رفتگاں کا سراغ – پروفیسر خالد جاوید
(۱) مارکیز کے شہرۂ آفاق ناول ’’تنہائی کے سو سال‘‘ میں ایک شہر کے باشندوں پر ایک عجیب و غریب وبا نازل ہوتی ہے اور وہ یہ کہ لوگ اشیا اور اشخاص کے نام بھول جاتے ہیں۔ فراموشی کی ایسی وبا سے بچنے کے لیے یہ ترکیب نکالی جاتی ہے کہ انسانوں اور جانوروں کے گلے میں تختی ڈال دی جاتی ہے۔ مثلاً گائے کے گلے میں یہ لکھ کر تختی ڈال دی جاتی ہے کہ ’’یہ گائے ہے۔ یہ دودھ دیتی ہے۔ اسے صبح اور شام دوہنا چاہیے‘‘ وغیرہ وغیرہ۔
ہماراموجودہ ادبی معاشرہ بھی اس صورت حال سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔ ہم اپنے ماضی بلکہ حال کو بھی بھولتے جانے کے مرض میں گرفتار ہیں۔
سرورالہدیٰ کی اس کتاب کو میں ایسی نظر میں دیکھنے کے لیے مجبور ہوں کہ انھوں نے اسے لکھ کر ہماری فراموشی کے خلاف ایک کاری ضرب لگانے کی کوشش کی ہے۔ وہ ہمیں ایک بھولا ہوا سبق یاد دلاتے ہیں کیوں کہ آج کل ہم اپنے سبق بہت جلد بھول جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری مصروفیات روز بروز کاروباری ہوتی جارہی ہیں اور عشق اور جنون کا عنصر ہماری اجتماعی زندگی سے تقریباً غائب ہوتا جارہا ہے۔ اس لیے غالب کے اس شعر کی معنویت اب ہمارے لیے محض رسمی سی ہوکررہ گئی ہے کہ مکتبِ عشق میں دستور نرالا دیکھا/ اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا۔ اب ہم سب ذہنی طور پر لمبی چھٹی پر ہیں کیوں کہ اپنے ہم عصر ادبی معاشرے سے ہمارا معاملہ عشق کا نہیں ہے۔ مگر اس کتاب کو دیکھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ سرورالہدیٰ نے اس عشق یا جنون کا دامن آج کے زمانے میں بھی مضبوطی سے تھام رکھا ہے۔ ’’رفتگاں کا سراغ‘‘ کو ان کے اسی ذہنی رویّے کے سراغ کے طور پر پڑھا جانا چاہیے۔
(۲) کتاب کے پیش لفظ میں سرورالہدیٰ نے بالکل ٹھیک کہا ہے کہ رفتگاں کی تلاش کا عمل ایک خاص تہذیب کا متقاضی ہے۔ اسے اداسی کی تہذیب بھی کہا جاسکتا ہے۔ وہ آگے یہ معنی خیز جملہ بھی لکھتے ہیں کہ رفتگاں کے ساتھ ذہنی سفر کرنا، حال سے بے تعلق ہوجانا نہیں ہے۔ اس کتاب کے مضامین حال کے دائرۂ کار میں رہ کر ہی لکھے گئے۔ یہ حال اس معنی میں ماضی بنتا جاتا تھا کہ اس پر رخصت ہونے والی شخصیات کا سایہ بہت گہرا تھا۔
اس کتاب میں جن شخصیات کا احاطہ کیا گیا ہے ان کا تعلق ماضی بعید سے نہ ہوکر ایک طرح سے ماضی قریب سے زیادہ کہا جاسکتا ہے۔ Dementia کے مرض کے حوالے سے ماہرین نفسیات کا خیال ہے کہ اس میں آدمی ماضی بعید کو تو یاد رکھتا ہے مگر ماضی قریب یا حال کو آسانی سے بھول جاتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ ہم عصریت کے المیے کو اس مثال کی روشنی میں بڑی آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے۔ قدیم زمانے یا کلاسیکل ادب کی خدمات کو یاد رکھنا تو ہماری درسی اور مکتبی ضرورتوں میں سے ایک ہے مگر Contemporary یعنی ہم عصریت سے آنکھیں چرانا بھی معلوم نہیں کیوں ہماری مجبوری بن گئی ہے، اس کا مجھے علم نہیں۔
اس لیے میں سرورالہدیٰ کی اس اخلاقی جرأت کی داد دیتا ہوں کہ انھوں نے عافیت کوشی سے کام نہیں لیا اور ہم عصر یا ماضی قریب کی ادبی اور علمی شخصیات پر بڑے کھلے دل کے ساتھ لکھا۔ یہ رویہ ہمارے یہاں عام نہیں ہے سوائے اس کے کہ جانے والی شخصیت پر ایک آدھ کالم، تعزیتی نوٹ یا اس کی کسی کتاب پر تبصرہ وغیرہ شائع ہوجاتا ہے یا پھر ادبی اداروں میں رسمی قسم کی تعزیتی نشستوں وغیرہ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ سرورالہدیٰ کا معاملہ اس سے بالکل الگ ہے۔ یہاں نہ کوئی رسم ادا کی جارہی ہے نہ کسی نمائش و نمود کی کوشش نظر آتی ہے۔ اس کتاب میں رخصت ہونے والی شخصیات کا صحیح معنی میں حق ادا کیا گیا ہے، کوئی رسم ادا نہیں کی گئی ہے۔
(۳) ان مضامین کو محض علمی و ادبی مضامین نہ کہہ کر اگر سرورالہدیٰ صاحب کی یادداشتیں Memoirs بھی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ اور اگر خاکے کہا جائے تو وہ بھی غیرمناسب نہ ہوگا۔ ظاہر ہے کہ خاکے بھی بغیر اپنی یادداشتوں اور ذاتی تجربوں کے لکھے نہیں جاسکتے۔ اس طرح یہ مضامین اس طور پر بھی مجھے اہم محسوس ہوتے ہیں کہ اصناف کی حدبندیوں کو توڑتے ہیں یا یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ مختلف اصناف کے درمیان ایک وحدت بھی قائم کرتے ہیں۔ مثلاً نثار احمد فاروقی، مخمور سعیدی، شہریار، لطف الرحمان، عابد سہیل، زیبر رضوی، بلراج مین را، اسلم پرویز، کیدارناتھ سنگھ، نامور سنگھ اور شفیع جاوید پر تحریر کردہ مضامین اسی زمرے میں آتے ہیں۔ یوں دیکھیں تو اس کتاب کا ہر مضمون ہر شخصیت کی علمی و ادبی خصوصیات بیان کرنے کے ساتھ محض ایک تاثراتی مضمون کی حد تک ہی نہیں محدود ہوجاتا ہے بلکہ ان کے فن کے حوالے سے ایک تنقیدی ڈسکورس بھی پیش کرتا ہے۔ ذاتی تعلق یا Personal Touch کے ساتھ یہ ڈسپلن قائم رکھنا ایک مشکل کام تھا مگر سرورالہدیٰ کی اپنی تنقیدی اور تخلیقی صلاحیت اور ذکاوت نے اس مشکل مرحلے کو آسانی سے سر کرلیا اور معروضیت کے ساتھ موضوعیت کا ایک متوازن امتزاج پیش کرکے ہمیں اس قسم کی عمدہ تحریروں کا ایک ماڈل فراہم کیا ہے۔ مثلاً آصف فرخی پر ’کرشن چندر کے انتظار میں‘ کے عنوان سے جو مضمون لکھا گیا ہے اس کی حیثیت محض ایک علمی مضمون کی نہ ہوکر آصف فرخی کی تخلیقی اور تنقیدی شخصیت کے ایک عمدہ تجزیے کی بھی ہے۔ میں نے آصف فرخی پر لکھے گئے کسی مضمون میں اس قسم کی ہمہ جہت بصیرت کی کارکردگی نہیں دیکھی۔ یہ مضمون نہ صرف آصف فرخی کی شخصیت اور ان کی تنقیدی صلاحیت پر بلکہ کرشن چندر اور سموئل بیکٹ کے فن پر ایک معنی خیز تبصرے کی بھی ہے۔اس مضمون میں سرورالہدیٰ نے آصف فرخی کے تخلیقی ذہن کی ہر جہت کو اس خوبی کے ساتھ دریافت کیا ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔
اسی طرح شہریار پر جو مضمون ہے اس میں ذاتی تعلق ہونے کے باوجود بے حد معروضیت ہے۔ شہریار کی شاعری کا محاسبہ جدید غزل کی روایت اور پس منظر میں جس خوبی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے وہ میں نے شہریار پر تحریر کردہ کسی اور مضمون میں نہیں دیکھا۔ سرورالہدیٰ کی زبان تنقیدی، تحقیقی اور علمی نوعیت کی ہونے کے باجود کچھ اور عناصر بھی اپنے اندر جذب کیے ہوئے ہے۔ یہ عناصر ان کی تنقید کو عام مروجہ تنقید کے سانچوں سے ماورا کردیتے ہیں۔ یہ عناصر ان کی دردمندی، خلوص اور انصاف پسندی سے تعبیر کیے جاسکتے ہیں، اگرچہ ان کا تجزیہ آسانی سے نہیں کیا جاسکتا۔
کتاب کے پیش لفظ میں وہ ایک بے حد اہم اور عمدہ بات کہتے ہیں ’’رفتگاں کا حوالہ تحریریں ہی نہیں، بلکہ شخصیت بھی ہے۔ شخصیت کا سراغ بھی تحریر سے ملتا ہے مگر تحریر جس شخصیت سے روبرو کراتی ہے وہ اکثر اس شخصیت سے مختلف ہوتی ہے جسے شخصی طور پر دنیا جانتی ہے۔ شخصیات کے غیاب کی تلافی تحریر سے ہوجاتی ہے لیکن تحریر شخصیت کا بدل نہیں ہوسکتی۔‘‘
میرا خیال ہے کہ اس کتاب کو پڑھنے سے پہلے سرورالہدیٰ کے اس اہم اور بے حد بصیرت آمیز پیش کو پڑھنا بہت ضروری ہے۔ پیش لفظ لکھے بھی اسی لیے جاتے ہیں کہ انھیں کتاب شروع کرنے سے پہلے پڑھا جائے مگر فی زمانہ پیش لفط کو سنجیدگی سے پڑھنے کا چلن بہت کم ہوگیا ہے۔ اس میں ہماری سہولت اور عجلت پسندی کا دخل نہیں تو پھر اور کیا وجہ ہے۔
(۴) مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ سرورالہدیٰ کی نسل میں سرورالہدیٰ جیسے علمی، تنقیدی اور تحقیقی ذہانت رکھنے والے لوگ بہت کم ہوں گے۔ اس عمر میں ایسی علم دوستی اور علمی انہماک اور لگن میں نے کم از کم نہیں دیکھی۔ لیکن اس سے بھی بڑی بات یہ ہے کہ انھوں نے اپنے ماضی قریب کو فراموش نہیں کیا اور ہر اس شخص کو یاد رکھا جس سے ان کا کوئی بھی علمی یا ذاتی تعلق رہا تھا۔ جانے والوں کو کسی چیز کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ ہم زندہ لوگ ہیں جن کی یہ اخلاقی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ کھوئے ہوؤں کی جستجو کرتے رہیں۔ کھوئے ہوئے لوگ ان منزلوں سے اور ان درجات سے ماورا ہوچکے ہیں۔
یہاں یہ موقع نہیں ہے کہ اس کتاب کے ہرمضمون پر گفتگو کی جائے مگر حقیقت یہی ہے کہ کتاب کا ہر مضمون اس بات کا متقاضی ہے کہ اس پر ایک مکالمہ قائم ہو۔ ’رفتگاں کا سراغ‘ ایک بے حد اہم کتاب ہے جو ان خصوصیات کے علاوہ جن کا ذکر کیا گیا، اس لیے بھی پڑھی جانی چاہیے۔ اس میں گذشتہ تیس پینتیس سال کا ادبی منظرنامہ اپنے تمام لوازمات کے ساتھ پوری آب و تاب کے ساتھ روشن ہے۔ یہ کتاب جیسا کہ عرض کیا گیا ہماری فراموشی کے خلاف لکھی گئی ہے اور اس امر کی پوری طرح حق دار ہے کہ اسے فراموش نہ کیا جائے بلکہ ایک رول ماڈل کے طور پر یاد رکھا جائے۔ فراموشی کے خلاف لکھتے ہوئے میلان کنڈیرا نے بھی ایک بہت اہم نکتے کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ماضی بعید از بعید از بعید کو یاد کرکے Revive کرنا ایک طرح سے فاشزم کو بھی راہ دے سکتا ہے۔ جس کا نتیجہ Nation State کے روپ میں ایک آمرانہ رویے کی شکل میں سامنے آتاہے۔ اس لیے ہری ونش رائے بچن کی سوانح عمری کا عنوان مجھے بہت معنی خیز نظر آتا ہے ’’کیا بھولوں کیا یاد کروں‘‘۔ کچھ یاد رکھنے کے لیے کچھ بھولنا بھی ضروری ہے۔ سرورالہدیٰ کی یہ کتاب اس حوالے سے بہت اہم اور انوکھی ہے کہ انھیں اچھی طرح معلوم ہے کہ انھیں کیا یاد رکھنا ہے اور کیا نہیں۔ اچھا ہے کہ وہ ’رفتگاں کا سراغ‘ میں ماضی قریب تک ہی اپنے حافظے اور اپنے حواس و اعصاب کو پہنچا کر روک دیتے ہیں اور کھوئے ہوؤں کی جستجو میں ماضی بعید از بعید از بعید تک نہیں جاتے۔ یا یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ادبی منظرنامے کی Meta History تک نہیں جاتے، ورنہ ادبی فاشزم کا خطرہ درپیش تھا۔
یہ وہ باتیں ہیںجن پر ہمیں غور کرنا چاہیے اور یہ بھی کہ اس کتاب کا کوئی تعلق ہمارے زمانے کی عامیانہ تنقیدی روش سے نہیں ہے۔ اس کے باوجود یہ کتاب ہمارے زمانے کی ہے۔ ہمارے عہد کی ایک زندہ دستاویز ہے، جس کی جتنی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔ میں سرورالہدیٰ صاحب کی خدمت میں مبارک باد پیش کرتا ہوں اور صدر شعبہ پروفیسر شہزاد انجم صاحب کو بھی مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ بغیر ان کی کوشش اور رہنمائی کے یہ مذاکرہ ممکن نہ تھا۔ اس مذاکرے کے منعقد کرنے پر میں شہزاد صاحب کو دل کی گہرائیوں سے ایک بار پھر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

