شعبۂ اردو،سی سی ایس یو میں ادب نما پروگرام کے تحت پروفیسر اسلم جمشید پوری کی مرتب کردہ’’نامے‘‘ کا اجراء
میرٹھ4؍ فروری2022ء
’’خطوط ہماری زندگی کی اس خوبصورتی کو پیش کرتے ہیں جو بظا ہر نظر نہیں آتی۔ خط کس کو لکھا جائے یا بھیجا جائے ،ان میں دونوں کی شخصیت نظر آ تی ہے۔اس سلسلے کی یہ کتاب’’ نامے‘‘ نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ یہ الفاظ تھے معروف ادیب ونقاد پروفیسر شارب رودولوی،لکھنؤکے جو شعبۂ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی اور بین الاقوامی نوجوان اردو اسکالرز انجمن (آیوسا) کے زیر اہتمام منعقد ’’پروفیسر اسلم جمشید پوری کی نئی کتاب’’نامے‘‘ کا اجراء کے پروگرام میں اپنی صدارتی تقریر میں آن لائن ادا کررہے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ خطوط سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ اس وقت ہماری زندگی کیسی تھی ساتھ ہی ان سے اس عہد کا بھی پتہ چلتا ہے۔ یہ سبھی خطوط ہمیں اس زمانے کی تحقیق اور تاریخ کی طرف اشا رہ کرتے ہیں اور عارف نقوی کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ وہ ایک ایسی شخصیت کا نام ہے جس نے جرمنی میں اردو ادب کی شمع جلانے کا کام کیا۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغاز ایم اے کی طالبہ عظمیٰ پروین نے کیا۔بعد ازاں سعید احمد سہارنپوری نے مرزا غالبؔ کی غزل اپنی مترنم آواز میں پیش کی ۔اس ادب نما پروگرام کی سر پرستی معروف ادیب عارف نقوی ، جرمنی نے فرمائی ۔مہمان خصوصی کے بطورنائب شیخ الجامعہ،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ پرو فیسر وائی وملا نے آن لائن شرکت کی۔مقررین کے بطور پروفیسر صغیر افراہیم ،علی گڑھ،مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ،حیدر آباد سے صدر شعبۂ اردو پروفیسرفاروق بخشی ،پٹنہ سے صفدر امام قادری،گیا،بہار سے ڈاکٹر احمد صغیر اور کشمیر سے ڈاکٹر ریاض توحیدی شریک رہے۔استقبالیہ کلمات ڈاکٹر شاداب علیم،نظامت کے فرائض ڈاکٹر ارشاد سیانوی اور شکریے کی رسم ڈاکٹر آصف علی نے انجام دی۔
اس موقع پر صاحب کتاب پروفیسر اسلم جمشید پوری نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اردو مکتوب نگاری کا سفر راجہ رام موہن رائے سے غالبؔ،پھر اقبال،منٹو،ابوالکلام آ زاد اور سجاد ظہیر تک آ تے آتے عروج تک پہنچا مگر حقیقت یہ ہے کہ اردو مکتوب نگاری کے ارتقا میں متعدد مکتوب نگار نے اپنے کار ہائے نمایاں سے اسے ہر طرح مضبوط و مستحکم کیا ہے لیکن جو کام غالبؔ نے کیا وہ بے مثل اور لازوال ہے۔ عارف صاحب میرے بزرگ دوست ہیں۔ زندگی کے85بہا ریں دیکھ چکے عارف نقوی کا تجربہ اور مشاہدہ اتنا گہرا اور عمیق ہوگا اس کا مجھے پختہ یقین تھاکہ آپ ایک زمانے سے نہ صرف واقف ہوں گے بلکہ متعدد بڑی شخصیات سے آپ کے دوستا نہ مراسم ہوں گے۔یہی سوچ کر میں نے ان کو،ان کے نام آئے خطوط کو جمع کرنے اور کتابی شکل میں لانے کا مشور دیا۔عارف صاحب نے یہ ذمہ داری میرے ہی ناتواں شانوں پر ڈال دی۔بہر حال میں ان کے کسی کام سے رو گردانی نہیں کرسکتا ہوں۔انہوں نے ایک بڑا کام میرے سپرد کیا۔الحمد للہ میری یہ کوشش آپ کے سامنے ہے۔میں کہاں تک کامیاب ہوا ہوں اس کا فیصلہ اب آپ کو کرنا ہے۔ڈاکٹر ریاض توحیدی نے کہا کہ پروفیسر اسلم جمشید پوری کی اس کتاب کے ذریعے خطوط نگاری کی روا یت دو بارہ زندہ ہوگی۔ یہ ایک منفرد کتاب ہے۔ڈاکٹر احمد صغیر نے کہا کہ عارف نقوی صاحب کے نام آ ئے تمام خطوط کو یکجا کرپروفیسر اسلم جمشید پوری نے یہ ثا بت کردیا ہے کہ خطوط نگاری کی روایت ابھی ختم نہیں ہو ئی ہے۔مقبول اور اہم شخصیت کے خطوط کو انہوں نے کتابی شکل میں لا کر منفرد کار نامہ انجام دیا ہے۔ایسے کاموں کی طرف ہر شخص کی نظر نہیں جاتی۔اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ ادب میں یہ کتاب مقبولیت حاصل کر لے گی۔
صفدر امام قادری نے کہا کہ میں کافی دن سے محسوس کررہا تھا کہ خطوط نگاری کے تعلق سے کوئی ایسا کام منظر عام پر نہیں آ یا لیکن اسلم جمشید پوری نے اس تشنگی کو دور کرنے کا خاص کار نا مہ انجام دیا ہے اس’’ نامے‘‘ نامی کتاب میں جن مشاہیر کے خطوط جمع کیے گئے ہیں ان کے ادبی کار ناموں کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ سماج میں ایسے کار نامے زندہ جاوید ہوتے ہیں۔
پروفیسر صغیر افراہیم نے کہاکہ پروفیسر اسلم جمشید پوری کی کتاب’’نامے ‘‘کا مطالعہ کرنے کے بعد پتہ چلا کہ یہ منفرد کار نامہ ایسا ہے جس پر تحقیق ہونی چاہئے۔ہمیں اس خطوط میں تاریخ بھی ملتی ہے اور تحقیق بھی۔ سجاد ظہیر کے تمام خطوط سے ایک تاریخ بنتی ہے۔ ان خطوط کے ذریعے ہمیں سجاد ظہیر کے ادبی ما حول کا پتہ چلتا ہے۔پروفیسر فاروق بخشی نے کہا کہ’’ نامے‘‘ عارف صا حب کی شخصیت کا آئینہ ہے۔عارف صاحب افسانہ نگار بھی ہیں،ڈراما نگار بھی ہے،سفرنامہ نگار بھی اور شاعر بھی ہیں۔اس کتاب کے حوالے سے کہہ سکتا ہوں کہ اس کتاب میں اس دور کے نغمہ نگار، سیاست داں اور قلم کار بھی موجود ہیں ۔آیوسا کے سر پرست عارف نقوی نے کہا کہ بہت کم حضرات ہوتے ہیں جو منفرد کار ناموں کو انجام دیتے ہیں۔اسلم جمشید پوری ان ہی میں سے ایک ہیں جو اپنے طالب علموں کی صحیح راہ نمائی کر رہے ہیں۔میں نے اپنے عہد کے تمام ادبی دوستوں کے خطوط اس لیے جمع کیے تا کہ مستقبل میں ان کے ادبی کار نامے ،ان کا عہد اور ان کے ذہن کو دیگر لوگوں سے ساجھا کرسکوں۔
پروگرام میںڈاکٹر ولا جمال، مصر، ڈاکٹر کامران زبیری،ایم کے باری،پونہ، ارشد اکرام، سعودی عرب،ڈاکٹر ریشما پروین، لکھنو،ڈاکٹر نگار عظیم،دہلی،خورشید حیات چھتیس گڑھ،ارشد منیم،نخشب مسعود،مہاراشٹر،رمیشا قمر،گلبرگہ،سیدہ مریم الٰہی،محمد شمشاد،شاہا نہ پروین، فیضان ظفر وغیرہ آن لائن موجود رہے۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

