فکر سخن میں ہم نے زمانے کی سیر کی
عارف سخنوری کا مزہ ہم سے پوچھئے
جناب مولانا نسیم اختر شاہ قیصر صاحب سے پہلی ملاقات عالی جناب محترم مفتی ساجد کھجناوری کے وسیلے سے ہوئی ۔ میں شاہ صاحب کی اس یافت اور خو بصورت تشکیل پر مفتی ساجد صا حب کا بے حد شکرگزار ہوں بہ ایں معنی کہ بہت سے دبستانِ علم و معرفت، شجر عرفان اور سفیرانِ قلم و روشنائی ،یاران بزم خیال اور اقلیم سخنور وں کے دربار میں رسائی کا سبب آپ ہی بنے۔
بہرحال قلم کے تاجدار نسیم اختر شاہ قیصر کئی نسبتوں سے دیوبند اور فکر دیوبند کی نمائندہ شخصیت ہیںآپ دارالعلوم دیوبند کے عظیم محدث امام انور شاہ کشمیری ؒ کے نبیرہ اور حضرت انظرشاہ کشمیری کے برادر زادے اور ازہرشاہ قیصر کے بیٹے، دارالعلوم وقف دیوبند کے شیخ الحدیث مولانا سید احمد خضر شاہ صا حب کے چچا زاد بھائی ۔ ان تمام عظیم نسبتوں اور حوالوں کے ساتھ خود آپ کی شخصیت اپنی ذاتی انفرادیت، کمال اور خصوصیات کے اعتبار سے محبت اور محبویت کا استعارہ ہے ۔
مولانا نسیم اختر شاہ قیصر ۲۵؍ اگست ۱۹۶۰ء کو علم و رعرفان کی سرزمین دیوبند میں مولانا سید ازہر شاہ قیصر صاحب ابن حضرت امام انور شاہ کشمیری ؒکے گھر میں پیدا ہوئے ۔خاندان انوری کے اس نورانی ماحول ،علمی اور عرفانی فضا میں آپ نے سانس لی اور پھر اسی شگفتہ ماحول میں آپ کی ز ندگی کی ارتقائی منازل طے ہوئیں ۔ اس لئے آپ کے سطح ذہن پر زندگی کے ابتدا ئی مرحلوں میں علم و کتاب کا ذوق و شیفتگی اور سیرت و کردار پر جو مثبت اثر قائم ہوا اسی نے آپ کی شخصیت اور ہستی کو پہلے دن سے ذوق ِعرفاں اور علم کا پیکر بنادیا ۔ قلم و کتاب سے وابستگی کے حوالے سے شاہ صا حب کے اندر وہی جنوں شعاری نظر آتی ہے جو اس خاندان اور گھر کا طرہ امتیاز رہا ہے ۔قلم، کاغذ اور روشنائی کی خوشبوسے آپ کا ذہنی وجدان پہلے دن سے آباد اور شاد رہا ہے ۔ والد امحترم مولانا سید ازہر شاہ قیصر آسمان علم و ادب کے آفتاب اور ماہتاب تھے آپ کے چچا حضرت انظر شاہ کشمیری علوم حدیث کے ساتھ ساتھ دیگر فضل و کمال میں ممتاز اور منفرد تھے ۔غر ض اس شگفتہ اور علمی پرور ماحول میں آپ کا ذہنی سفر طے ہوا ۔ بہ قول افتخار عارف
ایک چراغ اور ایک کتاب اور ایک امید اثاثہ
اس کے بعد تو جو کچھ ہے وہ سب افسانہ ہے
اس میں کوئی شک نہیں کہ شاہ صاحب کی ذہنی اور فکری تشکیل اور تربیت میں ان کے خاندان اور گھر کا ماحول شامل رہا ۔ تاہم شاہ صاحب کی اپنی ایک شناخت اور امتیازی شان خود ان کی اپنی علم و کتا ب سے ذاتی محنت کی بنیاد پر ہے ۔ آپ خاندانی روایتوں کے لاریب امین اور محا فظ ہیں اور آپ کے حواس کی فعالیت میں جو تخلیقی جمالیات پوری قوت اور توانائی کے ساتھ موجود ہے اس میں آپ کے خاندان اور گھر کی فضا کا بھر پور اظہار اور اثر ہے لیکن شاہ صاحب کی اپنی جمالیاتی حس اتنی بیدار ، بلند اور توانا ہے کہ لفظ لفظ آپ کی انفرادیت کا حاصل ضرب ہے ۔ ( یہ بھی پڑھیں مولانا وحید الدین خاں ؒ :ذاتی مشاہدات وتاثرات – ڈاکٹر وارث مظہری )
شاہ صا حب کا لفظی اور موضوعاتی کینوس وسعت ، جہت اوراظہار کے اعتبار سے بڑی اہمیت رکھتاہے۔ اسی طرح آپ کی قلمی ، مطالعاتی اور علمیاتی تجربہ گاہ منفرد بھی ہے اور اس میں تنوع کا احساس بھی شامل ہے۔ شاہ صا حب نے اپنے مطالعہ کی جہات کو کبھی محدو اور کسی ایک سمت میں مقید نہیں رکھا بلکہ آپ کے یہاں جد ت کے ساتھ مطالعات کا دائرہ بے کنار جزیروں کی طرح ہے ۔ تاریخ، سوانح اور سیرت ، افسانوی اور غیرافسانوی ادب کی وادیوں میں آپ کامیابی کے سفر طے کرچکے ہیں ۔ اس میں آپ کا کمال یہ کہ آپ کی مطا لعا تی رفتار کبھی مدھم نہیں ہوئی بلکہ دیوانگی کی حد تک ان کی فطرت میں مطالعہ کا ذوق اور شوق آج بھی پوری توانائی اور قوت کے سا تھ موجو د ہے ایک مرتبہ مجھ سے افسانوی ادب کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ تقریبا ً پا نچسو سے ز ا ئد افسانوی ادب کی کتابوں کا مطا لعہ کر چکا ہوں ۔ آپ کا یہ ذوق بلکہ وارفتگی علم و کتاب سے تعلق کا خوبصورت اعلان بھی ہے اور عنوان ہے ۔
شاہ صاحب کی نثری شعریات کا مطالعہ یہاں کئی اعتبار سے منفرد اور جدا ہوگا ،ان کے نثری بانکپن میں جو جمالیاتی حظ اور تابانی موجود ہے وہی ان کے نثری امتیاز کا ثبوت اور اظہار ہے۔ ان کے یہاں ہمیشہ جہان تازہ کی نمو اور نئے اظہار و خیال کی جو تلاش اور جستجو کا عمل دیکھنے کو ملتا ہے اس سے انہیں سرزمین دیوبند کے قلم کاروں کاامین اور خوبصورت حوالہ کہنے میں شاید کوئی مضائقہ نہیں ۔ شاہ صاحب کے حوالے سے جو امتیاز میں نے ذکر کیا ہے اس سے قطعی میرا مقصد یہ بالکل نہیں کہ میں دوسرے اہل قلم کا قد گھٹانے کی کوشش کر رہاہوں ۔ ایسا میرا خیال ہر گز نہیں اس سر زمین پر آج بھی علم و کتاب کے ایسے آفتاب اور ماہتاب جمع ہیں جن کے نور اور روشنی سے ادب کے ایوان روشن اور پوری توانائی کے ساتھ منور ہیں۔ لاریب یہ تمام لوگ اپنی اپنی ذات میں نثریات کے حوالے سے منفر د شان رکھتے ہیں مجھے ان سب کی عبقریت اور ان کی لفظیات کی جمالیات کا بھر پور احساس ہے۔ ان میں سے کسی کے یہاں تفہیم اور ترسیلیت کا غلبہ ہے ۔ اور کسی کے یہاں علمیت کے ساتھ استدلال کی قوت موجود ہے۔اور کسی کے نثری شگوفوں میں لسانی قدرت کے ساتھ لفظوں کی ساخت اور پیکر تراشی کا ایسا خوبصورت امتزاج ہے جو تخلیقی وفور اور جمالیت پسندی کا عنوان بنتا ہے۔ تاہم شاہ صاحب کے نثری بیانیے کی اپنی ایک شناخت اور انفرادیت ہے ، اس انفرادیت میں اس وقت ان کو ایک امتیاز ہے حاصل ہے ۔ در اصل شاہ صاحب کے یہاں کلاسیکیت اور جدت کے درمیان ایک ایسا حسین اور لطیف رشتہ اور واسطہ ہے جہاں قاری کو جمالیاتی لطف اور حظ پوری توانائی کے ساتھ میسر ہوتی ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں مولانا نور عالم خلیل امینی : چراغِ لفظ ہی چُپ ہو گیا ہے – ڈاکٹر سمیع احمد )
شاہ صاحب کے لفظی ڈکشن میں بلاکا حسن، کشش تاثیرخیزی اور مسرت انگیزی کا بھر پور اظہار ہے ۔ مزید نثری اظہار کے لئے ادبی فن پاروں کو جو صفت معیار حسن عطاء کرتی ہے اس کا بھی ان کے یہاں سلیقہ اور شعور موجود ہے ۔حسن تخیل ، ندرت فکر و خیال ، شوخی گفتار، سلاست، شائشتگی اور وضاحت وغیرہ کی رنگا رنگی ہی ادب کے آنگن میں سدا بہار پھول کھلا تی ہے ۔شاہ صاحب صر ف لفظوں کی قطار اور انجمن ہی سے فن پاروں کو وقار اور اعتبار عطاء نہیں کرتے بلکہ ان کے یہاں معنوی ربط اور تسلسل فکری انبساط اور سرور کا سبب ہے۔ بقول احتشام حسین۔ محض اظہار خیال ، اظہار معلومات یا خوبصورت لفظوں کی قطار نثر نہیں ہے اس کا اندورنی معنوی ربط بھی اتنا ہی اہم ہے کیوں کہ دونوں کے امتزاج کے بغیر وہ پر آہنگ ، جاندار اور معنی خیز نہیں بن سکتی ۔ معنی شناسی / ۱۳۴ / ۔
شاہ صا حب لکھتے ہیں ’’ جذبات و احساسات کو بھی پھیلنے اور بڑھنے کے لئے راستوں کی تلاش ہوتی ہے اور تلاش کا یہ سفر جب حروف و الفاظ کی ترتیب اور ادائیگی پر ختم ہوتا ہے تو کاغذ کے بے جان سینے پر دل کی دھڑک سنی جاتی ،آنسوؤں کی نمی محسوس کی جاتی اور عقید ت و تعلق کی ساعتوں کو بولتے دیکھا جا سکتا ہے یہی وہ لمحے ہوتے ہیں جب قلم کی نوک سے قرطاس پر کھینچی گئی لکیریں اس دنیا سے آشنا کرتی ہیں جہاں قلم کار کی صلاحیتوں کے چراغ جلنے شروع ہوتے ہیں اور گویائی کی قوتیں اپنے وجود کا احسا س دلانے میں کام رہتی ہیں ۔ شخصیت نگاری ایک الگ فن ہے اور اس فن میں وہی لوگ باریاب ہوپاتے ہیں جن کا مشاہدہ گہرا اور تجربہ پختہ ہو صرف صاحب قلم ہونے سے اس دیار کی کیفیت کو زیر قلم لانا ممکن نہیں ،اس کوچہ میں وہی مسافران قلم کامیاب ہو پاتے ہیں جنہیں محسوسا ت کی دولت حاصل ہے اور جن کی آنکھیں شخصیت کے اندرون چھپی ہوئی ان خوبیوں اور کمالات دیکھ لیتی ہیں جن کا ایک آدمی احساس نہیں کر پا تا زندگی کے لاتعداد ماہ و سال ساتھ گزار نے والے اور شب روز قریب رہنے والے وہ نہیں دیکھ پاتے جس کو ایک قلم کار کی نگاہ چند ہی ملاقاتوں میں جان لیتی اور پرکھ لیتی ہے ، پھر اگر فن کار حسا س ہے تو اس کے لئے یہ منزل آسان اور سہل ہے‘‘۔
لفظوں کے استعمال پر شاہ صا حب کو بھرپور ادرک اور دسترس ہے ۔ افکار و خیال کی جدت رفعت تخیل اورندرت تخیل، تاثیر ، سوز اور ساز وغیرہ کی گل کاریوں سے ہی اچھے فن کو ادائے دلبری اور سخن دلنوازی کا پیکر عطاء ہوتاہے۔
شاہ صا حب کا قلم جب شخصیت نگاری اور سوانحی اصناف کی سمت اور جہت میں گل کاریاں کرتاہے تو اس میں مزید علمی وقار اور حسن پیدا ہوجاتا ہے ۔ سیرت نگاری اور سوانحی ادب بلاشبہ ایک لطیف فن ہے جہاں خاکہ نگار کو شخصیت کی چہرہ نویسی میں پل صراط سے گزر نا ہو تا ہے بلکہ یہ عمل دھوپ میں قطرہ شبنم کی نگہبانی سے زیا دہ نازک اور مشکل ہے ۔ شاہ صاحب نے اپنے کمال فن سے اس کٹھن اور پرخاروادی کا سفر کامیابی سے طے کیا ہے۔ کہیں اور کسی موقع پر ادب اور فن کی اخلاقی قدروں کو پامال نہیں ہونے دیا ۔حضرت مولانا محمد سالم صاحب قاسمی ؒ پر آپ کا خاکہ قلمی چہرے کی عمدہ مثال ہے۔ ’’ آنکھیں شرافت و پاکیزگی کا آئینہ ،چہرہ تدبر و تحمل کا عنوان،پیشانی نور و نکہت سے سجی،دل صداقت اور مروت کا خوگر ، دماغ انتقام اور نفرت سے بے داغ ، زبان غیبت اور کذب سے محفوظ، مجلس وقار اور ادب کا امتزاج ، زندگی کو کسی بھی سمت سے دیکھئے اور کسی بھی معیار پر پرکھئے کھری ، اجلی، شگفتہ اور شاداب ایک ہی رنگ ایک ہی کیفیت ، مسموم ہواؤ ں میں نہ رنگ پھیکا پڑا اور نہ کیفیت میں تبدیلی آئی ، نسبی اور خاندانی شرافتوں نے ان کی ذات میں امان پائی اور روایت و معاملات نے ان کو اپنا سہارا جانا ، بہت سے آئے اور گئے مگر ان کے قد کی برابری کوئی نہ کرسکا ان کی نسبتیں زندہ ہیں اور ان نسبتوں کو پورے سلیقے اور جذبے اور احساس کے ساتھ زندگی کی دوڑ میں شامل رکھنے کا انہوں نے اہتمام فرمایا نسبت قاسمی ہر شخص کے لئے افتخار کا باعث ہے اس نسبت کے وہ آخری تاجدار ہیں اور ان کی مملکت کی حدود دنیا کے ہر ملک کی حدوں سے ملی ہوئی ہیں او ر سرحدوں کے اس پار بھی قاسمیت کا آسمان پر ستاروں کی بارات سجی ہے ۔
شاہ صاحب نے عمدہ نثر کی ثروت میں کئی جہتوں سے خوبصورت اضافے کئے ۔ خیالات کی نئی نئی کائنات کا وہ اپنے ہر مضمون میں تعارف کراتے ہیں۔ آپ کے کتابی تبصرے اور تقاریظ آپ کے انتقادی ذہن اور تخلیقی فعالیت کا نہ صرف ثبوت ہیں بلکہ آپ نے ان میں آفاقی بصیرتوں کی تلاش اور جستجو سے یہ باور بھی کرایا کہ وہ ہمیشہ نئے تجربات اور نئے جزیرے تلاش کرنے میں سرگرم رہتے ہیں ۔مزید ان کا ذہن اس سمت میں نئے تجربات کا استفادہ کرنے سے کبھی تھکن محسوس نہیں کرتا۔ تبصروں اور تقاریظ کا آپ کا مجموعہ ’’ اوراق شناسی ‘‘ ان کے انتقادی ذہن کی ایسی شناخت اور پہنچان ہے جو تنقید کی نئی فکریات اور لفظیات کو صحت مند ،معتبر اور مستند بنانے میں بنیاد گزار ثابت ہوتی ہیں۔ منظور عثمانی صاحب مرحوم کی کتاب ’’خوشبوئے وطن ‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’ خوشبوئے وطن ‘‘ بہکتی یادوں ، مچلتی آرزوؤ ں ، آوارہ خیالات کی تصویر ناشائستہ اور غیر انسانی تجر بوں اور اخلاقی پستیوں کو عریاں اور برہنہ کرنے کا شوق اور سفلی جذبات کا جنون نہیں ، یہ منٹو کی گنجے فرشتہ اور جوش کی یادوں کی بارات نہیں جہاں انسان ننگا ہوجا تا ہے، زندگی ننگی ہوجاتی ہے انسانیت اپنے لبادہ سے محروم ہوجاتی ہے ۔ یہ ایک تہذیب کا بیان ، خوبصورت قدروں کا ذکر اور انسانی روایتوں کا اظہار ہے ‘‘۔ (اوراق شناسی : ص ۲۰ )
ہمیں شاہ صاحب کے تخلیقی شہ پاروں میں جاذبیت اور معنویت کے ساتھ جو کیف آگیں سرور اور وجد ملتا ہے وہی ان کے تخلیقی عمل اور جذبے کی صداقت کو لازوال اور بے مثال بناتا ہے ۔ شاہ صاحب کے جہان علم ، جہان مطالعہ اور جہان حافظہ کی ایسی صحت مند وحدت اکائی اور حیات بخش وحدت ہے کہ اس کے خوبصورت امتزاج نے ادب کے آنگن میں ایسے صدا بہار پھول کھلائے جن کی مہک اور خو شبو سے ایک جہان منور اور روشن ہے ۔ بہر حال برسوں کی ریاضت جگر سوزی اور خون دل کشید کر کے فن کو یہ عظمت اور نشان امتیاز عطاء ہوتا ہے۔ بغیر جگر کو خون کئے ہر نقش ناتمام ہے ۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

