کثیر آبادی کی حامل ریاست اتر پردیش تاریخ ہند میں ایک اہم حیثیت رکھتی ہے کیونکہ ملکی تخت وتاج کا خاص انحصار اسی ریاست پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جیسے جیسے انتخابات کے وقت قریب آ رہے ہیں ہر پارٹی اپنی فتح کے لئے سرگرم عمل ہے اور اس کے لئے نت نئے طریقے اپنائے جارہے ہیں تاکہ عوام کو متاثر کرسکیں۔ گلوبلائزیشن کے بعد جب ہندوستان ڈیجیٹل انڈیا کے مرحلے میں داخل ہوتا ہے تو اس کا ایک مثبت نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہر خاص و عام کچھ حد تک اپنے حقوق سے واقف نظر آتا ہے۔
اس مقصد میں کامیابی کے لیے کہیں گانوں کی محفل سجائی جارہی ہے تو کہیں موسیقی کو آلہِ کار بنایا جارہا ہے۔ غرضیکہ مختلف طریقوں سے باشندگان یوپی کے دلوں کو لبھانے کی سر توڑ کوشش جاری ہے۔
مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اب بھی ماما چاند پر رہتے ہیں؟ اس مفروضے کے تحت کیا آج بھی تعلیم یافتہ طبقے کو حکومت کی ناکامی اور اس کے پس پشت زہریلے مقاصد سے بے خبر رکھنے میں کوئی کامیابی حاصل ہوتی نظر آتی ہے؟
ہرگز نہیں! کیونکہ ہندوستان رنگ برنگی موتیوں کی مالا کی مانند ایک سیکولر ملک ہے جہاں ہر قوم کے لوگ بلا تفریق مذہب و ملت یہاں کی گنگا جمنی تہذیب کو برقرار رکھنے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ مگر موجودہ حکومت نے یہاں کی سیکولر ازم کو ہندو توا کا نام دے کر ملکی سطح پر جو گھناؤنا کام کیا ہے اسے شاید اصل ہندوستانی معاف نہ کر سکیں۔
ہندوستانی تاریخ اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ ملک میں ترقی کے تانے بانے بننے میں ہر قوم نے ایک اہم کردار ادا کیا ہے اور بالخصوص اقلیتی طبقہ نے جو قربانیاں دی ہیں وہ کسی ذی علم و عقل کی نظر سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ مگر موجودہ زعفرانی حکومت آج بھی مذہب کے نام پر وہ ناپاک سازش رچ رہی ہے جس کی اگر بیک وقت بیخ کنی نہ کی جائے تو اس کا خمیازہ ملک کی ہر قوم کو بھگتنا ہوگا۔
موجودہ حکومت کا یہ راگ الاپنا کہ ملک سے دہشت گردی اور غنڈہ راج کا خاتمہ اس حکومت کی کامیابی کی دلیل ہے۔ مگر کیا کوئی ذی ہوش اس بے معنی حقیقت کا معترف ہے؟ درحقیقت موجودہ حکومت کے اہلکار ہی اصل دہشت گرد ہیں جو آج اپنی حکومت میں اقلیتی فرقوں سے تعلق رکھنے والوں کو سلاخوں کے پیچھے ڈالنے کی جد وجہد تو کرتے ہیں مگر اپنے کرتوتوں پر پردہ ڈالے عوام کو غفلت میں رکھنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ہاتھرس اور لکھیم پور کھیری میں لڑکیوں کا ببانگ دہل استحصال اور کسانوں کی دردناک موت اس کی کھلی کتاب ہے۔ یہی نہیں بلکہ قانون سے چھیڑ چھاڑ بھی اس حکومت کا اصل مشن ہے لہذا اس حکومت کو سلو پوائزن یا زہر ہلاہل سے تعبیر کرنا بیجا نہ ہوگا۔
گزشتہ برسوں میں سی اے اے ، این آرسی ، طلاق ثلاثہ کا بل اور لڑکیوں کی شادی کی عمر میں تبدیلی کا بل اور حالیہ دنوں میں حجاب پر پابندی کا مطالبہ اور طالبات کو اسے اپنانے کی صورت میں تعلیمی ادارے سے بے دخل کرنا وغیرہ ایسے مسائل ہیں جنہیں نظر انداز کرنا اپنے لئے گڑھے کھودنے کے مترادف ہے۔ یہی نہیں بلکہ معاشی اعتبار سے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری بھی اس حکومت کی ناکامی کی سچی گواہی دینے پر مجبور ہے کیونکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی ملک کو جب غربت و افلاس کے دہانے پر لاکھڑا کرتی ہے تو بھوک سے بلبلاتی پس ماندہ قوم درندگی کی حد پار کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتی۔ بقول اسوہ زینب:
بھوک تہذیب کے آداب بھلا دیتی ہے
اب ایسے حالات میں باشندگان ریاست کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ حکمت عملی سے کام لیتے ہوئے اتحاد کی فضا ہموار کریں اور اختلاف وانتشار اور ذاتی دشمنی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ملک کی فلاح و بہبود کے لیے ایک ایسی پارٹی کا انتخاب کریں جو بلا تفریق مذہب و ملت ملکی ترقی کو فروغ دینے میں اہم رول ادا کرے۔ایسا تبھی ممکن ہوسکتا ہے جب ہم اپنے بنیادی حق کا استعمال کرتے ہوئے ایک ایسی پارٹی کو برسر اقتدار لانے کی کوشش کریں جہاں اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمام تر مخالفت کے باوجود دیگر متفرق پارٹیوں کو ووٹ دینے کے نتیجے میں پھر سے وہی زعفرانی پارٹی اقتدار کی باگ ڈور سنبھالتے ہوئے پورے ملک میں زعفرانی رنگ کا جال بچھا دے۔ لہذا حکمت عملی یہی ہے کہ اس وقت اتحاد کا دامن تھام کر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں اپنا بھر پور کردار ادا کریں۔ اللہ تعالیٰ ملک کی سلامتی کو برقرار رکھے اور ہمیں آزمائش سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی
آراضی باغ، اعظم گڑھ
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

