کلدیپ نیر ایک عبقری صحافی،مصنف،سماجی کارکن،ڈپلومیٹ اور حقیقی جمہوریت کے علمبردار کی حیثیت سے ہندوستان ہی نہیں،پورے بر صغیر میں اپنی منفرد شناخت رکھتے ہیں ۔2018 میں آج ہی کے دن ان کا انتقال ہوا تھا،انھوں نے نہایت بھر پور زندگی گزاری اور آزاد ہندوستان کی سیاست و سماجیات کے تمام تر انقلابات کو نہ صرف قریب سے دیکھا ؛بلکہ بے شمار اہم واقعات میں وہ خود بھی شامل رہے،ان کا ایک اہم حصہ رہے۔ ان کی صحافتی جولانیوں کا دائرہ ہندوستان سے امریکہ تک دراز تھا،انھوں نے اردو،ہندی اور انگریزی تینوں زبانوں کی صحافت کو اپنے نتائجِ فکر سے مالا مال کیا اور ہندوستان کی دیگر دسیوں زبانوں میں ان کی تحریریں بے پناہ چھپتی تھیں،پچانوے سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوا اور کمال ہے کہ آخری سانس تک وہ ایسی ہی ماجرا پرور زندگی گزارتے رہے۔ ان کے مضامین اور تجزیے ہر طبقے میں استناد کا درجہ رکھتے تھے،سیکڑوں اہلِ قلم نے ان سے روشنی حاصل کی اور بےب شمار صحافیوں نے انھیں مشعلِ راہ بناکر صحافتی سفر شروع کیا۔
وہ جو کچھ لکھتے تھے،دل سے لکھتے تھے اور جومحسوس کرتے تھے،اس کا عملی اظہار بھی کرتے تھے،وہ ہندوستانی حکومت کے اعلیٰ ترین دفاتر میں اہم اطلاعاتی و ابلاغی عہدوں پر رہے،ہائی کمشنر بھی ہوئے اور راجیہ سبھا ممبر بھی رہے،مگر اس سب کے ساتھ ساتھ وہ ایک پرجوش سماجی کارکن بھی تھے،ہندوستان میں انسانی حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے بے قرار رہنے والے چند ایک لوگوں میں وہ سرِ فہرست تھے۔ ہند۔پاک تعلقات کو بہتری کی راہ پر لانے کے لیے بھی انھوں نے جو جتن کیے،وہ اپنی نوعیت میں بے مثال اور آبِ زر سے لکھنے لائق ہیں۔ ان کا یہ خیال؛ بلکہ عقیدہ تھا کہ’’ایک دن جنوبی ایشیا کے تمام ممالک اپنی انفرادی شناخت کو ترک کیے بغیر یورپی یونین جیسا مشترکہ اتحاد تشکیل دیں گے اور اس سے غربت کے مسائل اور ہمارے تمام ممالک کے امیر اور انتہائی غریب طبقات کے درمیان حائل خلیج کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ جنوبی ایشیا کے لوگ ایک دن امن اور اتحاد کے ساتھ رہیں گے اور ترقی،تجارت اور سماجی ترقی جیسے باہمی دلچسپی کے معاملات میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے‘‘۔
گرچہ اپنی آنکھوں میں یہ خواب سجائے وہ آں جہانی ہوگئے،مگر جب تک زندہ رہے،اس خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے انھوں نے ہر ممکن کوشش کی۔
کلدیپ نیر نے مضامین اور تجزیوں کی شکل میں جو کچھ لکھا،تقریباً وہ تمام تحریریں مختلف زمانی وقفوں سے کتابی شکل میں شائع ہوتی رہیں اوراس طرح ان کی درجن بھرسے زائد کتابیں منظر عام پر آئیں ،جن کے مختلف زبانوں میں ترجمے بھی ہوئے۔ ان کی آخری کتاب On Leaders and Icons: From Jinnah to Modi ہے،جو انھوں نے اپنی وفات سے چند ہفتے قبل ہی مکمل کی تھی۔ اس میں انھوں نے گاندھی،نہرو،خان عبدالغفار خان،جناح،شیخ عبداللہ،اندراگاندھی،مینا کماری،ذوالفقار علی بھٹو،فیض احمد فیض،لال بہادر شاستری اور کئی نامی گرامی ہندوستانی صنعت کاروں سے لے کر موجودہ پی ایم مودی وغیرہ تک سے ذاتی روابط،ملاقاتوں اور ان کی زندگی سے متعلق بعض نہایت اہم اور دلچسپ پہلووں سے پردہ اٹھایاہے۔ یہ کتاب ان کی وفات کے چند ماہ بعد معروف صحافی مارک ٹلی کے مقدمے کے ساتھ جنوری 2019میں شائع ہوئی ۔
سرِدست مجھے ان کی خودنوشت پر کچھ بات کرنی ہے۔ ان کی خود نوشت انگریزی زبان میں پہلی بار 2201میں شائع ہوئی،جس کا نام وہ توA Lifetime is not Enoughرکھنا چاہتے تھے،مگر ان کے پبلشر نے ان کے مشہور کالمBetween the Linesسے متاثر ہوکر خودنوشت کا نامBeyond the Linesکے عنوان کو ترجیح دیا اور انگریزی میں یہ کتاب اسی نام سے شائع ہوئی۔اس کا اردو ترجمہ دوہزار سولہ میں فکشن ہاؤس، پاکستان سے شائع ہوا۔ اردومترجم معروف صحافی اسد مفتی اور سردار عظیم اللہ خاں ہیں۔ اردو میں اس کا نام’’ایک زندگی کافی نہیں‘‘ہے اور ہندی ترجمہ بھی اسی نام سے شائع ہوا ہے۔
یہ کتاب کلدیپ نیر کی سوانح ہی نہیں،ہندوستان کی ستر سالہ تاریخ ہے اور تاریخ بھی ایسی جو روایتی تاریخ سے بالکل الگ بھی ہے،دلچسپ بھی ہے اور ہندوستانی بلکہ جنوبی ایشیا کی سیاست کے بے شمار رازہاے سربستہ سے پردہ اٹھاتی ہے۔ کل انیس ابواب اورپانچ سو ستائیس صفحات پر مشتمل اس کتاب کا آغاز کلدیپ نیر نے اپنے بچپن اور تقسیم ہند کے سانحے سے کیاہے،اس کے بعد نہرو حکومت کے اہم گوشوں سے پردہ اٹھاتے ہوئے بلبھ پنت،لال بہادر شاستری، بنگلہ دیش کے قیام،ایمرجنسی،جنتاپارٹی کی حکومت،آپریشن بلو اسٹار،راجیو گاندھی کی حکومت،وی پی سنگھ کی حکومت،نرسمہاراؤ کا دورِوزارتِ عظمیٰ،بی جے پی کی پہلی حکومت اوراس کے بعد یوپی اے ون اور ٹو تک کے تمام تر ادوار،سیاسی واقعات کا جائزہ اس کتاب میں اس طرح لیا ہے کہ ان سب میں کلدیپ نیر بذاتِ خود شامل ہیں،کبھی صحافی کی حیثیت سے،کبھی رپورٹر کی حیثیت سے،کبھی حکومت کے افسر اطلاعات کی حیثیت سے،کبھی ہائی کمشنر کی حیثیت سے،کبھی ممبر راجیہ سبھا کی حیثیت سے تو کبھی ایک سیاسی مبصر کی حیثیت سے،سویہ کتاب بلاشبہ ایک جامع خود نوشت بھی ہے اور آزاد ہندوستان کی سیاسی تاریخ بھی۔
آزادی کے بعد سے اب تک کے چوٹی کے ہندوستانی لیٹران سے ان کے راست تعلقات رہے،تو سیاسی احوال کے علاوہ ان کی ذاتی دلچسپیوں ،ان کی زندگیوں کے اور چھور،خانگی احوال اور ان کے سماجی و انفرادی معاملات کے بارے میں بھی بعض دلچسپ معلومات اس کتاب کے مطالعے سے حاصل ہوتی ہیں۔
الغرض یہ کتاب نہ صرف اس لیے پڑھنی چاہیے کہ یہ ہندوستان کے ایک نابغہ صحافی و مصنف کی خود نوشت ہے؛بلکہ اس لیے بھی کہ اس سے آزاد ہندوستان کے احوال سے بہت دلچسپ اور بصیرت افروز آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ ہندوستان ہی نہیں،پورے جنوبی ایشیا کے احوال کا غیر جانبدارانہ و بے لاگ تجزیہ سامنے آتا ہے،ہندوستان کی داخلہ و خارجہ پالیسیوں کے بدلتے ادوار سے واقفیت ہوتی ہے،ہندوستانی لیڈروں کی اچھائیوں اور خامیوں کے بارے میں مستند معلومات حاصل ہوتی ہیں،اس کتاب کی سطور اور بین السطورمیں بعض بہت مشہور سیاسی چہرے نکھرکر سامنے آتے اور ان پر چھائے گردو غبار صاف ہوتے ہیں،توکچھ بہت چمکدار چہروں کے اندرون کی سیاہی بھی نظر کے سامنے آتی ہے۔ آزادی کے فوراً بعد گاندھی کے قتل، نقلِ مکانی کرکے آنے والے شرنارتھیوں کے مسائل،یہاں رہ جانے والے مسلمانوں کی مشکلات، ریاستوں کے الحاق،مسئلۂ کشمیر اور اس کی پیچیدگی کی شروعات،بنگلہ دیش کے قیام،اس کے اسباب اور اس میں ہندوستان کے رول،جے پی موومنٹ،ایمرجنسی اور اس کے عواقب و مضمرات،اندرا گاندھی کے قتل اور اس کے ارد گرد کے واقعات،پنجاب کے سانحات،بھوپال گیس سانحہ،بوفورس معاملہ،آسام فساد،منڈل کمیشن کی سفارشات،معاشی اصلاحات،بابری مسجد-را جنم بھومی سانحہ،بی جے پی کی پہلی حکومت اور واجپائی کی لاہور تک بس یاترا،پارلیمنٹ پر دہشت گردانہ حملہ،قندھار پلین ہائی جیکنگ،کارگل جنگ،گجرات فسادات،نیوکلیئر معاہدہ،ممبئی میں دہشت گردانہ حملہ(۲۰۰۸) جیسے بڑے اور اہم واقعات کی مکمل تفصیلات اس کتاب میں درج ہیں۔
ترجمہ بہت شاندار،سلیس اور رواں دواں ہے،جیسی شفاف اور واضح انگریزی میں نیر صاحب نے اوریجنل کتاب لکھی ہے،ویسی ہی شفاف اور واضح اردو میں اس کا ترجمہ بھی کیاگیا ہے، البتہ ایک کمی بہت کھلتی ہے کہ بیشتر ہندوستانی شہروں اور سیاسی شخصیات کے نام عجیب وغریب انداز میں لکھے ہوئے ہیں،ترجمے کی تکمیل کے بعد کسی ہندوستانی اردو رائٹر کو مسودہ دکھا دیاجاتا،تو یہ کمی دور ہوجاتی، بلبھ پنٹ(بلبھ پنت)، پرناب مکھرجی(پرنب مکھرجی)،آروینکت رامن(آروینکٹ رمن) ، نرسیماراؤ (نرسمہاراؤ)،سوارن سنگھ(سورن سنگھ)، گوواہتی(گوہاٹی)،ارن چل (اروناچل)،آسام گانا پریشاد(آسام گن پریشد)،چنائی(چنئی)،سیلانی پاس(شیلانیاس)،مسز نجمی ہپ(نجمہ ہپت اللہ)پرامود مہاجن(پرمود مہاجن)، چدم پدم(چدمبرم)اور ان جیسے کتنے ہی الفاظ ہیں ،جو صرف اس وجہ سے ایسی مضحکہ خیز شکلوں میں لکھے گئے ہیں کہ مترجم ان کے درست تلفظ سے واقف نہیں،ناشر کو اس پر توجہ دینی چاہیے اور آیندہ ایڈیشن میں ان غلطیوں کی اصلاح کا اہتمام کرنا چاہیے۔

