بہار کی سر زمین کے معروف غزل گو شعراء میں ایک نام خورشید اکبر کا بھی ہے جو اپنی شاعری میں جدت و جلال سے پہچانے جاتے ہیں۔ اور اس وقت ملازمت سے سبکدوشی کے بعد "ایک قوم” نام سے روزنامہ اخبار نکال رہے ہیں۔ اس سے پہلے انہوں نے ‘آمد’ جیسا معیاری سہ ماہی رسالہ بھی نکالا کرتے تھے جسے ہند و پاک کے سنجیدہ ادبی حلقوں سے پزیرائی حاصل ہوچکی ہے۔ ان کے کئی شعری مجموعے بھی اشاعت پزیر ہوکر منظر عام پر آچکے ہیں اور ادبی دنیا میں داد وصول کر چکے ہیں۔ غزل گوئی انکی پسندیدہ صنف سخن ہے۔ یوں تو انہوں نے غزلوں میں جدت کے ساتھ روایت کی پاسداری کا بھی ہمیشہ خیال رکھا ہے۔انکی شاعری حقیقت کی آئینہ دار اور جرأتِ اظہار سے قطعی محروم بھی نہیں ہے۔ لیکن پھر بھی اب انکی غزلوں کا لہجہ بدلتا ہوا نظر آتا ہے۔۔ شاید یہ بدلاؤ عمر کے لحاظ سے آج کے بدلتے ہوئے منظر نامے اور عصری تقاضوں کے باعث ہو۔۔ بہرکیف فی الحال اس وقت زیرِ نظر دو غزل ہیں۔
پہلی غزل
ہو گیا موسم بہت ناساز جاناں
رہ گئی اک آخری پَرواز جاناں
بجھ رہے ہیں چاند تاروں کے نشیمن
اُٹھ رہی ہے مستقل آواز جاناں
سارا عالم اک فنا آغوش میں ہے
زندگی کیسے کہے یہ راز جاناں
میری شہہ رگ پر رکھے ہیں مثلِ خنجر
یہ ترے گیسو ، لبِ دمساز جاناں
جس کے بِن اک سانس لینا تھا قیامت
مجھ سے روٹھا ہے وہی ہمراز جاناں
شاخِ حسرت سے پرندہ پھول جیسا
لے اُڑا اک مدّعی شہباز جاناں
ہر طرف کیسی قیامت گونجتی ہے
ہم نہ آئے خواہشوں سے باز جاناں
دشت میں آہٗو، نہ جنگل ہی میں جھرنا
چشمِ گریاں کس کی ہے غمّاز جاناں
جامِ جاں لبریز تھا، دیکھا نہ اُس نے
نشّۂ خورشید کا انداز جاناں
شاعر : خورشید اکبر
یہ غزل کرونائی دور کی ہے۔ اس غزل کو بھلے ہی کرونائی شاعری کا نام دیا گیا ہو لیکن میری ناقص العقل اسے کرونائی شاعری ماننے سے انکار کرتی ھے۔۔ کیونکہ غزل میں بھاگتی دوڑتی زندگی کے تھم جانے والے اور جابجا شکوے کی تزک تو ہے شاعر نے خود احتسابی سے بھی کام لیا ہے لیکن تصوف یا شانِ ربوبیت سے غزل کا رنگ عاری ھے۔۔۔ شاعر نے غزل میں سنجیدہ جزباتی سیلاب سے کام لیتے ھوئے وبائی دور میں معشوقہ/محبوبہ سے نہ ملنے کی معصومانہ احتجاجی غماز کی علامتی انداز میں عکاسی کی ہے۔ جس سے قید و بندشوں سے نجات پانے کی چھٹپٹاہت اور نفسیاتی حِس کی جمالیات کی شبنمی ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے ۔۔۔۔
دوسری غزل ملاحظہ ہو
پہلے تو مجھے رات سمندر سے نکالا
پھر دِن کا لہو شام کے نشتر سے نکالا
بے رنگ خلاؤں کی مجھے دی گئی پرواز
پھر اُس نے ہر اک حسرتِ شہپر سے نکالا
رہ رہ کے عجب غیب کے افلاک دِکھائے
پھر یوں بھی ھُوا مرکز و محور سے نکالا
میں پاؤں کا کانٹا تھا ہُوا روح میں پیوست
پھر شاہ نے جھُک کر مجھے خنجر سے نکالا
میں وقت کی آنکھوں سے لہُو بن کے جو ٹپکا
پھر اُس نے نظر پھیر کے منظر سے نکالا
مانا کہ مِرا شیشۂ دِل چور تھا لیکن۔۔۔۔۔۔۔
پھر پھول سا چہرہ اُسی پتّھر سے نکالا
ھنسنے کے لیے چھوڑ دِیا اُس کو اکیلا
پھر میں نے عجب کام ستمگر سے نکالا
پھر شہر کا دستور ھُوا موت کو رونا
پھر اُس نے لہُو دیدۂ محشر سے نکالا
پہلے مِری مٹّی کو فلک بوس بنایا ۔۔۔۔
پھر اُس نے زمیں دوز کیا گھر سے نکالا
خورشید ھُوا نفس کے ظلمات میں غرقاب
پھر اُس نے مگر نور کی چادر سے نکالا
شاعر : خورشید اکبر
یہ لاجواب غزل ہے۔۔ اس غزل کا تسلسل خوبصورتی کو بڑھاتے ہوئے قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔۔۔شاعرِ موصوف نے ایام زیست میں آنے والے مختلف تجربات و مشاہدات کو بڑی خوش ادائی اور حسنِ خوبی سے بات سے بات پیدا کرتے ہوئے خیال کی نازکی کو پرکشش بنایا جس سے تصوف کا رنگ نمایاں ہوتا ہے جو دعوتِ فکر دیتا ہے اور یہی پوری غزل کی خاصیت ہے۔۔ اُن دونوں غزلوں کی گہرائی اور گیرائی عصری حالات کے مسائل کی بازگشت تپتے صحرا کی تمازت کے ساتھ دلکشی اور انفرادیت کا احساس کراتے ہوئے داد وصول کرتی ہے۔
بہرحال شاعری انسانی نفسیات کی بہترین ترجمان ہوتی ہے جہاں ہجر و وصال کے جزبات و احساسات ، انسانی رشتے کے مطالبات و تحفظات اور شکوے شکایتوں کا براہ راست اور برملا شعری اظہار قارئین سے داد و تحسین وصول کرلیتا ہے۔ اور غزل جب خورشید اکبر کی ہو تو پھر کیا کہنا۔۔۔۔ دنیاوی آشفتگی ایک طرف اور غزل کی شانِ شگفتگی ایک طرف۔۔۔۔!!
————————-
رحیم آباد، سمستی پور. بہار
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

