خورشید حیات کی کہانیاں سیدھی دل پر اثر کرتی ہیں۔پروفیسر ریشما پروین
شعبۂ اردو میں ادب نما کے تحت ’’خورشید حیات سے ایک ملاقات‘‘موضوع پر آن لائن پروگرام کا انعقاد
میرٹھ16؍ مارچ2023ء
’’میں حقیقت میں اردو کا طالب علم ہوں اور ابھی بھی سیکھ رہا ہوں۔ آج خورشید حیات نے مجھے کچھ زندگی دے دی ہے۔ انہیں سننے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ کہانی میں نیا پن ہو نا بھی کہانی کا اہم رکن ہے اور اس کی وجہ سے کہانی اہمیت کی حامل ہوجاتی ہے۔واقعی خورشید حیات کا انداز بالکل منفرد اور متاثر کن ہے۔یہ الفاظ تھے معروف ادیب و شاعر عارف نقوی،جرمنی کے جو شعبۂ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی،میرٹھ اور بین الاقوامی نوجو ان اردو اسکالرز انجمن (آیوسا) کے زیر اہتمام منعقد ’’خورشید حیات سے ایک ملاقات‘‘موضوع پر اپنی صدارتی تقریر کے دوران ادا کررہے تھے۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغازسعید احمدنے تلاوت کلام پاک سے کیا۔بعد ازاں ایم ۔اے سال دوم کی طالبہ عظمیٰ پروین نے نعت پاک پیش کی۔پروگرام کی سرپرستی صدر شعبۂ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے فرمائی۔ جب کہ مہمان خصوصی کی حیثیت سے معروف تنقید نگار خورشیدحیات (چھتیس گڈھ )اورمقررین کی حیثیت سے لکھنؤ سے ایوسا کی صدر پروفیسر ریشما پروین اور میرٹھ سے مائنارٹی ایجو کیشنل سوسائٹی کے صدر آفاق احمد خاں نے شرکت کی ۔استقبالیہ کلمات ڈاکٹر آصف علی اور نظامت کے فرائض ڈاکٹر شاداب علیم نے انجام دیے۔
خورشید حیات کا تعارف پیش کرتے ہوئے ڈا کٹر شاداب علیم نے بتایا کہ خورشید حیات نے اپنا تعلیمی سفر مگدھ یونیورسٹی کی ادبی فضا میں طے کیا اور پھر عملی زندگی میں قدم رکھتے ہوئے ریلوے سروس سے وابستہ ہوگئے اور بہترین کار کردگی کا مظا ہرہ کرتے ہوئے اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے اور آپ کی ادبی فتو حات میں چار افسا نوی مجمو عے ایڈز اردو میں2000ء میں، سورج ابھی جاگ رہا ہے۔ہندی میں2004ء ،لفظ تم بولتے کیوں ہو؟2017 اور پہاڑ، ندی، عورت منظر عام پر آ کر مقبول ہوچکے ہیں۔ خورشید حیات کی ادبی خدمات کے اعتراف میں مختلف اکادمیز اور مو ٔقر ادارے اعزازات سے نواز چکے ہیں۔اگر ہم اردو فکشن نگاروں کا انتخاب کریں تو آپ کے نام کے بغیر فہرست مکمل نہیں ہوگی۔
آیو سا کی صدر پروفیسر ریشما پر وین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خورشید حیات کی کہانیاں سیدھے دل پر اثر کرتی ہیں اور آپ، کہانیوں میں سماج کی ایسی حقیقتیں منظر عام پر لاتے ہیں جوشاذو نادر ہی کسی کے یہاں نظر آ تی ہیں۔ آپ نے آج بھی اپنی بہترین تخلیق پیش کی۔ نہ صرف آپ کی کہانی بلکہ آپ کا انداز بیان بھی منفرد اور بہت خوب ہے۔
آفاق احمد خان نے کہا کہ خورشید حیات بہترین نا قد اور لا جواب کہانی کار ہیں۔ آپ نے جو کہانی’’چھالیاں‘‘ پڑھی بہت عمدہ کہانی ہے اور اس کہانی نے پروگرام میں چار چاند لگادیے ہیں۔آپ کا انداز منفرد اور نرالا ہے۔
پروگرام میں ڈاکٹر الکا وششٹھ، سعید احمد سہارنپوری ،محمد شمشاد، فیضان ظفر وغیرہ آن لائن و آف لائن موجود رہے۔
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

