ہمیں زبان پڑھانے پرنہیں سکھانے پر زور دینا چاہئے: پروفیسرمحمد فاروق انصاری
شعبۂ اردو میں ادب نما کے تحت ’’اردو نصاب کی ضرورت اور این سی ای آر ٹی کی خدمات‘‘موضوع پر آن لائن پروگرام کا انعقاد
میرٹھ 22جون؍2023ء
این سی ای آر ٹی جیسے اداروں کو یہ بھی سوچنا چاہئے کہ کیا ہندوستان کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی ہم اردو نصاب تیار کر سکتے ہیں جو کہ بہت ضروری ہے۔ کچھ لوگوں کو یہ ذمہ داری بھی ملے کہ دوسرے ممالک میں اردو سیکھنے والوں کی بھی مدد ہو سکے۔ ان کے بارے میں الگ سے نصاب کی کتابیں تیار ہوں گی تو دل سے دعا نکلے گی۔یہ الفاظ تھے جرمنی سے معروف ادیب و شاعر عارف نقوی کے جو شعبۂ اردو اور آ یوسا کے ذریعے منعقد ہفتہ واری ادب نما پروگرام میں’’ ’’اردو نصاب کی ضرورت اور این سی ای آر ٹی کی خدمات‘‘ موضوع پر اپنی صدارتی تقریر کے دوران ادا کررہے تھے۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغازنوید خان نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔ہدیہ نعت سیدہ مریم الٰہی نے پیش کیا۔ پروگرام کی سرپرستی صدر شعبۂ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے فرمائی۔مہمان خصوصی کے بطور معروف علمی شخصیت پروفیسر فاروق انصاری(این سی ای آر ٹی) شریک ہوئے اورمقالہ نگار کے بطور خواجہ معین االدین چشتی یونیورسٹی ،لکھنؤ کے ایسو سی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر وصی اعظم انصاری اور معروف نوجوان محقق ڈاکٹر ابراہیم افسرنے شرکت کی جب کہ مقرر کے بطور لکھنؤ سے آیوسا کی صدر پروفیسر ریشما پروین نے شرکت کی۔مہمانوں کا تعارف ڈاکٹر ارشاد سیانوی ،استقبالیہ کلمات ڈاکٹر شاداب علیم، نظامت ڈاکٹر آصف علی اور شکریے کی رسم فرح ناز نے انجام دی۔
پروگرام کا تعارف کراتے ہوئے پروفیسر اسلم جمشید پوری نے کہا کہ جہاں تک اردو کے نصابات کی ضرورت کا سوال ہے تو میں کہہ سکتا ہوں کہ اردو نصاب میں روز گار دینے والی بات بھی شامل رہے۔ آج کے اردو نصاب میں کمپیوٹر بھی شامل ہے۔نئی تعلیمی پالیسی کے مطابق بی۔اے چار سال کا ہوگا۔نئے نصاب کے مطابق اردو کے علاوہ دیگر مضامین بھی پڑھنے ہوں گے۔ این سی ای آ ر ٹی کا نصاب عمدہ اور روز گار دینے والا ہے اور نئی نسل کی تربیت بھی کرتا ہے۔
لکھنؤ سے ڈا کٹر وصی اعظم انصا ری نے کہا کہ بہتر زندگی کا راستہ بہتر کتابوں سے ہو کر گزرتا ہے۔ ہندوستان میں ہر شخص کو تعلیم یافتہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ما ہرین زبان و ادب اردو نصاب کی کتابوں کو ترتیب دیتے ہیں۔1877ء میں درسی کتابوں کو ترتیب دینے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔ میرٹھ میں اسما عیل میرٹھی نے بچوں کی کتاب کو ترتیب دینے کے لیے10سال کا عرصہ وقف کردیا۔ این سی ای آ ر ٹی ہندوستان کا واحد ادارہ ہے جو خود مختار ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ زیادہ تر طالب علم این سی ای آ ر ٹی کی کتابوں کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔اردو، ہندی، انگریزی اور سنسکرت وغیرہ زبانوں میں کتابیں اس انداز سے ترتیب دی جاتی ہیں کہ ان کو دیگر ممالک میں بھی دلچسپی سے پڑھا جاتا ہے۔ ان کتابوں میں سوال و جواب اور محاوروں کا بھی خوب استعمال کیا جاتا ہے تا کہ سوالوں کے ذریعے وہ اپنی بات کو ہر جگہ رکھ سکیں۔
ڈاکٹر ابرا ہیم افسر نے اپنے مقا لے میں کہا کہ اردو زبان کے نصاب کے بارے میں لوگوں کو بیدار کرنا ہوگا۔ اس ضمن میں میرا یہ ماننا ہے کہ ثانوی تعلیم سے وابستہ ماہرین کو بھی نصاب کی تیاری میں شامل کیا جائے۔ ایسا کر نے سے حکومت کو یہ فائدہ ہوگا کہ استاد کو ثانوی درجات میں زبان کی تدریس کے وقت جن دشواریوں سے روبرو ہونا پڑتا ہے ان پریشانیوں کا مداوا وقت رہتے ہوجائے گا۔
مہمان خصوصی پروفیسر فاروق انصاری نے کہا کہ این سی ای آر ٹی در سی کتابوں کے حوالے سے اسکول و کالجز کے لیے وا حد ایسا ادارہ ہے جو قوم کے بچوں کو عمدہ تعلیم کا نظم کرتا ہے۔ دو سالہ، چار سالہ بی ۔ایڈ کورسیز کے لیے طلبا کو تربیت دی جاتی ہے۔ قومی درسیات کی تیاری کے لیے عمدہ نصابی کتابیں، دیگر درسی کتابیں اور مواد تیار کیا جاتا ہے۔ نصاب اور درسیات دونوں کی اہمیت اپنی جگہ ہے۔ درسیات کے بعد نصاب تیار کرنے میں کئی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ نصاب میں سب کی ضروریات کا خیال رکھا جاتا ہے۔اگر ہم اردو زبان کی بات کریں تو کچھ نما ئندہ چیزوں کے ذریعے ہم زبان سکھاتے ہیں۔تمام تقاضوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے کتابوں کو تیار کرتے ہیں۔ افسا نوں، لوک گیتوں، تاریخ آزادی،امیر خسرو، گوتم بدھ امبیڈ کر کے ساتھ ساتھ ذرائع ابلاغ پر بھی کتابیں تیار کی جاتی ہیں۔ایک سے پانچ تک ہندی ،اردو،انگریزی تینوں زبانوں میں کتابیں موجود ہیں۔ سنسکرت میں ہم صرف زبان پڑھانے کی کتابیں تیار کرتے ہیں۔ ہمیں زبان پڑھانے پر زور دینا چاہئے، زبان سکھانے پر نہیں۔
آیوسا کی صدر پروفیسر ریشما پروین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ساتھ ہی سوال کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے طلبا کو اردو پڑھنے کا شوق تو ہے لیکن وہ کیسے سیکھیں اس کے بارے میں مجھے جاننا ہے، ایک اچھے اسٹاف کی کیا اچھی خوبیاں ہوسکتی ہیں اور جو لوگ عمرمیں ہم سے بھی بڑے ہوتے ہیں تو ہم انہیں کیسے جوڑ کر رکھیں۔
پرو گرام سے،ڈاکٹر الکا وششٹھ ، فیضان ظفر،روضہ خان، محمد شمشاد اور سعید احمد سہارنپوری جڑے رہے۔
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

