چپ گزر جاتا ہوں حیران بھی ہو جاتا ہوں اور کسی دن تو پریشان بھی ہو جاتا ہوں سیدھا رستہ ہوں مگر…
تخلیقی ادب
-
-
آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تک کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک دام ہر موج میں ہے…
-
اپنی ننگی پیٹھ پر سورج اٹهاے.گئو رکهشک کا سنہری خواب آنکهوں میں سجائےاپنا ناتواں جسم گھسیٹتے ہوئے دور تک پهیلی ہوئ سڑک…
-
گرمیٔ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں شمع جس آگ میں جلتی ہے…
-
اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کر دو میں کہ صدیوں سے ادھورا ہوں مکمل کر دو نہ تمہیں ہوش رہے…
-
یہ تو اچھا ہے کہ دکھ درد سنانے لگ جاؤ ہر کسی کو نہ مگر زخم دکھانے لگ جاؤ نیل کے پانیو…
-
کچھ کہے جاتا تھا غرق اپنے ہی افسانے میں تھا مرتے مرتے ہوش باقی تیرے دیوانے میں تھا ہائے وہ خود رفتگی…
-
اب بھی اک عمر پہ جینے کا نہ انداز آیا زندگی چھوڑ دے پیچھا مرا میں باز آیا مژدہ اے روح تجھے…
-
تم ہو علم کے طالب تم نے مجھ سے پوچھا ہے مرتبہ معلم کا میں کہ اک معلم ہوں کس طرح خود…
-
حنانے غسل خانے میں پانی سے بھری بالٹی رکھی۔ دروازہ بندکیا۔ نہانے سے پہلے حسب عادت پیرسے چپل نکاکرچند لمحے نل کو…

