(1)۔
اک چاند ہتھیلی پہ دکھا دیتا ہے
پانی میں بھی وہ آگ لگا دیتا ہے
ساقی ہے عجب مرا پلا کر مۓ وہ
بے ہوش کو با ہوش بنا دیتا ہے
(2)۔
دکھ دیکھ کبھی کسی کا رویا ہی نہیں
الفت کا کبھی بیج وہ بویا ہی نہیں
دکھ آج غریبوں کا ستاتا ہے اسے
اک رات غریب سی جو سویا ہی نہیں
( 3)۔
تیری یادیں ستاتی ہیں اب ہر پل
دل میں طوفاں اٹھاتی ہےاب ہر پل
اب تو مشکل ہوا مرا جینا بھی
بھولی راہیں بلاتی ہیں اب ہر پل
(4)۔
اک چھوٹا سا آشیاں بنانا تھا مجھے
بس اسکے ہی خواب کو سجانا تھا مجھے
اکثر یہ ہوا خلاف میرے ہی چلی
آندھی میں چراغ اک جلانا تھا مجھے
5۔چہرہ تو بہت خوب سجایا وہ مگر
ہر روز نیا روپ دکھایا وہ مگر
فطرت ہی بدل پائی نہ اپنی وہ کبھی
اخلاق کی باتیں تو سنایا وہ مگر
نسیم اشک
ہولڈنگ نمبر10/9گلی نمبر3
جگتدل 24 پرگنہ مغربی بنگال
فون۔9339966398
e-mail : nasimashk78@gmail.com


1 comment
بہت بہت مبارک ہو۔۔۔۔ماشاء اللہ بہت عمدہ تخلیق۔