نئی نسل کی ذہنی وفکری تربیت میں شمیم حنفی کا نمایاں کردار ۔ڈاکٹر تابش مہدی
لکھنؤ ۲۲جنوری ۲۰۲۲۔پروفیسر شمیم حنفی ہمارے عہد کے نام ور اور صاحب طرز ناقد اور ادیب تھے۔ انھوں نے اپنی تنقید اور ادب فہمی سے نئی نسل کی غیر معمولی ذہنی و فکری تربیت کی ہے۔ ان خیالات کا اظہار مشہور شاعر اور نقاد ڈ اکٹر تابش مہدی نے قلم ایجوکیشنل اینڈ ویلفئر سوسائٹی ۔لکھنؤ کے زیر اہتمام قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے مالی تعاون سے شمیم حنفی کی ادبی خدمات کے موضوع پر منعقد سمینار میں صدارتی خطاب کے دوران کیا ۔وہ یہاں حضرت گنج لکھنؤ کے آئی سی ٹی ای سینٹر میں خطاب کررہے تھے ۔سمینار کا آغاز محمد سعید اختر نے تلاوت کلام پاک سے کیا ۔سوسائٹی کے جنرل سکریٹری جناب ضرغام الدین نے مہمانوں کا خیر مقدم کیا ۔اس موقع پر جناب شفاعت حسین، جناب محمد انیس بطور مہمان اعزازی شریک ہوئے ۔ڈاکٹر عمیر منظر نے نظامت کا فریضہ انجام دیا ۔
سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے ڈاکٹر تابش مہدی نے کہا کہ کسی محدود اور غیر وسیع فن پارے پر اظہار خیال شمیم بالعموم اپنے مزاج کے منافی تصور کرتے تھے۔ پروفیسر آل احمد سرور کی طرح شمیم حنفی بھی اس بات کے قائل تھے کہ ناقد سب سے پہلے خود ایک سنجیدہ قاری ہے۔ اسے جو چیز اچھی لگتی ہے، اسی پر اپنی پسندیدگی کا اظہار کرتا ہے۔ ڈاکٹر تابش مہدی نے صدارتی خطاب میں کہا کہ پروفیسر شمیم حنفی ناقد کے ساتھ ساتھ کہانی کار اور شاعر بھی تھے۔ ان کی گفتگو سے ان کی تخلیق کاری کا احساس ہوتا تھا۔پروفیسر شمیم حنفی نہایت شگفتہ مزاج اور خوش طبع انسان تھے ۔ قومی و عالمی حالات پر ان کی گہری نگاہ تھی ۔ جب بھی کسی خبر کو اپنی گفتگو کا موضوع بناتے تھے ، تو ایسا لگتا تھا ، سامنے والے کو کوئی خاص تحفہ دینا چاہتے ہیں۔
کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں پروفیسر کے عہدہ پر فائز پروفیسر سراج اجملی نے کہا کہ پروفیسر شمیم حنفی ہمارے ادب میں ایک ہمہ جہت عالم اور ہمہ صفت موصوف ادیب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی ہمہ جہت شخصیت میں اگرچہ غالب رنگ تنقید نگار کا نظر آتا ہے لیکن تہذیبوں ، فنون لطیفہ، اور ہندوستانی ادبیات کے نہایت سنجیدہ طالب علم کی حیثیت سے ان کا پایہ خاصا بلند ہے اور اس پرمستزاد ان کی تخلیقی شخصیت ، جس کا اظہار شاعر اور ڈراما نگار کی حیثیت سے بہت اہتمام کے ساتھ انھوں نے کیا۔
پروفیسر سراج اجملی نے کہا کہ شمیم حنفی کی تنقیدی تحریروں میں انفرادیت کا سبب ان کے مطالعے کی وسعت ، مشرق و مغرب کے علمی سرچشموں سے کما حقہ اکتساب فیض اور ہندوستان کی دوسری زبانوں کے ادب کی سمت و رفتار سے غیر معمولی واقفیت کے ساتھ ساتھ فنون لطیفہ بطور خاص مصوری و موسیقی سے ان کا شغف تھا۔
پروفیسر سراج اجملی نے کہا کہ کم و بیش دودرجن کتابوں میں جدیدیت کی فلسفیانہ اساس اور نئی شعری روایت جیسی فلسفیانہ مباحث سے آراستہ کتابیں ہیں تو اقبال کا حرف تمنا اور اقبال اور عصر حاضر کا خزانہ، میراجی اور ان کا نگار خانہ، منٹو حقیقت سے افسانے تک، بازار میں نیند اور آخری پہر کی دستک جیسی ہمہ رنگ تنقیدی اور تخلیقی کتابیں ۔ کلیدی خطبہ میں پروفیسر سراج اجملی نے اس بات پر زور دیا کہ پروفیسر شمیم حنفی کی تحریریں انھیں ایک متوازن اور غیر معمولی دانش ورانہ کمالات کا حامل قلم کار ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں۔
ڈ اکٹر عمیر منظر نے مطالعہ اقبال کے حوالے سے شمیم حنفی کی خدمات کا ذکر کیااور کہا کہ شمیم حنفی نے اقبال کی فکر اور ان کے تہذیبی سروکار کو بطور خاص موضوع بنایا ہے ۔پروفیسر شمیم حنفی نے اقبال کی غزل کے مطالعہ کو ایک نئی جہت دی ہے ۔اقبال کی لفظیات اور غزلوں میں ان کی دروں بینی کو خاص طور پر پیش کیاہے ۔عمیر منظر نے کہا کہ پروفیسر شمیم حنفی نے اپنے مطالعہ میں اس بات پر خاص طور سے زور دیا ہے کہ اقبال کی شاعری میں بہالے جانے کی جو طاقت ہے وہ صرف دنیا کی بڑی شاعری میں پائی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ شمیم حنفی نے اقبال کے پرشکوہ لہجے ،جلال اور ان کی اخلاقی گہرائی کا تذکرہ کرتے ہوئے اس بات کی نشاندہی خاص طور پر کی ہے کہ اردو کی شعری روایت میں اس طرح کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی ہے ۔یہی نہیں بلکہ شمیم حنفی کا یہ بھی خیال ہے کہ زمان و مکان کو اقبال نے جس تخلیقی تجربے سے ہم آہنگ کیا ہے اس کی اس قدر منظم روایت بھی ہمارے یہاں بہت کم دکھائی دیتی ہے ۔
جناب اویس سنبھلی نے شمیم حنفی کی کتاب یہ کس کا خواب تماشا ہے کے حوالے سے ان کی صحافتی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس کتاب میں فرد سے لے کر سماج تک نہ جانے کتنی چیزیں ہیں جو نظر آتی ہے ۔ہندستان کے بھر ے پرے سماج کی طرح اردو کے علاوہ دیگر ادیبوں کا بھی ذکر ہے اور ساتھ ہی مختلف النوع دلچسیاں بھی مثلاًکرکٹ کپل دیواور پروفیسر دیوراج،کتابوں کا کمبھ میلا،مومن کہ یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق ۔اویس سنبھلی نے کہا کہ شمیم حنفی کے کالموں میںعلم وفن کی ایک دنیا آباد ہے اور ہر کالم ایک نئے جہان معنی کی سیرکراتا ہے ۔
شمیم حنفی کی ڈرامہ نگاری پر مقالہ پڑھتے ہوئے ڈاکٹر منتظر قائمی نے کہا کہ پروفیسرشمیم حنفی اگر محض ڈرامہ نگاری کا ترکش لئے ادب کے میدان میں اترتے تب بھی میدان فتح کرنے کی بھرپورقوت اور صلاحیت رکھتے تھے۔انھوں نے کہا کہ شمیم حنفی نے ریڈیو ڈرامے کی فنی اور تکنیکی باریکیوں کو بہت ہی سنجیدگی اور ہنر مندی سے اپنی کہانیوں میں برتا ہے ۔کرداروں کے جملے ایسے تراشے ہوئے اوراستعاراتی ہیں کہ سننے والا داد دئے بنا نہیں رہ سکتا۔
ڈ اکٹر محضر رضانے شمیم حنفی کی کالم نگاری کے حوالے سے مقالہ پڑھتے ہوئے کہا کہ شمیم حنفی کی پہلی شناخت اگر چہ ناقد کی حیثیت سے ہے لیکن شاعری، ڈرامہ ، خاکہ ، افسانہ اور کالم نگاری کے میدان میں بھی ان کی تخلیقات اہل نظر سے داد وصول کرتی ہیں۔ ڈاکٹر محضر رضا کے بقول شمیم حنفی کے کالمو ںپر نہ صرف ادبی کالموں کا عنوان چسپاں کیا جاسکتا ہے اور نہ سیاسی۔ گرد و پیش رونما ہونے والے واقعات سے وہ اسی طرح متاثر ہوتے ہیں جس طرح کوئی بھی دوسرا شخص، لیکن اس کا اظہار اتنی بصیرت اور تخلیقیت کے ساتھ بہت کم ادیبوں کے یہاں نظر آتا ہے
ڈ اکٹر شاہ نواز فیاض نے فکشن نقادر کے طور پر شمیم حنفی کی خدمات کا ذکر کیا اور کہا کہ عصر حاضر میں جنھوں نے فکشن مطالعات کو خاص موضوع بنایا اور اس حوالے سے متعدد مثالی کارنامے انجام دیے ان میں شمیم حنفی کا شمار ہوتا ہے ۔اس ضمن میں ’کہانی کے پانچ رنگ‘ ، ’منٹو: حقیقت سے افسانے تک‘، ’قاری سے مکالمہ‘، ’خیال کی مسافت‘ اہم کتابیں ہیں ۔
جناب تیمور احمد خاں نے پروفیسر شمیم حنفی کا طریقۂ نقد اور تخلیقی حسیت کے موضوع پر مقالہ پڑھتے ہوئے کہا کہ شمیم حنفی کی ذاتی دلچسپی فن پارے میں انسانی تجربات اور محسوسات کو تلاش کرنے میں ہے۔یہ اس لئے کہ وہ زندگی کو ایک کل کے طور پر دیکھنے کے روادار ہیں۔اور اسی سبب وہ انفرادی شعور کو اجتماعی شعور کا ہی حصہ سمجھتے ہیں۔ یہ وہ حقائق ہیں جو ان کی چند ہی تحریروں کے مطالعے سے واضح طور پر محسوس کئے جاسکتے ہیں۔
ابراہیم اعظمی نے شمیم حنفی کی علمی و ادبی بصیرت ،ایک جائزہ کے موضوع پر مقالہ پڑھتے ہوئے کہا کہ شمیم حنفی ہمارے عہد کے ممتاز دانشور ،تخلیقی فن کار ،ہندوستانی تہذیب کے ایسے رمز شناش تھے جنہیں آرٹ اور کلچر سے بے پناہ لگاؤ تھا ۔جن کی دنیا لا محدود تھی ۔ابراہیم اعظمی نے کہا کہ شمیم حنفی کا خیال تھا کہ فن پارہ صرف نئی ہیئتوں اور فیشن زدگی سے بڑا نہیں ہوتابلکہ اس کے لیے اصل چیز زندگی کی سچی عکاسی ہے۔
جناب محمد سعید اختر نے شمیم حنفی کی تصنیفات اور ان کی سوانح پر روشنی ڈالی۔انھوں نے کہا کہ شمیم حنفی کی شخصیت نہ صرف بہت متنوع ہے بلکہ ان کی تصنیفات و تالیفات کے موضوعات بھی بے حد وسیع ہیں ۔
|
ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

