شعبۂ اردو،سی سی ایس یو میں عالمی یوم خواتین کے موقع پرآن لائن ’’ خواتین کا عالمی مشاعرہ‘‘کا انعقاد
میرٹھ10؍ مارچ2022ء
یوم خواتین یعنی8مارچ پوری دنیا میں بڑے تزک و احتشام کے ساتھ منایا جاتا ہے اور اس کو منانے کا مقصد بھی خواتین کو بااختیار بنانا،ان کے حقوق کے تعلق سے ان میں بیداری پیدا کرنا اور خواتین پر ظلم و زیادتی اور تشدد کے واقعات کی روک تھام کے اقدامات کرنا۔اگر پو ری کائنات سے ہم عورت کو نکال دیں تو کچھ بھی نہیں ملتا اگر چہار سو رنگ،پھول، خوشبو یہ سب چیزیں نظر آتی ہیں یہ سب خواتین ہی کی وجہ سے ہے۔ہندو مسلم کلچر کے ملنے سے ہم آزادی کے ساتھ اپنی بات کررہے ہیں اس پروگرام کے ذریعے سے یقینا ہمیں یہ پیام ملتا ہے کہ ہم آپس میں متحد رہیں۔ہماری کوشش ہوگی کہ خواتین کو ہر میدان میں برابری کاحق ملے۔یہ الفاظ تھے لکھنؤ سے پروگرام میں شرکت کر رہی آیوسا کی صدرڈاکٹر ریشما پروین کے جو شعبۂ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی اور بین الاقوامی نوجوان اردو اسکالرز انجمن(آیوسا) کے زیر اہتمام عالمی یوم خواتین کے موقع پر منعقد ’’خواتین کا عالمی مشاعرہ‘‘ پر اپنی صدارتی تقریر میں آن لائن ادا کررہی تھیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں خواتین کی اہمیت کا احساس ہر لمحہ اور ہر وقت رہنا چاہئے۔آج خواتین سماج کی تعمیرو ترقی میں اہم کردار ادا کررہی ہیں۔یہاں ایک سوال بہت اہم ہے کہ کیا صرف سال میں ایک دن خواتین کو یاد کرنا یابڑی بڑی باتیں کرنے سے ان کا حق ادا ہو سکتا ہے،کیا ان کی قربانیوں کا یہی صلہ ہے،نہیں ہر گز نہیں،خواتین کی عظمت، ان کاایثار،ان کا جذبۂ وفا اور ان کی عظمت کا پاس ہر لمحہ اور ہر آن رہنا چاہئے تبھی یوم خواتین کا مقصد پورا ہوگا۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغاز سیدہ مریم الٰہی نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔بعد ازاں ہدیۂ نعت علما ملک نے پیش کیا۔اس ادب نما پروگرام کی سرپرستی معروف ادیب عارف نقوی ،جرمنی اور مشیر اعلیٰ پروفیسر اسلم جمشید پوری نے فرمائی ۔مہمان خصوصی کے بطور پروفیسر بندو شرما(صدر ،وومین سیل،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی نے آن لائن شرکت کی۔استقبالیہ کلمات فرح ناز،نظامت کے فرائض ڈاکٹر الکا وششٹھ اور شکریے کی رسم گلنازنے ادا کی۔
اس موقع پرپروفیسر بندو شرمانے کہا کہ آج کی خاتون اپنی پہچان اور خصوصیات کو پہچان رہی ہیں۔ میں اس مبارک مو قع پر میں سبھی شریک خواتین کو اس بات کے ساتھ مبارک باد دیتی ہوں کہ انہوں نے ادب میں کافی قربانیاں دی ہیں،قرۃ العین حیدر اور عصمت چغتائی کا بھی ادب سے گہرا تعلق رہا ہے۔ اردو کے ساتھ ساتھ ہندی میں بھی کا فی لکھا ہے اور خواتین کے مسائل کو اجاگر کر نے کی کامیاب کوشش کی۔بہت سی خواتین کو زیادہ نہیں سرا ہا گیا۔ آزادی کے بعد حالات تبدیل ہوئے۔ادب میں بھی بدلائو آیا اور خواتین نے بھی اپنے آپ کو نئے ماحول میں پیش کرتے ہوئے اپنا راستہ خود بنانے کی کوشش کی اور کافی حد تک کامیاب ہوئیں۔
اس موقع پرپڑھا گیا منتخب کلام پیش خدمت ہے۔
جن کے مضبوط ارادے بنی پہچان ان کی
منزلیں آپ ہی ہو جاتی ہیں آساں ان کی
بند رہتے ہیں جو الفاظ کتابوں میں سدا
گردشِ وقت مٹا دیتی ہے پہچان ان کی
علینا عترت،غازی آباد
محبتیں یہ تمہا ری میرے مشاغل سے
کبھی کبھی مجھے شرمندہ کرنے لگتی ہیں
تمہاری چاہ تمہاری وفا تمہاری لگن
میری حیات کے خوابوں میں رنگ بھرتی ہیں
یہ میرا گھر نہیں پھولوں کا آشیانہ ہے
یہاں یہ بلبلیں ہر وقت آتی رہتی ہیں
پروفیسر مہ جبیں نجم،میسور
قدر جو نہیں کرتے عقل مند عورت کی
ایسے لوگ بیٹھے ہیں پھر ولا کی محفل میں
ولا جمال العسیلی،مصر
ہے یاد مجھ کو اب بھی بچپن کا وہ زمانہ
کبھی چپکے چپکے رونا کبھی قہقہ لگانا
درجے میں اول آنا ٹیچر کا مسکرانا
ہے یاد مجھ کو اب بھی بچپن کا وہ زمانہ
درخشاں خاتون،لکھنؤ
اونچی اڑن بھر سکے وہ پر تلاش کر
اپنی حدوں کو توڑ دیں عنبر تلاش کر
دردِ جگر کو شاعری میں ڈھال دو ذرا
خود میں چھپا ہوا وہ شاعر تلاش کر
دیپالی جین، غازی آباد
رسم دنیا مجھ کو بھی آخر نبھانا آگیا
اپنے محسوسات کو دل میں دبانا آگیا
ڈاکٹر جوہی بیگم،الہ آباد
ہزاروں سال کی تاریخ کے امین ہیں ہم
اسی یقین پر ہندوستاں میں رہتے ہیں
عذرا نقوی،نوئیڈا
عداوت کو دل سے جدا ہم کریں گے
نیا اک عہد وفا ہم کریں گے
محبت وفا جاں نثاری رمیشا
اسی کو ہمیشہ دیا ہم کریں گے
ڈاکٹر رمیشا قمر، گلبرگہ
ان شاعرات کے علاوہ رومانہ رومی،پاکستان،سشیلا شرما، مظفر نگر،سویتا ورما، غزل، مظفر نگرسواتی شرما، میرٹھ،فر حین اقبال،دہلی وغیرہ نے بھی اپنا کلام پیش کر خوب داد و تحسین حاصل کی۔
پروگرام میں پروفسیر اسلم جمشید پوری، عارف نقوی، جرمنی،ڈاکٹر آصف علی، ڈاکٹر ارشاد سیانوی، محمد شمشاد،سعید احمد سہارنپوری،فیضان ظفر آن لائن موجود رہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

