سوشل میڈیا نے تقریباً ہر انسان کو یہ موقع فراہم کر دیا ہے کہ وہ لوگوں سے اپنی بات ساجھا کر سکے۔ فیس بک، ٹویٹر، ٹیلیگرام، انسٹاگرام اور دیگر سوشل نیٹ ورکس پر آئے دن لوگ، ویڈیوز کے ذریعہ ہو یا تصویر و تحریر کے ذریعہ، اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ وہاں ہمیں طرح طرح کی چیزیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ کوئی اپنی غزل لگاتا ہے، کوئی اپنی تحریر پوسٹ کرتا ہے، کوئی کسی مسئلے پر اقتباس کی صورت میں اپنی فکر سامنے رکھتا ہے اور کسی کو کچھ نہیں سوجھتا ہے تو ہر دن اپنی تصویر ہی فلٹر کر کے چپکا دیتا ہے۔ تصویر کے ساتھ کیپشن ہوتا ہے "کھانا کھاتے ہوئے”، "چائے پیتے ہوئے”، "بچوں کے ساتھ”، "بیوی کے ساتھ”، پڑوسی کے ساتھ” وغیرہ وغیرہ۔ اب آپ کا کام رہ جاتا ہے ان تمام چیزوں کو پسند کرنا اور کمنٹ سیکشن میں جاکر "ماشاءاللہ”، "زبردست” اور "لاجواب” جیسے تعریفی کلمات لکھنا۔ اگر آپ انگریزی کے دلدادہ ہیں اور صاحب پوسٹ کو تھوڑی زیادہ خوشی پہنچانا چاہتے ہیں تو آپ Gorgeous, Funtastic, Great, Awesome جیسے الفاظ کا سہارا لیتے ہیں۔ پھر دن یا رات کے کسی حصے میں صاحب پوسٹ ان سارے "Likes” اور کمنٹس کو دیکھتا ہے اور خوشی سے پھولے نہیں سماتا ہے۔
آپ نے کبھی اس بات پر غور کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر کسی پوسٹ پر رد عمل کے لیے مختلف ایموجیز کیوں دیے گئے ہیں؟ یا پھر وہاں کمنٹ کا سیکشن کیوں رکھا گیا ہے؟ کیا کمنٹ کا آپشن صرف اس لیے ہے کہ اس میں صاحب پوسٹ کی تعریف کی جائے؟ اگر آپ ایسا سوچتے ہیں تو آپ سوشل میڈیا کی طاقت اور اس کے مقاصد کو بونا بنا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا ایک بہت بڑا پلیٹ فارم ہے جو نہ صرف آپ کو اپنی بات رکھنے کی جگہ دے رہا ہے بلکہ اسی جگہ اس نے آپ کی اصلاح کے دروازے کھول دیے ہیں۔ آپ کی تحریر پر جب لوگ "ماشاءاللہ”، مبارکباد” اور "زبردست” لکھتے ہیں تو آپ کو اچھا لگتا ہے۔ آپ انہیں اپنا محسن اور دوست سمجھتے ہیں۔ حالانکہ آپ کو سوچنا چاہیے کہ یہ وہ کلمات ہیں جو بہت ہی جنرل نوعیت کے ہیں۔ اس طرح کے کمنٹس عام طور پر بغیر تحریر پڑھے ہوئے دیے جاتے ہیں اور آپ کو ان میں اخلاص اور سنجیدگی نظر آتی ہے۔ وہیں کمنٹ سیکشن میں اگر کوئی آپ کی مکمل تحریر پڑھ کر آپ کو قابل عمل مشورہ دے اور آپ کی اصلاح کرنے کی کوشش کرے تو آپ اسے اپنی ذات پر حملہ تصور کر لیتے ہیں اور اس شخص سے غیر ضروری بحث شروع کر دیتے ہیں۔ اس سے سامنے والے کا کوئی نقصان تو نہیں ہوتا البتہ آپ اپنی اصلاح کے دروازے اپنے اوپر بند کر دیتے یں۔ آپ کی اس حرکت پر دوسرے لوگ بھی نظر رکھتے ہیں اور وہ بھی آپ کی غلطیوں کی طرف اشارہ کرنے سے گریزاں ہو جاتے ہیں۔ آپ کو تعریف پسند ہوتی ہے لہٰذا وہ آپ کی ہر تحریر پر روایتی اور عام سا کمنٹ "زبردست” چپکا دیتے ہیں۔
یہاں پر میں دو واقعات کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں جو میرے ساتھ پیش آئے ہیں۔
کافی دن پہلے کی بات ہے۔ ایک صاحب نے فیس بک پر علامہ اقبال کا ایک شعر غلط طریقے سے نقل کیا۔ اتفاق سے وہ شعر مجھے یاد تھا۔ میں نے کمنٹ سیکشن میں درست شعر لکھا اور کہا کہ آپ نے جو شعر نقل کیا ہے وہ غلط ہے، اصلاح کر لیں۔ میرا اتنا لکھنا ان کو بہت ناگوار گزرا۔ بجائے شکریہ ادا کرنے کے وہ مجھے پرسنل میسج کر کے اخلاق اور تہذیب کا درس دینے لگے۔ شاید پبلک ڈومین میں انہیں اپنی اصلاح پسند نہیں تھی۔ اس ذہنیت کے لوگ در اصل اپنی غلطی کو اپنی اصلاح پر ترجیح دیتے ہیں۔ آپ پبلک ڈومین میں ان کی اصلاح کریں یا تنہائی میں وہ آپ پر خفا ہو جائیں گے۔ موصوف مجھے کچھ اسی قسم کے معلوم ہوئے۔ میں نے چپ چاپ انہیں اپنے فرینڈ لسٹ سے ہٹا دیا۔ اب پتا نہیں وہ کیا گل کھلا رہے ہیں۔
اسی طرح ایک دن فیس بک پر اردو کے ایک ریسرچ اسکالر کی اردو تحریر دیکھی جو تین یا چار سطروں پر مشتمل تھی۔ اس میں وہ مدارس کے فارغ التحصیل بچوں کے ہندی زبان سے نا آشنا ہونے پر مدارس کے تعلیمی نظام سے نالاں تھے۔ ان کے دکھ کی حقیقت کیا ہے مجھے نہیں معلوم۔ البتہ ان کی تحریر جو اردو زبان میں تھی وہ صاف ستھری نہیں تھی۔ یعنی ان کے جملے درست نہیں تھے۔ میں نے سابقہ حادثے سے سبق لیتے ہوئے ان کو میسنجر میں پرسنل میسج بھیجا کہ آپ کو جو شکایت مدارس کے تعلیمی نظام سے ہے وہ اپنی جگہ درست ہے یا غلط یہ بعد کی بات ہے لیکن آپ نے جو کچھ لکھا ہے وہ مکمل طور پر غلط ہے۔ در اصل ان کے جملے کی ساخت غلط تھی۔ مناسب لفظوں کے استعمال نہ کرنے کی وجہ سے جملے بھدے معلوم ہو رہے تھے۔ میں نے ان کی غلطیوں کی نشاندہی کی اور ان کے مفہوم کو قدرے بہتر انداز میں پیش کرکے بھیج دیا۔ چونکہ میں ان کو سنجیدہ اسکالر تصور کرتا تھا اس لیے ان سے بڑے پیار سے کہا کہ آپ اپنے جملے درست کر لیں۔ میرا میسج پڑھ کر انہوں نے جو رد عمل دیا اس پر مجھے حیرت ہوئی اور ہنسی بھی آئی۔ شاید آپ کو بھی ان کا رد عمل بچکانہ لگے۔ انہوں نے مجھے لکھا "جملے کی ترسیل کا یہ عالم ہے کہ 28 سے زیادہ تبصرے آ چکے ہیں۔” یعنی وہ مجھے یہ کہنا چاہ رہے تھے کہ ان سے غلطی نہیں ہو سکتی ہے۔ ان کے تبصرے شائع ہو چکے ہیں اس لیے وہ معصوم من الخطا ہیں۔ جب کہ دیکھا جائے تو ان کے مذکورہ جملے پر بھی سوال اٹھ سکتا تھا۔ ترسیل مفہوم اور معنی کی ہوتی ہے جملے کی نہیں۔ لیکن چونکہ میں نے بھانپ لیا تھا کہ موصوف کو اپنے 28 تبصروں کا زعم ہے، وہ اپنی اصلاح پسند نہیں کریں گے۔ میں نے انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا۔ بعد میں دیکھا انہوں نے اپنے جملے میں ترمیم کر لی تھی۔ شاید دیر سے انہیں میری بات سمجھ میں آئی ہوگی۔
اصل میں جب کوئی کچھ لکھ لیتا ہے تو اسے لگتا ہے کہ اس کی تحریر مکمل ہے۔ پبلک ڈومین میں آنے کے بعد وہ اپنی تحریر میں زیر و زبر کی ترمیم بھی نامناسب سمجھتا ہے۔ آپ جب اس کی تحریر میں در آئی غلطیوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور اس کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں تو صاحب تحریر اپنی تحریر کی جگہ اپنی انا کو رکھ دیتا ہے۔ کیونکہ اس کے مطابق اس کی تحریر تو مکمل ہوتی ہے۔ اس لیے وہ سمجھتا ہے کہ تحریر میں غلطی کا مطلب اس کی شخصیت اور علمیت میں کمی نکالی جا رہی ہے اور یہ وہ برداشت نہیں کر پاتا۔ اس کو لگتا ہے کہ اس سے غلطی نہیں ہو سکتی اور آپ اس کی غلطی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ آپ کو مخلص نہ سمجھ کر دشمن سمجھ لیتا ہے۔
آپ یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ آپ ایسے لوگوں کی کبھی اصلاح کر ہی نہیں سکتے جن کو اپنی غلطی نظر ہی نہیں آتی ہے۔ ایک فرانسیسی جملہ کہیں پڑھا تھا، وہ شاید ایسے ہی لوگوں کے لیے لکھا گیا ہوگا:
Vou ne pouvez pas changer quelqu’un qui ne voit pas le mal dans ses actes
ترجمہ: آپ کسی انسان کو نہیں بدل سکتے جو اپنے عمل میں کوئی خرابی نہیں دیکھتا۔
آپ ایسے لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیں۔ ان کی تحریر نظر سے گزرے اور غلطی نظر بھی آئے تو آپ روایتی تبصرہ پر ہی اکتفا کریں۔ ان کی اصلاح کی کوشش رائگاں چلی جائے گی۔ یہ دیر یا سویر یا تو خود ہی حقیقت سے آشنا ہو جائیں گے اور اپنی اصلاح کر لیں گے یا پھر عمر بھر "ماشاءاللہ” سے خوش ہوتے رہیں گے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

