ملیح آباد کی عذرا پروین نے بھی اناؤ میں ہی آنکھیں کھولیں اور کاغذ کائنات سے اتنا مضبوط رشتہ جوڑا کہ کاغذ ہی نیند بیداری اور خواب بن گئے پھر بڑھتی عمر کے ساتھ بے خوابیاں بھی کاغذ پہ قلم ہوتی رہیں ۔
عذرا کی نفسی کائنات اس قدر پیچیدہ ہے کہ ان کی فکر کی گرہ کو سلجھانا آسان نہیں ہے۔ وہ ضدی، نٹ کھٹ بالک کی طرح اظہار و احساس کے پرانے سانچوں کو توڑتی ہوئی لسانی لا تشکیلیت کے اس منطقے تک پہنچ جاتی ہیں کہ جہاں ریزہ ریزہ لفظوں کو جوڑنا حسن کوزہ گر کے مقدور سے بھی باہر ہے۔ لسانی اور فکری شکست و ریخت کے عمل سے گزرتے ہوئے عذرا ملول ہوتی ہیں یا مسرور یہ اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ عجب اضطراب آمیز تموج خیز وجود ہے عذرا کا۔ ان کے باطن میں ایک طوفان ہے، خاموشی میں مکالمہ اور تنہائی میں شور۔
عذرا نظمیہ شاعری کی ایک ایسی انحرافی لکیر ہے کہ جس کے سامنے ساری دشائیں بھی اپنے حواس کھو بیٹھتی ہیں کہ کب یہ لکیر رقص جنوں میں تبدیل ہو جائے۔ یہ لکیر کوئی بھی روپ دھارن کر سکتی ہے کہ عذرا کسی ایک لکیر یا دائرے میں قید نہیں رہ سکتی۔
عذرا احساس کے نئے آسمانوں کی تلاش میں آخری آسمان تک پہنچ جاتی ہیں۔ احساس کا یہ ارتقائی سفر کتنے ذہنوں کو نصیب ہوا ہے۔ سکوت لالہ و گل سے کلام پیدا کرنے کی کوشش کتنوں کی کامیاب ہوئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ عذرا کا امتیاز ہے کہ اس اسے ایسا ارتقا نصیب ہوا۔ عذرا نے اپنی داخلی کائنات کو دریافت کیا ہے۔ اس کے کرب اور وجودی کشمکش کا رشتہ اس کائنات ارضی سے زیادہ اس باغ بہشت سے ہے جہاں سے مراجعت نے عورت کے نصیب میں صلیب ہی صلیب لکھ دیا ہے۔ عذرا کے شعری تسلسل میں اسی صلیب کے حکایات خونچکاں ہیں اسی لئے عذرا کی شاعری میں ابدی نسائی شعور کی جھلکیاں ملتی ہیں۔ یہ ایک فرد واحد کا کرب یا المیہ نہیں ہے بلکہ پوری نسائی ذات کا ہے۔ معاشرے کی جبریت نے عذرا کی فکر میں جس منفیت کو جنم دیا ہے وہ فطری ہے، اسی منفیت کی کوکھ سے آزادی اور انقلاب کا سورج طلوع ہو سکتا ہے۔ عذرا کی منفیت مثبت کی تشکیل کے لئے ہے۔ اسی منفیت نے عذرا کے احساس خود آگہی کو تیز اور توانا کیا ہے اور شاید یہی منفیت داخلی احساسات اور اقدار سے آگہی کا وسیلہ بھی بن گئی ہے۔ عذرا کے شعور اور سائیکی کی کلیت ان کی شاعری میں روشن ہے۔ ان کی پوری شاعری مرد معاشرے کے تجربوں کی میکانزم کے خلاف احتجاج ہے۔ وہ میکانزم جو انسان کے داخلی، فکری احساس کو سلب کر لیتی ہے۔ عذرا نے اس کے خلاف اپنی نظموں کے تیور تند کر دیے ہیں۔
(الف)
تم اچھی بھلی عورت کو رنڈی تو بنا سکتے ہو
مگر رنڈی کو عورت نہیں بنا سکتے
(فیشن چینل)
(ب)
تم تو صرف کتے ہی نکلے
میں تو اس میں مرد ڈھونڈتی تھی
میں اس مرد میں باپ بھی چاہتی تھی
میں تو اس باپ میں ایک بچہ بھی
میں اس بچے میں خدا بھی
مگر تم
تم تو… صرف کتے نکلے
اور میں ماں نکلی
(خسارہ)
(ت)
ایک گرم جیب والے نامرد کی نئی نئی سہاگن
تم مری زندگی میں ایسی
سولہویں عورت ہو
جسے دیکھ کر
ایک سولہ برس پرانا چور چور عورت پن
سر سے پیر تک مجھ میں سسک رہا ہے
بے امان لرز رہا ہے
تم، تمہارا انچھوا سہاگ جوڑا
سرخ دہکتا ہوا پان سے رنگا چہرہ
چیخ چیخ کر پوچھ رہے ہیں
نامرد کیوں آتے ہیں
پوری عورتوں کی زندگی میں مردوں سے کہیں زیادہ اعتماد کے ساتھ
اتنے دبے پاؤں کہ کوئی نہیں پہچان پاتا انہیں
ان کی چال سے ان کی چاپ سے
جب انہیں پانی نہیں پینا ہوتا
تو یہ سمندر گھیرتے کیوں ہیں
(گبرو)
یہ دو صنفوں کے مابین محاربہ یا معرکہ آرائی نہیں بلکہ نسائی وجود کی اصلیت کا اثبات ہے۔ یہ اپنے حقوق اور حیثیت کے حصول کے لئے ایک رزمیہ ہے۔ عذرا کی آواز کے انگارے کو محسوس کرنے کے لئے اس کے نفسی جغرافیہ سے آگہی ضروری ہے۔
عذرا نے اس صنفی سیاست کے خلاف آواز بلند کی ہے جس کی وجہ سے عورت نہ صرف اپنے اسپیس سے محروم ہے بلکہ وہ ثانوی وجود یا جنسی معروض بن چکی ہے۔ وفا اور ایثار کے نام پر جبر و استحصال کی چکی میں پستی رہتی ہے اسی لئے عذرا اس استحصالی رویے کے خلاف بلند بانگ لہجے میں کہتی ہے
مگر میں سیتا نہیں رام کی پڑی رہ جاؤں اس جنگل میں وفا کے نام پر
انورادھا ماں نہیں رجنیش کی بنائی ہوئی
کہ بنا لوں جسم کو
ساروجنک موترالیہ بغاوت اور آزادی کے نام پر
مگر تم
آریہ سماجی مومنو
رجنیشی مومنو
آئو دیکھو
اور سنو کہ ہم
سورۃ النسا کے سارے رکوع ختم کر کے اٹھے ہیں
اور تمہیں ہم خود سناتے ہیں
سورۃ طلاق کے کچھ رکوع
عذرا کا یہ تلخ و تند لہجہ اس لئے ہے کہ ان کے یہاں اوروں کی طرح وہ خوف نہیں ہے جو ذہنوں کو مفلوج اور وجود کو معطل کر دیتا ہے بلکہ وہ بے خطری ہے جو آتش نمرود میں کود پڑتی ہے۔ عذرا کی بیشتر نظموں میں یہی رزمیہ انداز ہے اور یہی عذرا کا امتیاز بھی ہے۔ یہ فطری جذبہ و احساس کی شاعری ہے۔ یہ ان کے سیلف کا لینڈ اسکیپ ہوتے ہوئے بھی پورے نسائی وجود کا محضر نامہ ہے۔
عذرا کی بارہ قباؤں کی سہیلی گلوبل عورت کا نیا عہدنامہ ہے۔ یہ نظموں کا وہ مجموعہ ہے جس کی ہر سطر میں آتش فشاں ہے اور بقول عذرا عورت کے جسم میں مار دی جانے والی چیخ کا نام بارہ قباؤں کی سہیلی ہے۔
سن پتلی سے تخلیقی سفر کا آغاز کرنے والی کہانی کار عذرا نے اپنا سارا سچ زندہ کاغذ کے حوالے کر دیا ہے کہ عورت تو مر چکی ہے، عورت کی زندگی صرف اور صرف کاغذ میں کراہ رہی ہے۔ عذرا کے ان جملوں میں کتنا درد چھپا ہے، کیا کسی مرد کا دل اسے محسوس کر سکتا ہے
بہت بار لگا کہ جیسے بمعہ کتاب میں جلائی جا چکی ہوں
بہت بار لگا کہ بمعہ اپنے لفظوں کے دفنا دی گئی ہوں
عذراکے دکھ کا انت نہیں ہے کہ جرم کسی کا بھی ہو سنگسار تو عذرا کو ہی ہونا ہے، عذرا یعنی عورت وہ مخلوق جو باغ بہشت سے نکلی تو دوسری مخلوق ہی اس کا خالق بن بیٹھی۔ عذرا کی نظم کون خدا ہے اسی مصنوعی خالق کے خلاف احتجاج بھی ہے اور حقیقی خالق سے فریاد بھی
تب اگر واقعی خانم تمہارا بنا ہوا لباس تھی
تو یہ لباس چیخ کیوں بن گیا؟
وہ چیخ جو کفن کے لئے
کورا لٹھا پھاڑتے وقت آکاش کو پکارتی ہے
مگر بہرہ آکاش اس وقت بھی گا رہا ہوتا ہے
خانم تمہارا لباس ہے
اور تم خانم کا لباس!
یہ تم آخر ہے کون
اور کہاں ہے
اور میرے خالق اتنا اور بتا دو
کہ اگر تمہاری بنی قبا کو بھی
تار تار کر دینے کی سہولت جبر کو حاصل ہے تو
سچ سچ چپکے سے بتا دو
کہ خدا کون ہوا
بولو میرے خالق
میں تمہاری ہی بنی ہوئی قبا بول رہی ہوں
عذرا کی فنی اور فکری فردیت ان کی ہر نظم میں نمایاں ہے۔ ان کی اظہاری ہیئت مختلف توانائیوں سے تشکیل پاتی ہے۔ ان کی لفظیات میں کوئی منطقی ترتیب نہیں ہے۔ وہ لسانی بے ترتیبی سے ایک نئی ترتیب وضع کرتی ہیں۔ عذرا نے لفظیات و فکریات کی نئی راہیں تشکیل کی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے لفظوں کو نئی حیاتیاتی توانائی سے روشناس کرایا ہے۔ وہ پرانی لفظیات میں محصور ہوتیں تو ان کا انفرادی رنگ و آہنگ کبھی بھی ابھر کر سامنے نہیں آ پاتا۔
٭٭٭
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page


1 comment
حقانی کی اس سخن فہمی پر حیران ہیں کہ درد کی اتنی تہوں کا نباض ہونا . ۔.?
اک آگ کا دریا تھا اور ڈ وب کے جانا تھا حقانی نے سابقه
عذرا کو rediscover کیا
salute
عذرا پروین