اورنگ آباد میں جاری تحریک مریم مرزاکی ا۳ویں بچوں کی محلہ لائبریری کاافتتاح
اورنگ آباد25/ دسمبر
اورنگ آباد میں جاری تحریک مریم مرزا محلہ محلہ بچوں کی لائبریری کی آج اورنگ آبادشہرکے مسلم پسماندہ ومزدور علاقہ جہانگیرکالونی ہرسول میں جاری گلستا ں اردوہائی اسکول میں گلستاں بچوں کی لائبریری کے نام سے ۱۳ویں بچوں کی لائبریری کا افتتاح ریڈ اینڈ لیڈ فاؤنڈیشن کے صدر مرزا عبدالقیوم ندوی کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ لائبریری کے افتتاح کے موقع پر گلستاں اسکول کے طلباء کے سرپرستوں کو مدعو کیاگیاتھا۔ جس میں کثیر تعدادمیں خواتین حصہ لیا۔ سرپرستوں سے خطاب کرتے ہوئے مشہور سماجی جہدکار ریڈاینڈلیڈ فاؤنڈیشن کے صدر مرزاعبدالقیوم ندوی نے کہا مسلم خواتین کے اپنی صحت،بچوں کی تعلیم اور محلہ کی صفائی پر اگر توجہ دیں تو معاشرہ میں زبردست تبدیلی رونماہوسکتی ہے۔ موجودہ دورمیں مردوں سے زیادہ ذمہ داری خواتین پر عائد ہوتی ہے کیونکہ وہ گھروں میں رہتی ہیں مرد حضرات روزی روٹی اور روزگارکے چکرمیں گھر سے باہر رہتے ہیں۔ اسکول میں لائبریری کے ساتھ سائنس تجربہ گاہ بھی افتتاح اسکول کے چیئرمین اسلم شریف کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ اس وقت محلہ کے سماجی جہد کار،جاوید پٹیل،شیخ آصف اورمحلہ کے مساجد کہ ائمہ کرام موجود تھے۔
واضح رہے کہ اورنگ آبادشہرمیں گزشتہ دیڑھ سال ریڈاینڈلیڈفاؤنڈیشن کے تحت مریم مرزامحلہ محلہ تحریک کے تحت بچوں کی لائبریریاں شروع کی جارہی ہیں۔مختصرعرصہ میں اس تحریک کوزبردست پزائی اور مقبولیت حاصل ہورہی ہے اور نگ آباد شہر کے علاوہ ریاست کے دوسرے شہروں میں بھی یہ تحریک شروع ہوگئی ہے۔ریڈ اینڈلیڈفاؤنڈیشن کی مسلسل کوششیں جاری ہیں کہ کس طرح سے عوام الناس اوراسکول وکالج کے طلباء میں مطالعہ کاشوق پیدا کیاجائے اور نئی نسل کارستہ کتابوں سے کیسے جوڑا جائے۔اس کے لیے وہ مسلسل کوشش کرتے رہتے ہیں۔ فاؤنڈیشن کے تحت شہر کے اردو اسکولوں میں کئی پروگرام چلائے جاتے ہیں جس سے کہ معاشرہ میں کتابوں کے تئیں دلچشپی پیدا ہواورطلباء میں مطالعہ کاشوق پروان چڑھے۔ اس کے لیے کبھی طلباء میں مفت گلے تقسیم کیے جاتے ہیں جن میں بچے پیسے جمع کرتے ہیں اوران پیسوں سے اپنی پسند کی کتابیں خریدتے ہیں۔ کبھی ”گھر گھرکتاب،ہر گھر میں کتاب“ مہم کے تحت محلوں میں مطالعہ کے لیے کتابیں تقسیم کی جاتی ہیں۔
پروگرام کو کامیاب بنانے میں اسکول کے صدرمعلہ اور دیگر اساتذہ نے محنت کی اور امام صاحب کی دعا پر پروگرام کااختتام عمل میں آیا.
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

