‘خطباتِ احمدیہ’ کا مُحقّق ایڈیشن/ ڈاکٹر کوثر فاطمہ -ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی
علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے قیام کو 2020 میں سو سال مکمّل ہوگئے _ اس موقع پر صد سالہ جشن منایا گیا اور اس مناسبت سے بہت سے پروگرام منعقد ہوئے اور بہت سی کتابیں شائع ہوئیں _ میں سمجھتا ہوں کہ سب سے اہم یافت اس کے بانی سر سید احمد خاں (1817 _ 1898) کی کتابِ سیرت ‘خطباتِ احمدیہ’ کے مُحقّق ایڈیشن کی اشاعت ہے _
سرسید احمد خان کو ابتداءِ عمر سے ہی رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ گرامی سے محبت اور عقیدت تھی _ 1843ء میں ، جب ان کی عمر محض 26 برس تھی ، انھوں نے ‘جلاء القلوب بذکر المحبوب ﷺ’ کے نام سے ایک کتاب تصنیف کی تھی ۔ اس مختصر کتاب میں انھوں نے رسول اللہ ﷺ کی ولادتِ با سعادت ، معجزات ، دیگر حالات اور وفات وغیرہ سے متعلق معتبر اور مستند روایات شامل کی تھیں ۔ اس کا بیش تر مواد شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی کتاب ‘سرور المحزون’ اور شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی کتاب ‘مدارج النبوۃ’ سے ماخوذ ہے ۔ ‘خطباتِ احمدیہ’ سیرتِ نبوی کے موضوع پر ان کی دوسری تصنیف ہے ، جسے عالمی شہرت حاصل ہوئی ہے _
مشہور مستشرق سر ولیم میور نے 1861 میں چار ضخیم جلدوں میں The Life Of Muhammad کے نام سے کتاب لکھی تھی ۔ اس میں اس نے اسلام اور پیغمبرِ اسلام کے بارے میں نہایت متعصّبانہ اور بے سروپا باتیں درج کی تھیں – سر سید احمد خان کو اس کا علم ہوا تو وہ بہت ملول اور مضطرب ہوئے ۔ ان کے اضطراب کا حال مولانا حالی نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے :
” جب سر ولیم میور کی کتاب ‘لائف آف محمدؐ ‘ چار جلدوں میں چھپ کر ہندوستان میں پہنچی ، اس وقت جو حال سر سید کی بے چینی اور جوش و خروش کا تھا وہ ہم نے اپنی آنکھ سے دیکھا ہے۔۔۔ وہ جب بھی اور کاموں سے فارغ ہو کر بیٹھتے تھے ، اکثر سر ولیم کی کتاب کا ذکر کرتے تھے اور نہایت افسوس کے ساتھ کہتے تھے کہ اسلام پر یہ حملے ہو رہے ہیں اور مسلمانوں کو مطلق خبر نہیں ۔”
سر سید نے سر ولیم میور کی کتاب کا جواب لکھنے کا ارادہ کیا تو اس کے لیے بنیادی کتابیں اور مراجع جمع کرنے میں لگ گئے _ اسی اثنا میں ان کے بیٹے سید محمود تعلیمی وظیفہ پر انگلستان جانے کے لیے عازمِ سفر ہوئے تو انھوں نے بھی ساتھ جانے کا فیصلہ کیا ، تاکہ وہاں کے کتب خانوں سے استفادہ کر کے ولیم میور کی کتاب کا جواب لکھ سکیں ۔ انگلستان پہنچتے ہی انھیں انڈیا آفس لائبریری سے ضروری کتابیں مل گئیں _ مصر ، فرانس اور جرمنی سے شائع ہونے والی کتابیں انھوں نے ڈاک سے منگوائیں ۔ انہوں نے اپنے رفیق نواب محسن الملک کے نام ایک خط میں لکھا ہے :
” ان دنوں میں ذرا دل کو شورش ہے ۔ ولیم میور صاحب نے جو کتاب آں حضرت ﷺ کے حال میں لکھی ہے اس کو میں دیکھ رہا ہوں ۔ اس نے دل کو جلا دیا اور اس کی ناانصافیاں اور تعصبات دیکھ کر دل کباب ہو گیا اور مصمّم ارادہ کیا کہ آں حضرت ﷺ کے سیر میں ، جیسا کہ پہلے ارادہ تھا ، کتاب لکھ دی جاوے ۔ اگر تمام روپیہ خرچ ہو جاوے اور میں فقیر بھیک مانگنے کے قابل ہو جاؤں تو بلا سے ۔ قیامت میں یہ تو کہہ کر پکارا جاوے گا کہ اس فقیر مسکین احمد کو ، جو اپنے دادا محمدﷺ کے نام پر فقیر ہو کر مر گیا ، حاضر کرو ۔ مارا ہمیں تمغۂ شاہنشہی بس است ۔ میں نے فرانس اور جرمنی اور مصر سے کتبِ سیر منگانی شروع کر دیں ۔ چٹھیات روانہ ہو گئیں ۔ سیرتِ ہشامی مطبوعہ اور چند کتابیں لیٹن کی خرید لیں ۔ ایک آدمی مقرر کر دیا جو لیٹن کا ترجمہ کر کے مضمون بتلا سکے ۔ تین مقدّمات لکھنے شروع کر دیے ۔ اول : جغرافیۂ عرب ، دوم : انسابِ عرب ، سوم : ثبوت آں حضرت ؐ کی نسل کا حضرت ابراہیم تک ۔ سب سے مشکل کام جغرافیہ ہے اور تمام چیزوں کے متعلق اسلام و سیر کے ثبوت کی بنیاد ہے ۔ خیر اب دُعا کرو ، خدا مدد کرے اور انجام کو پہنچا دے ۔”
سر سید نے ولیم میور کی کتاب کے جواب میں بارہ (12) خطبات تحریر کیے _ پھر ایک لائق مترجم سے انگریزی میں ان کا ترجمہ کرایا ۔ 1870 میں ان خطبات کی اشاعت لندن سے A series of Essays on the Life of Muhammad کے نام سے ہوئی ۔ بعد ازاں 1887 میں اصل اُردو کتاب مع إضافات علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ پریس سے شائع ہوئی ۔ کتاب کا پورا نام ‘الخطبات الاحمدیۃ علی العرب والسیرۃ المحمدیۃ’ ہے ، لیکن وہ ‘خطباتِ احمدیہ’ کے نام سے معروف ہوئی ۔
پہلا خطبہ عرب کی تاریخ اور جغرافیہ سے متعلق ہے ۔ ولیم میور نے قرآن میں مذکور جن دیار و آثار کا انکار کیا تھا سر سیّد نے انھیں توریت ، انجیل اور عیسائی محققین کی شہادتوں سے ثابت کیا ہے ۔ دوسرا خطبہ اسلام سے قبل عربوں کے سیاسی ، سماجی اور مذہبی حالات سے متعلق ہے ۔ اس میں ان کے رسم و رواج ، خیالات و عقائد اور ان کے معاشرتی اور معاشی حالات کو شرح و بسط کے ساتھ پیش کیا گیا ہے ۔ تیسرا خطبہ اسلام سے قبل کے مذاہب و ادیان سے متعلق ہے ، جو جزیرۃ العرب اور اس کے قرب و جوار میں موجود تھے ۔ اس میں دیگر مذاہب کے ساتھ اسلام کی مماثلت اور اس کے امتیازات کو بیان کیا گیا ہے ۔ چوتھے خطبہ میں اسلام کے عالمِ انسانیت پر بالعموم اور عالمِ عیسائیت پر بالخصوص احسانات کا ذکر ہے ۔ اس میں سر سید نے خود انگریز مصنفین کی تصانیف سے ثابت کیا ہے کہ عیسائیت نے اسلام سے بہت کُچھ سیکھا ہے ۔ پانچویں خطبے میں کتبِ احادیث کے جمع و تدوین اور کتبِ تفسیر و سیر و فقہ کی تالیف کی غرض و غایت بیان کی گئی ہے ۔ چھٹے خطبے میں روایات کے اسباب وعوامل اور موضوع احادیث کے اختراع کے اسباب پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔ ساتویں خطبے میں قرآنِ مجید کے نزول ، آیات کی ترتیب اور سورتوں کی تقدیم و تاخیر ، مختلف قراءتوں اور آیاتِ ناسخ ومنسوخ کی بحثیں کی گئی ہیں اور ان مقامات کی نشان دہی کی گئی ہے جنہیں درست طریقے سے نہ سمجھنے کے باعث عیسائی مصنفین و مؤرخین گم راہ ہوئے ہیں ۔ آٹھویں خطبے میں خانۂ کعبہ کی تعمیر اور اس کی تاریخی و جغرافیائی حیثیت سے بحث کی گئی ہے اور عیسائی مصنفین و مؤرخین اور ماہرینِ جغرافیہ کی تحقیقات سے ثابت کیا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعٰیل علیھما السلام اور ان کی اولاد حجاز میں آئی اور مکہ اور اس کے قرب وجوار میں آباد ہوئی ۔ ولیم میور نے اپنی کتاب میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ آلِ اسماعیل کا حجاز اور مکہ مکرمہ سے کوئی تعلق نہیں – نواں خطبہ رسول اللہ ﷺ کے حسب و نسب کی تحقیق پر ہے ۔ سر سید نے حضور ﷺ کے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے ہونے کے دلائل پیش کیے ہیں ۔ دسواں خطبہ ان بشارتوں اور پیشین گوئیوں سے متعلق ہے جو رسول اللہ ﷺ سے متعلق سابقہ آسمانی صحائف ، جیسے توریت ، انجیل وغیرہ میں پائے جاتے ہیں ۔ گیارھواں خطبہ معراج اور شقّ الصدر کے بارے میں ہے ۔ اس میں سرسید کے خیالات جمہور علماء کے نظریات سے متصادم ہیں ۔ ان کے نزدیک یہ دونوں واقعات خواب میں پیش آئے تھے _ بارھواں اور آخری خطبہ حضور ﷺ کی ولادتِ مبارکہ سے لے کر آپ کی عمرِ مبارک کے بارھویں برس تک کے واقعات و حالات پر مشتمل ہے ۔ اس میں ان واقعات کا انکار کیا گیا ہے جن کو بنیاد بنا کر ولیم میور نے اعتراضات کیے تھے ۔
‘خطباتِ احمدیہ’ کا شمار سیرت لٹریچر کی اہم ترین کتابوں میں ہوتا ہے _ اسے اردو زبان میں سیرت کے موضوع پر لکھی جانے والی پہلی باقاعدہ تصنیف قرار دیا جاسکتا ہے _ یہ انیسویں صدی میں استشراق کے حملوں کو روکنے اور رسول اللہ ﷺ کی شبیہ کو داغ دار کرنے کی مذموم کوششوں کا مُسکت جواب ہے _ پروفیسر آرنلڈ نے اس کے بارے میں لکھا ہے :” ایسی مثالیں تو پائی جاتی ہیں کہ کسی مسلمان نے بمقابلہ عیسائیوں کے اپنی زبان میں اپنے ہی ملک میں بیٹھ کر اسلام کی حمایت میں کوئی کتاب لکھی اور اس کا ترجمہ کسی یورپ کی زبان میں ہوگیا ، لیکن مجھے کوئی ایسی مثال معلوم نہیں کہ کسی مسلمان نے یورپ جاکر یورپ ہی کی کسی زبان میں اس مضمون میں کتاب لکھ کر شائع کی ہو _”
خطباتِ احمدیہ ہندوستان اور پاکستان دونوں جگہ متعدّد بار شائع ہوئی ہے _ پروفیسر رفیع اللہ شہاب اور محمد علی فارق کے مدوّن نسخے معروف ہیں _ 2003 میں سر سید اکیڈمی ، مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ سے بھی ایک ایڈیشن طبع ہوا تھا ، جو 1887 کے اوّلین ایڈیشن کا عکس تھا _ اب ڈاکٹر کوثر فاطمہ نے متعدد نسخوں کو سامنے رکھ کر ایک مُحقّق ایڈیشن تیار کیا ہے ، جسے ملّی پبلی کیشنز ، جامعہ نگر ، نئی دہلی نے بڑی تقطیع پر پورے آب و تاب کے ساتھ طبع کیا ہے _ کوثر فاطمہ نے جامعۃ الصالحات رام پور سے اعلیٰ دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے پوسٹ گریجویشن اور ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں حاصل کی ہیں _ ان دنوں وہ مرکز فروغِ تعلیم و ثقافت مسلمانانِ ہند علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں بین مذاہب مطالعات کی معلّمہ ہیں _ رام پور میں میری چھوٹی بہن سطوت ریحانہ کی ہم درس ہونے کی وجہ سے ان کا مجھ سے بھی تعلق رہا ہے _ ان کی علمی فتوحات دیکھ کر خوشی ہوتی ہے _ امید ہے ، ان کی اس کاوش کا علمی حلقوں میں استقبال کیا جائے گا _
صفحات :480 (بڑی تقطیع)
قیمت :700 روپے
رابطہ :millitimes@gmail.com
+91-11-26945499,26946246
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

