تعبیر و تفہیم / ڈاکٹر ندیم احمد – ڈاکٹر نوشاد منظر
زیر نظر کتاب ’’تعبیر و تفہیم‘‘ ڈاکٹر ندیم احمد کی پہلی تصنیف ہے جو ۲۰۰۳ میں شائع ہوئی تھی۔ڈاکٹرندیم احمد شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں استاد ہیں۔ ’’تعبیر و تفہیم‘‘ ندیم احمد کے مضامین کا مجموعہ ہے۔ اس مجموعہ میں دس تنقیدی مضامین شامل ہے۔ان مضامین میں چند کا کا تعلق شاعری سے ہے اور کچھ کا تعلق نثر سے ہے۔ ایک مضمون ’’ترقی پسندی، جدیدیت اور مابعد جدیدیت‘‘ کے عنوان سے کتاب میں شامل ہے جس میں مذکورہ ادبی نظریات پر گفتگو اور ان کا تقابل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
کتاب کا پہلا مضمون’’ آپ بیتی کا فن‘‘ ہے۔ ندیم احمد کا خیال ہے کہ خود نوشت تحریروں کا مطالعہ جتنا اہم ہے اسی قدر اس کے مطالعے میں احتیاط کی ضرورت ہے۔انہیں اس بات کی شکایت بھی ہے کہ ہمارے یہاں دوسروں کی زندگی کو متجسسانہ دیکھنے کا چلن تو ہے مگر ذاتی زندگی اور اس کی کار کردگی پر غور کرنے کی فرصت نہیں ۔آپ بیتی کے فن پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے لکھا ہے کہ آپ بیتی کے لیے بنیادی عنصرسچائی ہے اور یہی وہ سچائی ہے جو کسی بھی فرد، شخصیت یا ہیرو کی واضح تصویر ہمارے سامنے پیش کرتی ہے۔چونکہ خودنوشت میں مصنف کی ذات ہی اس کا محور ہوتی ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر ادیب خود نوشت نہیں لکھتے بلکہ بقول ندیم احمد بیشتر ادیب اس لیے خودنوشت نہیں لکھتے کیونکہ ان میں یہ ہمت اور جرأت نہیں ہے کہ وہ زندگی کے پوشیدہ اور نیم پوشیدہ گوشوں سے پردہ اٹھاسکیں۔دراصل آپ بیتی انسان کی زندگی اور اس کی ماضی کی تاریخ ہے، اس سے اس ادیب کی تصویر تو ابھرتی ہی ہے ساتھ ہی اس عہد کی سماجی سیاسی اور بعض موقعوں پر معاشی صورت حال کا بھی انداہ ہوتا ہے۔خودنوشت میں ادیب کی زندگی ، ان کا رہن سہن، عادت و اطوار قاری کے سامنے آجاتے ہیں۔اس کتاب میں ’’بیسویں صدی میں، خود نوشت سوانح عمری‘‘ کے عنوان سے ایک اور مضمون شامل ہے۔ مضمون’’ آپ بیتی کا فن ‘‘اور ’’بیسویں صدی میں، خود نوشت سوانح عمری‘‘ میں بنیادی طور پر ایک بڑا فرق یہ ہے کہ پہلے مضمون میں جہاں آپ بیتی کی تعریف اور اس کے دائرہ کار پر گفتگو کی گئی ہے وہیں دوسرے مضمون میں بیسویں صدی کی چند اہم خود نوشت کا تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے۔ ندیم احمد کا خیال ہے کہ مراٹھی زبان میں جو خود نوشت لکھی گئی اس میں اس میں بے باکی اور ادیب کی جرأت ملتی ہے۔اردو اور دیگر زبانوں کی خود نوشت میں انہیں حقیقی پیش کش کا فقدان نظر آتا ہے۔زیر نظر کتاب میں ایک مضمون’’اردو میں طویل نظم کی روایت‘‘ ہے۔طویل نظم کی ابتدا دکن سے ہوتی ہے۔طویل نظم بنیادی طور پر انسانی زندگی کی داستان ہوتی ہے۔ اس میں انسان کی زندگی، اس کی تہذیبی، معاشی، سماجی اور سیاسی سرگرمیوں اور اس سے متعلق مسائل کو موضوع بنایا جاتا ہے۔ڈاکٹر ندیم احمد نے چند اہم نظم گو شعرا کے حوالے سے ارود میں موجود طویل نظموں کا جائزہ لیا ہے۔ڈاکٹر ندیم احمدکا خیال ہے کہ طویل نظموں میں زمانے کے شکست و ریخت اور انقلابات کو بڑی خوبی، وضاحت اور علامتی تہہ داری کے ساتھ پیش کیا جاسکتا ہے۔ڈاکٹر ندیم احمد نے اپنی کتاب میں غالب پر لکھی گئی اپنی ایک تحریر ’’غم عشق گر نہ ہوتا غم روزگار ہوتا‘‘کو شامل کیا ہے۔ اس مضمون میں انہوں نے غالب کی شاعری کا جائزہ ایک نئے تناظر میں لیا گیا ہے۔انہوں نے غالب کی شاعری میں موجود غم عشق اور غم روزگارکے حسین امتزاج کو نشان زد کرنے کی کوشش کی ہے. ان کا خیال ہے کہ غالب کے یہاں آفاقی غم اور غم ذات اس طرح شیر و شکر ہوجاتے ہیں کہ ذات اور کائنات کی حد بندیوں کی جستجو کرنے والے کو دشواری محسوس ہونے لگتی ہے۔ انہوں نے مزید لکھا ہے کہ غالب نے اپنے غم کو اپنی ذات کی تنگنائے سے نکال کر غم روزگار کے بہر ذخار میں سمو دیا ہے۔
کتاب ’’ تعبیر و تفہیم‘‘ میں منٹو کی کہانی ’’کھل دو‘‘ کا تجزیاتی مطالعہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ اردو افسانہ نگاری کی تاریخ میں منٹو شاید اکلوتے ایسے افسانہ نگار ہیں جن پر کئی مقدمات ہوئے، ان کہ کہانیوں کو فحش تک کہا گیا مگر گزرتے وقت کے ساتھ منٹو اور اس کی کہانیوں کی اہمیت اور معنویت قاری پر عیاں ہونے لگی۔افسانہ ’’کھول‘‘بنیادی طور پر تقسیم ہند اور اس کے بعد رونما ہوئے فساد کی کہانی کو پیش کرتا ہے۔یہ ایک ایسی لڑکی سکینہ کی کہانی ہے جو تقسیم کے بعد افراتفری میں اپنے باپ سے بچھڑ جاتی ہے۔ باپ حیران پریشان رضا کاروں کے پاس جاتا ہے اور اپنی بیٹی کو ڈھونڈنے میں ان کی مدد مانگتا ہے۔ مگر بد قسمتی دیکھئے کہ جن رضا کاروں کا کام بچھروں کو ملانا اور اس کی عزت و آبرو کی حفاظت کرنا تھا انہی لوگوں نے سکینہ کے ساتھ ایسی زیادتی کی کہ وہ زندہ لاش بن کر رہ گئی۔ ڈاکٹر ندیم احمد نے افسانہ ’’ کھول دو‘‘ کا جائزہ علم نفسیات کے تناظر میں لیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ افسانہ کھول دو نہ صرف اردو کا اچھا افسانہ ہے بلکہ اگر غور کیا جائے تو منٹو نے کچھ نفسیاتی تھیوریز کو بھی پیش کیا ہے۔
ان مضامین کے علاوہ کتاب میں خضر راہ : ایک جائزہ‘‘،’’ہنڈولہ: ایک جائزہ‘‘،’’عمیق حنفی اور ان کی طویل نظم سند باد‘‘وحید اختر کی دو نظمیں‘‘ اور ترقی پسندی ،جدیدیت ،مابعد جدیدیت‘‘ کے عنوانات سے مضامین شامل ہیں ۔ڈاکٹر ندیم احمد کی اس کتاب کو پڑھتے ہوئے ان کی تنقید نگاری کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ مصنف کا اسلوب سادہ اور عام فہم ہے۔حالانکہ یہ کتاب مصنف کی پہلی تصنیف ہے ۔ اور یہ کتاب ۲۰۰۳ میں شائع ہوئی تھی، باوجود اس کے مصنف نے جس طرح کلاسیکی اور جدید ادبی روایت کا خوبصورت امتزاج قائم کیا ہے وہ لائق تحسین ہے۔ ان مضامین میں تہذیبی اور جمالیاتی روایت کا تسلسل ملتا ہے۔پروفیسر عتیق اللہ نے لکھا ہے کہ ندیم احمد نظریات ادب سے گہری دلچسپی رکھنے کے ساتھ ساتھ عملی تنقید اور اس کے اطلاق کی جانب بھی توجہ کرتے ہیں۔جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ ’’تعبیر و تفہیم ‘‘ ڈاکٹر ندیم احمد کی پہلی تصنیف ہے جو ۲۰۰۳ میں شائع ہوئی حالانکہ اس کتاب کے بعد ان کی کئی اہم کتابیں منظر عام پر آئیں۔ ترقی پسندی ، جدیدیت اور مابعد جدیدیت ، اور بچوں کے ادب پر شائع ہوئی ان کی دو مرتبہ کتابوں کی ادبی حلقوں میں پذییرائی ہوئی ۔ مجموعی طور پر ڈاکٹر ندیم احمد کی کتاب’’تعبیر و تفہیم‘‘ کئی اعتبار سے اہم اور طلبا کے لیے مفید اور کارآمد ہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

