ایک ون ایکٹ ڈرامہ:
کردار: ناصر(پروٹاگونسٹ/ ہیرو)
اشرف(ناصرکا دوست)
مسز ریحانہ(ناصر کی امی جان)
صدف(ناصر کی بہن)
اجمل چاچا (ایک اخبار فروش)
ایک دوکاندار (جو کتابیں اور میگزینز فروخت کرتاہے)
ایکٹ ون(منظر -1) (جاے وقوع: ناصر کا گھر)
مسز ریحانہ: اف اف یہ لڑکا کب سدھرے گا مجھے کچھ پتہ نہیں۔ یہ بھی کوی وقت ہے سوتے رہنے کا۔ 9بج چکے ہیں اور جناب ابھی بھی خواب میں کھوے ہوئے ہیں۔ ناصر،ناصر نو بج چکے ہیں (ناصر کو سختی سے جھنجھوڑتے ہوئے) اٹھو نا ناصر،اب اٹھ بھی جاؤ۔ کیوں روزانہ اتنی دیر تک سوتے رہتے ہو؟(امی جنجھلاتے ہوئے)
ناصر: ارے امی جان آپ کیوں روزانہ میری نیند خراب کر دیتی ہیں؟(نیم خوابیدہ حالت میں) آپ تو مجھے چین سے سونے بھی نہیں دیتیں۔ آخر آپ کو ایسا کرنے میں کیا مزہ آتا ہے؟ میں نے کتنی دفعہ آپ سے یہ کہا ہے کہ میرے پاس "ابھی وقت بہت ہے” آپ کو کیا یہ بات روز روز مجھے سمجھانا ہوگا؟
مسز ریحانہ: نہیں بیٹا مجھے تمہاری نیند خراب کرنے میں کوئی مزہ نہیں آتا ہے بلکہ دنیا کی کوئی بھی ماں اپنے بچے کا نیند خراب نہیں کرنا چاہتی ہے۔ میں تو بس اس سوچ سے تمہیں جگا دیتی ہوں کہ اگر تم جلد صبح اٹھنے کی عادت بنا لو گے تو تمہیں اپنے سارے کام کو انجام دینے کے لئے بہت وقت مل جائے گااور تم پریشان نہیں رہو گے۔
ناصر: امی جان جب میں نے آپ سے بارہا کہہ دیا ہے کہ میرے پاس "ابھی وقت بہت ہے” تو آپ کو یہ بات سمجھ جانی چاہیے۔ میں کوئی دودھ پیتا بچہ تو نہیں ہوں جو آپ مجھے بار بار ایک ہی بات سمجھاتی رہیں؟(غصے سے،چلاتےہوے)
مسز ریحانہ: ارے بیٹا مجھے معاف کر دو،مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو گئی۔ میں آیندہ سے تمہیں ہرگز سویرے نہیں جگاؤں گی (یہ کہتے ہوئے امی واپس اپنے کمرے میں چلی جاتی ہیں اور اپنے آنچل سے اپنے ماتھے کا پسینہ پونچھتی ہیں)
مسز ریحانہ: صدف’ صدف کہاں ہو تم؟
صدف: کیا ہوا امی؟ آپ نے مجھے بلایا؟
مسز ریحانہ: چلو کوئی تو ہے جو اس گھر میں ابھی جاگا ہوا ہے۔ اچھا لگا کہ تم میری آواز سے پریشان نہیں ہوی.
صدف: امی آپ اتنی ادس کیوں لگ رہی ہیں؟کیا بات ہے؟ آپ مجھ کو بتائیں (یہ بھی پڑھیں ڈرامہ ’’ضحاک‘‘کی عصری معنویت – ڈاکٹر ابراہیم افسر )
مسز ریحانہ: کیا کہوں میری لاڈلی ‘ مجھے ناصر کی بہت فکر ہوتی ہے۔ مجھے ہر وقت یہ ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں یہ اپنے خوابوں کو پورا کرنے میں اپنی زندگی برباد نہ کر لے۔ تم تو جانتی ہو کہ تم لوگوں کے ابو کے انتقال کے بعد ہم لوگوں کا گھر صرف انکے پینشن کی آدھی رقم سے ہی چل رہا ہے اور اب تک ناصر کو کوئی ڈھنگ کا کام نہیں مل سکا ہے۔
صدف: آپ فکر نہ کریں امی،ناصر کو اس بات کا احساس ہے اور وہ جلد ہی ہم سبھوں کو اس مشکل بھرے حالات سے نکال لے گا(صدف اپنی امی کی آنسو پونچھتی ہے
ایکٹ ون (منظر__2)
جاے وقوع: (ایک کھلا میدان جو کہ چاروں طرف ہرے بھرے پیڑوں سے گھرا ہوا ہے اور اس میدان کے ایک کونے پر ناصر ایک درخت کے سائے میں بیٹھ کر اپنے اس خواب کو پورا کرنے کی جستجو میں لگا رہتا ہے کہ کاش اسکے قلم سے کوئی ایسی کہانی تخلیق ہو جائے جو اسے پوری دنیا میں شہرت کا مقام بخش دے)
ناصر: "کیا یہ جملہ ٹھیک رہے گا قاریین کے جزبات کو ابھارنے کے لۓ؟”( وہ من ہی من میں اپنی کہانی کو پورا کرنے کے لئے ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کہ اسے اسکے دوست نے آواز دی)
اشرف: ناصر او ناصر! ارے یار جب دیکھو تب تمہارے ہاتھوں میں کاغذ اور قلم رہتا ہی رہتا ہے۔ کیا یار کبھی کاغز اور قلم کے علاوہ تمہیں اپنے دوستوں کی یاد نہیں آتی ہے؟ کتنے دن گزر گئے تم ہملوگوں کے ساتھ کرکٹ میچ کھیلنے کے لئے نہیں گیے۔ ارے یار جوانی کے اوقات کو ان بیجا مصروفیتوں میں مت گزارو) وقت بہت کم ہے اس دنیا میں ہم سبھوں کے لئے۔
ناصر: نہیں یار تم بالکل غلط بات کہہ رہے ہو۔ دراصل حقیقت تو یہ ہے کہ میرے پاس "ابھی وقت بہت ہے” ابھی تو میں نے اپنے خواب کو پورا کرنے کے لئے ہمت ہی جٹایا ہے اور ایسا ہو نہیں سکتا کہ میرا رب مجھے میرے خواب کو پورا کرنے سے پہلے ہی میرا خاتمہ کر دے۔ مجھے اس دنیا کا بہترین قلمکار بننا ہے جسکے لیے مجھے ابھی بہت محنت کرنی ہے۔
اشرف: یار تو نے آخر کچھ اپنے گھر والوں کے بارے میں سوچا ہے کہ وہ تمہارے اس خواب کے چکر میں کتنے پریشان رہتے ہونگے؟
ناصر: ارے یار تو میرے گھر والوں کے بارے میں فکر نہ کیا کر۔ اس دنیا میں ہر انسان کو آزمایش کے لئے بھیجا گیا ہے۔ تو کیا سمجھتا ہے کہ مجھے میرے گھر والوں کی فکر نہیں رہتی ہے؟اگر مجھے میرے گھر والوں کی فکر نہیں ہوتی تو میں یہ اخبارات بیچنے کا کام کر کے ہرگز اپنا وقت نہیں گنواتا۔ کاش کے تو جان پاتا کہ ایک اچھا مصنف بننے کے لئے کتنی قربانیاں دینی پڑتی ہیں!!!
اشرف: ہاں بھائی تو نے بالکل سچ کہا ہے۔ مجھے تیری اس بات سے پورا اتفاق ہے کہ میں اس بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا ہوں اور میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے اسطرح کے شوق پالنے سے محفوظ رکھا۔خیر اگر تیری یہی خواہش ہے کہ تو اس دنیا کا سب سے بڑا قلمکار بن جائے تو میں اللہ سے تیری کامیابی کے لئے دعا کرونگا(یہ کہہ کر اشرف وہاں سے چل دیتا ہے اور ناصر پھر سے اپنے کہانی کے پلاٹ میں گم ہو جاتا ہے)
ایکٹ ون (منظر__3)
جاے وقوع: ناصر کا بیڈ روم
ناصر: "کیا پتہ میں اپنی کہانی کو صحیح ڈھنگ سے انجام بھی دے سکوں گا یا نہیں……. کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے۔ اب تک تو میں صرف چند اخبارات اور مجلات میں ہی اپنی تخلیقات شایع کرا پایا ہوں لیکن مجھے نہیں پتہ کہ وہ دن کب آے گا جب ساری دنیا میرے قلم کی طاقت کو عزت و توقیر کی نگاہ سے اہمیت دی جائے گی اور مجھے میری شہرت کی منزل سے روبرو ہونے کا موقع فراہم ہوگا(ناصر کی آنکھیں بلا پلک جھپکے اپنے بیڈروم کی سیلنگ پر ایک جگہ مرکوز ہو گیء تھیں)
مسز ریحانہ:” اے اللہ میرے اس لخت جگر کو تو چین کی نیند عطا فرما دے جو اب تک اپنے خیالوں میں گم ہے اور اسکی ہر مشکلات کو آسان کر دے”(امی نے کمرے میں آے بغیر ہی یہ دعاییہ کلمات اپنے بیٹے کے لئے ادا کیں تاکہ اسے مزید کوئی فکر پریشان نہ کرے)
ایکٹ ون ( منظر_4)
جاے وقوع: (ریلوے اسٹیشن کے باہر کی ایک گنجان سڑک جہاں ناصر اخبارات فروخت کرتا ہے)
ناصر: ستیاناس ہو اس کمبخت ٹیکنالوجی کا جس نے انٹرنیٹ جیسی منحوس سروس کو لا کر ہم جیسے لوگوں کا بیڑہ غرق کر دیا ہے۔ کیا کہتے ہو اجمل چاچا؟
اجمل چاچا: نہیں نہیں بیٹا تم غلط کہہ رہے ہو انٹرنیٹ سے ہمارا بیڑہ غرق نہیں ہوا ہے بلکہ آدمی کے آرام پسند طبیعت سے ہم لوگوں کا نقصان ہوا ہے۔ آجکل انسان اتنا آرام پسند ہو گیا ہے کہ اسے اپنے گھر والوں سے بھی اتنا لگاؤ نہیں ہے جتنا پہلے کے لوگوں میں دکھتا تھا۔ آجکی یہ نسل ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کر کے خود بھی اپنے لئے پریشانیوں کو دعوت دے رہی ہے اور اپنے سے جڑے دوسرے لوگوں کو بھی ستا رہی ہے۔
ناصر: اجمل چاچا کیا میں آپ سے ایک پرسنل بات پوچھوں؟
اجمل چاچا: ہاں ہاں بیٹا پوچھونا۔ بلا جھجھک پوچھو
ناصر:کیا آپ اپنی اس قلیل آمدنی والی زندگی سے خوش ہیں؟ کیا آپکو امیر بننےکا کبھی دل میں شوق نہیں آیا؟ میں نے سنا ہے کہ آپ اپنے اسکول کے دنوں میں بہت ذہین طالبعلم تھے ………….لیکن ایک منٹ غریب کے گھر میں پلنے والے شخص کی ذہانت کا کہنا ہی کیا یہ تو مجھ سے بہتر کوئی نہیں جانے گا…… کاش کہ ہمارے پاس اور وقت ہوتا……… کاش کہ یہ دنیا یوں ہی چلتی جاے……کاش کہ ہم اپنا خواب پورا ہوتا ہوا دیکھیں!!!!!
اجمل چاچا: نہیں نہیں بیٹا تم ایسا کیوں سوچ رہے ہو۔ ابھی تو تمہارے پاس بہت وقت ہے۔ اپھی تمہاری عمر ہی کیا ہے؟ ابھی تو تمہیں بہت ساری بہاریں دیکھنی باقی ہیں۔ رہا سوال میرا تو میں اپنی اس زندگی سے خوش ہوں کیونکہ میں نے اپنی زندگی میں کبھی خواب ہی نہیں دیکھا ہے۔ میری زندگی اس قلیل آمدنی میں ہی اچھی طرح کٹ رہی ہے۔ آخر میرے آگے پیچھے ہے ہی کون جن کے لئے میں ڈھیر سارا پیسہ کماؤں؟ لیکن تم اپنے خواب سے کبھی بھی پیچھے مت ہٹنا اور چاہے کچھ بھی ہو جائے اپنے خواب کو ضرور پورا کرنا۔ (یہ بھی پڑھیں ریوتی سرن شرما کی ڈراما نگاری – قرۃ العین )
ناصر: ہاں اجمل چاچا آپ بالکل صحیح مشورہ دیے ہیں مجھکو۔ مجھے کسی بھی طرح اپنا خواب پورا کرنا ہے۔ واقعی مجھے تو پہلے سے ہی پتہ ہے کہ میرے پاس میرے خواب کو پورا کرنے کے لئے "ابھی وقت بہت ہے”
ایکٹ ون (منظر_5)
جاے وقوع: ایک انٹرنیشنل پبلشر کی دوکان اور اس سے متصل مین سڑک جہاں ہر وقت گاڑیوں کی آمدورفت ہوتی رہتی ہیں۔
ناصر: میرے اللہ میں نے بہت محنت سے اپنی کہانی تخلیق کر کے انٹرنیشنل میگزین فور ملٹی لنگول اسٹوریز کے ایڈیٹر کو بھیجی ہے۔ آج مہینے کا وہ دن ہے جب وہ میگزین مخصوص بک اسٹالز میں دستیاب ہوتی ہیں۔ میرے اللہ مجھے ہمیشہ ناکامی ہاتھ لگی ہے مگر میں تیرے رحم و کرم سے کبھی بھی نا امید نہیں ہوا ہوں اور آج بھی مجھے پورا یقین ہے کہ تو مجھے کبھی ناکام نہیں رہنے دے گا سدا کے لئے۔ اسی امید کا دامن تھامے ہوئے ایک بار پھر میں اس Grand Publications House کے بک اسٹال میں آیا ہوں۔ بس تو میری مراد پوری کر دے۔(ناصر کی دھڑکنیں زور زور سے دھڑکنے لگتی ہیں) بھای صاحب مجھے ذرا انٹر نیشنل میگزین فور ملٹی لنگول اسٹوریز دیجیے تو (ناصر نے نہایت ہی لرزتے ہوئے ہونٹوں سے یہ بات دوکاندار کو کہی)
دوکاندار: ہاں بھائی یہ رہا آپکا میگزین۔
ناصر: جی شکریہ۔ مجھے اس میگزین پر کتنے پرسنٹ کا ڈسکاؤنٹ (چھوٹ) دے رہے ہیں آپ؟
دوکاندار: ارے بھائی آپ تو ہر مہینے ہی یہ میگزین میرے دوکان سے لے جاتے ہیں تو آپ بار بار ایک ہی سوال کیوں پوچھتے ہیں؟
ناصر: معاف کیجئے گا مگر میرا مقصد آپکو پریشان کرنے کا نہیں ہے بلکہ میں تو صرف اس بات سے ڈر جاتا ہوں کہ کہیں اس میگزین کی قیمت بڑھ تو نہیں گی ء ہیں نا۔ صرف اسی لئے پوچھتا تھا۔
دوکاندار: ارے کوئی بات نہیں ہے صاحب۔ آپ ہمارے ریگولر کسٹمر ہیں اور آپ سے ہم کبھی دھوکہ نہیں کرینگے۔ آپ ہر مہینے جتنی رقم دیتے ہیں بس اتنا ہی دے دیجیے۔
ناصر: جی ضرور_ یہ لیجیے آپ اپنا 650 روپیے(ناصر اپنے جیب سے پیسے نکال کر دوکاندار کو payment ادا کرتا ہے) بہت بہت شکریہ بھائی صاحب۔ (یہ بھی پڑھیں ڈرامائی ادب کی ترویج میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کا کردار- ڈاکٹر جاوید حسن)
دوکاندار: جی شکریہ۔ آتے رہیے گا ہمارے دوکان میں
ناصر۔ جی ضرور (ناصر وہاں سے رخصت ہو کر مین سڑک کے کنارے پہنچ کر تھوڑا دم بھرتا ہے)
ناصر: ہمت نہیں ہو رہی ہے کہ میں اس میگزین کے صفحات کا contents’ page کھول کر دیکھوں کیونکہ اگر contents میں مجھے میرا نام نہیں دکھتا ہے تو میرے جسم میں ایک بجلی کی کرنٹ گر جاتی ہے جسکی زد میں میں لمحہ لمحہ مرتا رہتا ہوں مگر بن دیکھے بھی تو میں مر ہی جاؤں گا اپنی آرزوؤں کے ساتھ۔ چلو ایک بار پھر سے ہمت کر کے دیکھتے ہیں کہ اپنے مقدر میں کیا ہے(ناصر نے تھوڑی دیر کے لئے اپنی آنکھیں بند کیں اور دل ہی دل میں اپنے رب سے بہتے اشکوں کے ساتھ تڑپ کر دعائیں مانگیں)
یا اللہ!!!! آج یہ کیسی بجلی کی کرنٹ تو نے مجھ پر گرا دی(چینختتے ہوئے)
انجان لوگ: ارے بھائی تم کیا پاگل ہو گیے ہو جو اتنی زور سے چینخیں مار رہے ہو؟
ناصر: ہاں ہاں بھاییوں میں پاگل ہو گیا ہوں مگر میرا یہ پاگل پن دکھ کی وجہ سے نہیں بلکہ خوشی کی وجہ سے ہے۔
انجان لوگ: خوشی کی وجہ سے؟ کیسی خوشی ؟ کیا کوی لاٹری جیت گئے ہو؟
ناصر: ارے ہاں ہاں بھاییوں’ سمجھو کہ میں ایک بہت بڑی لاٹری جیت چکا ہوں۔تم لوگ دیکھنا چاہو گے میرا انعام،میرا تمغہ ,میرا میڈل، میری زندگی بھر کی محنت کی کمائی………(ناصر خوشی سے جھومنے لگتا ہے اور ان لوگوں کے سامنے ناچنے لگتا ہے)
انجان لوگ: ارے بھائی اب ناچنا بند بھی کرو اور ذرا ہم لوگوں کو بھی تو دکھاؤ کہ تم نے کتنا بڑا انعام جیت لیا ہے
ناصر: ہاں ہاں کیوں نہیں۔ میں تو تم سب کو اپنا انعام دکھاؤں گا۔ یہ دیکھو اس انٹر نیشنل میگزین میں میری کہانی اور میری تصویر۔ یہ میگزین پوری دنیا میں چلتی ہے اور آج اس میگزین میں میری کہانی شایع ہو کر مجھے انٹرنیشنل لیول پر مشہور ہونے کا موقع ملا ہے۔ اب آپ لوگ مجھے جلدی سے اپنے گھر جانے دیجیے تاکہ میں یہ انعام اپنے گھر والوں اور اپنے دوستوں کو دکھا سکوں۔(یہ کہہ کر ناصر پاگلوں کی طرح سڑک پار کرنے لگتا ہے)
انجان لوگ: ہاے اللہ یہ کیا ہو گیا اس بیچارے کے ساتھ!!!! یہ کیسی آفت ہے اس پر،تھوڑا رکو….. سگنل ریڈ ہونے کا انتظار کرو۔ ہاے ہاے ہاے….. یہ تو مر چکا ہے۔ اسکی سانسیں بھی بند ہو چکی ہیں۔ اسکے گھر والوں کو اطلاع دینا ہوگا اس حادثے کے بارے میں
ایک آدمی: اس میگزین میں اسکے گھر کا ایڈریس ہے چلو اسکے گھر چلتے ہیں۔
دوسرے لوگ: ہاں ہاں چلو
مسز ریحانہ: کون لوگ ہیں گھر کے باہر؟ کیوں اتنا شور مچا رہے ہیں؟آخر کیا کام ہے آپلوگوں کو؟(سبھی لوگ خاموش ہو جاتے ہیں۔کوی کچھ نہیں کہتا ہے) ارے کوئی کچھ کہے گا بھی یا یوں ہی آپ سب منھ لٹکاے ہوئے یہاں میرے گھر کے دروازے پر کھڑے رہینگے؟ آخر بات کیا ہے؟ بولیے تو صحیح!!
ایک آدمی: آنٹی بات دراصل یوں ہے کہ……….(اسکی آنکھوں سے بے تحاشا آنسو بہنے لگتی ہیں اور وہ زارو قطار رونے لگتا ہے)
دوسرا آدمی: آنٹی آپ کے بیٹے کا سڑک حادثے میں انتقال ہو گیا ہے اور ہم سب آپکو یہ میگزین دینے آئے ہیں جسے آپکا بیٹا خوشی سے دکھانے والا تھا
مسز ریحانہ: تھوڑی دیر کے لئے بالکل خاموش ہو جاتی ہیں اور وہ اپنے گھر کے دروازے کو اسطرح پکڑ کر کھڑی رہتی ہیں گویا وہ ایک پتلی ہوں
صدف: امی امی کیا ہوا؟ ۔آپ کچھ بولتی کیوں نہیں ہیں۔خدارا کچھ بولیے۔(وہ زور سے اپنی امی کو ہلاتی ہے جس سے اسکے امی کا ہوش واپس آ جاتا ہے اور وہ صدف کو اپنے ہاتھوں سے میگزین کا وہ صفحہ دیتی ہے جس میں لکھا تھا "ابھی وقت بہت ہے” صدف اور مسز ریحانہ چینخ چینخ کر رونے لگتی ہیں (اسٹیج کا پردہ گرجاتا ہے)
ڈرامہ نگار: افتخار زاہد (افتخار احمد)
پتہ:J-56/2 فتح پور ویلیج روڈ
پوسٹ آفس: گارڈن ریچ
کولکاتا: 700024
رابطے کا نمبر: 9007300893
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
Iftekhar bhai ne ek khubsoorat one act play murattab kia hai.title bilkul munasib aur ek middle class family life ki akasi hai..short dialogues and shifting of scenes ajke distracting situations klye bht suitable..alhum do lillah apk agle creative writing kly muntazir rhga.