غالب اکیڈمی نئی دہلی میں رباب فاؤنڈیشن بہ اشتراک سخن آباد کے زیر اہتمام ’محفل رباب سخن‘ کا شان دار انعقاد عمل میں آیا۔ اس خوبصورت تقریب میں ’محفل احباب‘ کے تحت رباب فاؤنڈیشن سے وابستہ ملک بھر کے طلبہ و طالبات نے رنگا رنگ ثقافتی مظاہرے کیے۔ اس موقع پر رباب فاؤنڈیشن کے تحت اردو لرننگ کلاسز لیول ون، فوق ابتدائی اردو کلاسز اور شاعری آموزش کلاسز کے فارغ طلبہ و طالبات کو اسناد سے نوازا گیا۔ محفل کا تیسرا دلکش سلسلہ ڈاکیومنٹری فلم کی پیش کش کا تھا۔ یہ فلم امریکہ، یورپ، خلیجی ممالک اور ہندوستان کے مختلف شہروں اور مختلف پیشوں سے وابستہ رباب فاؤنڈیشن کلاسز کے طلبہ و طالبات کے تاثرات پر مشتمل تھی کہ انھوں نے کس طرح فوزیہ رباب سے آن لائن اردو لکھنا، پڑھنا اور بولنا سیکھا ۔
اس یادگار بزم میں رباب فاؤنڈیشن اور سخن آباد کے زیر اہتمام ایک پر وقار مشاعرے کا انعقاد ہوا۔ واضح رہے کہ’ سخن آباد نژاد نو‘ کے ادیب و شعرا کی ابھرتی ہوئی ادبی اور ثقافتی تنظیم ہے۔
صدر محفل پروفیسر خالد محمود نے کہا کہ یہ دونوں تنظیمیں اردو کے روشن مستقبل کی دلیل ہیں۔ ایک طرف رباب فاؤنڈیشن اردو سے نا آشنا شیدائیوں کو اردو سکھانے کا فریضہ انجام دے رہا ہے تو دوسری طرف سخن آباد نوجوانوں کے اندر شعر و ادب کا نفیس ذوق پروان چڑھانے میں سرگرم عمل ہے۔ مہمان خصوصی پروفیسر شہپر رسول نے کہا دنیا بھر میں اردو تعلیم کو جس سلیقے کے ساتھ رباب فاؤنڈیشن فروغ دے رہا ہے اور سخن آباد جس امنگ کے ساتھ ادبی محفلیں آراستہ کر رہا ہے، یہ نہایت لائق تحسین ہے۔ مہمان اعزازی پروفیسر تسنیم فاطمہ نے کہا کہ نئ پود میں اردو کی محبت اور اس کی خوشبو پھیلانا رباب فاؤنڈیشن اور سخن آباد کا نہایت اعلیٰ و ارفع مقصد ہے۔ رباب فاؤنڈیشن کی بانی صدر فوزیہ رباب نے استقبالیہ کلمات میں کہا کہ ہمارا مقصد دنیا بھر میں اور بالخصوص ہندستان کے ایک ایک شہری کو اردو زبان سے آشنا کرنا ہے۔مشاعرے کی نظامت کے فرائض معین شاداب نے انجام دیے ۔اس موقع پر مشتاق احمد نوری اور پروفیسر خالد علوی نے بحیثیت مہمان شریک ہو کر بزم کی رونق میں چار چاند لگا دیا ۔
مشاعرے میں پروفیسر خالد محمود، پروفیسر شہپر رسول، مشتاق احمد نوری، جاوید مشیری، فہیم جوگاپوری، سالم سلیم، علینا عترت، معین شاداب، فوزیہ رباب، خالد مبشر، ناصر امروہوی، انس فیضی، سفیر صدیقی، عامر ندوی، آصف بلال، سفر نقوی، ناصر مصباحی، عرفان غازی، نوید یوسف، یوگیندر دت تیاگی، شویتا گپتا نور، گلفام علی، محمد رضا اور پرویز شیخ نے اپنے دلکش کلام سے سامعین کو محظوظ کیا ۔
اس موقع پر فوزیہ رباب، خالد مبشر، نعمان مفتی، آصف بلال، نوید یوسف، سید تجمل اسلام اور زاہد اقبال نے گلدستے اور مومنٹو سے شعرا اور مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا۔
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

