’’جس طرح مولانامحمد علی جوہر خود عظیم تھے اسی طرح ان کی تحریک بھی مہتم باالشان تھی: عارف نقوی
میرٹھ9؍دسمبر2021ء
’’جس طرح مولانامحمد علی جوہر خود عظیم تھے اسی طرح ان کی تحریک بھی مہتم باالشان تھی۔اگر مولا نا صرف شاعر، صرف صحا فی یا صرف سیاست داں ہوتے تو وہ اپنے عہد کے سب سے عظیم شاعر، عدیم المثال صحا فی اور نادر المثال سیاست داں ہوتے۔لیکن ملک کے حالات نے انہیں سب کچھ بنا دیا۔یہ الفاظ تھے محترم عارف نقوی (جرمنی )کے جو شعبۂ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی اور بین الاقوامی نوجوان اردو اسکالرز انجمن(آیوسا) کے زیر اہتمام منعقد ’’مولانا محمد علی جو ہر: حیات و خدمات‘‘ موضوع پر اپنی صدارتی تقریر میں آن لائن ادا کررہے تھے۔انہوں نے مزید کہاانہوں نے صحا فت کے ذریعہ برطانوی حکمرا نوں تک اپنی بات پہنچا ئی، لارڈ منٹو بھی ان کے قوم و ملک کے تئیں عظیم جذبات کے قائل تھے ۔کہ مولانا علی جو ہر کی ہمہ جہت شخصیت کے ہر پہلو پر تحقیق کیے جانے کی اشد ضرورت ہے۔مولانا نے سچے محب وطن کا کردار نبھایا ہے۔اگرمولانا کی شخصیت با شندگان ملک کے سامنے لائی جائے تو یقینا ملک میں پھر بھائی چارہ اور آپ سی اتحاد کا ما حول قائم ہو گا۔‘‘
اس سے قبل پرو گرام کا آغاز محمد عمران نے تلا وت کلام پاک سے کیا۔ بعد ازاں سعید احمد سہارنپوری نے مرزا غالبؔ کی غزل مترنم آ واز میں پیش کی۔اس ادب نما پرو گرا م کی سرپرستی صدر شعبۂ اردو پرو فیسر اسلم جمشید پوری نے فر مائی۔ مہمان خصوصی کے بطور صدر شعبۂ اردو، بنارس ہندو یونیورسٹی، پرو فیسر آ فتاب احمد آفا قی نے آن لائن شر کت کی۔ استقبالیہ کلمات ڈا کٹر شاداب علیم، نظا مت کے فرائض سیدہ مریم الٰہی اور شکریے کی رسم ڈاکٹر آصف علی نے ادا کی۔
اس مو قع پر عثمانیہ یو نیورسٹی حیدر آ باد سے سعدیہ سلیم نے مولا نا محمد علی جو ہر کی حیات و خدمات پر اپنا پُر مغز مقالا پیش کیا۔ وہیں ڈاکٹر یوسف رام پوری نے اپنا مقالہ بعنوان مو لانا محمد علی جو ہر بحیثیت صحافی‘‘پیش کرتے ہوئے مولانا کے اخبار’’کامریڈ‘‘ پر تفصیلی روشنی ڈا لی۔ پروگرام اظہار خیال کرتے ہو ئے مہمان خصوصی پرو فیسر آ فتاب احمد آ فاقی نے کہا کہ مولا نا محمد علی جو ہر ہشت پہلو شخصیت کے مالک تھے۔صحافت،سیاست، خطابت ،شاعری، میں جہاں انہیں ملکہ حاصل تھا وہیں مولانا قائدانہ صلاحیت سے بھی مالا مال تھے۔اظہار حق میں بھی انہوں نے کبھی تامل سے کام نہیں لیا ۔اس تعلق سے دوست و دشمن کی ان کے یہاں کوئی تفریق نہیں تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ مولانا محمد علی جو ہر تحریک آزادی کے وہ مجاہد مرد تھے جنہوں نے صحافت کے ذریعے ایوان باطل میں لرزہ اور محبان آزادی میںغلامی سے نجات کاجوش و ولولہ پیدا کیا تھا۔
اس مو قع پر ڈا کٹر ارشاد سیانوی،علینا،عظمیٰ پروین، انکت کمار،محمد شمشاد۔تابش فرید آن لائن جڑے رہے۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

