سید محمد اشرف کا ناول” نمبر دار کا نیلا” ایک مطالعہ – کامران شہزاد
بیسویں صدی کے آخری دہائی کےفکشن نگاروں میں معتبر نام ‘ سید محمد اشرف کا ہے۔جنھوں نے ابتدا ،افسانہ نگاری سے کی ۔ ” ڈار سے بچھڑے” اور بادِ صبا کا انتظار”کے عنوان سے ا فسانوی مجموعے منظر عام پر آئے تو ادبی حلقوں میں اپنی علامتی تکنیک اور جانوروں کی زبانی استعاراتی پیرائے کے سبب اپنی شناخت قائم کر چکے تھے ۔ دو افسانوی مجموعوں کے بعد ناول میں طبع آزمائی کی۔ ان کا پہلا ناول نمبر دار کا نیلا "کے عنوان سےشایع ہو ،جس کی پہلی اشاعت 1997ء میں ہندوستا ن سے ہوئی اور پاکستان میں یہ ناول آج پبلی کیشنز کراچی نے 1999ء میں چھاپا۔
ناول نگار نے اپنے مختصر کینوس پر محیط ناول میں ہندوستان کے دیہی کلچر میں جاگیردار طبقے کی اقتدار کی ہوس اور اس کی بالادستی کو قائم رکھنے کے لیے خود غرضی اور سفاکی کے جذبے کو دکھایا ہے ۔ مادیت پرست معاشرے میں مقتدر طبقہ سیاست کوچمکنانے کے لیے سادہ لوح افراد کو خود ہی اغوا کر کے تھانے میں اپنے سیاسی حریف کے خلاف رپورٹ کرواتے ہیں ۔ناول کی اہمیت اس لیے بھی مسلم ہے کہ ناول نگار نے جانور ‘ نیلا” کی بطور کردار اس طرح ٹرٹیمنٹ کی ہے کہ اس میں بھی اپنے مالک ” ٹھاکر اودل سنگھ” جیسی جبلی خصلتیں پائی جاتی ہیں ۔
ناول کی کہانی ٹھاکر اودل سنگھ اور نیلا کے گرد گھومتی ہے ۔ ناول کا آغاز میں گاؤں کے لوگ نیلا کو پکڑنے کے لیے ارہر کھیت کے گرد گھیرا تنگ کرتے ہیں لیکن نیلا آبادی کی طرف بھاگ جاتا ہے ۔ نیلا ایک بیل کا بچہ ہے ، جس کو ٹھاکر پالتا ہے ۔ اس کو چارہ ،بادام اور لڈو کھلاتا ہے جس سے نیلے کی صحت اچھی ہو جاتی ہے لیکن وہ گاؤں کےلوگوں کو مخلتلف انداز میں پریشان کرنا شروع کر دیتا ہے۔شروع شروع میں لوگوں نے آ کر شکایت بھی کی لیکن ٹھاکر اپنی مکاری اور عیاری سے نیلے کو قصور وار نہیں ٹھہراتا تھا ۔ دوسری طرف نیلے نے اب قصبے کے لوگوں کے لیے خطرہ بنتا جا رہا تھا۔جس کے سبب انتظامیہ متحرک ہوئی لیکن ٹھاکر کے بااثر ہونے کے باعث معاملہ دبا دیا گیا اور نیلے کو ارہر کی فصل میں چھپا دیا۔اسی اثنا میں نیلے کو خطرہ محسوس ہوتا ہے ۔لوگوں کو زخمی کرتا ہوا وہ ٹھاکر کی حویلی جا پہنچتا ہے جہاں اس کی وحشت اور خونحواری کم نہیں ہوئی ۔ٹھاکر نیلے کو پکڑنے کی کوشش کرتا ہےلیکن نیلا اس کوبھی لہولہان کر دیتاہے ۔
ناول کا اندازِ بیان سادہ ہے ۔ہر کردار اپنے علاقائی زبان میں مکالمے بیان کر رہا ہے ۔ چونکہ ناول دیہی پسِ منظر میں لکھا گیا ہے اس لیے ناول نگار نے بڑی چابکدستی سے ٹھاکر کے کردار تخلیق کیا ہے ۔جو آغاز سے لے کر آخر تک اپنی مفاد پرستی کو ہی ہر معا ملے میں ترجیع دیتاہے اور اسی خود غرضی کو قائم رکھتے جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے ۔ ناول کی زبان میں ایسے کردار کو جامد ( (FLAT کہتے ہیں ۔نیلے کا کردار جو کہ علامتی کردار ہے اور تمام کردار اسی کے گرد گھومتے نظر آتے ہیں ۔ وہ متحرک کردار ہے کیونکہ ناول میں اس کی شخصیت میں رونما ہونے والی تبدیلیاں بلھے ہی جبلی ہوں لیکن اس نے قاری کو ناول کے آخر تک تجسس میں ڈالے رکھا ہے ۔
مختصر یہ کہ ناول نگار نے "نمبر دار کا نیلا میں انسان میں برسوں سے جنم لیتی ہوئی سیاسی ،مالی ہوس،خود غرضی ریاکاری،مکاری اور سفاکی کو یوں عیاں کیا ہے کہ ناول جدید دور میں بھی انسا نیت اور سماج کا نوحہ پیش کر رہا ہے ۔
(تبصے میں پیش کردہ آرا مبصر کے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

