قومی اردو کونسل میں ڈاکٹر تقی عابدی کی تین کتابوں‘کلیاتِ فراق کامل’ ،‘مطالعۂ رباعیات فراق گورکھپوری’،‘بالمکند بے صبر’ کا اجرا
نئی دہلی: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے صدر دفتر میں کنیڈا میں مقیم معروف ادیب و محقق ڈاکٹر تقی عابدی کی تین کتابوں ‘کلیاتِ فراق کامل’،‘مطالعۂ رباعیات فراق گورکھپوری’،‘بالمکند بے صبر’ کا کونسل کے ڈائریکٹر پروفیسر شیخ عقیل احمد،معروف افسانہ نگار شموئل احمد اور مشہور شاعر ملک زادہ جاوید کے ہاتھوں اجرا عمل میں آیا۔ اس موقعے پر شیخ عقیل احمد نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر تقی عابدی کو مبارکباد پیش کی اور ان کی ادبی و تحقیقی خدمات کا تعارف کروایا اور کہا کہ ڈاکٹر تقی عابدی رات دن تحریر و تحقیق میں سرگرم رہتے ہیِ اور لگاتار ان کی کتابیں شائع ہوتی رہتی ہیں ـ اسی سلسلے کی ان کی یہ تین کتابیں ہیں ـ وہ جس موضوع پر لکھنا چاہتے ہیں اس پر ہر پہلو سے تحقیق کرتے ہیں،پھر لکھنا شروع کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر تقی عابدی نے ادب کے کسی موضوع کو تشنہ نہیں چھوڑا ہے، ہر موضوع پر قابل قدر تحقیقی و تنقیدی کام کیا ہےـ وہ جس موضوع پر کام کرتے ہیں اس کے ماہر بن جاتے ہیں ، یہ ان کی بہت بڑی خوبی ہےـ یہ دنیا بھر میں اردو ادب کے سفیر بھی ہیں،جہاں بھی اردو پر بات ہوتی ہے وہاں ان کا کسی نہ کسی حوالے سے تذکرہ ضرور ہوتا ہےـ شیخ عقیل نے کہا کہ یہ میرے لیے شرف کی بات ہے کہ اردو کے اتنے بڑے ادیب و مصنف کی تین کتابوں کے اجرا کا موقع ملا ـ شمویل احمد نے کہا کہ ڈاکٹر تقی عابدی کی تنقیدی بصیرت کا میں ایک عرصے سے قائل ہوں ـ ان کے دل میں اردو کا درد ہے، وہ اسے پوری دنیا میں پھیلانا چاہتے ہیں اور اس کے لیے شب و روز کوشاں رہتے ہیں ـ میں ان کتابوں کی اشاعت پر انھیں مبارکباد دیتاہوں ۔ ملک زادہ جاوید نے تقی عابدی کی ادبی فتوحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اردو کی نئی بستیوں میں کوئی بھی ادبی مجلس تقی عابدی کے ذکر سے خالی نہیں رہتی ـ یہ میرے لیے خوشی کا مقام ہے کہ ان کی تین کتابوں کے اجرا کی تقریب میں شمولیت کا موقع ملا ـ
ڈاکٹر تقی عابدی نے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے ڈائریکٹر قومی کونسل،دیگر مہمانان اور شرکا کا شکریہ ادا کیا اور تینوں کتابوں کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ اردو کو اکیسویں صدی کے ترقیاتی دور میں محفوظ رکھنے اور فروغ دینے کے لیے بڑوں کے تجربات سے استفادہ ضروری ہے،اسی طرح نئے اسکالرز اور محققین کے لیے ضروری ہے قدیم ادبا و شعرا کی باقیات کی تحقیق و تجزیے پر خاص توجہ دیں اور انھیں منظر عام پر لانے کی فکر کریں۔ انھوں نے اپنی مرتبہ کلیاتِ فراق کامل سے سامعین کو منتخب اشعار بھی سنائے اور فراق کے شعری و ادبی امتیازات پر بھی روشنی ڈالی۔ اسی طرح غالب کے شاگرد بالمکند بے صبر کی ادبی خدمات پر بھی گفتگو کی۔
اس موقعے پر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر ندیم احمد اور دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر احمد امتیاز نے بھی ڈاکٹر عابدی کو مبارکباد پیش کی ـ تقریب میں کونسل کا عملہ بھی شریک رہا۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

