’’خالق باری‘‘امیر خسرو(1326۔1253)کی تصانیف میں سے ایک ہے۔’’خالق باری‘‘بھی در اصل ایک مختصر لغت ہے جو نظم کی ہیئت میں ہے ہندی الفاظ کے مختلف اجزا مختلف محور میں ہیں۔اس طویل نظم میں خسرو نے ایسے ہندی الفاظ کے فارسی مترادفات فراہم کرنے کی کوشش کی ہے جو عام ہندوستانی بول چال میں کثرت سے مستعمل تھے۔‘‘ (یہ بھی پڑھیں بچوں کی تعلیم و تربیت اور ادبِ اطفال – ڈاکٹر عبد الرزاق زیادی )
(مظفر حنفی،جہات و جستجو،مکتبہ جامعہ لمیٹڈ،نئی دہلی2011،صفحہ83)
اُردو ادب کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اُردو میں اُردو میں بچوں کے ادب کا آغاز تیرہویں صدی میں شاعری سے ہواہے۔اُردو کے دورِ اول میں ادب ِ اطفال کے تحت صرف منظومات میں اضافہ ہوتا رہا ۔بچوں کے نثری ادب میں اٹھارویں صدی کے آخر تک کوئی قابلِ ذکر تصنیف اسی نہیں ملتی جس کو بچوں کے ادب میں شامل کیا جا سکتا ہو۔لکھنؤ کے انشا ء اللہ خاں انشا (1752۔1817)نے سب سے پہلے بچوں کے لیے نثری تصنیف’’رانی کیتکی کی کہانی‘‘1793 میں تخلیق کی ۔اس کہانی پر تبصرہ کرتے ہوئے پروفیسر مظفر حنفی نے اپنے تاثرات کا اظہار یو ں کیا ہے:
’’1793میں انشا ء اللہ خاں انشا لکھنؤ نے پہلی بار نثر میں ایک کہانی لکھی جو نہ صرف بچوں کا پہلا افسانہ ہے بل کہ ہندی کے افسانوی ادب کا سنگِ بنیاد بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔۔۔اس افسانے کی تخلیق میں مصنف کو ایک ایسی زبان کے استعمال میں کامیابی حاصل ہوئی ہے جسے صحیح معنوں میں ہندوستانی کہا جاسکتا ہے۔یعنی اس کہانی کی زبان جس کا نام ’’رانی کیتکی کی کہانی‘‘ہے ،فارسی اور سنسکرت کے غلبے سے آزاد ہے۔‘‘
(مظفر حنفی،جہات و جستجو،مکتبہ جامعہ لمیٹڈ،نئی دہلی2011،صفحہ84)
انشاء اللہ خاں انشا کی ’’رانی کیتکی کی کہانی ‘‘کے بعد اُردو نثر میں ایک طویل عرصے تک کوئی ایسی تصنیف نظر نہیں آتی جس کو بچوں کے ادب سے تعبیر کیا جا سکے۔اس تعلق سے فورٹ ولیم کالج کلکتہ(1800)کی خدمات کا ذکر ضرور کیا جا سکتا ہے؛جہاں پر نو وارد انگریزوں کے لیے سہل اندز میں چند کتابیں ضبط تحریر میں آئیں۔انہیں کتابوں کے چند اقتباسات کو جوبچوں کے لیے کار آمد ہو سکتے تھے،بچوں کے نصاب میں ضرورت کے مطابق شامل کر لیا گیا تھا۔
بچوں کے ادب کے تعلق سے غلام احمد فروغی کا نام بھی اہمیت کا حامل ہے۔جنھوں نے بچوں کے لیے درسی کتابیں تیار کیں۔قادر نامہ فروغی ،نصاب عزیزاور فیض شاہجہانی ان کی قابلِ ذکر کتابیں ہیں۔انیسویں صدی کا آخری نصف حصہ اور بیسویں صدی کا ابتدائی پچاس سالہ دور انتہائی افرا تفری اور خلفشار کا دور رہا۔یہ بڑا ہی کرب ناک اور درد بھرا دور تھا۔1857کی ناکام جنگ آزادی جس کے بعد انگریزوں کا ظلم و ستم بہت زیادہ بڑھ گیا تھا ۔ 1947میں ہندوستان انگریزوں کی غلامی سے آزاد تو ہو گیا لیکن دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔جو ایک بڑا المیہ تھا۔اُردو ادب کی خوش بختی یہ رہی کہ اس دور میں اُردو کے بڑے بڑے ادیبوں نے اُردو کی تقریباً ہر صنف میں طبع آزامائی کی۔لہٰذا بچوں کے ادب کو بھی فروغ حاصل ہوا۔اس دور کے لکھنے والوں میں ڈپٹی نذیر احمد ،محمد حسین آزاد،مولوی اسماعیل میرٹھی،مولوی الطاف حسین حالی،مولوی ذکاء اللہ ،منشی پیارے لال آشوب وغیرہ ہیں۔انیسویں صدی کے آخر تک زیادہ تر کتابیں ترجمہ کی شکل میں نظر آتی ہیں۔
بیسویں صدی اُردو میں بچوں کے ادب کے تعلق سے بڑی اہمیت کی حامل ہے بلکہ اس دور کو بچوں کے ادب کے نظریے سے دیکھا جائے تو اس کو سنہری دور کہا جا سکتا ہے۔اس دور میں ابتداہی سے بڑے بڑے ادیبوں کے نام سامنے آتے ہیں جن میں منشی پریم چند ،مولانا شاہ ابوالحسن ادیب،حامد اللہ افسر میرٹھی،خواجہ حسن نظامی،لیلہ خواجہ بانو،محوی صدیقی،ڈاکٹر ذاکر حسین،امتیاج علی تاج،حجاب امتیاز علی تاج ،چراغ حسن حسرت،غلام رسول مہر،مرزا عظیم بیگ چغتائی،ڈاکٹر عابد حسین ،پروفیسر محمد مجیب،صالحہ عابد حسین،عبدالغفا رمدھولی،شفیع الدین نیر،حسان ندوی،قدسیہ زیدی،کرشن چندر،ۡقرۃ العین حیدروغیرہ ۔بہر حال یہ ایک طویل فہرست ہے۔جس میں سے چند نام میں نے پیش کیے ہیں۔اس طرح بیسویں صدی میں ہر اعتبار سے بچوں کے ادب نے خوب ترقی کی ہے اور وہ کافی ثمر آور ہوا ہے۔
بلا شبہ بیسویں صدی میں اُردو میں بچوں کا دب تقریباً ہر صنف اور موضوع کے اعتبار سے کافی ترقی کر چکا تھا۔یہ سلسلہ اکیسویں صدی یعنی آج جدید دور میں بھی اسی طرح جاری و ساری ہے۔آج بھی لکھنے والوں کی کمی نہیں ہے۔دور جدید کے لکھنے والوں میں ڈاکٹر بانو سرتاج مظفر حنفی ،وکیل مجیب،مرتضیٰ ساحل تسلیمی،انور کمال حسینی،عطیہ پروین،شکیل انور صدیقی،مناظر عاشق ہر گانوی،رونق جمال،ڈاکٹر اطہر مسعود خاں،سلام بن رزاق،ڈاکٹر اسلم جمشید پوری،ڈاکٹر ایم۔اے حق،رحیم رضا،سالک جمیل براڑ،عطاء الرحمن طارق،اسد رضا،ایم مبین،محمد قیوم میو،محمد حسین،قاضی مشتاق احمد،محمد خلیل،بابو آر کے،موج صہبائی،ابن آدم،ڈاکٹر ارشد اقبال،عادل حیات وغیرہ۔گویا اکیسویں صدی کے لکھنے والوں کی نگارشات کا یہاں ذکر کر ے ہوئے ایک اجمالی تبصرہ پیش کرتا ہوں۔
جدید اُردو ادب میں مظفر حنفی کی شخصیت کئی حیثیتوں سے اہم ہے۔وہ اُردو کے ممتاز شاعر افسانہ نویس ،ڈرامہ نویسس ،محقق،نقاد،بہترین مترجم،اور ماہر ادب اطفال ہیں۔مظفر حنفی کی زندگی کا آغاز بچوں کے ادیب کی حیثیت سے ہوا تھا۔اورکم سنی میں ہی لکھنے کی شروعات کر دی تھی۔مظفر حنفی کی تخلیقات آزادیٔ ہند کے بعد دہلی کے ماہ ناموں کھلونااورپھلواری جیسے اہم رسالوں میں شائع ہونے لگی تھیں۔چوں کہ آپ نے لڑک پن میں ہی لکھنا شروع کر دیا تھا لہٰذا ان کے یہاں فطری طور پر بچوں کی نفسیات ،ان کی بے لوث محبت،باہمی نوک جھونک اور شرارتیں ان کی نظموں کہانیوں اور ڈراموں کے موضوعات نظر آتے ہیں۔مظفر حنفی کی مشہور کہانیوں میں نرالا گڈا،جھنجھنا،خلیل کا غصہ،تاج کی در گت،بہادر کون،مچھلی کا شکار،سفید ہرا،حلوہ چور،بدلہ،چنچل پری، پر اسرار قیدی، خزانے کا بھوت، دوستی جاگتی ہے۔انھوں نے چند معلوماتی مضامین بھی تحریر کیے ہیں۔علاوہ ازیں بچوں کے ادب کے مسائل اور ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے کئی تنقیدی اور تحقیقی مقالے بھی لکھتے ہیں۔ان کی کہانیوں کے کئی مجموعے منظر عام پر آ چکے ہیں۔حلوہ چور بچوں کی دل چسپ کہانیوں اور ڈراموں کا مجموعہ ہے جو2012میں رحمانی پبلی کیشنز مالے گاؤں سے شائع ہوا۔موصوف ابھی حیات ہیں اور مستقل لکھنے میں مصروف ہیں۔پروفیسر مظفر حنفی کو ان کی ادبی خدمات کے صلے میں ملک بیرون ملک ،سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر درجنوں اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں بچوں کا ادب: کل، آج اور کل – ڈاکٹر عادل حیات)
ڈاکٹر بانو سرتاج اُردو ادب اطفال میں کسی تعارف کی محتاج نہیں ۔بہت ہی معروف ادیبہ ہیں۔بانو سرتاج تا زندگی درس و تدریس سے منسلک رہیں۔انھوں نے بچوں کے لیے بہت سی کہانیاں لکھیں ساتھ ہی اس تعلق سے بہت سے تحقیقی و تنقیدی مضامین بھی تحریر کیے۔محترمہ اُردو کے علاوہ ہندیاور مراٹھی میں بھی لکھتی ہیں۔انھوں نے بچوں کے لیے کہانیوں کے علاوہ ناول ،ڈرامے طنز و مزاح اور مضامین کے علاوہ دیگر اصناف میں بھی بہت کچھ لکھا ہے۔اُردو میں ان کی تقریباً پچاس کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔بانو سرتاج کی معروف کہانیوں میں ممی نانوی،بڑا مزا،اس ملاپ میں ہے،گھمنڈی کا سر نیچا،بول دیا ہاں،سچے کا بول بالا،بے زبان ساتھی،ایک بے وقوف کی کہانی،اپنے لیے جیے تو کیا جیے اور ایک گوان کی کہانی وغیرہ۔بانو سرتاج کو ان کے مجموعے’’ تیسرے راستے کے مسافر‘‘پر صدر جمہوریہ ہند کے ذریعے 1997میں کل ہند انعام حاصل ہوا۔2002میں مرکزی حکومت نے بھار تیندو ہریش چندر و راشٹریہ ایکتا پرسکار اور2006میں صدر جمہوریہ ہند داکٹر اے پی جے عبدالکلام نے ادب اطفال کے اعزاز سے سر فراز کیا۔علاوہ ازیں مختلف اکادمیوں اور غیر سرکاری انجمنوں نے بھی آپ کو اعزازات سے نوازا۔ان کی کہانیوں کا مجموعہ ’ممی نانوی‘نرالی دنا پبلی کیشنز ،نئی دہلی کے توسل سے2005میں شائع ہوکر منظر عام پر آیا۔علاوہ ازیںگھمنڈی کا سر نیچا،کہانی میں کہانی،پیڑوں کی کہانی،بہادر بنی عرف شہر کی خالہ کہانیوں کے مجموعوں کو رحمانی پبلی کیشنز مالے گاؤں نے2012میں شائع کیا۔ان کے ڈراموں میں بچے کا بول بالا،جب جاگے تبھی سویرا،یک بابی ڈرامہ وغیرہ ان کے ڈراموں کے مجموعے ،ایک بیمار سو انار ،مجھے شکایت ہے ادارہ نرالی دنیا، نئی دہلی سے کتابی شکل میں شائع ہو چکے ہیں۔انھوں نے تراجم بھی کیے۔بھارتیندو ہریش چندر کے ڈرامے کا ترجمہ اندھیر نگری ،گل بوٹے ممبئی نے مارچ 2012میں کہانی کی شکل میں شائع کیے۔موصوفہ کا ادبی سفر جاری ہے اور ان سے ابھی بہت سی امیدیں وابستہ ہیں۔
وکیل نجیب معروف ادیب ہیں۔انھوں نے ادب اطفال کی گراں قدر خدمات انجام دیں ہیں۔وہ بحیثیت شاعر،افسانہ نگار،ناول نگار اور ڈرامہ نگار کے طور پر جانے جاتے ہیں۔آپ ادب اطفال کے ناقد اور محقق بھی ہیں۔بچوں کی نفسیات اور خواہشات ،دل چسپیوں اور ضروریات و مسائل سے اچھی طرح واقفیت رکھتے ہیں۔زبان سستہ،صاف ستھری،نکھری ہوئی عام فہم اور اسلوب نگارش بڑا ہی دل نشیں ہے۔وکیل نجیب کی کہانیوں میں خوف ناک حویلی،انوکھا انعام ،قاتل پاپا اور ٹفن باکس اہمیت کی حامل ہیں۔ایک شخصیت پانچ کہانیاںکچھ ڈرامے ،واپسی،جنگل کی امانت،اپنا دکھ اپنی خوشی اور شمالی ہندوستان کی سیر ان کی کہانیوں کے مجموعے ہیں۔جن کو رحمانی پبلی کیشنز مالے گاؤں نے 2012میں شائع کیا۔جاں باز شہزادے،پانچ بھائی اور غم گسار وغیرہ جن کو رحمانی پبلی کیشنز مالے گاؤں نے 2012میں شائع کیا ان کے ناولوں میں معصوم بجوکا،کمیوٹان،مہربان جن،انسانیت اور درندگی،سیاہ رات،نواب بنڈئی والا،سازش،جاں باز شہزادے،پانچ بھائی اور غم گسار وغیرہ جن کو رحمانی پبلی کیشنز مالے گاؤں نے 2012میں شائع کیا ۔وکیل نجیب کہنہ مشق ادیب ہیں ان کی تخلیقی کاوشیں مسلسل جاری ہیں۔
بچوں کے افسانوی ادب میں ایم مبین بھی اہمیت کے حامل ہیں۔آپ نے بچوں کے لیے مزاحیہ کہانیاں ،دل چسپ ڈرامے اور سائنسی ناول تخلیق کیے ہیں۔ان کی قابل قدر بات یہ ہے کہ وہ مزاح اور تفریح کے پیرائے میں بچوں کو بہت سی معلومات فراہم کرا دیتے ہیں۔جادو کا موبائل ،میں اُردو ہوں، بن استاد نے شعر کہا ان کے قابل ذکرڈرامے ہیں۔ہزار روپے کا نوٹ ،گدھے کی چوری،مال مفت،پپو پاس ہو گیارانگ نمبراور میرا نام کرے گا روشن ڈراموں کے مجموعے ہیںجنھیں رحمانی پبلی کیشنز مالے گاؤں نے 2012میں شائع کیا ۔ان کے ناولوں کے مجموعوں میں ٹارجن اور سونے کی مورتی،ٹارجن اور سر کٹی لاشیں ،زحل کا قیدی،سیر کمپیوٹر کی،دہشت،زہران کی سات شہزادیاں وغیرہ اہمیت کی حامل ہیں۔کہانیوںکے مجموعوں میں چھنگا پہلوان نے کر کٹ کھیلا،انمول ہیرا،جادوئی چراغ،اور آم کے آم وغیرہ قابل ذکر ہیں۔یہ سبھی مجموعے رحمانی پبلی کیشنز مالے گاؤں نے 2012میں شائع کیے۔ایم مبین زود نویس ہیں ان سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں۔
رونق جمال اُردو کے معروف ادیب ہیں۔انھوں نے بچوں کے لیے کہانیاں ،ڈرامے،ناول اور مضامین وغیرہ تحریر کیے ہیں۔ان کی تخلیقات میں طنز و مزاح کی چاشنی میں بچوں کو اخلاقی اقدرا کی تعلیم دی گئی ہے۔صداقت ،روا داری،پاکیزگی،شگفتگی اور لفظوں کی بر جستگی ان کی تخلیقات کی خصوصیات ہیں۔رونق جمال نے’بجوکا‘کو موضوع بنا کر ’بجوکا سیریز‘کے تحت ’سرحد پر کھڑا بجوکا‘،ایمان دار بجوکے،بجوکا ،بجوکی اور بجو چہ،بجوکوںکی شادی،چالاک بچوکے اور استاد بجوکا وغیرہ گیارہ کہانیاں تخلیق کیں۔جن کا مجموعہ ’چالاک بجوکے‘رحمانی پبلی کیشنز سے2011میں شائع ہوا۔چاند کنارے بچوں کا ناول ہے جو2012میں رحمانی پبلی کیشنزسے شائع ہوا۔ایک پریشان باقی انجان (دو بابی ڈرامے)تکمیل پبلی کیشنز ممبئی کے زیر اہتمام 2006میں کتابی شکل میں منظر عام پر آیا۔
ٍعہد جدید کے لکھنے والوں میں سلام بن رزاق کا نام بھی اہمیت کا حامل ہے۔آپ ممبئی میں بی ایم سی کے شعبۂ درس و تدریس سے36سال تک وابستہ رہے اور 1999میں سبک دوش ہوئے۔معلم ہونے کی وجہ سے آپ بچوں کی نفسیات ،خواہشات،ضروریات اور مسائل سے بخوبی واقف تھے۔آپ کی زبان بہت سادہ ،عام فہم اور بچوں کی ذہنی استعداد کے مطابق ہے،آپ کی نگارشات ہندوستان کے تقریباً سبھی مقتدر رسالوں کی زینت بنتی رہی ہیں۔ان کی کہانیوں میں تیز گام،انوکھا فیصلہ،رٹو طوطا وغیرہ مشہور ہیں۔ناول کا مجموعہ ’ننھے کھلاڑی‘عرشیہ پبلی کیشنز نئی دہلی سے شائع ہوا۔سلام بن رزاق کی نگارشات ہندی ،مراٹھی،تیلگو،پنجابی،انگلش،روسی،ازبیک جرمن اور نارویچق زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہیں۔ان کو صوبائی اور ملک گیر سطح پر تقریباً ڈیڑھ درجن سے زیادہ انعام و اکرام حاصل ہو چکے ہیں۔موصوف خاموشی سے مشق سخن جاری رکھے ہوئے ہیں۔
جواں سال ادیب سالک جمیل براڑ گذشتہ دو دہائیوں سے بچوں کے لیے دل چسپ اور تفریحی کہانیاں تخلیق کر رہے ہیں۔ان کی کہانیاں اصلاحی اور اخلاقی طرز کی ہیں۔جو بچوں کے لیے اعلیٰ اخلاقی اقدار کے ساتھ ساتھ تفریح کا سامان فراہم کرتی ہیں۔ان کی کہانیوں میں ہمت کی فتح،بدھو کی واپسی،بہادری کا تمغہ،عقل بڑی کہ تربوز،شرارتیں،اور چور پکڑا گیا،شہزادی بدر اور انتقام وغیرہ ان کی نمایندہ کہانیاں ہیں۔سالک جمیل براڑ کی کہانیوں کے کئی مجموعے منظر عام پر آ چکے ہیں جن میں شرارتں ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس ،دہلی2008بہادری کا تمغہ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس ،دہلی 2008، شہزادی بدر رحمانی پبلی کیشنز مالے گاؤں 2012،وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں بچوں کا سائنسی ادب اور قومی اردو کونسل کی خدمات: ایک مختصر جائزہ- نوشاد منظر )
نئی نسل کے ادیبوں میں ڈاکٹر ارشد اقبال کا نام بھی اہمیت کا حامل ہے۔انھوں نے بچوں کے لیے بڑی اچھوتی عمدہ اور دل چسپ کہانیاں تخلیق کی ہیں۔ارشد کی زبان نہایت آسان،عام فہم ،دل چسپ اور بچوں کی ذہنی استعداد کے عین مطابق ہے۔ان کی کہانیوں میں حیرت انگیز واقعات اور جستہ جستہ مزاح کا پہلو بھی نظر آتا ہے۔ان کی کہانیوں میں ننھے پاہلٹ ،ایک گھاٹ،حضرت انسان،ننھی چینوٹی کاحوصلہ،راجو کی چاہ،پہلا اور آخری سبق،بچوں کا آئیڈیل وغیرہ ۔ان کی کہانیوں کا مجموعہ ننھا پائلٹ ،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس ،دہلی سے 2011میں شائع ہو کر بچوں میں بہت مقبول ہوا۔
موجودہ دور کے ادیبوں کی فہرست بہت طویل ہے۔اس مختصر مضمون مین سب کا ذکر کرنا ممکن نہیں۔لہٰذا چند ادیبوں کی نگارشات کا اجمالی جائزہ لیا گیا ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اُردو کے افسانوی ادب نے کافی ترقی کی ہے۔افسانے،ناول اور ڈرامے ہمارے ادیبوں نے خوب لکھے ہیں۔اکیسویں صدی بچوں کی افسانوی ادب سے معمور ہے۔
ڈاکٹر خالد ظہیر
محلہ اسلام آباد،شیام پور روڈ
کٹھور،میرٹھ250104
موبائل۔9412473222
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

