شبیر(پروٹاگونسٹ/ہیرو)
اصغر (شبیر کا دوست)
جناب اجمل (شبیر کے کالج کے اردو پروفیسر)
مسز شبانہ(شبیر کی امی جان)
مسٹر وقار(شبیر کے والد صاحب)
ایکٹ ون (منظر__1) جاے وقوع (شبیر کا کالج)
جناب اجمل: میں آپ سبھوں سے جاننا چاہتا ہوں کہ خونی رشتوں کی کیا اہمیت ہوتی ہے اور کسی فرد کو کس حد تک خونی رشتوں کی پرواہ کرنی چاہیے؟(یہ سوال کرتے ہی معزز پروفیسر پورے کلاس کے طلباء و طالبات کے چہروں کے تاثرات کا جائزہ لے رہے ہوتے ہیں)
ایک اسٹوڈینٹ: سر خونی رشتوں کی اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ میرے خیال سے خونی رشتوں کی اہمیت اتنی ہی ہے جتنی خالق کی مخلوق سے ہے۔
دوسرا اسٹوڈینٹ: نہیں سر میں اس بات سے بالکل بھی اتفاق نہیں کرتا ہوں کہ خونی رشتوں کی اہمیت اتنی ہی ہے جتنی خالق کی مخلوق سے ہے
جناب اجمل: تو پھر بیٹے تم خود ہی بتاؤ کہ تمہارے نزدیک خونی رشتوں کی کیا اہمیت ہے؟
دوسرا اسٹوڈینٹ: سر میرے نزدیک خونی رشتوں کی اہمیت اتنی ہی ہے جتنی ایک انسان کو دوسرے انسان پر ہونی چاہیے نہ زیادہ نہ کم بلکہ عین فطرت کے مطابق
جناب اجمل: کیا سبھی اسٹوڈینٹس اس بات سے اتفاق رکھتے ہیں؟(سر نے یہ سوال متحیر انداز میں کیا)
شبیر: سر خونی رشتوں کی اہمیت کے بارے میں اب تک جو ہم نے اپنے ساتھیوں سے سنا وہ حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔ دراصل خونی رشتے ہوں یا غیر خونی رشتے ہوں اہمیت دونوں ہی کی بالکل یکساں ہیں۔ اس میں افراط و تفریط کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ آخر ہم کون ہوتے ہیں جو رشتوں کو اپنا یا غیر ہونے پر فوقیت دیں؟
جناب اجمل: لیکن شبیر کیا تمہیں نہیں پتہ ہے کہ اسلام میں خونی رشتوں کی اہمیت غیر خونی رشتوں کی بہ نسبت زیادہ ہے؟(سر نے شبیر کے جواب پر یہ تبصرے ادا کیے)
شبیر: لیکن سر کیا آپ کو اسلامی شریعت کا مکمل علم ہے؟ معاف کیجئے گا سر لیکن میرے خیال سے لوگوں نے اسلام کو صحیح ڈھنگ سے سمجھا ہی نہیں ہے۔ اسلام تو ایک آفاقی دین ہے اسکی تعلیمات سے سبھی بخوبی واقف نہیں ہیں۔(شبیر نے پریشان ہو کر یہ جملے ادا کیے)
جناب اجمل: بیٹا میں نے کب کہا کہ مجھے دین اسلام کا مکمل علم ہے بلکہ میں نے تو تمہیں صرف وہی بتانے کی کوشش کی ہے جو میں نے قرآن پاک میں پڑھا ہے۔ اور رہا سوال تمہارے اس نظریے کا کہ خونی رشتے ہوں یا غیر خونی رشتے سبھی برابر ہیں تو میں تمہارے اس نظریے کی تائید ہرگز نہیں کرتا ہوں کیونکہ ایسا نظریہ قرآن کریم کے مخالف نظریے کی غمازی کرتا ہے۔
شبیر: سر کاش کہ لوگوں کو قرآن پاک کی آیتوں کا صحیح مطلب سمجھ میں آتا تو ہمارے درمیان یہ اختلافات جنم ہی نہ لیتے!!!(شبیر نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ وہ اپنے اس نظریے پر سو فیصد درست ہے اور بقیہ تمام لوگ اسکے اس نظریے کی مخالفت کرنے کی وجہ سے غلطی پر ہیں)
جناب اجمل: خیر آج کا سبق ہم لوگ یہیں ختم کرتے ہیں اور ہم سب یہ امید کرتے ہیں کہ شبیر کو اپنی غلطی کا جلد از جلد ادراک ہو جائے(پہلے پیریڈ کے خاتمے پر کالج کے گھنٹے کی آواز سنائی دیتی ہے)
شبیر: کیوں ساتھیوں آپ سبھوں نے دیکھا کہ میں نے کس طرح اجمل سر کو اپنے جواب سے پریشان کر دیا (شبیر نے شیخی بگھارتے ہوئے یہ جملے کہے)
دیگر اسٹوڈینٹس: تم نے بالکل بکواس جواب دیا( سبھوں نے ایک ساتھ یہ بات کہی)
شبیر: خیر مجھے تو پہلے سے ہی پتہ ہے کہ اس پورے کالج میں میری طرح کوئی ذہین ہے ہی نہیں جو اس قدر اعلیٰ سوچ کو سمجھنے کا اہل ہو؟ تم سبھوں کی مخالفت سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا( شبیر نے دوسروں کا تمسخر اڑاتے ہوئے یہ جملے ادا کیے)
دیگر اسٹوڈینٹس: ہاں ہاں تم ہی تو اس دنیا کے اکلوتے ذہین طالبعلم ہو جسے ہر چیز کا مکمل گیان حاصل ہے(سبھی نے غصے سے یہ جملے کہیں)
ایکٹ ون (منظر___2) جاے وقوع: ایک چاے کی دوکان جسکا نام درگا ہوٹل ہے جہاں اکثر لوگ گھنٹے بیٹھ کر دوستوں کے ساتھ گپ شپ کرتے ہوئے چاے اور سبزی پوری کا مزہ لے رہے ہوتے ہیں
اصغر: ارے یار شبیر آج سبزی پوری کھانے کا میرا بہت من کر رہا ہے۔ چل نہ یار آج پھر ہم اپنے پرانے اڈے پر چلتے ہیں جہاں جا کر ہملوگ اس ظالم دنیا کے چنگل سے تھوڑی دیر کے لئے راحت محسوس کرتے ہیں۔(اصغر نے اپنے دوست کو اصرار کرتے ہوئے یہ بات کہی)
شبیر: یار بات اگر کھانے پینے کی ہے تو اس سے مجھے کوئی پریشانی نہیں ہے میں تو خود درگا ہوٹل کی سبزی پوری اور چاے سے لطف اندوز ہونے کا عادی رہا ہوں مگر مجھے تم سے صرف ایک شکایت یہی ہے کہ تم نے پچھلے دن کالج میں میرا ساتھ نہیں دیا جب کالج کے دوسرے اسٹوڈینٹس میرا مزاق اڑا رہے تھے۔ تم نے میری حمایت میں ایک جملے بھی نہیں کہا جس سے میرے دل کو ذرا ٹھیس پہنچی ہے
اصغر: یار تو ابھی بھی گزشتہ کل کی باتوں میں الجھا ہوا ہے جبکہ میں نے تو کل کی ساری باتیں بھلا دی تھیں کیونکہ میرے خیال سے ہر دن ایک نیا دن ہوتا ہے جو ہمارے لئے نیء نیء سوغاتیں لاتا ہے۔ اگر ہم ہر دن کی باتوں کو اتنی اہمیت دینگے تو ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔ یار میری مان تو تو بھی کل کی باتوں کو مکمل طور سے بھول جا اور اپنے دماغ کو ان خیالات میں الجھا کر پریشان نہ کر خود کو۔
شبیر: یار تیری ان باتوں کا جواب دینے کے لئے مجھے بہت وقت چاہیے اس لئے بہتر یہی ہوگا کہ ہم لوگ پہلے درگا ہوٹل میں پہنچے اور پھر اپنے اپنے خیالات پر روشنی ڈال کر ایکدوسرے کی باتوں کو مکمل طور پر سمجھنے کی کوشش کریں۔ کیا خیال ہے تیرا اصغر؟
اصغر: ہاں ہاں بالکل۔ میں بھی تو یہی چاہتا تھا کہ ہم ہوٹل میں بیٹھ کر کچھ وقت کے لئے ریلیکس ہوں مگر اب جب تیری یہی خواہش ہے کہ ہم چاے پر کل کی باتوں پر تبصرے کریں تو یہ بھی ٹھیک ہے۔ تیرے ساتھ چاے پینے کا مزہ بھی آےء گا اور ہماری باتیں بھی مکمل ہو جاینگی۔ (دونوں خوشی خوشی درگا ہوٹل کی طرف قدم بڑھا رہے ہوتے ہیں)
اصغر: بھائی یہ ٹیبل تو ذرا پونچھ دو۔ دیکھو کتنا گندہ ہو گیا ہے۔
ملازم لڑکا: ہاں بھائی بس ایک منٹ میں صاف کر دیتا ہوں۔ یہ لیجیے اب آپ لوگ کو کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔
اصغر: چار چار سبزی پوریاں بھی لانا۔ دھیان سے پوری گرم ہونی چاہیے ورنہ ہملوگ پوری کے علاوہ کچھ اور کھا لینگے
ملازم لڑکا: نہیں نہیں بھائی، آپ بالکل بھی چنتا فکر نہ کریں۔ میں آپلوگوں کے لئے گرم گرم پوریاں ہی لاؤں گا۔ بس ہمیں آپ تھوڑا ٹائم دے دیجیے۔
اصغر: ٹھیک ہے بھائی تم کو جتنا ٹایم چاہیے لے لو ویسے بھی ہملوگ ابھی ایک گھنٹہ تک بالکل فری ہیں۔
ملازم لڑکا: یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ اب میں آپلوگوں کے لئے گرما گرم پوری اور سبزی کا انتظام کرتا ہوں (وہ لڑکا گنگناتےہوئے وہاں سے چل جاتا ہے تب اسی دوران اصغر اور شبیر باتیں شروع کرنے لگتے ہیں)
شبیر: تو بھای اصغر تم نے کتنے اچھے سے اس ملازم لڑکے کو اپنی بات سمجھا دی ۔ کاش کہ میری بھی باتیں لوگوں کو اتنے اچھے سے سمجھ میں آ جاتیں!!!
اصغر: بھائی شبیر بات یہ نہیں ہے کہ تمہاری باتیں لوگوں کو سمجھ میں آ جاےء بلکہ بات تو دراصل یہ ہے کہ جو باتیں تم دوسروں کو سمجھانا چاہتے ہو وہ باتیں درست ہیں بھی یا نہیں
شبیر: تو تمہیں کیا لگتا ہے کہ میری باتیں بے تکی ہوتی ہیں؟
اصغر: ارے یار تمہاری یہی پریشانی ہے کہ تم بہت جلد دوسروں کی باتیں سمجھنے سے پہلے اپنی رائے دوسروں سے منوانا چاہتے ہو اور تمہیں ہر وقت یہی محسوس ہوتا ہے کہ ہر معاملے میں تمہاری باتیں ہی بالکل سو فیصد درست ہوتی ہیں
شبیر: اگر میں ہر معاملے میں درست راے دیتا ہوں تو بھلا مجھے اپنی سمجھ پر مکمل یقین کیوں نہ ہو؟آخر اس میں برا ہی کیا ہے؟
اصغر: اس میں برا یہی ہے کہ تم اپنے حساب سے خود کو سو فیصد درست مانتے ہو جبکہ حقیقت میں ویسا نہیں ہے جیسا تم خود کے بارے میں سوچتے ہو
شبیر: تو تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ اب تک میری جتنی بھی آراء یا نظریات ہیں ان میں سے چنندہ یا اکثر نظریات باطل ہیں؟
اصغر: مجھے تمہارے ہر نظریات کا تو نہیں مگر چنندہ نظریات کے باطل ہونے کا پورا صد فیصد یقین ہے
شبیر: اچھا تو اب ذرا ایک آدھ مثال بھی دے دو میرے نظریات کے باطل ہونے کا
اصغر: ہاں ہاں کیوں نہیں!! اگر تم اتنا ضد ہی کرتے ہو کہ تمہیں تمہاری غلطیاں بتا دی جاییں تو میں تمہیں بتا ہی دیتا ہوں تاکہ میرے دل پر بھی کسی قسم کا بوجھ نہ رہے۔
شبیر: ہاں تم بولو۔ ذرا میں بھی تو دیکھوں کہ میں کہاں غلط ہوں
اصغر: یار تم تو پچھلے دن ہی بالکل غلط تھے اجمل سر کے سوال کے جواب میں اور تمہیں اب تک اس بات کا احساس تک نہیں ہے
ملازم لڑکا: یہ لیجیے بھائی میں نے آپ لوگوں کے لئے آپکے حکم کے مطابق بالکل گرما گرم پوریاں اور سبزیاں لای ہیں۔
شبیر: ہاں ہاں ٹھیک ہے۔ گرما گرم ہو یا نیم گرم۔ اس میں تعریف کی کوی بات نہیں ہے۔ تم بس اپنا کام کرو(جھنجھلا تے ہوئے)
اصغر: ارے بھائی آپ یہاں سے ابھی چلے جاییے۔ میرے دوست کا دماغ تھوڑا خراب ہو گیا ہے(وہ لڑکا منھ لٹکا کر وہاں سے چلا جاتا ہے)
شبیر: کیا مطلب ہے تمہارا میرا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ دماغ تو تم جیسے گدھوں کا خراب ہے جسے معمولی سے معمولی بات تک کا بھی علم نہیں ہے۔ میرے دماغ کا حال بالکل صحیح سالم ہے۔
اصغر: دراصل تمہارے اور میرے درمیاں اب مختلف نظریات کی "دیوار” کھڑی ہو چکی ہے جسے فی الحال گرانا میرے بس کی بات نہیں ہے
شبیر: یہ دیوار میرے وجہ سے نہیں بلکہ تم جیسے کم عقل لوگوں کی وجہ سے ہی کھڑی ہوئی ہے
اصغر: یہ دیوار صرف میرے اور تمہارے درمیان میں حایل نہیں ہے بلکہ یہ دیوار تمہارے اور ساری دنیا کے لوگوں کی نظریات کے درمیان حائل ہے۔
شبیر: اگر تمہارے نزدیک اس دیوار کی وجہ میں ہوں تو یہی صحیح لیکن میں دنیا کے کسی بھی فرد کو خود پر حاوی ہونے کی اجازت ہرگز نہیں دونگا چاہے اسکا انجام کچھ بھی ہو
اصغر: میرے یار اتنی ضد اچھی نہیں ہے کسی بھی شخص کے لئے۔ میں تو تیرا بھلا چاہتا ہوں اسی لئے تجھ سے یہ باتیں کر رہا ہوں ورنہ ان سب باتوں سے مجھے فایدہ ہی کیا ہے
شبیر: بات فایدے یا نقصان کی نہیں ہے بلکہ بات صحیح اور غلط کی ہے
اصغر: ہاں یہی تو میں تجھے کب سے سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ تو غلط ہے اس معاملے میں
شبیر: میں غلط نہیں ہوں بلکہ تم سب لوگ غلط ہو جسکے پاس صحیح اور غلط کے درمیان امتیاز کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔اف اف میں آخر تیرے ساتھ یہاں آیا ہی کیوں جبکہ میں جانتا تھا کہ تم مجھ سے ہر معاملے میں بہت کمتر ہو
اصغر: کیا کہا تم نے کہ میں تم سے ہر معاملے میں کمتر ہوں……. اے خدا یہ میں نے کس کمبخت سے دوستی کر لی جسے کسی کا لحاظ کرنا ہی نہیں آتا
شبیر: تو ٹھیک ہے میں ہی آج سے تمہاری دوستی کو ختم کرتا ہوں۔ آجکے بعد سے تم مجھے کبھی ملنے کی کوشش نہ کرنا اور میں بھی تم سے ہرگز نہیں ملوں گا یہ میرا تم سے وعدہ ہے اور تم جانتے ہی ہو کہ میں اپنے وعدے پر کتنی سختی سے عمل کرتا ہوں
اصغر: بھایء تو ذرا رک تو سہی…… میری بات تو سن لے
شبیر:اب میں تیرے ساتھ ایک منٹ بھی گزار نہیں سکتا(شبیر غصے سے وہاں سے تیزی سے واپس اپنے گھر کی طرف چلا جاتا ہے)
اصغر: کاش کہ شبیر کو اپنے غلط ہونے کا علم ہو جائے اور وہ پھر سے میرا دوست بن جائے مگر……………(اصغر دل ہی دل میں شبیر کے خیالوں میں گم ہو جاتا ہے اور جب وہ اس صدمے سے باہر آتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ کہیں شبیر کو اپنے اس تیور کی وجہ سے بہت بڑی قیمت نہ چکانی پڑے)
ایکٹ ون(منظر___3) جاے وقوع:(شبیر کا گھر)
مسٹر وقار:شبانہ او شبانہ کہاں ہو تم؟ میں کب سے تمہیں آواز دے رہا ہوں-تم مجھے آواز کیوں نہیں دے رہی ہو؟
مسز شبانہ: معاف کیجئے گا آپ’ مجھے آپکی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی اسی لئے آنے میں تھوڑی دیر ہو گئی (گھبراتے ہوے)
مسٹر وقار: ہاں ہاں تم کو تو ہمیشہ سے ہی میری آواز سنائی نہیں دیتی ہے۔مجھے تو لگتا ہے کہ تم ایسا جان بوجھ کر میرے ساتھ کرتی ہو۔ اچھا ٹھیک ہے میں مان لیتا ہوں کہ تمہیں واقعی میری آواز سنائی نہیں دیتی ہے(اپنی بیوی کے چہرے پر گھورتے ہوئے)
مسز شبانہ: نہیں نہیں آپ مت مانیے اور آپکو ماننے کی اس میں آخر ضرورت ہی کیا ہے۔ میں ہی تو آپکی قصوروار ہوں اور میں ہی ہمیشہ سے غلط رہی ہوں اس گھر میں(دل برداشتہ ہو کر)
مسٹر وقار: ارے بھائی تم تو بالکل بچی کی طرح برا مان گیی۔ میں نے تو اپنی غلطی مان لی ہے تو بھلا پھر تم کیوں اتنا واویلا مچا رہی ہو؟
مسز شبانہ: آپ اپنی غلطی مانتے ہیں؟؟؟ آج تک تو ایسا ہوا نہیں تو پھر آج میں کیسے مان لوں کہ واقعی آپ نے اپنی غلطی مان لی ہے؟آپ تو اس معاملے میں بالکل اپنے بیٹے کی طرح ہو جسے ہر وقت لگتا ہے کہ وہ ہی ہمیشہ صحیح ہے اور باقی سب غلط ہیں۔
مسٹر وقار: شبانہ تم مجھے جتنا چاہے برا بھلا کہہ دو مگر میرے بیٹے کو ہرگز برا مت کہنا کیونکہ تم تو جانتی ہو کہ میں اس سے کس قدر پیار کرتا ہوں۔ اسکے خلاف میں ایک لفظ بھی برداشت نہیں کر سکتا(اسی دوران مسٹر وقار کی نظر اپنے بیٹے پر پڑتی ہے جو نگاہیں نیچے کر کے بوجھل قدموں کے ساتھ گھر میں داخل ہو رہا ہوتا ہے)
مسٹر وقار: لو دیکھو میرا لاڈلا بیٹا بھی گھر آ گیا۔ کیسا ہے میرا بیٹا؟
شبیر: ابو آپ یہ جھوٹ موٹ کا پیار دکھانا بند کریں گے۔ میں آپ لوگوں کی بناوٹی حرکتوں سے تنگ آ گیا ہوں۔ مجھے آپ پریشان کرنا چھوڑ دیں۔ میں کوئی شیرخوار بچہ تو نہیں ہوں جس سے آپ کھیلتے رہیں
مسز شبانہ: خبر دار شبیر۔ اپنے زبان کو لگام دو ورنہ میں تمہیں بہت بری طرح پیٹوں گی۔ یہ کیا طریقہ ہے اپنے ابو سے بات کرنے کا؟ کیا تمہیں یہ نہیں پتہ کہ باپ سے کس طرح بات کی جاتی ہے؟ کیا تم اتنے بد تمیز ہو گیے ہو کہ ماں باپ کا احترام کرنا بھی بھول گئے ہو؟کیا تمہیں اسی لئے ہم نے ملکر پالا ہے کہ تم ہملوگوں کے ساتھ بدتمیزی کرو؟؟؟
شبیر: ہاں ہاں مجھے پتہ ہے کہ آپ لوگوں نے ہی مجھے ملکر پالا ہے تو کیا آپ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ میں آپ لوگوں کا غلام بن کر رہوں اور میں آپ لوگوں کی ہر بے تکی باتوں کو مانوں۔ شاید آپ لوگوں کو یہ نہیں پتہ ہے کہ بچوں کو پیدا کرنے اور پالنے سے کوئی بڑا یا عظیم نہیں ہو جاتا ہی کیونکہ اگر واقعی پالنے میں کوئی فضیلت ہوتی تو اس دنیا کے ہر جانور بھی اپنی اپنی جگہ پر عظیم ہیں کیونکہ وہ سب بھی تو اپنے بچوں کو پالتے ہیں۔
مسز شبانہ: تو کیا تم ہم لوگوں کی مثال جانوروں سے دو گے جو اپنے بچے کو پالتے ہیں؟ کیا انسان اور جانور میں کوئی فرق نہیں ہے تمہارے نزدیک؟
شبیر: جب جانور بھی خدا کی ہی مخلوق ہے تو میں انسان اور جانور میں کوئی فرق کیوں کروں بھلا؟
مسٹر وقار: ارے شبانہ تم میرے لاڈلے سے اتنا بحث کیوں کر رہی ہو۔ وہ ذرا پریشان لگ رہا ہے اسی لئے وہ بہکی بہکی باتیں کر رہا ہے۔ اسے تم چھوڑ دو اور اسے اسکے حال پر چھوڑ دو ورنہ وہ گمراہ ہو جائے گا
مسز شبانہ: اسے چھوڑنے کا ہی تو یہ نتیجہ ہے کہ وہ گمراہ ہو جائے گا نہیں بلکہ وہ گمراہی کے دلدل میں غوطہ لگا چکا ہے جسے اب ہمیں ملکر باہر نکالنا ہوگا۔
شبیر: گمراہ میں نہیں بلکہ گمراہ آپ سب ہیں جنہیں اپنی گمراہی کا علم تک نہیں ہے۔
مسز شبانہ: اب تمہارے نزدیک ہم سب گمراہ ہو گیے تو بتاؤ ہم لوگ گمراہ کس طرح اور کیسے ہوے؟
شبیر: آپلوگوں کی گمراہی کا ثبوت یہی ہے کہ آپ لوگ دقیانوسی باتوں کو سچ مان کر اسی کو حق سمجھتے ہیں اور دوسروں کو یہ تاثر دیتے ہیں کہ آپ لوگ دین کی باتوں پر عمل کر رہے ہیں۔
مسز شبانہ: دقیانوسی باتیں’ کون سی دقیانوسی باتیں ہیں جن پر ہملوگ عمل کر رہے ہیں
شبیر: کیا یہ دقیانوسی باتیں نہیں ہیں کہ ہر بچے کو اپنے والدین کی عزت و احترام کرنی چاہیے چاہے اسکے والدین علم والے ہوں یا نہ ہوں کیونکہ انکے نزدیک محض والدین ہونے کی بہت فضیلت ہے اسلامی شریعت میں۔
مسز شبانہ: تو کیا تمہیں نہیں لگتا ہے کہ تم پر تمہارے والدین کا زیادہ حق ہے خونی رشتہ کی وجہ سے؟؟؟
شبیر: ہرگز نہیں۔ میرے خیال سے دنیا کا ہر انسان برابر ہے تو اس میں کسی کو کسی پر فضیلت ہی کیوں دیں۔ اسی بات پر تو میرا ابھی چند گھنٹے پہلے اصغر سے بحث و تکرار ہوا ہے اور یہاں آکر آپلوگوں نے بھی مجھے اسی الجھن میں پھر سے الجھا دیا ہے۔ مجھے نہیں سمجھ آرہا ہے کہ آخر لوگ یہ بات سمجھ کیوں نہیں پا رہے ہیں کہ دنیا کا ہر شخص برابر ہے اللہ کی نظر میں تو ہم بھلا محض خون کے رشتے کی وجہ سے کسی کو کسی پر فضیلت کیوں دیتے پھریں؟؟؟
مسز شبانہ: تو تم نے اب اصغر سے بھی جھگڑا کر لیا ہے؟
شبیر: ہاں ہاں کر لیا ہے۔ اصفر ہی نہیں جو کوی بھی میرے نظریات کے خلاف اپنی رائے مجھ پر تھوپنے کی کوشش کریگا میں اس سےاپنا رشتہ ناطہ سب توڑ لوں گا
مسز شبانہ: تب تو تمہارے اس اصول کے مطابق تمہیں ہملوگوں سے بھی رشتہ توڑ لینا چاہیے کیونکہ ہم لوگ بھی تو تمہارے نظریے کے خلاف کھڑے ہیں
شبیر: آپ نے بالکل صحیح کہا امی۔ مجھے تو اس گھر کو چھوڑ کر کب کا چلا جانا چاہیے تھا۔ میں ہی پاگل تھا جو اتنے دنوں تک آپ لوگوں کو برداشت کرتا چلا جا رہا تھا
مسٹر وقار: ارے شبانہ تم پاگل تو نہیں ہو گیء ہو ،تم یہ کیا اناپ شناپ بک رہی ہو میرے بیٹے کے خلاف
مسز شبانہ: آپ کو میری باتیں اناپ شناپ لگ رہی ہیں اور اپنے اس بیٹے کی باتیں درست لگ رہی ہیں؟
شبیر: ابو آپ مجھے روکنے کی کوشش مت کریں کیونکہ میں نےاب اپنا ذہن بنا لیا ہے۔ مجھے اب اس گھر میں رہنا بالکل بھی گوارا نہیں ہے(یہ کہتے ہوئے شبیر اپنے کمرے میں جاتا ہے اور اپنا بیگ پیک کرتا ہے)
مسز شبانہ: بیٹا رکو، میری بات غور سے سنو، جلد بازی میں لیے گئے فیصلے اکثر بعد میں پچھتاوے کا سبب بنتے ہیں۔ اگر تم چاہتے ہو کہ میں تم سے معافی مانگوں تو لو میں تم سے معافی مانگتی ہوں مگر خدا کے لئے اس گھر کو چھوڑ کر نہ جاؤ ورنہ ہم لوگ تمہارے بنا جی نہیں سکیں گے۔
شبیر: نہیں امی یہ سب فضول کی باتیں ہیں کہ کوی کسی کے بنا جی نہیں پاے گا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس دنیا میں سبھی اپنے لیے جیتے ہیں مگر وہ ایسا کہنے سے ڈرتے ہیں کہ کہیں سماج انکو برا بھلا نہ کہنے لگے۔ اور رہا سوال میرے جینے کا تو میں نہ ہی سماج سے ڈرتا ہوں اور نہ ہی کسی بھی شخص سے۔ میرے اور آپلوگوں کے درمیان جو مختلف نظریات کی دیوار کھڑی ہے یہ کافی مضبوط ہے جسے نہ ہی آپلوگ گرا پاییے گا اور نہ ہی میں اور بہتر یہی ہوگا کہ ہم اس دیوار کو یونہی کھڑا رہنے دیں
مسز شبانہ: بیٹا جس دیوار کی تم بات کر رہے ہو وہ تمہاری خود کی ہی بنای ہوی دیوار ہے جسکی ہماری نظر میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔ ایک ماں ہونے کے ناطے یہ میرا پیار ہے جو تمہیں گھر پر رکنے کے لئے آمادہ کر رہا ہے ورنہ میں تمہیں آسانی سے جانے دیتی
شبیر: امی آپ ٹینشن نہ لیں۔ میرے جانے کے بعد آپکو تھوڑے دنوں تک پریشانی اور غم ضرور ہوگی مگر دھیرے دھیرے سب کچھ دوبارہ سے ٹھیک ہونے لگے گا(یہ کہتے ہوئے شبیر اپنے سازوسامان کے ساتھ گھر کے مین گیٹ کی طرف چل دیتا ہے)
مسٹر وقار: بیٹا رک جاؤ۔ مہربانی کر کے گھر چھوڑ کر نہ جاؤ۔ میں تم سےاپنی ہر خطا کی معافی مانگتا ہوں مگر بس تم گھر چھوڑنے کا ارادہ ترک کر دو
شبیر: نہیں ابو۔ آپ مجھے کروڑ بار بھی اگر روکنے کی کوشش کرینگے تو میں نہیں رکوں گا۔ میرا اس گھر سے جانا ہی بہتر ہوگا ہم سبھوں کے لئے۔(شبیر اللہ حافظ کہتے ہوئے اپنے گھر سے باہر اپنے قدموں کو گھسیٹتے ہوئے جاتا ہے تاکہ اسکا پیچھا چھٹ سکے)
مسٹر وقار: اے میرے خدا یہ تونے آج ہمیں کیا دن دکھا دیا( وقار صاحب زور زور سے رونے لگتے ہیں)
مسز شبانہ: ہاے اللہ، یہ کیا ہو گیا ہملوگوں کے ساتھ۔ ایسا تو ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ہمیں ایک دن اپنے بیٹے سے جدا ہونا پڑے گا(مسز شبانہ بھی زاروقطار رونے لگتی ہیں)
ایکٹ ون(منظر____4) جاے وقوع: (ایک سنسان سڑک جسکے آخری موڑ پر ایک کراے کی رہایشی ہوٹل آباد ہے)
شبیر: چلو اچھا ہی ہوا کہ میرا پیچھا چھوٹا کچھ احمق لوگوں سے ورنہ میں تو اپنے نظریات کو سمجھا سمجھا کر پاگل ہو جاتا۔ اب اکیلے رہونگا تو مجھے کوئی ٹینشن دینے والا نہیں ملے گا جو کہ بہت اچھا ہوگا میری صحت اور چاک و چوبند دماغ کے لئے ( سامنے اجمل سر اتفاق سے اسی سڑک پر چل رہے ہوتے ہیں)
جناب اجمل: ارے بیٹا شبیر یہ سازوسامان لے کر تنہا کہاں جا رہے ہو؟ کسی ہوٹل میں اکیلے رہنے کا ارادہ ہے کیا؟
شبیر: سر دراصل بات یہ ہے کہ میں نے اپنا گھر چھوڑ دیا ہے کیونکہ میرا اس گھر میں دم گھٹ رہا تھا جہاں ہر بات پر گھر والوں سے بحث و تکرار ہو جاتی تھی۔ اسی لئے میں نے اکیلے زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا ہے۔
جناب اجمل: بیٹا میری مانو تو تم دوبارہ اپنے گھر چلے جاؤ کیونکہ یہ دنیا بڑی ظالم ہے وہ تمہیں جینے نہیں دیگی۔ ٹینشن، لڑائی، جھگڑا ، بحث اور تکرار کس گھر میں نہیں ہوتی ہے اور تمہیں تو اپنے بوڑھے والدین کی فکر کرنی چاہیے جنہیں تم بے سہارا چھوڑ آئے ہو۔ وہ تو تمہارے اپنے ہیں۔ ان سے تو تمہارا خون کا رشتہ ہے۔ بھلا اپنوں کو بھی کوئی چھوڑتا ہے چھوٹی چھوٹی باتوں پر۔ جو بھی گلے شکوے ہیں تم اسے گھر پر ہی دور کرنے کی کوشش کرو مگر اس طرح گھر والوں سے بغاوت پر نہ اترو
شبیر: سر آپکے مشورے کے لیے بہت بہت شکریہ۔ مگر آپ تو جانتے ہیں کہ میں اپنے معاملات میں کسی کی بھی نہیں سنتا اور جو میرا دل کہتا ہے میں وہی کرتا ہوں۔ لہذا بہتر یہی ہوگا کہ آپ مجھے مزید مشورہ نہ دیں۔
جناب اجمل: ٹھیک ہے بیٹا۔ میرا کام تھا بھٹکے ہوئے کو راہ بتانا مگر جب تمہاری یہی خواہش ہے کہ تمہارے معاملات کے درمیان کوئی دوسرا بندہ نہ آئے تو نہ ہی سہی۔ میں اب تمہیں روکوں گا نہیں۔ تمہیں جہاں جانا ہے چلے جاؤ اور جہاں رکنا ہے رک جاؤ۔ تم وہی کرتے رہو جسکا تمہارا جی چاہتا ہے۔ بھلا میری کیا غرض ہے کہ میں تمہیں زبردستی کھای میں گرنے سے روکوں (خدا حافظ کہہ کر جناب اجمل وہاں سے چلے جاتے ہیں)
شبیر: اجمل سر اتنی جلدی میری بات مان گئے جبکہ میرے والدین مجھے آخر آخر تک گھر چھوڑنے سے روکتے رہے(یہ بات سوچ سوچ کر پہلی بار شبیر کے دماغ کو دھچکہ لگا اور جوں جوں وہ اس سوچ سے آگے بڑھ رہا ہوتا ہے اچانک ایک اسپیڈ بریکر سے اسے دھکا لگتا ہے جسکی وجہ سے اسکا سارا سامان سڑک پر گر جاتا ہے۔ سامنے سے چند لٹیروں کی گینگ آرہی ہوتی ہے)
لٹیرے: اے شیانے،اتنا مال لے کر کہاں گل ہو رہا ہے؟ سارا مال خود ہی لے جاے گا یا ہملوگوں کے لئے کچھ چھوڑے گا بھی۔(ایک لٹیرا شبیر کے کان پٹی پر گن جماتا ہے جبکہ دوسرا لٹیرا اسکے منھ کو کپڑے سے باندھ دیتا ہے اور دیگر لٹیروں کی مدد سے وہ لوگ اسے ایک سنسان جنگل میں لے جاکر اسکا قتل کرکے اسکی لاش کو کھای میں پھینک دیتے ہیں اور اسکے سارے سامان آپس میں بانٹ لیتے ہیں)
ڈرامہ نگار: افتخار زاہد
اصل نام: افتخار احمد
پتہ: J-56/2, فتح پور ویلیج روڈ،گارڈن ریج
رابطے کا نمبر:9007300893

