غالب انسٹی ٹیوٹ کے’’ہم سب ڈرامہ گروپ کے زیر اہتمام ’’ملاقات ایک فنکارسے‘‘ گفتگو سیزیز کی چوتھی نشست میںمشہور و معروف ڈرامہ نگار جناب جاوید دانش صاحب نے شرکت فرمائی۔اپنی گفتگو کے دوران انہوں نے کہاکہ ڈرامہ ہمارے ادب کی قدیم ترین اصناف میں ہے اور اس صنف کے ذریعے ہم نے دنیاکوبہت اہم پیغامات دیے ہیں۔ میں ایک طویل عرصے سے اپنے وطن عزیز سے دور ہوں لیکن اپنے قیام کنیڈا کے دوران میں نے محسوس کیاکہ یہاں مجھے نسبتاً زیادہ آزادی حاصل ہے۔ میں نے بعض بہت نازک مسائل پرقلم اٹھا جس کو یہاں بہت پسند کیاگیا۔ میں کوشش کرتاہوںکہ ایسے موضوعات پر قلم اٹھاؤں جن کی طرف توجہ نہیں دی جاتی۔ پروفیسر محمد کاظم صاحب نے اس پروگرام میں جناب جاوید دانش سے ان کے فن اور تجربات سے متعلق نہایت اہم سوالات کیے۔ پروفیسر محمد کاظم کی فرمائش پر جناب جاوید دانش نے اپنے ایک نئے ڈرامے کی قرات بھی کی جسے ناظرین نے بہت پسند فرمایا۔ پروفیسر محمد کاظم نے کہاکہ جاوید دانش ہمارے ایسے قلمکاروں میں ہیں جنہوں نے ادب کی مختلف اصناف میں اپنی شناخت قائم کی ہے مثلاً وہ بہت اچھے شاعر اور سفرنامہ نگاربھی ہیں۔ ان کے ڈراموں کے موضوعات نہایت منفرد ہوتے ہیں۔ ہم خود کوخوش نصیب محسوس کرتے ہیں کہ ہماری زبان میں ایک ایسا فنکار موجود ہے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر ادریس احمدنے کہاکہ جناب جاوید دانش کے ڈراموں میں عصری حسیت اور ہجرت کے مسائل ہمیں سب سے زیادہ متاثر کرتے ہیں۔ ’’ہجرت کے تماشے‘‘ میں ان موضوعات کو بطور خاص محسوس کیاجاسکتاہے۔ پروفیسر محمد کاظم صاحب کا مخصوص میدان بھی ڈرامہ ہے اور اس موضوع سے متعلق انہوں نے تقریباً تمام قابل ذکر لٹریچر پڑھاہے۔ اس سیریز کی کامیابی میں آپ کی شرکت اور گفتگوکا خاص حصہ ہے۔ میں آپ دونوں حضرات اور تمام ناظرین جو اس پروگرام کو آن لائن دیکھ رہے ہیں بہت ممنون ہوں۔ اس پروگرام کو غالب انسٹی ٹیوٹ کی سوشل سائٹ پر دیکھا جاسکتا ہے۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

