Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      جون 6, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      جون 6, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
سماجی اور سیاسی مضامین

ملک کی آزادی میں جن کا کوئی حصہ نہیں،آج وہ لوگ اقتدار پر قابض ہیں! – سرفراز احمدقاسمی

by adbimiras جنوری 29, 2022
by adbimiras جنوری 29, 2022 0 comment

عالمی سطح پر ایک سرسری جائزہ لیاجائے تو معلوم ہوگا کہ پوری دنیا میں تقریباً 200 ممالک آباد ہیں،یعنی 195 ملکوں میں بہت سے ملک ایسے ہیں جنکا رقبہ اور آبادی 5لاکھ سے کم ہے،اگر ایسے ممالک کو چھوڑدیا جائے تو یہ تعداد 167 بتائی جاتی ہے،ان میں بھی کئی ممالک ایسے ہیں جو نسبتاً چھوٹے ہیں لیکن کچھ رقبہ اور آبادی کے اعتبار سے بہت بڑے ہیں،96 ممالک ایسے ہیں جنکے یہاں جمہوریت اور جمہوری نظام نافذ ہے،کم وبیش 48 ملکوں میں جمہوریت اور آمریت کی ملی جلی صورتحال پائی جاتی ہے،جبکہ صرف 21 ممالک ایسے ہیں جہاں مکمل آمرانہ طرز حکومت قائم ہے،اس طرح تین الگ الگ طرز حکومت کے ملکوں کا فیصد علی الترتیب 57, 28 اور13 ہے،پیور ریسرچ سنٹر کی اس سلسلے میں فراہم کردہ رپورٹ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ گذشتہ پچاس برسوں میں دنیا میں جمہوری ملکوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے،اب سے نصف صدی قبل ان ملکوں کی تعداد 25 فیصد تھی،جو اب بڑھکر 57 فیصد ہوگئی ہے،جمہوری ملکوں کی تعداد میں اضافہ کے بارے میں جان کر ایک خوشگوار تاثر ضرور قائم ہوتاہے،مگر ان میں کون کتنا حقیقت میں جمہوری ہے؟،اس ملک میں رہنے والی عوام اپنے یہاں پائی جانے والی جمہوریت سے کس حدتک مطمئن ہیں؟اور انھیں کتنے سیاسی، شہری،انسانی اورجمہوری حقوق حاصل ہیں،یہ سوال بہت اہم ہے،کیونکہ جب اپنے ملک کی جمہوریت بے معنی ہو،جمہوری نظام دم توڑ رہاہو،جمہوریت آخری سانس لے رہی ہو اور پھر  جمہوریت کا جھوٹا جشن منایا جارہاہو تو ایسے میں حقیقت کا جائزہ لینا ضروری ہے،بھارت اس وقت اپنی آزادی کے 72 برس مکمل کرچکا ہے،ہر سال 26 جنوری کو پورے ملک میں یوم جمہوریہ کے طور پر منایاجاتا ہے،سرکاری و غیر سرکاری ہر جگہ اس طرح کی تقریب کا اہتمام کیاجاتاہے،دھواں دھار تقریریں ہوتی ہیں،آزادی کے گیت اور ترانے گائے جاتے ہیں،مٹھائیاں تقسیم ہوتی ہیں اور بس، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ملک آزاد ہوکر بھی غلام ہے،یہاں کے لوگ آزادی کے بعد بھی ملک میں گھٹ گھٹ کر زندگی گذاررہے ہیں، آئیے یہ بھی جان لیتے ہیں کہ جمہوریت کیا ہے اسکے معنی کیا ہیں؟کچھ لوگوں نے اسے سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے،برصغیر کے ایک ممتاز اسلامی اسکالر حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب ایک جگہ رقم فرماتے ہیں کہ” عام طور سے جمہوریت کے متعلق لوگوں کے ذہنوں میں صرف اتنا خیال رہاکہ مطلق العنان بادشاہت کے مقابلے میں یہ نظام عوام کو آزادیِ اظہارِ رائے عطا کرتا ہے اور حکمرانوں پر ایسی پابندیاں عائد کرتاہے جن کے ذریعے وہ بے مہار نہ ہوسکے اور چونکہ اسلام نے”مشاورت” کا حکم دیا ہے اس لئے جمہوریت کو مشاورت کے ہم معنی سمجھ کر کچھ لوگوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ جمہوریت عین اسلام ہے،حالانکہ بات اتنی سادہ نہیں،درحقیقت جمہوری نظام حکومت کے پیچھے ایک مستقل فلسفہ ہے،جو دین کے ساتھ ایک قدم بھی نہیں چل سکتا اور جس کےلئے سیکولرازم پر ایمان لانا تقریباً لازمی شرط کی حیثیت رکھتاہے،جمہوریت کی حقیقت واضح کرنے کےلئے یہ جملہ مشہور ہے یعنی "جمہوریت عوام کی حکومت کا نام ہے،جو عوام کے ذریعے اور عوام کے فائدے کےلئے قائم ہوتی ہے”لہذا جمہوریت کا سب سے بڑا رکن اعظم یہ ہے کہ اس میں عوام کو حاکم اعلی تصور کیاجاتاہے اور عوام کا ہر فیصلہ جو کثرتِ رائے کی بنیاد پر ہوا ہو وہ واجب اور ناقابل تنسیخ سمجھاجاتاہے،کثرتِ رائے کے اس فیصلے پر کوئی قدغن اور کوئی پابندی عائد نہیں کی جاسکتی،اگر دستورِ حکومت عوامی نمائندوں کے اختیار قانون سازی پر کوئی پابندی بھی عائد کردے(مثلا یہ کہ وہ کوئی قانون قرآن و سنت کے یا بنیادی حقائق کے خلاف نہیں بنائےگی)تو یہ پابندی اسکےلئے واجب التعمیل نہیں ہوتی کہ یہ عوام سے بالاتر کسی اتھارٹی نے عائد کی ہے،یا یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے،جسے ہرحال میں ماننا ضروری ہے،بلکہ صرف اسلئے واجب التعمیل سمجھی جاتی ہے کہ یہ پابندی خود کثرتِ رائے نے عائد کی ہے،لہذا اگر کثرتِ رائے کسی وقت چاہے تو اسے منسوخ بھی کرسکتی ہے،خلاصہ یہ کہ جمہوریت نے کثرتِ رائے کو معاذاللہ خدائی کا مقام دیا ہوا ہے کہ اسکا کوئی فیصلہ رد نہیں کیاجاسکتا،چنانچہ اسی بنیاد پر مغربی ممالک میں بدسے بدتر قوانين کثرتِ رائے کے زور پر مسلسل نافذ کئے جاتے رہےہیں اورآج تک نافذ کئے جارہے ہیں،زنا جیسی بدکاری سے لیکر ہم جنسی جیسے گھناؤنے عمل تک کو اسی بنیاد پر سند جواز عطاکی گئی ہے اور اس طرز فکر نے دنیا کو اخلاقی تباہی کے آخری سرے تک پہونچادیا ہے”(ماہنامہ البلاغ کراچی)

پڑوسی ملک کے ایک دوسرے عالم مولانا عاصم صاحب ہیں جو دنیا بھرکے مذاہب و ادیان پر گہری نظر رکھتے ہیں،جمہوریت کا تعارف کچھ اسطرح کراتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ”جمہوریت جسے انگریزی میں ڈیموکریسی کہا جاتاہے،یہ لفظ اصلاً دولفظوں سے مل کر بناہے،demosاورkratos ڈیموس کے معنی پیوپل یعنی عوام اور کراٹوس کے معنی رولس یعنی حاکمیت،اب اسکے معنی یہ ہوئے Rule of the people یعنی عوام کی حاکمیت،جمہوریت کامطلب ہے لوگوں کی آزاد اور مساوی زندگی،ایک ایسا نظام جس میں حاکمیت اعلی عوام کے پاس ہوتی ہے اور عوام ہی بالواسطہ یا بلا واسطہ طریقے سے حکومت چلاتے ہیں،نظام میں عوام کی نمائندگی ہوتی ہے،جو بالعموم ہرکچھ عرصے بعد آزاد انتخابات کے ذریعے سے نمائندے چن کر کی جاتی ہے،جمہوری نظام حکومت کا مطلب ایک ایسا نظام حکومت جو اکثریت کی بنیاد پر فیصلہ سازی کے اصولوں پر قائم ہو،ایک ایسا نظام جس میں حاکمیت اعلی اللہ کے بجائے عوام کی ملکیت ہو(نعوذباللہ)اور حکومت عوام کے ذریعے منتخب کی جائے،علم وتقوی کے اعتبار سے فرق ہونے کے باوجود بھی سب کی یعنی ایک عالم اورجاہل کی،ایک فاسق اور پابند شرع کی رائے اس میں برابر ہو،ایک ایسی حکومت جس میں عقل انسانی ہی نظام زندگی بنانے والی  اور انسانوں کےلئے ضابطہ حیات مرتب کرنے والی ہے،اس میں وحی کا کوئی دخل نہیں،جس چیز کو انسانی عقل وخواہش نفع قرار دے،وہ نفع ہے،اور جسکونقصان کہے وہ نقصان ہے،جس چیز کو انسانی عقل وخواہش حرام(غیرقانونی)قرار دیدے وہ حرام اور جسکو حلال(قانونی)کہہ دے وہ حلال ہے،ہوسکتاہے کہ وحی(قرآن وسنت)کبھی اس عقل یا خواہش کے موافق ہوجائے لیکن اس نظام میں قرآن وحدیث(نعوذباللہ)اس وجہ سے قابل عمل نہیں کہ وہ اللہ اوراسکے رسول کا فرمان ہے،بلکہ انسان نے اسکو اس قابل سمجھاکہ اس پر عمل کیاجاسکتا ہے،توپھر اسکوقانون بنایاجاسکتاہے،چنانچہ جمہوریت کی تعریف یہ ثابت کرتی ہے کہ اس نظام میں انسانی عقل اور خواہشات کو قرآن وسنت(وحی) پربھی بالادستی ہوگی”(ادیان )

یہ جمہوریت کی تعریف ہے جوعلماء نے کی ہے،برطانوی ادارہ فریڈم ہاؤس نے گذشتہ دنوں ایک رپورٹ شائع کی ہے،جس میں اس ادارے نے دنیا بھر کے تمام یعنی 195 ممالک کے حالات جاننے کی کوشش کی تھی،جبکہ دی اکنامک انٹلیجنس یونٹ کے ڈاٹا برائے جمہوریت کےلئے جن 167 ملکوں کا سروے کیا گیا،ان میں صرف 20 ملکوں کو ہی مکمل جمہوری قراردیاگیا،جبکہ 55 ملکوں کے بارے میں اس ادارے نے محسوس کیاکہ وہاں ناقص جمہوریت پائی جاتی ہے،ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ ناقص جمہوریت والے ملکوں میں امریکہ بھی شامل ہے،جوخود کو جمہوریت کا سب سے بڑا علمبردار قرار دیتاہے،اور خود ہمارا ملک بھی اسی زمرے میں شامل ہے،گذشتہ چندسالوں سے پورے ملک میں جو کچھ ہورہاہے یہ آپ سے مخفی نہیں ہے،ملکی جمہوریت کو کس طرح داغدار کیاگیا،اس پرشب خون کا سلسلہ کس طرح  جاری ہے،کس طرح جمہوریت کا جنازہ نکالا جارہاہے یہ بھی آپ جانتے ہیں،یہ وہی جمہوریت ہے جو برسوں کی جدوجہد اور لاکھوں ہندوستانیوں کی قربانیوں کے بعد ہمارے بزرگوں نے انگریزوں سے حاصل کیا،دستور میں بلالحاظ مذہب ،ذات اور فرقہ ہر ہندوستانی شہری کو مساوی حقوق دیئے گئے،آج اس پر کس حدتک عمل ہورہاہے؟یہ بتانے کی ضرورت نہیں،15اگست 1947 کو بھارت انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہوا اور 26جنوری 1950 کو اس ملک کو جمہوری قرار دیاگیا،اورملک کےلئے ایک جمہوری وسیکولر دستور مرتب کیاگیا جولوگ آج اقتدار پر قابض ہیں یہ دستور اسوقت بھی انھیں منظور نہیں تھا،اورآج بھی یہ لوگ جمہوری ڈھانچے کو نیست ونابود کرنےکےلئے تیار ہیں،ملک میں دہشت گردی کی ابتداء ہندوتو وادیوں نے ملک میں سیکولر اورجمہوری دستور کے نافذ ہونے سے قبل ہی کردی تھی،انکے بم اور بندوق سے جب راشٹرپتا بھی محفوظ نہیں رہے تو جن طبقات سے یہ لوگ نفرت کرتے ہیں ایس سی،ایس ٹی،دلت،مسلمان،سکھ عیسائی وغیرہ وہ ان کے نشانے پر آج بھی ہیں،لہذٰا فاشسٹ، دہشت گرد عناصر کو جو ہمارے ملک کے جمہوری ڈھانچے کو اپنے شیطانی عزائم کی تکمیل کےلئے ہائی جیک کرنے کی کوشش کررہے ہیں،انھیں لگام دینےکی ضرورت ہے، یہ وہی لوگ ہیں جنکے باپ دادا نے ملک کےلئے کوئی قربانی نہیں دی، بلکہ انگریزوں سے معافی مانگی، آزادی میں جن لوگوں کا ذرہ برابر کوئی حصہ نہیں بدقسمتی سے آج یہی لوگ ملک کے اقتدار پر قابض ہیں اور بھارت کے سیاہ و سفید کے مالک بنے بیٹھے ہیں، ہر قدم پر جھوٹ،نفرت،دھوکے بازی انکے رگ و پے میں شامل ہے ایسے لوگ ملک کو ترقی کی جانب لے جائیں گے یا اسے برباد کریں گے؟ آپ سوچئے، مٹھی بھر لوگوں کا یہ گروہ آج آئین بدلنے کی پوری کوشش میں مصروف ہے،اور ملک کے موجودہ آئین کو اپنی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتاہے،اسی لئے کھلے عام دستور کا مذاق اڑایاجارہاہے،لوگوں کے حقوق غصب کئے جارہے ہیں،سماجی انصاف کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں ایسے میں جشن یوم جمہوریہ منانا کیسے مناسب ہے؟ آزادی کی تاریخ کو توڑ مروڑکر پیش کرنے اور تاریخ مسخ کرنے کی پوری تیاری ہورہی ہے،کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے ترجمان”پیپلز ڈیموکریسی” نے اپنے اس ماہ کے تازہ ایڈیشن کے اداریے میں لکھا ہے کہ”ملک کی آزادی کے 75 سال مکمل ہونے پر مرکزی حکومت کی جانب سے منائے جانے والے ‘آزادی کا امرت مہوتسو’توڑ مروڑکر پیش کرنے اور جدوجہد آزادی میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ یا ہندتوا سے وابستہ لوگوں کو ‘ہیرو’ کے طور پر لکھنے اور شامل کرنے کی کوشش ہے،اس میں مزید کہاگیاہے کہ ہندتوا نظریہ اور آرایس ایس سے تعلق رکھنے والے کسی بھی طرح سے آزادی کی جدوجہد سے وابستہ نہیں ہیں،مودی حکومت تاریخ کو مسخ کرنے اور دوبارہ لکھنے کی کوشش کررہی ہے،اور یہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ یا ہندتوا سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو آزادی کی جدوجہد میں ہیرو کے طورپر شامل کرنے کی کوشش کررہی ہے،اس میں دعویٰ کیا گیاہے کہ وزارت اطلاعات ونشریات کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہاگیا ہے کہ سوامی وویکانند اور رمنا مہارشی نے 1857 کی آزادی کی جدوجہد کو متاثر کیا،جبکہ سوامی وویکانند 1863 اور رمنا مہارشی 1879 میں پیداہوئے”اس رپورٹ کو آپ پڑھئے اور غورکیجئے کہ کس طرح حقیقت سے روگردانی کرتے ہوئے تاریخ سے چھیڑ چھاڑ اوراسے تبدیل کیاجارہاہے،کیا   یہ ملک کی بدقسمتی نہیں ہے کہ آج ایسے جھوٹے اور مکار لوگ ملک کے اقتدار پر قابض ہیں،اورملکی وسائل کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے اپنے جھولی بھررہے ہیں اور یہاں کے غریبوں کو کنگال کررہے ہیں۔ان میں اور ایسٹ انڈیا کمپنی والوں میں بہت بڑی مماثلت ہے سب ایک ہیں ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ملک اور غریب تو ہوگا لیکن ترقی یافتہ نہیں ہوسکتا۔

 

سرفراز احمدقاسمی،حیدرآباد

برائے رابطہ: 8099695186

 

 

(مضمون نگار کل ہند معاشرہ بچاؤ تحریک کے جنرل سکریٹری ہیں)

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
تضحیک کے لیے اردو الفاظ کا استعمال: تاریخی اور لسانی جائزہ – ترجمہ :وسیم احمد علیمی
اگلی پوسٹ

یہ بھی پڑھیں

صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:...

جون 1, 2025

لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –...

دسمبر 4, 2024

معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد...

نومبر 30, 2024

دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –...

نومبر 30, 2024

باکو میں موسمیاتی ایجنڈے کا تماشا – مظہر...

نومبر 24, 2024

سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ اور مدارس اسلامیہ...

نومبر 8, 2024

مسلمانوں کے خلاف منفی رویہ: اسباب اور حل...

اکتوبر 3, 2024

وقف کی موجودہ صورت حال اور ہندوستانی حکومت...

اکتوبر 1, 2024

مدارس اسلامیہ کا خود کفیل ہونا مفید یا...

جولائی 31, 2024

نہ سنبھلوگے تو مٹ جاؤگے – مفتی محمد...

جون 2, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (186)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (599)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (202)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (143)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,050)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (19)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (478)
  • گوشہ خواتین و اطفال (100)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,136)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (899)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں