(شاندار شعری نشست بیاد فیاض انور چاپدانوی)
ہمارے بھارت کے ایک ایسے شاعر جو ڈیڑھ درجن کتابوں کے خالق ہیں اور جن کے فن و شخصیت پر دونوں ممالک ہندوستان اور پاکستان میں کتابیں لکھی گئیں ہوں، ایسی ہی بین الاقوامی شہرت یافتہ ادبی شخصیت شمیم انجم وارثی کے اعزاز میں ایک جلسۂ استقبالیہ اور ایک شاندار شعری نشست بیاد فیاض انور چاپدانوی مرحوم بروز سنیچر بعد نماز مغرب مورخہ 11/ مارچ 2023 کو حاجی شکور میموریل پرائمری اسکول میں منعقد کی گئی۔ پروگرام کا انعقاد منجانب نوجوان چاپدانی تھا مگر اس کے روح رواں ماسٹر مفتاح اعظمی اور شمیم اختر صاحب رہے۔ تقریب کی صدارت محترم غلام سرور(سابق گیزیٹید آفیسر، حکومت مغربی بنگال) نے اور دل چھوتے انداز میں نظامت شاعر و ادیب علی شاہد دلکش نے کی۔ پروگرام کا آغاز معروف شاعر سمیع الفت کی مترنم آواز میں نعت شریف سے ہوا۔ پھر مہمانان ذی وقار وارڈ کاؤنسلر سورج گپتا اور صاحبِ کتاب شاعر و ادیب عظیم انصاری، بلند اقبال اور معتبر صحافی و شاعر مہتاب سلم و دیگر تمام مہمانان شاعروں کی گل پیشی ہوئی۔ صاحبِ اعزاز ہمہ گیر ادبی شخصیت شمیم انجم وارثی کو شانہ زیب، گلدستہ، گلوں کا ہار اور سپاس نامہ پیش کیا گیا۔ سپاس نامہ کو نقیبِ محفل نے دلکش انداز میں پڑھ کر سنایا۔ تب جاکے باضابطہ طور شعری نشست شروع ہوئی۔ رحمت علی رضوی، شکیل رشڑوی، معراج احمد معراج، شہزادہ شاد، خطاب عالم شاذ، شکیل ارمان، مفتاح اعظمی، ایوب عادل، سمیع الفت، علی شاہد دلکش، بلند اقبال، حسن آتش چاپدانوی، مہتاب سلم، عظیم انصاری، غلام سرور اور وکیل انور چاپدانوی صاحب نے اپنے اپنے کلام سنائے۔ مجمع اسکول کے اندر بھرا رہا اور اسپیکر کی آواز سن کر لوگ راستوں اور گلیوں میں بھیڑ لگا کر سنتے رہے۔ مگر اولین آن لائن ماہنامہ ادب اطفال ”مہکتے پھول” کے مدیر اعلیٰ جناب شمیم انجم وارثی نے جب اپنا کلام پیش کرنا شروع کیا تو ان کی آواز کا جادو اور تخلیقات کی سحرکاری سے محفل میں سکتہ طاری ہو گیا۔ وقت کم پڑ گیا۔ تشنگی باقی رہی۔ صدر محفل نے مہمانوں کو شکریہ ادا کرتے ہوئے بانیان محفل اور نوجوانان چاپدانی کی سراہنا کی۔ اپنے اشعار سنائے اور نشست کو مکمل کیا۔ شرکاء شعرا کا ایک ایک شعر پیش قارئین ہے۔
رحمت علی رضوی
ہے تمہیں پیار تو اظہار کرو بر جستہ
مستقبل دل میں دبانے کی ضرورت کیا ہے
معراج احمد معراج
خدا کی لعنتیں ان پر ہمیشہ ہی ہوا کرتی ہیں
جواپنی ماں کو اے معراج تنہا چھوڑ دیتے ہیں
شہزادہ شاد
بھولے سے کبھی آئے تو آ جائے تیری یاد
ہر وقت ہر اک طرز سے سوچا نہ کریں گے
شکیل رشڑوی
شکیل اسرارِ الفت کھل رہے ہیں مجھ پر
نظر کا وار ہوتا ہے مگر پیہم نہیں ہوتا
مفتاح اعظمی چاپدانوی
میری تکلیف بڑھ کے رفتہ رفتہ
میرے قد کے برابر ہوگئے
شکیل ارمان شیام نگری
کس کے سایے میں لوں پناہ شکیل
دھوپ نگلتا ہے سائبان ابھی
خطاب عالم شاذ
خواب شیریں میں نہیں، وہ اک حقیقت خواب تھا
میں نے دیکھا تھا جو سپنا اس کو پورا کر دیا
سمیع الفت
چراغِ عزم بنا ہوں دعا کے صدقے میں
مجال کیا کسی طوفاں کی جو بجھا دے مجھے
ایوب عادل انگس
دورِ خزاں میں ایک شگفتہ گلاب تھا
میں کبھی جہاں میں بہت کامیاب تھا
علی شاہد دلکش
اپنی پہچان یوں بتا دے گا
کرکے احسان وہ جتا دے گا
بلند اقبال
ہزاروں فاصلے طے کرکے درد و غم کے بلند
وہ میرے پاس بھی آیا تو سانحہ بن کر
مہتاب سلم
کیا ضرورت ہے ایسی شہرت کی
آبرو لوٹ لے جو عزت کی
عظیم انصاری
منتشر منتشر ہے فکر عظیم
گرچہ شعروں میں روانی ہے
وکیل انور چاپدانوی
سدا مظلوم کو ہی درا پر کھینچا گیا انور
وطن میں اپنے،ظالم سے کوئی پرسش نہیں ہوتی
شمیم انجم وارثی
آج دل کی خود فریبی تلملا کے رہ گئی
آئینہ ٹوٹا تو تیری یاد آ کے رہ گئی
قابل ذکر طور پر ایوب عادل، وکیل انور چاپدانوی ب ر شمیم انجم وارثی نے مرحوم فیاض انور چاپدانوی کے نام اپنی تخلیقات سے تعزیت بھی کی۔ پروگرام کو کامیاب بنانے خاکسار ماسٹر نوشاد عالم، محمد شمیم اختر اور ان کے رفقاء و دیگر اساتذہ اسکول ہذا بھی پیش پیش رہے۔
رپورٹ: نوشاد عالم (استاذ اسکول ہذا)
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

