شعبۂ اردو،سی سی ایس یو میں ’’ اردو ادب میں طنز و مزاح‘‘ موضوع پرآن لائن پروگرام کا انعقاد
میرٹھ24؍ مارچ2022
طنزو مزاح سے اگر ہم اصلاح کا پہلو نکال دیں تو یہ صرف ایک تلخیص بن کر رہ جائے گا۔قدیم داستانوں میں طنزو مزاح ملتا ہے۔لیکن اس کے بعد اسد اللہ خاں کے کلام میں طنز و مزاح کی اچھی مثالیں ملتی ہیں اور غالبؔ نے ہی اپنے خطوط کے ذریعے نہ صرف طنزو مزاح نگاری کو ایک نئے مزاج سے آشنا کیا بلکہ ہما رے ادب کو ایک نیا اسلوب اور نیا موڑ بھی عطا کیا ۔بعد ازاں سر سید،شبلی اور ڈپٹی نذیر کے یہاں بھی طنزو مزاح کے عمدہ نمونے نظر آتے ہیں۔یہ الفاظ تھے راشٹریہ سہارا اردو کے سابق ایڈیٹر اور معروف طنزو مزاح نگار اسد رضا کے جو آیو سا اور شعبۂ اردو کے زیر اہتمام منعقد ’’اردو ادب میں طنز و مزاح‘‘ موضوع پرمہمان خصوصی کی حیثیت سے اپنی تقریر میں آن لائن ادا کررہے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ اردو کے طنز و مزاح کی روایت کے سلسلے کو اودھ پنچ سے الگ نہیں کرسکتے۔ مولانا آزاد کے یہاں بھی کہیں کہیں طنز کی چاشنی نظر آ تی ہے۔ کنہیا لال کپور، سعادت حسن منٹو، پطرس بخا ری وغیرہ نے بچوں کے لیے بھی طنزو مزاح اپنی تخلیقات میں پیش کیا۔اس مو قع پر فرح ناز، سیدہ مریم الٰہی اور نوید خان نے اسد رضا سے مختلف سوالات بھی کیے۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغاز سعید احمد سہارنپوری نے تلا وت کلام پاک سے کیا۔اس ادب نما پروگرام کی سرپرستی معروف ناقد و افسانہ نگار اور صدر شعبۂ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری اور صدارت کے فرائض معروف ادیب عارف نقوی ، جرمنی نے فرمائی ۔ استقبالیہ کلمات ڈاکٹر شاداب علیم، مہمان خصوصی کا تعارف ڈاکٹر ارشاد سیانوی،نظامت ڈاکٹر فرح ناز اور شکریے کی رسم سیدہ مریم الٰہی نے انجام دی۔
اپنے صدارتی خطبے میں عارف نقوی نے کہا کہ اردو ادب میں اب تک بہت سے ایسے طنز و مزاح نگار ہو ئے ہیں جنہوں نے اس صنف میں رنگ رنگ کے گل بوٹے سجائے ہیں جو کہیں مزاح نگاروں کی خوش طبع تحریر اور شگفتہ بیا نی سے نما یاں ہو تا ہے تو کہیں ادبیت اور شعریت یعنی متا نت آ میز مزاح نگاری سے عیاں ہو تا ہے۔ہمیں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہئے کہ طنز و مزاح کس درجہ کا ادب ہے۔ہما رے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ طنز و مزاح کس مقام کا ہے بلکہ یہ ضروری ہے کہ اسے کس طرح پیش کیا گیا ہے۔ ہمیں سنجیدگی سے اس صنف کو لینا چاہئے۔
پروفیسر اسلم جمشید پوری نے کہاکہ اردو ادب میں طنز و مزاح کی روا یت ہمیں اودھ پنچ سے ملتی ہے۔ اس نے اپنے ماضی سے شا ندار استفادہ حاصل کیا ہے۔ ادب میں اس صنف کو مقبولیت اس لیے حاصل ہے کہ انسان کی سنجیدگی کو دور کرنے کے لیے یہ ایک اہم صنف ہے مگر بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ اس کے مختلف پہلو ئوں میں واضح بدلائو آئے ہیں۔ آج کا انسان پچاس ساٹھ سال قبل کے انسانوں سے قدرے مختلف ہے ۔ اس کی تخیلی پرواز ،ذہنی نشیب و فراز اور احساسات و جذبات میں بڑی تیزی سے تبدیلی رو نما ہوئی ہیں۔ دنیا اب زیادہ مادہ پرست بن گئی ہے۔ایسی ہی تبدیلیوں سے دو چار طنزیہ و مزاحیہ ادب بھی آ ج سیاسی، سماجی اور ادبی حقائق سے پہلے کے مقا بلے میں زیادہ بے با کی کے ساتھ آنکھیں ملانے کی جرأت کرسکا ہے۔
اس مو قع پرڈاکٹر ہما مسعود، ڈاکٹر عابد حسین حیدری،ڈاکٹر عامر نظیر ڈار،شمشاد احمد،فیضان ظفرموجود رہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

