سوال :
ایک لڑکی اپنے ایک دوست نوجوان سے محبت کرتی ہے ۔ وہ اس سے نکاح کرنا چاہتی ہے ۔ لیکن اس کے والدین تیار نہیں ہیں ۔ طے ہوتا ہے کہ دونوں خفیہ طریقے سے یا کورٹ جاکر نکاح کر لیں ۔ بعد میں لڑکی جب اپنے والدین کو راضی کرلے گی تو دوبارہ علانیہ نکاح کا دکھاوا کر لیا جائے گا ۔
اس صورتِ حال میں کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں:
1 ۔ کیا والدین کی مرضی کے بغیر لڑکی کا نکاح درست ہوگا ؟
2 – کیا خفیہ طریقے سے نکاح جائز ہے؟
3 – کیا کورٹ میرج شریعت کی نگاہ میں معتبر ہے؟
4 _ کیا ایک بار نکاح ہوجانے کے بعد دوبارہ نکاح کا دکھاوا کرنا درست ہے؟
براہِ کرم ان سوالات کے جوابات سے نوازیں ۔
جواب:
1 _ نکاح کے درست ہونے کے لیے کیا والدین کی مرضی ضروری ہے؟ اس سلسلے میں فقہاء کا اختلاف ہے ۔ امام شافعیؒ اسے ضروری قرار دیتے ہیں ، جب کہ امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک بالغ لڑکا یا لڑکی اپنی مرضی سے نکاح کر سکتے ہیں ۔ امام شافعیؒ ان احادیث سے استدلال کرتے ہیں جن میں ولی کی مرضی کے بغیر نکاح کو اللہ کے رسول ﷺ نے باطل قرار دیا ہے۔ (ابو داؤد: 2084 ، 2085 ، ترمذی: 1101 ، 1102) جب کہ امام ابو حنیفہؒ ان آیات و احادیث کو دلیل میں پیش کرتے ہیں جن میں نکاح کے درست ہونے کے لیے عورت کی رضا مندی کی بات کہی گئی ہے ۔ (البقرۃ : 230 ، 232 ، 234 ، مسلم: 1421)
فقہاء کے اختلاف سے قطع نظر موجودہ دور میں دانش مندی کا تقاضا ہے کہ لڑکی اپنے والدین یا ولی کی مرضی سے نکاح کرے ۔ وہ زمانہ کے سرد و گرم سے اچھی طرح واقف ہوتے ہیں ، اپنی اولاد کے بہی خواہ ہوتے ہیں ۔ لڑکی خود سے والدین کی مرضی کے خلاف نکاح کا اقدام کرے تو بسا اوقات وہ دھوکے کا شکار ہو سکتی ہے ، یا بعد میں ازدواجی زندگی میں کوئی تنازعہ پیدا ہونے پر اس کی حمایت کرنے والا کوئی نہیں رہتا ۔
2 ۔ نکاح کے انعقاد کے لیے ضروری ہے کہ کم از کم دو بالغ مسلما ن مردوں (یا ایک مرداور دو عورتوں) کی موجودگی میں ایجاب و قبول ہو ۔ اگر ایسا کیا جاتا ہے تو یہ نکاح معتبر ہے ۔ اگرچہ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے کہ نکاح کا اعلان کیا جائے ۔ (ترمذی: 1089 ، ابن ماجہ : 1895) تاکہ سماج میں لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ فلاں نوجوان اور فلاں دوشیزہ ، جو اب تک اجنبی تھے ، اب رشتۂ نکاح میں بندھ گئے ہیں ۔ اس لیے حتّٰی الامکان خفیہ طریقے سے نکاح کرنے سے بچنا چاہیے ۔
3 ۔ کورٹ میرج کی بھی یہی حیثیت ہے کہ اگر دو بالغ مسلمان مردوں کو گواہ بنا کر ایجاب و قبول ہوتا ہے تو شرعی طور پر نکاح ہوجائے گا ۔
4 ۔ ایک بار نکاح ہوجانے کے بعد دوبارہ نکاح کا دکھاوا کرنے کی ضرورت نہیں ۔ ایسا کرنے سے بچنا چاہیے ۔ والدین بعد میں رضا مند ہوجائیں تو ان سے بتا دینا چاہیے کہ ہم نکاح کر چکے ہیں ۔ دوبارہ نکاح کا دکھاوا کرکے کبھی ایسی پیچیدگیاں پیدا ہوجاتی ہیں کہ کوئی شریف انسان زندگی بھر منھ دکھانے کے قابل نہیں رہتا ۔ مثال کے طور پر خفیہ طریقے سے نکاح کر لیا گیا اور زوجین کے درمیان ازدواجی تعلق قائم ہوگیا ۔ اس کے تین چار ماہ بعد علانیہ نکاح کی رسم انجام دی گئی ۔ اس صورت میں عین ممکن ہے کہ ازدواجی تعلق کے بعد استقرارِ حمل ہوگیا ہو اور علانیہ نکاح کے چار پانچ ماہ بعد ہی بچے کی پیدائش ہوجائے ۔ ایسی صورت میں سماج میں طرح طرح کی باتیں بنتی ہیں _
[ شائع شدہ : ماہ نامہ زندگی نو نئی دہلی ، ماہ فروری 2022 ]
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

