آہ! آپ نے بھی اپنی سرپرستی سے محروم کردیا ؟ اور آپ بھی اس طویل قطار کا حصہ بن گئے ؟ آپ تو اس شعر کے مصداق تھے :
میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
مولانا نور عالم خلیل امینی صاحب ( پروفیسر عربی زبان وادب) مایہ ناز عربی کے استاذ، ادیب ، الداعی میگزین، دارالعلوم، دیوبند ، کے ایڈیٹر اور میرے چھوٹے بھائ فصیح احمد کے خسر محترم تقریباً ستر سال کی عمر میں ۳مئی ۲۰۲۱ بروز پیر کو ایک بجے رات داعی اجل کو لبیک کہ گئے ۔
اِنا للہ و اِنا اِلیہ راجعون ۔
چراغِ لفظ ہی چُپ ہو گیا ہے
اندھیرا کس قدر گھپ ہو گیا ہے
موصوف چالیس سال سے دارالعلوم دیوبند میں علمی و ادبی خدمات انجام دے رہے تھے۔ مولانا کی نماز جنازہ دارالعلوم میں ادا کی گئی۔ بعد نماز جنازہ تاریخی قاسمی قبرستان میں تدفین عمل میں آئی ۔حضرت مولانا ارشد مدنی صاحب نے نماز جنازہ پڑھائی ۔
مولانا نور عالم خلیل امینی صاحب کی عربی زبان و ادب سے متعلق صلاحیتوں کا اعتراف نہ صرف بر صغیر کے ہر مکتب فکر نے کیا ہے ، بلکہ عرب ممالک کےعلمی حلقوں میں بھی آپ کی عربی کتابوں اور تحریروں کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔ (یہ بھی پڑھیں مولانا نور عالم خلیل الامینی کی رحلت: علم وقلم کا مہر درخشاں غروب ہوگیا -ڈاکٹر جسیم الدین)
صوبہ بہار ، ضلع مظفرپور، موضع ہر پور بیشی میں ۱۸ دسمبر ۱۹۵۲ کو متوسط گھرانے میں آپ کی ولادت ہوئی۔ ابتدائی تعلیم مدرسہ امدادیہ ، دربھنگہ، بہار کے بعد دارالعلوم مئو، مدرسہ امینیہ، دہلی اور اس کے بعد دارالعلوم دیوبند میں دیگر تعلیمی مراحل طے کئے ۔ یوں تو آپ کو کئی بزرگانِ دین کی صحبت حاصل رہی لیکن بطورِ خاص جن دو اصحاب سے سب سے زیادہ آپ نے کسبِ فیض کیا ۔ اُن میں مولانا وحید الزماں کیرانوی ،دارالعلوم دیوبند اور مولانا سید ابوالحسن علی ندوی ،” علی میاں” ندوۃ العلماء ، لکھنؤ تھے ۔
مولانا علی میاں ندوی کی دعوت پر ۱۹۷۲ء میں مولانا نور عالم خلیل امینی ندوۃ العلماء ، لکھنؤ میں بحیثیت استاذ تدریسی خدمات انجام دینے لگے، یہ سلسلہ ۱۹۸۲ء تک چلتا رہا ۔اس درمیان مولانا علی میاں کی نہ صرف قربت خاص حاصل رہی بلکہ مولانا علی میاں کے علمی کاموں کا دلجمعی سے مطالعہ کیا۔ تدریسی خدمات کے ساتھ ساتھ مولانا نے قدیم و جدید عربی زبان و ادب کا بھی خوب گہرا مطالعہ کیا جس سے عربی زبان پر آپ کو عبور حاصل ہو گیا۔ (یہ بھی پڑھیں حضرت مولانا نور عالم خلیل امینی رح۔: آتی ہی رہےگی تیرے انفاس کی خوشبو – مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی )
۱۹۸۲ء میں جب آپ کے استاذ محترم مولانا وحید الزمان کیرانوی سفرِ حج کے لیے روانہ ہونے لگے تو انہوں نے دوران سفر بذریعہ خط آپ کو حکم دیا کہ دارالعلوم دیوبند آکر الداعی میگزین کے اِدارت کی ذمہ داری سنبھالیں ۔ اپنے استاذ محترم کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے مولانا نور عالم نے ندوۃ العلماء سے استعفیٰ دے کر الداعی میگزین، دارالعلوم دیوبند کی ذمہ داری قبول کرلی۔ الداعی رسالے کو خوب سے خوب تر بنانے میں دن رات ایک کر دیا۔ تا دمِ حیات مسلسل چالیس سالوں سے اس ذمہ داری کو بحسن و خوبی انجام دے رہے تھے ۔ ان کی عربی اور اردو زبان میں تقریباً بیس کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں اور تقریباً پچیس کتابوں کا بہت عمدہ ترجمہ کیا ہے ۔ اس کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں ان کے مضامین ملک و بیرون ممالک میں شائع ہو کر داد و تحسین حاصل کر چکے ہیں۔
الداعی میگزین میں آپ کے شائع شدہ ہزاروں مضامین عرب و عجم میں بڑے ذوق و شوق سے پڑھے جاتے تھے ۔ اسی عربی میگزین کے ذریعے موصوف نے عالمِ عرب میں دارالعلوم دیوبند کی مقبولیت میں نمایاں کردار ادا کیا۔عربی زبان پر مہارت کے سبب ہی انھیں عرب دنیا میں بھی قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا ۔
جولائی ۲۰۱۳ء میں سعودی حکومت کی طرف سے بلائے گئے دارالعلوم دیوبند کے اہم وفد میں حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی صاحب اور حضرت مولانا ارشد مدنی صاحب کے ہمراہ مولانا نور عالم خلیل امینی صاحب بھی تھے ۔سعودی عرب کے رسالوں اور اخبارات میں آپ کے مضامین کثرت سے شائع ہوتے رہتے تھے ۔
عربی زبان پر انھیں جو غیر معمولی دسترس حاصل تھی اسی وجہ سے موصوف کو صدرِ جمہوریئہ ہند کی جانب سے ۲۰۱۷ء میں صدارتی سرٹیفکیٹ آف آنر ( Presidential Certificate of Honor) سے نوازا گیا۔آسام یونیورسٹی میں مولانا نور عالم خلیل امینی صاحب کی کتاب "فلسطین فی انتظار صلاح الدین” پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری پیش کی گئی۔
مولانا کے انتقال کے بعد اتنے سارے سوشل میڈیا، فیس بُک اور اخبارات میں مولانا پر مضامین آئے کہ میں حیران رہ گیا۔ ملک اور بیرون ملک کے تقریباً ہر شہر میں آپ کے شاگردوں کی ایک بڑی تعداد ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ مولانا کے بچے ہوئے کاموں کو یہ نئے قلم کار آگے لے جائیں گے اِن شاءاللہ۔ بلاشبہ یہ سب کے سب صدقئہ جاریہ ہیں ۔
مولانا کے عشرت کدہ پر حاضری ہوئی تھی تو انہوں نے بہت ہی خلوص و محبت سے اپنی تین اردو کی کتابیں عنایت کی تھیں : (1) وہ کوہ کن کی بات (2) (اسلام دشمن طاقتوں کی اسلام ، مسلمانوں اور مسلم ملکوں پر ہمہ گیری حالیہ یلغار) کیا اسلام پسپا ہو رہا ہے؟! (3) (عالمِ اسلام کے خلاف موجودہ) صلیبی صہیونی جنگ (حقائق، دلائل و شواہد اور اعداد و شمار) اور ایک الداعی کا شمارہ ستمبر – اکتوبر ۲۰۱۹ ۔ ظاہر ہے میں عربی زبان سے نابلد ہوں ۔ الداعی کا یہ شمارہ میری کتابوں کی الماری کی زینت ہے۔ اردو کی تینوں کتابوں کو مَیں نے خال خال پڑھا ہے ۔ زندگی نے وفا کی اور وقت نے ساتھ دیا تو تینوں کتابوں کو پڑھنے کے بعد ایک مفصل مضمون اِن شاءاللہ لکھوں گا ۔
مولانا نور عالم صاحب کا رخصت ہونا نہ صرف دارالعلوم دیوبند، وہاں کے طلبہ، ہزاروں عربی اردو زبان و ادب کے قارئین کا عظیم خسارہ ہے بلکہ ذاتی طور پر میرے لیے بھی ایک بڑا نقصان ہے ۔
ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہوں جسے
اللہ رب العزت ! مولانا نور عالم خلیل امینی صاحب کی مغفرت فرمائے ۔ ان کی بشری لغزشوں کو دَر گزر کرکے سیئات کو حسنات میں مبدل فرما کر علیین میں جگہ عطا فرمائے ۔آمین یا رب العالمین۔
مَیں اللہ کی بارگاہ میں دعا گو ہوں کہ اللہ ملت کو ان کا بہتر نعم البدل عطا فرماتے ہوئے متاثرین و پسماندگان ، متعلقین و محبین اور ملک و بیرون ممالک میں ہزاروں شاگردوں کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ثم آمین ۔
آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے
ڈاکٹر سمیع احمد
شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
ما شاء اللہ، بہت عمدہ!
اللہ پاک استاذ محترم کی مغفرت فرمائے اور پس ماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے!
https://ummid.com/news/2021/june/11.06.2021/sheikh-noor-alam-khalil-amini-chief-editor-of-arabic-monthly-al-daie.html