محمد محسن خالد
لیکچرار،شعبہ اُردو
گورنمنٹ شاہ حسین ایسوسی ایٹ کالج،لاہور
اُردو غزل میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ آٹھ صدی سے زائد کا تخلیقی سفر کرنے کے باوجود اِس کی تراش خراش کا عمل جاری ہے اور یہ گنجائش کی اسی خِلقی بُنت میں اساتذہ ِ فن نے ہمیشہ سے دخیل کر رکھی ہے تاکہ اس کے تنزل کی راہ کسی صورت ہموار نہ ہو سکے۔ اُردو غزل میں جہاں انسانی حیات کے جملہ مباحث زیرِ بحث آتے ہیں وہیں اس میں مذاہب و ملل کے موضوعات سے متعلقہ بیش قیمت سرمایہ بھی موجود ہے۔
شاعری ہو یا نثر، یہ اصناف کسی بھی زبان میں اظہار کے وہ ذرائع ہیں جن سے تخلیق کار اور قاری کے درمیان ایک گہرا رشتہ اُستوار کرنے کی صلاحت موجود ہوتی ہے۔ قاری نثریِ اصناف یا شعری اصناف میں کہا گیا اور لکھا گیا کلام ِ نثر و نظم اس لیے پڑھتا ہے تاکہ اس کے ذہن میں تشکیک پیدا کرنے والے سوالات کا تشفی بخش جواب مل سکے۔ یہ ابہام و اُوہام کا معاملہ انسان کی جبلت میں دخیل اس لیے کیا گیا ہے تاکہ انسان اپنے بارے میں زیادہ سے زیادہ کھوج لگائے اور حقیقت کے عرفان کے گیان کا صحیح معنوں میں حصول کرے۔
اُردو غزلیات میں علم بدیع کی ایک صنعت ،صنعت تلمیح کا بڑا چرچا ہے۔ اس صنعت کی خاصیت یہ ہے کہ بڑے سے بڑا واقعہ،کہانی، قصہ اور مفصل رُوداد کی مجموعی صورتحال کو ایک یا دو الفاظ میں بیان کر دیتی ہے۔ کلاسیکی شعرا کے ہاں اس صنعت کاالتزام بڑے اہتما م سے نظر آتا ہے۔ محمد قلی قطب ؔشاہ سے لے کر ولی دکنی تک اُردو کا چہرہ مہرہ تشکیل پا رہا تھا۔ولی سے میر تک غزل کا سراپا نظروں کو بھانے لگا تھا جبکہ ناسخؔ و آتش ؔسے گزر کر غالبؔ و اقبالؔ تک یہ شکل؛ غزل کی اتنی نفیس اور دلاآویز ہو گئی تھی کہ اس میں بیان و بدیع کے جملہ عناصر کی بازگشت پوری طرح سنائی دیتی تھی اور بادی النظر میں محسوس کی جا سکتی تھی۔
صنعتِ تلمیح اظہار کا ایک ایسا ذریعہ ہے جس کے ذریعے تفصیل طلب واقعات و اشارات کو کمال اختصار کے ساتھ بیان کیا جاسکتا ہے۔ قرآن و احادیث میں منقول سیکڑوں واقعات ہیں جن کا حوالہ دینے کے لیے اس کے سیاق و سباق کو مدنظر رکھنا ناگزیر ہوتا ہے جبکہ تاریخ اسلام کے واقعات اور شخصیات کے بار ے میں کوئی واقعہ یا جزوئی معلومات دینا ضروری ہو جائے تو انسان موضوع کی مقصدیت سے ہٹ جاتا ہے اور موضوع سے متعلقہ مواد کی قطعیت اور صحت پر منفی اثر پڑتا ہے جس سے قاری اور تخلیق دونوں متاثر ہوتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں تلمیح ہی وہ واحد ذریعہ ہے جس سے شاعر اپنے نکتہ نظر کو محض ایک یا دو الفاظ میں اشارہ کر کے آگے بڑھ جاتا ہے اور قاری یاداشت میں موجود اُس واقعے کو تلمیح کے پس پردہ سمجھنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ اس طرح شعرا کا لطف بھی باقی رہتا ہے اور شاعر کے نکتہ نظر کی تلمیحاتی تعبیر بھی ممکن ہو جاتی ہے۔
وحید الدین سلیم لکھتے ہیں:
"اگر کسی زبان کی تلمیحات کا بغور مطالعہ کریں تو اس زبان کے بولنے والوں کے گزشتہ واقعات اور ان کی معلوم تاریخ پر روشنی پڑتی ہے۔ ان کے مذہبی عقاید و رسوم اور اشغال معلوم ہوتے ہیں۔ طوفانِ نو ح کہتے ہی وہ تمام طوفانی واقعات آنکھوں کے سامنے آجاتے ہیں جو نوح ؑ کے سامنے میں پیش آئے تھے۔ان اشاروں کے لیے جو الفاظ مقرر کیے گئے ہیں وہ کسی طرح مذکور واقعے کی تفصیل بیان کرنے سے شعر میں واقعے کی صحت اور دلچسپی کا قاری کے سامنے لائقِ داد مظاہرہ نہیں کر سکتے”۔1؎
کلاسیکی شعرا کے کلام میں دینِ اسلام کے واقعات اور قصص کا جملہ اظہار ملتا ہے۔ شعرا نے مذہب کے معاملات سے دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔قرآن و احادیث میں منقول واقعات و قصص سے خاص معنی اخذ کیے ہیں اور ان کی اپنے انداز میں علاحدہ علاحدہ ترجمانی بھی کی ہے۔ دینِ اسلام کی مشہور شخصیات کی سوانح و شخصیت کے بارے میں شعرا کی دلچسپی دیدنی رہی ہے۔ ولی دکنی سے لے کر مرزا داغ دہلوی تک پورا کلاسیکی عہد مذہبی شخصیات کے جملہ احوال کی ترجمانی کا شعری فریضہ ادا کرتا ہے۔ ایک ہی شخصیت سے منسوب واقعات و قصص کو جُدا جُدا انداز میں یوں بیان کیا ہے کہ ایک خاص تنوع کی رنگا رنگی پڑھنے کو ملتی ہے۔
حضور ِ اکرم ﷺ سے منسوب واقعات و قصص اور آلِ محمد ﷺ کے وصائف کا ذکر کلاسیکی شعرا کا محبوب موضوع رہا ہے۔ واقعہ کربلا پر سیکڑوں بلکہ ہزاروں اشعار لکھے گئے ہیں اور اس واقعے کی دسیوں انداز میں تعبیرو تشریح کی گئی ہے۔ اسی طرح مولاعلی ؓ ؑ کی سوانح و شخصیت کے بارے میں تقریباً ہر شاعر کے ہاں بیسیویوں اشعار ملتے ہیں جس سے مولا علی ؓ ؑ کی سوانح و شخصیت کے جداگانہ پہلو سامنے آتے ہیں اور اس شخصیت سے وابستگی کا احساس مزید پختہ ہو جاتا ہے۔
حضرت علی ؓؓ ابن ابی طالب کے بیٹے،حضور اکرمؐ کے داماد تھے۔امام حسنؓ اور امام حسین ؓ کے والد اور بی بی فاطمہ ؓ کے خاوند تھے۔ رب تعالیٰ نے آپؐ کو بے شمار اعزازات ودرجات سے نوازا ہے۔ دینِ اسلام کے لیے آپؐ کی قربانیوں اور کوششوں کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ روایات کے مطابق علی ؓ، مقدس ترین اسلامی شہر مکہ میں کعبہ کے اندر جائے حرمت میں پیدا ہوئے تھے۔
ڈاکٹر علی ؓ محمد الصلابی لکھتے ہیں:
"سیدنا علی ؓ ؑ نے حضور اکرم ﷺ کی نگرانی میں تربیت پائی۔ قبیلہ ہاشم کے سامنے حضور ﷺ نے جب دعوت ِ توحید پیش کی تو آپ ؑ نے لبیک کہا اور بچوں میں سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں شامل ہوئے۔ ہجرت ِ مدینہ کے وقت حضور کے بستر پر آپ ؑؑ نے شب گزاری اور لوگوں کی امانتیں لُٹا کر مدینہ کا سفر کیا۔ دینِ اسلام کی تبلیغ و شاعت میں آپ ؑ پیش پیش رہے ۔غزوات کے معرکوں میں غزوہ اُحد کا معرکہ آپ ؑ کی شجاعت و بہادری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ حضور ﷺ کی بیٹی بی بی فاطمہ ؑ سے آپ ؑ کا نکاح ہوا اور امام حسین ؑ و حسین ؑ ایسے نابغہ روزگار سپوتِ دین پیدا ہوئے جنھوں نے نانا ﷺ کے دین کی بقا کے جان کی پروا نہ کی۔سخت سے سخت معرکوں اور نزعات میں آلِ پنجتن نے جس جرات اور بہادری کا مظاہرہ کیا ،اس کی مثال ڈھونڈے سے نہیں ملتی”2؎۔
رب تعالیٰ نے مو لا علی ؓ کو بے شمار اعزازات و انعامات سے نوازا ہے۔ آپ پنجتن میں شمار شخصیات میں سے ایک ہیں۔ آپ ؑ کی ولادت مکہ میں ہوئی۔ آپ ؓ کی شادی بی بی فاطمہ ؓ سے ہوئی۔ آپؓ کے بیٹے امام حسنؓ اور حسین ؓ ہیں۔ آپ ؓ کی شخصیت و ذات کا تقابل کسی اور کسی صورت ممکن نہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ و اشاعت اور قیام و استحکام کے لی آپ ؓ کی کاوشوں اور قربانیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اس مقالہ میں حضرت علی ؓ ؑ کی سوانح و شخصیت سے منسوب تلمیحات کا اجمالی جائزہ لیا گیا ہے جس سے مولا علی ؓ ؑ کی سوانح و شخصیت کے وصائع کا شعرا کے ہاں جُدا جُدا انداز میں اظہار کا پتہ چلے گا اور یہ دیکھنے میں آئے گا کہ شعرا کے ہاں دینِ اسلام کے اس داعی اور بہادر سپہ سالار سے عقیدت و دلچسپی کا رجحان کس طرح کا ہے اور مولا علی ؓ ؑ سے شخصیت اور کارناموں کے بارے میں شعرا کے ہاں کیا نکتہ نظر پایا جاتا ہے ۔شعرا کا انداز مدلل مداحی کا ہے یا ان کے ہاں واقعات کی قطعیت کے حوالے سے درست معلومات ملتی ہے ۔مزید یہ کہ شعرا کی غزلیات میں صنعتِ تلمیح کے متنوع استعمالات کی رنگ رنگی کس قدر وسعت و جامعیت کا پیرہن اوڑھے ہوئے ہے۔
آلِ شاہ ابرار:آلِ شاہ ابرار سے مراد اہل تشیع کے نزدیک امام علی ؓ،فاطمہ،حسن اور حسین ہیں۔قرآن مجید میں ابرار کا لفظ آیا ہے۔قرآن مجید کی سورہ آل عمران کی آیہ نمبر 193 میں ‘اولو لالباب’کے الفاظ اسی ‘ابرار’کے درجات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔امام حسن سے ایک حدیث منسوب ہے: جہاں کہیں قرآن میں "ان الابرار” آیا ہے۔خدا کی قسم ! اس سے مراد علی ؓ ابنِ طالبؓ،فاطمہ زہرااور حسینؓ ہیں۔ناسخ کا مسلکی مکتبہ فکر شعیہ ہے اس لیے ان کے ہاں کربلائی تلمیحات اور اسلامی شخصیات سے وابستہ تلمیحات کا استعمال بہت نمایاں ہے۔ ناسخ نے آلِ شاہ ابرار یعنی علی ؓؓ،فاطمہؓ کے پِسران حسن ؓ و حسینؓ کی آل سے وعقیدت و موَدت کو دین و دُنیا کی کامرانی کا باعث قرار دیا ہےاور خود کو ان کا شیدا و فدا ٹھہرا یا ہے۔
آل و اُولاد شہنشاہ زماں قائم رہے/ہے یہ فدوی قائمِ آلِ شہِ ابرار کا[کلیات ناسخ،جلد۲،ح،اول:100]
آلِ عبا:آلِ عبا سے مراد پنجتن پاک ہیں۔ عبا سے مراد چادر ہے۔ حضور اکرم ؐ کی چادر مبار ک کا ذکر اکثر جگہ ملتا ہے۔ آلِ عبا کی نسبت سے معروف ہے کہ ایک بار حضور اکرم ؐ نے حضرت علی ؓؓ،فاطمہؓ،حسنؓ، اور حسینؓ اور خود کو اپنی چار میں لے کر فرمایا تھا کہ جو ان سے محبت کرے گا وہ مجھ سے کرے گا اور جو ان سے بغض رکھے گا وہ مجھ سے بغض رکھے گا ۔گویا حضور اکرم ؐ نے خود کو ان چاروں شخصیات سے منسوب کر دیا ہے۔ آلِ عبا کی تلمیح اسی واقعے کے پس منظر میں شعرا بکثرت استعمال کرتے ہیں۔
ہو مبارک قائم آلِ عبا پیدا ہوا/مہدی ، ہادی ، امامِ ماسوا پیدا ہوا[کلیات ناسخ،جلد۲،ح،اول:109]
تمام آبائے علوی تک بھی ہیں اولاد میں ناسخؔ/علی ؓ روح القدس سے بھی ہوئے ہیں پیشتر پیدا[کلیات ناسخ،جلد۲،ح،اول:119]
رنج دیتے ہیں مجھے ناسخؔ یہ دجالانِ شہر/کیا ظہورِ قائم آلِ عبا نے دہر میں[کلیات ناسخ،جلد۲،ح،۲،ص:65]
ابنِ عم شاہ مُر سلاں: ابن عم شاہ مرسلاں سے حضرت علی ؓ کرم اللہ وجہہ کریم ہیں۔ حضرت علی ؓ ؓ ،ابو طالب کے بیٹے تھے جو حضور اکرم ؐ کے رشتے میں چچا لگتے تھے اور آپ ؓ کو اہل تشیع کے نزدیک بہت زیادہ عزیز تھے۔ اسی نسبت سے ناسخ نے حضرت علی ؓؓ کی ولادت کو باسعادت قرار دیا ہے اور دُنیا کے تمام جن و انساں کے امام قرار دیا ہے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے حضور اکرم ؐ کے اصل وارث و جانشینِ اسلام آج پیدا ہو گئے ہیں ۔اب کسی کو کوئی اندیشہ لاحق نہیں کہ حق واضح اور باطل پنہاں ہو گیا ہے۔
آج دُنیا میں امام انس و جاں پیدا ہوا/یعنی ابن عم شاہ مُر سلاں پیدا ہوا[کلیات ناسخ،جلد۲،ح،اول:104]
ابن ِشیرؓ : ابن شیرؓ یعنی حضرت علی ؓؓ کرم واللہ وجہہ کریم،مشہوراسلامی تاریخی تلمیح ہے۔ آپؓ کو فاتح خیبر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ آپ کے تلوار کے جوہر بے مثل ہیں۔ اہل کفار کو آپ کی تلوار نے جہنم کا راستہ دکھایا۔ آپ کے رُعب ایمانی میدان جنگ کی زمین کانپ اُٹھتی تھی۔دُشمنوں کے دل دہل جاتے تھے۔مذکورہ شعر میں داغؔ نے جنگی کیفیت کا ذکر کیا ہے۔ داغؔ کہتے ہیں کہ آپ کی شجاعت و دلیری کے آگے سرنگوں رہا ہے۔ جسے اللہ نے اپنا "شیر” قرار دیا ہے؛اُسے بھلا کون مات دے سکتا ہے۔
در آیا جب صف ِاعدا میں ابن ِشیر خدا/تو بھاگتے نظر آئے تمام چار طرف[مہتاب داغؔ،ص:۵۷۷]
ابو تراب: ابو تراب دراصل حضور اکرم ؐ کا عطا کردہ لقب ہے جو حضرت علی ؓ ؓ سے منسوب ہے۔خاکساری اور درویشی ایسی صفت کی بنا پر واقعہ مواخاۃ کے نتیجہ میں حضور اکرم ؐ آپ کو یہ لقب دیا تھا۔یہ لقب اتنا مشہور و مقبول ہوا کہ آپ کے نا م کا حصہ بن گیا ہے۔ڈاکٹر مصاحب علی ؓ صدیقی لکھتے ہیں:
’’حضور اکرم ؐ نے حضرت علی ؓؓ کو مواخاۃ کے وقت کسی انصاری کا بھائی نہ بنایا۔ آپ ؓ اُُداس ہو کر مسجد چلے گئے اور دیوار سے ٹیک لگالی۔ نیند کے جھونکے سے زمین پر دراز ہوئے۔(اتفاقاً) حضور اکرم ؐ مسجد میں تشریف۔آپ ؓ کی درویشانہ بے نیازی کو دیکھ کر: ابا ابا تراب! پکارا۔ اس واقعہ کا صحابہ کو علم ہوا تو آپؓ بو تراب کے لقب سے معروف ہو گئے۔‘‘3؎
داغؔ کیا خوب صر صر عصیاں/خاک پائے ابو تراب ہوں میں[مہتاب داغؔ،ص:۴۶۲]
بیان ان کے ہوں اوصاف داغؔ سے کیا کیا/کوئی نہ وصف شہ بوتراب سے چھوٹا[تتمہ متفرقات داغ،ص:۳۹]
اسداللہ:اسد اللہ کا مطلب”اللہ کا شیر”ہے ۔ یہ لقب رب تعالیٰ نے مو لا علی ؓ ؓ کو عطا کیا تھا۔ مو لا علی ؓ ؓ کو رب تعالیٰ نے بے شمار خصائص سے نوازا تھا۔ آپؐ اسلام کے لیے وہ کارہائے نمایاں انجام دے گئے ہیں جو کسی اور کے نصیبے کا مقدر نہ بن کسے۔ مسلمانوں کو کفار کے درمیان آپؐ کے ہونے سے جو حوصلہ ملتا تھا وہ کسی اور شخصیت سے منسوب نہ تھا۔ آپ ؐ کی بہادر ی اور دلیری کے آگے بڑے بڑے سورماؤں کے کلیجے ٹھنڈے پڑ جاتے تھے۔ آتش مو لا علی ؓ ؓ کی مدحت بیان کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ مدحت ِ اسد اللہ کبھی نہ ختم ہونے والا موضوع ہے جسے رب تعالیٰ اپنا شیر قرار دے اس کی عظمت و مرتبت بھلا مجھ ایسا شعر کیسے بیان کر سکتا ہے۔
مدح اسد اللہ میں تقریر نہ ہو بند/دریا کی طرح تاکہ نہ آجائے کف اے دل[کلیات آتش،ر،ل،ص:248]
امیر النحل: امیر النحل سے مراد مکھیوں کی سراد ہے۔ یہ خطاب اہل تشیع مکتبہ فکر کے نزدیک مولا علی ؓ ؓ کو ملا تھا۔ امیر النحل یعنی مکھیوں کی سردار کو کہا جاتا ہے جس کے بار ےمیں مشہور ہے کہ یہ مکھیوں کی سردار ہے اور تمام مکھیوں پر اس کی حفاظت اور تابع فرمانی ضروری ہے کہ یہی ان کی بقا کا واحد ذریعہ ہوتی ہے۔مفتی قاسم عطاری لکھتے ہیں:
”امیر النحل [نر مکھی]مکھیوں کی سردار ہوتی ہے۔عربی میں اسے”یعسوب”کہتے ہیں۔ ایک چھتے میں موجود بقیہ مکھیوں پر اس کی حفاظت اور تابع فرمانی لازم ہوتی ہے۔ اس کے حکم سے مکھیاں رس چوستی ہیں ۔اس کی عمر دو سال کے قریب ہوتی ہے۔ اس کی وفات کے بعد اس کی بیٹی ملکہ بن جاتی ہے۔ ملکہ مکھی دن بھر میں پندرہ سو کے قریب انڈے دیتی ہے اور سال میں تقریباً دس لاکھ کے قریب انڈے دیتی ہے“۔4؎
ناسخ نے کمال کی تلمیح شعر میں بیان کی ہے۔ناسخ کے ہاں مولا علی ؓ سے محبت و عقیدت کا والہانہ اظہار ملتا ہے ۔ کہتے ہیں میرے مولاؓ کو "امیر النحل”کا خطاب ملا تھا۔ میرے مولا کے بغیر خانہ زنبور میں انگبیں یعنی شہد کا تصور ممکن نہیں ہے۔
میرے مولا کو امیر النحل ملتا تھا خطاب/خانہ ء زنبور میں تب انگیں پیدا ہوا[کلیات ناسخ،جلد۲،ح،اول:111]
اول خیل ائمہ: اول خیل ائمہ سے مراد مولا علی ؓ ؓ ہیں۔ ناسخ اہل تشیع ہونے کی وجہ سے بالخصوص مولاعلی ؓ ؓ سے بہت عقیدت رکھتے ہیں۔ ان کے دیوان میں سیکڑوں اشعار مدحت علی ؓ ؓ میں کہے گئے ہیں جبکہ ایک مثنوی بھی ان کے دیوان میں مولا علی ؓ ؓ کی محبت میں مدحیہ ملتی ہے۔ ناسخ کہتے ہیں اول خیل ائمہ مولا علی ؓ ؓ ہیں جبکہ ان کی اقتدا دیر میں ہوئی جبکہ یہ روز ازل سے مقتدائے اول و آخریں پیدا کیے گئے۔
اول خیل ائمہ، ثانی آل عبا/مقتدائے اولین و آخریں پیدا ہوا[کلیات ناسخ،جلد۲،ح،اول:110]
اُولادِ علی ؓؓ: حضرت علی ؓ ؓ کی اولاد کے بارے میں مفسرین اور اربعہ آئمہ کے درمیان اختلاف موجود ہے۔حضرت سیدہ فاطمہؓ سے آپ کو تین فرزند ہوئے۔ حضرت محسن، امام حسن اور امام حسین، جبکہ دو صاحبزادیاں حضرت زینب و حضرت ام کلثوم ؓبھی حضرت سیدہ فاطمہ ؓسے تھیں۔ باقی ازواج سے آپ کو جو اولاد ہوئی، ان میں حضرت حنفیہ، حضرت عباس بن علی ؓ شامل ہیں۔
میرؔ امام تقی سے نسبت رکھتے ہیں۔انھوں نے امامِ علی ؓ ؓ کو اپنا جانشین و راہنما گردانا ہے۔مصائب و آلام میں آپ سے خیر و معاونت کی خواہش کی ہے ۔میر کہتے ہیں میرے والی و مولا امام علی ؓ ؓ ہیں ، ان کی آل ہے ،میں آلِ محمد میں سے ہوں۔میں درپیش مصائب و آلام سے خواہی نہ خواہی گزر ہی جاؤں گا۔
فکرِ نجات میرؔ کو کیا، مدح خواں ہے وہ/اُولاد کا علی ؓؓ کی، محمدؐ کی آل کا [دیوان دوم،میر،ص:۱۳۷]
اہلِ بیت: اہلِ بیت عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی "گھر والے ” کے ہیں۔ اہلِ بیت سے مراد رسول اللہؐ کی وہ آل و اولاد ہیں جن پر صدقہ حرام ہے۔انھیں” پنجتن پاک” بھی کہتے ہیں۔”رسول اللہ کفار سے مباہلہ کرنے کے لیے نکلے تو یہی حضرات آپ کے ساتھ تھے۔ ایک دفعہ آپ نے ان حضرات کو اپنی چادر میں لے کر فرمایا :اے اللہ، یہ میرے اہل بیت ہیں۔ان میں سیدناعلی ؓ کی اولاد، سیدنا جعفر کی اولاد، سیدناعقیل کی اولاد، سیدناعباس کی اولاد، بنو حارث اور نبی اکرم ؐ کی تمام ازواج مطہرات اور بنات طاہراتؓ شامل ہیں“5؎
میرؔ چونکہ خود اہل بیت سے نسبت خاص رکھتے ہیں ۔ اکثر اشعار میں اہل بیت سے عقیدت و محبت کا ستائش آمیز کا اظہار دیکھنے کو ملتا ہے۔ میرؔ کہتے ہیں اہل بیت سے دوستی و وفاداری غم و آلامِ دُینوی سے رہائی و نجات کا ذریعہ ہے۔ میرؔ نے اہل بیت تلمیح کو بطور کنایہ نجات ِ دُنیوی برتا ہے۔ مرزا داغؔ نے واقعہ کربلا کی نسبت سے اہل شام کی عیاریوں اور مکاریوں پر طنز کی ہے۔
حاصل ہے میرؔ دوستیِ اہل بیت اگر /تو غم ہے کیا نجات کے اپنی حصول کا[دیوان پنجم،میر،ص:۲۰۵]
شو ر ماتم سن کے اہل بیت کا اہل شام/شادیاں کرتے تھے گھر میں شادماں بیٹھے ہوئے[مہتاب داغؔ،ص:۶]
بابِ خیبر: باب ِخیبر سے مراد قلعہ خیبر کا وہ مشہور مقام ہے جہاں مسلمانوں اور کفار کے درمیان غزوہ خیبر کا معرکہ پیش آیا تھا۔ اس قلعہ کی مضبوط آہنی دیواروں کو پھاند کر آگے بڑھنا بہت مشکل تھا ۔ حضور اکرم ؐ نے حضرت علی ؓ ؓ کو اس قلعہ کے مرکزی دروازے کو گرانے کی ذمہ داری دی جسے آپ ؓ نے بخوبی انجام دے کر اپنی شجاعت اور بہادری کا نمونہ تا دمِ قیامت باقی چھوڑا۔محمد عباس عطاری لکھتے ہیں:
”خیبر ایک بڑے شہر کا نام ہے جو مدینہ سےشمال مغرب میں تقریباً169کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے۔ یہاں بہت سے مضبوط قلعے بھی بنے ہوئے تھے۔ یہودیوں کے پاس تقریباً بیس ہزار فوج تھی۔ خیبر کے قلعوں میں سب سے مضبوط قلعہ "قموص” تھا۔ اس قلعے کا سردار مرحب پہلوان تھا جو کہ عرب میں ایک ہزار سُواروں کے برابر مانا جاتا تھا۔ مرحب پہلوان خود اس قلعہ کی حفاظت کے لیے موجود تھا۔ یہ قلعہ کئی دن تک فتح نہیں ہوسکا۔ حضرت علی ؓؓ کے مقابلے میں مرحب پہلوان جب آیا تو تو د وحملوں کے و تبادلہ کے بعد حضرت علی ؓ ؓ کے زور دار وار سے مرحب اپنی تلوار سمیت سر سے دو حصوں میں کٹ کر زمین پر آگر ا ۔اس وار کی گونج پورے لشکر نے سُنی۔اس طرح سے قلعہ فتح ہوا“۔6؎
ناسخ حضرت علی ؓؓ کی شجاعت و دلیری سے از حد متاثر و متعقد ہیں۔ کہتے ہیں اے مولا علی ؓ ؓ! جس طرح آپ نے قلعہ قموس یعنی بابِ خیبر کو توڑ کر مسلمانوں کی فتح کا راستہ ہموار کیا تھا اسی طرح مجھ خاکسار کے لیے جنت کی راہ ہموار کریں کہ میں اندھیری گور میں تنہا گھبرا رہا ہوں اور مجھ کو اپنی نجات کا سوائے آپ کے وسیلے کے کوئی اور سہارا نظر نہیں آتا۔ناسخ نے بابِ خبیر کو’ داورِحشر ‘میں ‘جامِ کوثر ‘سے تشبیہ دی ہے ۔
سہل ہے امداد دُنیا سے کہیں امدادِ حشر/بابِ خیبر تھا یہاں واں جامِ کوثر ہاتھ میں[کلیات ناسخ،جلد۲،ح،اول:351]
یا علی ؓ! ناسخؔ اندھیری گور میں گھبرا گیا/خُلد میں دروازہ مثلِ بابِ خیبر توڑیے[کلیات ناسخ،جلد۲،ح،۲،ص:145]
منتِ رضواں کرے کیا ناسخؔ اے بابِ علوم/بابِ جنت کو برنگِ بابِ خیبر کھول دے[کلیات ناسخ،جلد۲،ح،۲،ص:186]
بابِ علم: بابِ علوم سے مراد حضرت علی ؓؓ کی شخصیت ہے۔ رسول اکرم ؐ نے مولاعلی ؓؓ کو علم کا دروازہ قرار دیا تھا۔ اس اعزاز کی فضیلت اور حقانیت کو زمانہ چلینج نہیں کر سکتا کہ حضور اکرم ؐ کے بعد علم کی معراج کا تمام تر انحصار مولا علی ؓ ؓ کی ذات پر مرکوز کر دیا گیا ہے۔ضمیر نقوی لکھتے ہیں:”ایک روایت میں یوں آیا ہے:” انا مدینۃ العلم وعلی ؓ بابہا "ترجمہ:یعنی میں علم کا شہر ہوں اور علی ؓ اس شہرکا دروازہ ہیں ۔ ایک اور روایت میں آگے یہ الفاظ بھی ہیں "فمن اراد العلم فلیاتہ من بابہ "ترجمہ:یعنی پس جو شخص حصول علم کا آرزومند ہو اس کو اس دروازہ کے ذریعہ آنا چاہئے” ۔7؎
حدیث کی رُو سے ” علی ؓ ” دروازہ ہیں ” سے یہ مراد نہیں ہے کہ تنہا حضرت علی ؓؓ ہی دروازہ ہیں بلکہ یہ معنی مراد ہیں کہ حضرت علی ؓؓ دروازوں میں سے ایک دروازہ ہیں ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جملہ صحابہ میں علم وحکمت کا جو خصوصی درجہ کمال سیدنا علی ؓ ؓکو حاصل ہے وہ چند صحابہ کو نصیب ہوا ۔ اس اعتبار سے سیدنا علی ؓؓ کو دیگر صحابہ کی نسبت سب سے زیادہ علمی فضیلت وبزرگی رکھنی والی شخصیت قرار دیا جائے توغیر موزوں نہ ہوگا ۔ناسخ نے مولاعلی ؓ ؓ سے بغض رکھنے والوں کو کفرِ خفی سے خبردار کیا ہے اور انھیں تاکید کی ہے کہ مولا علی ؓؓ کو ان کے قلبی احوال کا پورا علم ہے اگر یہ خود کو اسی گمراہی میں پڑے رہنے دینا چاہتے ہیں تو یہ ان کے لیے خوف تباہی کا باعث بن جائے گا۔
اہلِ نفاق کفرِ خفی کرتے ہیں نہاں/تھا علم اربابِ علم کو مافی الضمیر کا[دیوان ناسخ،جلد اول،ص:02]
منتِ رضواں کرے کیا ناسخؔ اے بابِ علوم/بابِ جنت کو برنگِ بابِ خیبر کھول دے[کلیات ناسخ،جلد۲،ح،۲،ص:186]
بادشاہ کربلا: بادشاہ کربلا سے مراد حضرت علی ؓؓ کے بیٹے حضرت امام حسن ؓ ہیں جنھوں نے اپنے نانا حضور اکرم ؐ کے دین کی بقا کے لیے یزید کی بعیت سے انکار کر دیا اور اپنا تن من دھن مع آل اُولاد کے قربان کر کے دین کی بقا کی خود کو ضمانت ٹھہرایا۔ ناسخ نے امام حسین ؓ کی اس شجاعت اور قربانی کے پیشِ نظر انھیں”بادشاہ کربلا” کے لقب سے ملقب کیا ہے۔ ناسخ کہتے ہیں کہ مجھ ایسے روسایہ کو یہ توفیق نہ مل سکی کے کربلا کے جانثاروں میں شریک ہوتا ۔مجھ کو تسلی اس بات کی ہے میں کربلا کی خاک ہوجانے کی اُمید لیے بیٹھا ہوں کہ روز ِ محشر مجھے اسی اُمید کےوسیلے سے داخلِ جنت کر دیا جائے گا اور میرا سر بادشاہِ کربلا کے پاوں میں دھرا ہو گا۔
اب لیا جاتا ہے جورِ کربلا کا انتقام/نور چشم بادشاہ کربلا پیدا ہوا[کلیات ناسخ،جلد۲،ح،اول:109]
فکر کر اپنی ہی، ناسخؔ کا نہ غم کھا واعظا/شافع اُس کا بادشاہ کربلا ہو جائے گا[کلیات ناسخ،جلد۲،ح،اول:126]
جسمِ ناسخؔ خاک سردابے میں ہو مرنے کے بعد/التجا ہے بادشاہِ کربلا کے سامنے[کلیات ناسخ،جلد۲،ح،۲،ص:45]
بوتراب: ابو تراب دراصل حضور اکرم ؐ کا عطا کردہ لقب ہے جو حضرت علی ؓ ؓ سے منسوب ہے۔خاکساری اور درویشی ایسی صفت کی بنا پر واقعہ مواخاۃ کے نتیجہ میں حضور اکرم ؐ آپ کو یہ لقب دیا تھا۔یہ لقب اتنا مشہور و مقبول ہوا کہ آپ کے نا م کا حصہ بن گیا ہے۔ڈاکٹر عطا الرحمن صدیقی لکھتے ہیں:
"حضور اکرم ؐ نے حضرت علی ؓؓ کو مواخاۃ کے وقت کسی انصاری کا بھائی نہ بنایا۔ آپ ؓ اُُداس ہو کر مسجد چلے گئے اور دیوار سے ٹیک لگالی۔ نیند کے جھونکے سے زمین پر دراز ہوئے۔(اتفاقاً) حضور اکرم ؐ مسجد میں تشریف۔آپ ؓ کی درویشانہ بے نیازی کو دیکھ کر: ابا ابا تراب! پکارا۔ اس واقعہ کا صحابہ کو علم ہوا تو آپؓ بو تراب کے لقب سے معروف ہو گئے۔ 8؎
ناسخ کو مولا علی ؓ ؓ سے جو نسبت کی عقیدت ہے وہ اظہر من الشمس ہے۔ ناسخ نے خود کو خاک آلود کرنے کے بعد مددِ بوتراب کے لیے پکارا ہے۔ کہتے ہیں حیدر کرار کنیت اپنی جگہ تاہم روز ِ ازل سے مولا علی ؓ ؓ کو لقب”بوتراب” کی فروزنی منشائے ایزدی سے ودیعت رہی ہے جو ان کی عظمت اور رُعبِ شخصیت کا واحد امتیازِ نقش ہے۔ناسخ نے حضور اکرم ؐ کے دینِ اسلام کا واحد اور تنہا ماخذ مولا علی ؓ ؓ کو قرار دیا ہے۔ آتش نے ابو تراب کو ابو لہب کے مقابلے میں موحد قرار دے کر بلند تر قرار دیا ہے۔ غالب نے اس تلمیح سے خاصا اثر قبول کیا ہے ۔ دوست کے باب میں بندگی بوتراب کا معیار قائم کیا ہے
ناسخؔ نہیں ہے کام مجھے اور غیر سے/بس جانتا ہوں بعدِ نبیؐ بوتراب کو[کلیات ناسخ،جلد اول،ص:293]
ناسخؔ فلک نے خاک میں لے کر ملا دیا/اب چاہیے ہے مجھ کو مدد بوتراب کی[کلیات ناسخ،جلد2،ح،2،ص:158]
خدا کے آگے ہے سرکش سے خاکسار عزیز/ابو لہب سے ہے قدر ابوتراب بلند[کلیات آتش،ر،د،ص:208]
غالبؔ ندیمِ دوست سے آتی ہے بوے دوست مشغول حق ہوں، بندگی بو تراب میں [دیوان غالب،ص:92]
پنجتن: پنجتن سے مراد پانچ شخصیات ہیں جن کے بارے میں حضور اکرم ؐ نے انھیں اپنا وارث قرار دیا ہے اور انھیں اپنی کالی کملی میں چھپا کر ان کے لیے رب تعالیٰ سےنصرت و محافظت اور بلندر درجات کی دُعا مانگی ہے۔ ان پانچ شخصیات میں مو لا علی ؓؓ، امام حسن،امام حسین، بی بی فاطمہ اور خود حضور اکرم ؐ شامل ہیں۔ پنجتن کی رعایت سے اہل احناف اور اہل تشیع دُعا و مناجات کرتے ہیں اور ان کا ایمان ہے کہ ان کے وسیلے سے مانگا رد نہیں ہوتا اور شفاعت یاب ہوتا ہے۔ دین اسلام کی پانچ متبرک ہستیاں ہیں جن کی شان اورعظمت احادیث و روایات میں نہایت اہتمام سے بیان ہوئی ہے۔ اہلِ سنت کے نکتہ نظر سے اہل ِبیت میں، آپؐ کی ازواج مطہرات، آپ ؐ کی صاحبزادی فاطمۃ الزھراء، آپ کے چچا زاد اور داماد حضرت علی ؓ اور ان کے صاحبزادے حضرت امام امام حسن اورحضرت امام حسین شامل ہیں۔
خداو پنجتن کے عشق نے اس میں جگہ کی ہے/نگینِ دل پر اپنے نقش ہے مہر سلیماںؑ کا[کلیات آتش،ر،الف،ص:118]
یہی اللہ سے آتشؔ دُعا ہے،مردِ مومن ہوں/حواسِ خمسہ زائل ہوں جو یادِ پنجتن بھولے[کلیات آتش،یاے تختانی:413]
پنجتن کا مرتبہ بھی کم سوا آپس میں ہے/ہو نہیں سکتیں برابر سچ ہے پانچوں انگلیاں[متفرقات داغؔ،ص:۱]
وہ عشق، عشق ہے کہ جو آل نبی کا ہے/وہ بات بات ہے کہ جو ہے پنجتن کی بات[تتمہ متفرقات داغ،ص: ۶]
تیغِ حیدر: تیغ حیدر سے مراد حضرت علی ؓ ؓ کی ذوالفقار یعنی تلوار ہے جس کا شہرہ تا قیامت باقی رہے گا۔ رب تعالیٰ نے آپ ؓ کو”اسد اللہ” کے لقب سے مقلب کیا ہے۔ جس کو خدا اپنا شیر قرار دے ؛اُسے کی دلیری اور بہادری کا کس سے مقابلہ کون کرے۔مولاعلی ؓ ؓ میدان ِ جنگ میں جب تلوار لہراتے تو دُشمنوں کے حوصلے پست ہو جاتے ۔ہزار ہا کفار کو آپؓ کی تلوار نے جہنم کا راستہ دکھایا اور دینِ محمدؐ کو منزل ِ دوام سے ہمکنار کیا۔تیغ حیدر کے حوالے سے اب تو کتابیں لکھی جا چکی ہیں ۔محسن بلال خان لکھتے ہیں:
” جب حضرت علی ؓؓ نے مرحب پر ذوالفقار کا وار کیا اور دو حصوں میں تقسیم کر کے زمین پر تڑپتا ہوا چھوڑا تو اس وقت حضرت جبرائیل ؑ متعجب ہو کر تشریف لائے-رسول اللہ ؐ نے فرمایا:تمہیں کس بات پر اتِنا تعجب ہو رہا ہے؟ جبریل امین ؑ نے فرمایا: اس وقت آسمان کے تمام فرشتے مل کر”لا فتی الا علی ؓ لا سیف الا ذوالفقار”کا نعرہ بلند کر رہے ہیں اور مجھے زاتی طور پر تعجب اس وجہ سے ہےکہ جب ر تعالیٰ نے قوم ِلوط پر عذاب نازل کیا تھا ۔اس وقت حاملینِ عرش نے قومِ لوط کے مرغوں کی آوازيں اور بچوں کے رونے کی صدائیں سُنی تھیں اور میں نے انھیں صبح تلک اپنے پروں میں اُٹھائے رب تعالیٰ کے فرمان کا منتظر تھا۔ مجھے ان کا بوجھ ذرہ برابر بھی محسوس نہ ہوا۔ آج جب علی ؓ رضی ؓ نے اپنا وار کیا تو رب تعالیٰ نے مجھے حکم دیا کہ ان کی تلوار کا کونہ پکڑ لوں تا کہ ان کی تلوار اس زورتک نہ پہنچ جائے جس نے زمین کے بوجھ کو اٹھا رکھا ہے تاکہ زمین پلٹنے سے محفوظ رہے۔چنانچہ میں نے حکم ربی سےحضرت علی ؓ ؓ کی تلوار کا کونہ پکڑ لیا تو اس کا وزن مجھے قوم لوط کے شہروں سے بھی زیادہ محسوس ہوا "۔9؎
ناسخ مولا علی ؓ ؓ سے از حد متاثر ہیں اور ان کے تیغ کے جوہر سے بھی بخوبی آگاہ ہیں۔ ناسخ کے دیوان میں بیسویوں اشعار مدحت علی ؓ ؓ اور ان سے متعلق اشیا کے اوصاف کے بیان میں منظوم ہوئے ہیں۔ ناسخ کہتے ہیں کہ تیغ ِحیدر کی چوٹ کھانے والے کی قسمت میں سوائے خاک کے اور کچھ نہیں ہوتا۔ آپ کا نیزہ افلاک کے چوب داروں کے سینوں میں لرزہ طاری کر دیتا ہے۔ یہ ارضی معمولی سورمے تو کسی کھیت کی مولی نہیں۔
پاک آبِ تیغِ حیدر سے بساطِ خاک ہے/نیزہ ولا بھی چوبِ خیمہ افلاک ہے[کلیات ناسخ،جلد۲،ح،۲،ص:188]
ثانی ِ آلِ عبا: ثانیِ آلِ عبا سے مراد مولا علی ؓ اور ان کی آل ہے ۔ ناسخ نے ثانیِ آلِ عبا کو خیل ائمہ ثانی کا مقتدائے اولیں قرار دیا ہے جبکہ دیگر مسالک کے نزدیک سے ترتیب زیادہ مناسب نہیں ہے۔ احوال و آثار کے حوالے سے بلاشبہ مولا علی ؓؓ اور ان کی آل مراتب میں سرِ فہرست ہے تاہم خلافت کے حوالے سے ابوبکر،عمر و عثما ن کے بعد مولا علی ؓؓ کی خلافتی ترتیب تاریخ میں منقول و مندرج ہے۔
اول خیل ائمہ، ثانی آل عبا/مقتدائے اولین و آخریں پیدا ہوا[کلیات ناسخ،جلد۲،ح،اول:110]
جنابِ امیر:ؓ جناب ِ امیر سے مراد مولا علی ؓ ؓ ہیں۔ ناسخ نے جنابِ امیر کے لیے خود کو "روح القدس” قرار دیا ہے۔ "روح القدس” سے مراد جبرائیل امین ؑ ہیں جنھوں حضور اکرم ؐ کے ہمراہ شب معراج کا سفر کیا اور حضورؐ کی حیات مبارکہ کے ایک ایک لمحے میں ان کے ہمراہ رہے اور رب تعالیٰ سے حضور ؐ تک پیغام رسانی کا ذریعہ بنے۔ ناسخ بطور شاعر فنی بلاغت کا اظہار کرتے ہوئے خود کو جنابِ امیر کے لیے”روح القدس” کی خدمات دینے کے لیے بطور غلام وقف کرنے کی خواہش رکھتے ہیں اور یہ خواہش ان کی بجا ہے۔
بلبل ہوں بوستانِ جنابِ امیرؓ کا/روح القدس ہے نام مرے ہمصفیر کا[کلیات ناسخ،جلد اول،ص:01]
حُبِ علی ؓؓ: حُب علی ؓ سے مولا علی ؓ ؓ سے ے مشروط محبت و عقیدت مراد ہے۔ رب تعالیٰ نے مولاعلی ؓ ؓ کو اپنا شیر قرار دیا ہے اور ان کے لیے تحسین آمیز الفاظ ہمیشہ حضور اکرم ؐ کی زبان سے ادا ہوئے ہیں۔ حضور اکرم ؐ نے مولا علی ؓ ؓ کو اپنا بھائی،وارث اور دینِ اسلام کو داعی قرار دیا ہے۔ مولا علی ؓ ؓ سے محبت کو اپنی ذات سے محبت حضور اکرم ؐ نے مشروط قرار دی ہے اس لیے حُبِ علی ؓ کے منکر کی انکاری دراصل خدا اور اُس کے رسول کے تصورِ حُب سے انکاری ہے۔ آتش اہل تشیع سے تعلق رکھتے ہیں۔ مذکور اشعار میں انھوں نے کُھل کر واضح دو ٹوک انداز میں اپنے مردِ مومن اور اثنا عشری یعنی اہل تشیع مسلک سے متعلق ہونے کا اظہار کیا ہے۔ آتش کے ہاں حُب علی ؓ ہی اصل ایمان کی معراج ہے اور جو اس وصف سے خالی ہے اُس کا ایمان مقبول نہیں ہے۔
مشیرِ خارجی نہیں ہونے کی کارگر/حُبِ علی ؓ ؓ کی کافی ہے آتشؔ سِپر مجھے[کلیات آتش،یاے تختانی:358]
ساغر صاف مے حُبِ علی ؓؓ مشرب ہے/مرد مومن ہوں میں اثنا عشری مذہب ہے[کلیات آتش،یاے تختانی”392]
حیدر کرار: حیدر کرارؓ یعنی حضرت علی ؓؓ کرم واللہ وجہہ کریم کا لقب ہے۔اہل تشیع کی روایت کے مطابق آپ’ساقی کوثر‘ ہیں۔قیامت کے دن اُمتِ محمدی کو کوثر کے جام بھر بھر کے پلائیں گے۔
میرؔ چوں کہ خود اہلِ تشیع میں سے تھے ۔ حضرت علی ؓ ؑ سے انتہائی عقیدت ومرورت رکھتے تھے۔ میرؔ کہتے ہیں کہ جو حیدری نہیں یعنی حضرت علی ؓ ؓ کا ماننے والا نہیں۔ وہ اگر مکہ کا سرداراعلی ٰؓ بھی ہو تو میں اُس کو سرے سے مسلمان ہی نہیں کہتا ۔ اس کا ایمان حیدر کرار کی عظمت و مرتبت کا اعتراف کیے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔میرؔ نے خود خویش بنی کا سگ یعنی غلام ِ ادنیٰ قرار دیا ہے اور سگِ علی ؓ ؓ ہوناخوش نصیبی گردانا ہے۔
ناسخ نے حیدر کرار کی رعایت سے "دوشِ احمد مختار”کی تلمیح مراتبِ علی ؓ ؓ کے باب میں انتہائی فنکارانہ انداز میں بیان کر کے نہ صرف تلمیح کے وسعت معنی میں اضافہ کیا ہے بلکہ اپنی معتقدانہ عقیدت کا بیّن ثبوت بھی فراہم کیا ہے۔
جو حیدری نہیں، اُسے ایمان ہی نہیں /ہو گر شریف مکہ، مسلمان ہی نہیں [دیوان اول،میر،ص:۴۱۱]
کام کیا ہے مجھ کو اے ناسخؔ کسی فرار سے/ان و دل سے ہوں میں عاشق حیدرِ کرارؓ پر[کلیات ناسخ،جلد اول،ص:138]
وہ خدا کا دوست ہے اور دوست ہے اُس کا خدا/کیوں نہ ہو ناسخؔ محبت حیدرکرارؓ کی[کلیات ناسخ،جلد اول،ص:441]
خاکِ نجف: خاکِ نجف سے مراد نجف اشرف کی خاک ہے۔ اہل تشیع کے ہاں کعبہ و قبلہ نجف اشرف ہے جہاں مولاعلی ؓ ؓ کا مزار ہے۔ اہل تشیع ہر سال مولا علی ؓؓ کی پیدائش و وفات کی نسبت سے نجف اشرف جاتے ہیں اور وہاں کی خاک کو اپنے لیے برکت و فیض و نجات کا سبب گردانتے ہیں۔ آتش اہل تشیع سے متعلق ہیں ان کے ہاں نجف ِ اشرف سے عقیدت اظہر من الشمس ہے۔ کہتے ہیں کہ خاکِ نجف کسی اکسیر سے کم نہیں کہ اس کی فروزنی اور تابانی الماس سے کئی گُنا بہتر و برتر ہے اور ہمارے لیے ذریعہ نجات و فلاح کا واحد ضامن ہے۔
خاکِ نجف اکسیر ہے مومن کی نظر میں /شفاف ہے الماس سے دُر نجف اے دل[کلیات آتش،ر،ل،ص:248]
خم ِ غدیر،عید غدیر : خمِ غدیر یا غدیر خم مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک پڑاؤ کا نام ہے جہاں حضور اکرم ؐ نے ہجرت کے دسویں سال خطبہ حجۃ الوداع کے سلسلے میں دس لاکھ صحابہ کے ساتھ مختصر قیام فرمایا تھا اور مولا علی ؓ ؓ کو اپنا دوست اور جانشین قرار دیا تھا۔ اہلِ تشیع اس دن کو یعنی 18 ذولحجہ کو عید غدیر کے نام سے یاد کرتے ہیں اور یہ دن ان کے لیے عید ایسی خوشی کا دن ہے۔ علامہ یوسف بنوری لکھتے ہیں:
"اس واقعے کا پس منظر یہ تھا کہ "حجۃ الوداع” سے پہلے حضور ؐنے حضرت علی ؓ ؓ کو یمن کی طرف والی بناکر بھیجا تھا۔ وہاں کے محصولات وغیرہ وصول کرکے ان کی تقسیم اور بیت المال کے حصے کی ادائی کے فوراً بعد حضرت علی ؓ ؓ حضور ؐ کے پاس حج کی ادائی کے لیے پہنچے۔ اس موقع پر محصولات کی تقسیم وغیرہ کو لے کر بعض حضرات نے حضور ؐ کی خدمت میں حضرت علی ؓ ؓ پر اعتراض کیا۔ آپ ؐ نے انہیں اسی موقع پر انفرادی طور پر سمجھایا اور کہا کہ اس طرح کی کوئی بات نہیں بلکہ علی ؓ ؓ کا زیادہ حق بنتا تھا جبکہ انھوں سے حصے سے کم لیا۔البتہ قافلے میں یہ باتیں گردش کرتی رہیں جسے آپؐ نے محسوس کیا اورارادہ کیا فرمایا کہ اس حوالے سے حضرت علی ؓ ؓ کی قدر و منزلت اور ان کا حق پر ہونا بیان کیا جائے تاکہ لوگوں کے دل میں مزید کوئی بدگمانی پیدا نہ ہونے پائے۔ سفرِ حج سے واپسی پر مقام غدیرِ خم میں حضور ؐ نے ایک خطبہ ارشاد فرمایا، جس میں بلیغ انداز میں میں حضرت علی ؓ ؓ کا حق پر ہونا واضح فرمایا اور ارشاد فرمایا: مفہوم” یعنی اے اللہ! جو مجھے دوست رکھے گا وہ علی ؓؓ کو بھی دوست رکھے گا ؛ اے اللہ! جو علی ؓؓ سے محبت رکھے تو اس سے محبت رکھ، اور جو علی ؓؓ سے دُشمنی رکھے تو اس کا دشمن ہوجا۔ آپ ؐ کے اس ارشاد کے بعد حضرت عمر ؓ حضرت علی ؓ ؓ سے ملے اور فرمایا: "اے ابن ابی طالب! آپ کو مبارک ہو! آپ ہر مؤمن مرد اور ہر مؤمنہ عورت کے محبوب بن گئے۔”10؎
ناسخ اہل تشیع میں سے ہیں ۔ان کے ہاں خم ِ غدیر کے حوالے سے عقیدت زیادہ پائی جاتی ہے۔ ناسخ نے خم غدیر کی مناسبت سے مولاعلی ؓ کی صداقت اور سچائی کے معیار کو حضور اکرم ؐ کی زبان سے ثابت و بیان ہونے کو عید ایسی خوشی سے تعبیر کیا ہے۔ کہتے ہیں میں ساقی کوثر کے ہاتھ سے عشق احمد مختار کا جام پیتا ہوں اس لیے اب مجھ کو کوئی اندیشہ لاحق نہیں ہے ۔ اہل تشیع حضرت علی ؓ ؓ کو ساقی کوثر مانتے ہیں جبکہ اہل احناف حضور اکرم ؐ کو ساقی کوثر کے لقب سے ملقب کرتے ہیں۔
جو کچھ کہ دل میں ہے وہی جاری زبان پر/ہے نشہ مجھ کو بادہ خمِ غدیر کا[کلیات ناسخ،جلد اول،ص:02]
ساقی کوثر پلاتا ہے مئے خمِ غدیر/مست ہوں ناسخؔ میں عشقِ احمدِ ؐ مختار میں[کلیات ناسخ،جلد اول،ص:02]
جیسا کہ شادماں ہوں میں روزِ وصال میں/شعیہ کو یہ خوشی نہ ہو عیدِ غدیر کی[کلیات آتش،یاے تختانی:338]
دستِ علی ؓؓ : دستِ علی ؓؓ سے مراد مولا علی ؓ ؓ کی شفقت اور رہبری ہے۔ رب تعالیٰ نے مولا علی ؓ ؓ کو بے پناہ طاقت و حوصلہ اور شجاعت سے نوازا تھا۔ آپ ؐ نے غزوہ خیبر میں آنکھوں میں آشوب ہونے کے باجود ایک ضرب سے میخ اُکھاڑ لی اور ذوالفقار کے وار سے اہل کفار کے سردار کو جہنم واصل کیا۔ آتش نے اسی واقعے کو مذکور شعر میں بیان کیا ہے۔ غزوہ خیبر میں مو لا علی ؓ ؓ کی شجاعت و دلیری کی ایسی دھاک بیٹھی کہ قیامت تک اس کا رُعب اہل ِ کفار کے دلوں میں باقی رہے گا۔
دستِ علی ؓؓ کی ضرب کا جنبش میں ہے اثر/ان ابرووں میں معجزہ ذوالفقار کا[کلیات آتش،ر،الف،ص:123]
دوشِ نبیؐ: اس تلمیح کے پس پردہ ایک معروف واقعہ ملتا ہے۔ فتح مکہ کے موقع پر حضرت علی ؓ ؓ حضوراکرم ؐ کے کاندھوں پر سوا ر ہو کر خانہ کعبہ کے بتوں کو پاش پاش کیا تھا۔ اس واقعے نے کفر و اسلام میں حائل فرق کو واضح کر دیا۔ اس واقعے سے حق کی فتح اور باطل کی شکست ظاہر کی گئی ہے۔ میرؔ نے اس تلمیح کو عہدِ حاضر کے بتوں کی شکنی کے لیے بطور استعارہ برتا ہے۔
میرؔ کا کہنا ہے کہ ہر دور میں بت شکن موجود ہیں جنھوں نے کفر واسلام کی باہمی چپلقش کو اپنے مفادات کے لیے بر سرِپیکار رکھا ۔ان ابن الوقتوں کی تکفیر و تذلیل کے لیےہر دور میں حضرت علی ؓ ؐ کے جانثاران موجود رہے ہیں۔حق پرباطل کی برتری کسی صورت غالب نہیں آسکتی۔
توڑا بتوں کو دوشِ نبی پر قدم کو رکھ/چھوڑا نہ نام کعبے میں کفرو ضلال کا[دیوان دوم،میر،ص:۱۳۷]
ذولفقار حیدر: ذوالفقار حضرت علی ؓؓ کرم اللہ وجہہ کریم کا لقب ہے۔ادب و شاعری میں آپؓ کو مختلف القاب و آداب اور کنیت سے مخاطب و تعبیر کیا جاتا ہے آپؓ کو” فاتح خیبر” ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ آپ کے رُعب ایمانی سے باطل قوتیں کانپ اُٹھتی تھیں۔مرزا داغ نے مذکورہ شعر میں آپ کی شجاعت اور بہادری کا چرچا کیا ہے ۔ ہزاروں قتل و واصل ِجہنم کفار کو اسی” حیدر کرار” کی ذولفقار نے کیا ہے ۔ قیامت تلک اس کی نظیر تاریخ و زمانہ پیش نہیں کر سکے گا۔
ہزار قتل کئے ذوالفقار حیدرؓ نے/قضا نے خوب کیا اپنا کام چار طرف[مہتاب داغ،ص:۵۷۷]
دیکھی نہیں جہاں میں مثلِ نگاہِ یار تیغ/ہوتی نہیں ہے جس طرح ہمسرِ ذوالفقار تیغ[کلیات ناسخ،جلد اول،ص:151]
بے گماں ہے برقِ خاطف ذوالفقار ِ حیدری/لشکر اعدائے دیں گویا خس و خاشاک ہے[کلیات ناسخ،جلد۲،ح،۲،ص:189]
ساقی کوثر: ساقی کوثر تلمیح حضو راکرم ؐ سے منسوب کی جاتی ہے۔ رب تعالیٰ نے کوثر نامی ایک نہر جنت میں بنا رکھی ہےجس کا پانی شہد سے زیادہ میٹھا اور دودھ سے زیادہ سفید ہے۔ اس نہر کا پانی جنت کے مستحقین کو حضور اکرم ؐ کے ازن سے ملے گا۔ اس پانی کو پینے والا خود کو خوش قسمت تصور کرے گا۔ اس نہر کی برکت اور حضور اکرم ؐ کی رحمت کے پیشِ نظر شعرا نے ساقی ِ کوثر کی تلمیح وضع کی ہے۔ شعیہ اعتقاد کے مطابق حضرت علی ؓ ؓ ساقی کوثر ہیں۔رسولِ خداؐ کی ایک حدیث یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ آپؐ نے فرمایا :”علی ؓؓ میرے ساتھ حوض کے پیچھے کھڑے ہوں گے اور میری اُمت میں سے جسے پہنچاتے ہوں گے اُسے سیراب کریں گے”۔
ناسخ نے مو لا علی ؓؓ کو”عشق ساقی کوثر” سے یاد کیا ہے اور کوثر کے جام کو "جامِ پاکِ آب”قرار دیا ہے۔ شعرا کا اپنا ایک انداز ہوتا ہے وہ بعض اوقات حقیقت کے برعکس محض تخیل کے زور پر مبالغہ آمیزی کر جاتے ہیں جو وقتی طور پر دل کو لبھاتی ہے تاہم تاثر اس کا جلد زائل ہو جاتا ہے۔ آتش جام ِکوثر کے حصول کے لیے غلامِ ساقی کوثر یعنی مولا علی ؓ ؓ سے اپنی نسبت ٹھہراتے ہیں ۔
غالب نے ساقی کوثر تلمیح وصال یارِ کی لذت آفزائی سے تعبیر کیا ہے جبکہ مرزا داغ نے ساقی کوثر کی تلمیح اپنے مزاجی محبوب کی صفت آرائی اور وصالِ یار کی لذت آفزائی سے مشروط قرار دیا ہے۔
یاں آسرا ہے ساقی کوثر کی ذات کا/ہے ساغرِ شراب سفینہ نجات کا[کلیات ناسخ،جلد اول،ص:48]
مُحب ِ ساقیِ کوثر مُحب ہیں اے ناسخؔ/عدو وہی ہے ہمارا ہے جو عدوئے شراب[کلیات ناسخ،جلد۲،ح،اول:143]
عاشقِ ساقی کوثر ہوں میں رند اے آتشؔ/مئے کوثر کے لیے ہے مجھے سودائے بہشت[کلیات آتش،ر،ب،ص:183]
آتشؔ غلام ساقیِ کوثر ہوں چاہیے/فردوس کا کھلا ہوا ور دروازہ پاؤں میں[کلیات آتش،ر،ن،ص:268]
بہت سہی، غم گیتی شراب کم کیا ہے/غلام ساقی کوثر ہوں مجھ کو غم کیا ہے[دیوان غالب،ص:۱۸۸]
داغؔ اس چاٹ پہ ہے تشنہ لب و تشنہ دہن/کہ ملیں ساقی کوثر مے کے مزے[گلزار داغ،ص:۱۹۱]
شاہ مرداں: شاہ مرداں سے مراد مو لاعلی ؓ ؓ ہیں۔ آتش کا مزاج صوفیانہ تھا اور اسی طرز روش کو ان کی عملی زندگی میں سوانح کے مطالعے سے محسوس کیا جا سکتا ہے۔ آتش نے سلسلہ فقر کو شاہ مرداں یعنی مولا علی ؓ ؓ کی ذات و شخصیت سے وابستہ کیا ہے۔ ایک سالک کے لیے فنا فی الشیخ سے فنا فی الرسول تک پہنچے کے لیے مولا علی ؓ ؓ کو درمیان میں وسیلہ بنانا پڑتا ہے۔ اس وسیلے کے بغیر حضور اکرم ؐ کے در تک رسائی بہت مشکل ہوتی ہے۔ آتش نے اسی وصف کے پیشِ نظر مولا علی ؓ ؓ کو شاہ مرداں کے لقب سے ملقب کیا ہے۔
شیر ہم اور نیستاں ہے حصیر اے آتشؔ!/سلسلہ فقر کا اپنے ہے شہِ مرداں سے[کلیات آتش،یاے تختانی:392]
شاہ نجف: شاہ نجف سے مراد مولا علی ؓؓ ہیں مولاعلی ؓ ؓ کا مزار نجف اشرف میں ہے۔ ہر سال ان گنت تعداد نجف اشرف کی زیارت کے لیے ایران جاتی ہے اور وہاں سے بغداد کا سفر کرتی ہوئی نجف اشرف تک پہنچتی ہے اور اپنی عقیدت ومحبت کا اظہار طوائف مزارِ شاہ ِ نجف کے ذریعے کرتی ہے۔ نجف اشرف کو دُنیا کی مقدس و پوتر جگہ قرار دیا جاتا ہے جہاں رب تعالیٰ کا شیر ،بی بی فاطمہ کا لال اور حضور اکرم ؐ کا لاڈلا آرام فرما رہا ہے۔ آتش نے مرقدِ شاہ نجف پر حاضری دینے اور زیارت کرنے کی خواہش کی ہے اور اپنے دل کے سوختہ پن کو وسیلہ بنایا ہے۔ شاہ نجف کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے آش نے اپنے دل اندیشوں اور وساوسف کو نکال باہر کیا ہے کہ جسے مولا علی ؓ ؓ کی متعقدی کا افتخار حاصل ہے اُسے اندیشہ دُنیا کو دل میں پالنے سے کیا حاصل۔
بندہء شاہ نجف آتشِ ؔ دلِ خستہ ہے/یا الہٰی! اسے اب مرقدِ مولا دکھلا[کلیات آتش،ر،الف،ص:94]
مومن کا مددگار ہے شاہِ نجف اے دل!/حامی ہے ترا شیرِ خدا،لاتخف اے دل![کلیات آتش،ر،ل،ص:248]
شہ خیبرکُشا،خیبر شِکن: شہ خیبر اور خیبر شکن سے مراد مولا علی ؓ ؓ ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف اہل کفار غزوہ خیبر میں ایک مضبوط قلعہ میں حصار بنا کر حملے کرتے اور ان کی سرکوبی کسی طرح ممکن نہ رہی تھی کہ قلعے کی مضبوط دیواروں کو توڑ کر اندر جانے کی کوئی صورت موجود نہ تھی اور قلعہ کا مرکزی دروازہ بھی مضبوط آہنی ثقالت ڈھال کر بنایا گیا تھا۔ حضور اکرم ؐ نے آخر اس کام کے لیے مو لا علی ؓ ؓ کو منتخب کیا اور انھیں بلوا کر یہ کام انجام دینے کا فریضہ سونپا گیا جسے آپ نے بہرین طریقے سے یوں انجام دیا کہ قلعہ کے دروازے کو اللہ اکبر کی ضرب سے پاؤں کی ایسی ٹھوکر لگائی کہ دروازہ دو حصوں میں ٹوٹ کر بکھر گیا اور اہل کفار کے سردار کو ایک وار سے زمین پر گِرا ڈالا۔ناسخ مولاعلی ؓ ؓ کی شجاعت اور بہادری کے پیشِ نظر انھیں شہ خیبر کُشار اور خیبر شکن کے القاب سے مقلب کرتے ہیں۔
قلعہ گردوں کو ہی چاہے اُٹھا کر پھینک دے/وہ جگر بند شہ خیبر کُشا پیدا ہوا[کلیات ناسخ،جلد۲،ح،اول:110]
اہل دیں محفوظ تا فوجِ شیاطیں سے رہیں/حیدر خیبر شکن حصن حصین پیدا ہوا[کلیات ناسخ،جلد۲،ح،اول:111]
شاہِ دیں: شاہ دین سے مراد مولا علی ؓؓ ہیں جن کے بارے میں مشہور ہے کہ عمر بھر ان پُشت نے بستر کو نہیں چھوا بلکہ آپ ؓ ہر وقت اسلام کی بقا کے لیے خود کو مستعد رکھتے۔آپ ؓ کی سحریں رب کی تمام رات عبادت میں طلوع ہوتیں اور صبحیں مبارزت و صلح و معاملات ِ دین و دُنیاوی میں بسر ہوتیں ۔ رب تعالیٰ نے آپؓ کو وہ عظمت اور مرتبت عطا کی ہے جس کا کوئی ثانی نہیں ۔ ناسخ نے حضرت علی ؓ ؓ کے اسی وصف کی طرف اشارہ کیا ہے اور اپنی عقیدت کا شاعرانہ اظہار کیا ہے۔
نہ سوئے جاہِ دُنیا کیا اے شاہِ دیں تو نے/سریرِ سلطنت تکیہ ہے گویا تیری مسند کا [دیوان ناسخ،جلد اول،ص:04]
شاہ قلعہ گیر: شاہ قلعہ گیر سے مراد مولا علی ؓ ؓ ہیں۔ ناسخ نے غزوہ خیبر کی مسماری کو مولا علی ؓ کے ہاتھوں دُھول چٹاتے سنا ہے اور اسی رعایت سے آپ ؐ کی دلیری و بہادری اور شیر خدا ہونے کی صفت سے متصف وصف کو "شاہ قلعہ گیر” کے لقب سے مقلب کیا ہے۔ ناسخ کہتے ہیں کہ میں ہمیشہ خود کو مولا علی ؓ ؓ کی امان میں پاتا ہوں کہ جسے روز ازل سے خدائےعالمین نے "شاہ قلعہ گیر” بنا کر بھیجا ہے۔
یا رب! حصارِ امن میں رکھیو مجھے مدام/مداح ہوں ازل سے شہ قلعہ گیر کا[دیوان ناسخ،جلد اول،ص:02]
شبیہِ مصطفیٰ: شبیہ مصطفیٰؐ سے مراد مولا علی ؓ ؓ ہیں۔ ناسخ نے مولا علی ؓ کی ولادت کی نسبت سے ان کو حضور اکرم ؐ کے لیے ایک سہارا قرار دیا ہے اور نبوت و لایت کا اصل حقدار قرار دیا ہے۔ ناسخ کہتے ہیں کہ نسبت اصل اول و آخر صادق ہو گئی کہ آج شبیہِ مصطفیٰ ؐ یعنی مولا علی ؓ ؓ پیدا ہو گئے ہیں ۔ مولاعلی ؓ ؓ کی مکہ یعنی حرم کعبہ میں پیدائش کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے ۔بی بی فاطمہ ؓ سے نکاح اور حسن ؓ و حسین ؓ کے باپ ہونا اپنے آپ میں ایک اعلی ٰؓ ترین اعزاز ہے ۔ایسی صفات و مرتبت کے حامل عظیم شخصیت کو ناسخ "شبہ مصطفیٰؐ” کہنے پر حق بجانب ہیں۔
اول و آخر کی نسبت ہو گئی صادق یہاں/صورت معنی شبیہِ مصطفی پیدا ہوا[کلیات ناسخ،جلد۲،ح،اول:109]
شمشیرِ علی ؓؓ: شمشیر علی ؓ سے مراد ذوالفقار ہے جو مو لا علی ؓ ؓ کے پاس رہی جس سے جنگ بدر میں کفار کے سردار مرحب کا سر اُڑایا تھا۔ یہ تلوار دو منہ کی ہے جس کی نسبت سے سیکڑوں قصے اور کہانیاں بیان کیے جاتے ہیں جن میں مبالغہ حقیقت کی نسبت زیادہ پایا جاتا ہے۔ آتش نے مو لاعلی ؓ ؓ کی طاقت اور تلوار کے جوہر کو زور و قوت کی علامت بنایا ہے اور یہ تاثر عدو علی ؓ کو دیا ہے کہ جو انجام مرحب کا ہوا ہے وہی منکرین مو لا علی ؓ ؓ کا ہو گا۔
زور و قوّت سے ڈراتا ہے یہ کس کو آتشؔ/میں بھی شمشیرِ علی ؓؓ ہوں جو عدو مُرحب ہے[کلیات آتش،یاے تختانی:393]
شہرِ علمِ ازلی: شہر علمِ ازلی سے مراد مولاعلی ؓؓ ہیں۔رب تعالیٰ نے مولا علی ؓؓ کو بے شمار اعزات و معتبریرات سے نوازا ہے۔ حضور اکرمؐ نے آپؐ کو علم کا دروازہ قرار دیا ہے۔ یہ وصفی تلمیح اسی نسبت سے آپ ؐ سے منسوب کی گئی ہے۔ناسخ کہتے ہیں اہل جہان کو بہت مبارک ہو کہ آج علم کی میراث کا صحیح اور اصل حقدار پیدا ہو ا ہے جس کے در سے کوئی تشنہ آگاہی نہ لوٹے گا کہ حضور ؐ نے انھیں اپنا والی،دوست،بھائی،داماد اور جانشین مقرر کیا ہے اورآپؐ جناب کی آل سے دین ِ محمدی ؐ کو ہمیشگی بقا نصیب ہوئی ہے۔
ہو مبارک کہ ہوئے حیدر صفدر پیدا/ہرِ علمِ ازلی کا یہ ہوا در پیدا[کلیات ناسخ،جلد۲،ح،اول:107]
شیرِ خدا : شیر خدا سے مراد مو لاعلی ؓ ؓ ہیں۔ حضور اکرم ؐ کے داماد،حضرت اماحسنؓ و حسین کے والد اور بی بی فاطمہ ؓ کے خاوند ابن ابی طالب کے بیٹے حضرت علی ؓ ؓ کو رب تعالیٰ نے اپنا شیر قرار دے کر ان کی عظمت و مراتب کو ہمیشہ کے لیے افلاکِ درجات پہ متمکن کر دیا ہے۔ناسخ کے ہاں مو لاعلی ؓ ؓ کی نسبت سے عقیدت آمیز رویہ نظر آتا ہے۔ناسخ موسیٰؑ و ہارون کی نسبت سے شیرخدا کے وصائف کا شعری انداز میں بیان کرتے ہیں۔کہتے ہیں مولاعلی ؓ ؓ کی عظمت جس طرح موسیٰ ؑ کے نزدیک بھائی ہارون ؑ کی ہے اسی طرح مولاعلی ؓ ؓ کی اہمیت حضور اکرمؐ کے نزدیک ہے۔ ناسخ نے مذہبی شخصیات کے تقابل میں مذہبی شخصیات کا جواز پیش کیا ہے۔ شیرِ خدا ایک ایسی صفت ِ وصفی ہے جس سے حضرت علی ؓؐ کی ذات و شخصیت کے جملہ اُوصاف متشکل ہو جاتے ہیں۔
کیونکر اے ناسخ! خوارِ عجلِ دشمن ہو نہ خوار/کیسے موسیٰ کا علی ؓ ؓ شیرِ خدا ہاروںؑ ہوا[کلیات ناسخ،جلد اول،ص:12]
غیرِ کوثر کسی دریا کا میں سیاح نہیں/بیشہ ء شیرِ خدا بِن کہیں سیاح نہیں[کلیات ناسخ،جلد اول،ص:188]
عدو علی ؓؓ : عدو علی ؓ سے مراد مولاعلی ؓ ؓ کے مقام و مرتبہ کے بارے میں اختلاف رکھنے والے ہیں جنھیں مولاعلی ؓ ؓ سے ان کے مراتب و درجات کے اعتبار سے تحفظات ہیں اور یہ اس مقام پر کسی اور شخصیت کو دیکھنا،لانا اور متمکن ہونا خواہش کرتے ہیں۔ ایسے تمام اشخاص،نظریات، تصورات اور جملہ گروہوں کے بارے میں حضور اکرمؐ نے حضرت علی ؓ ؓ، امام حسنؓ،امام حسینؓ اور بی بی فاطمہؓ کو پنجتن یعنی اپنا خون قرار دے کر ان کی حُرمت پر تصدیق و اثبات کی مہر لگا دی ہے ۔ناسخ نے عدو علی ؓ ؓ کو مخاطب کرتے ہوئے تنبیہ انداز میں للکارا ہے کہ میں منصور ہوں جو حُرمت علی ؓ پر نثار ہونے کو تیار بیٹھا ہے۔ جس نے حُرمت علی ؓ ؓ اور وصائف علی ؓ ؓ سے نفرین و تنگ دلی و حسد کا مظاہرہ کیا وہ گویا مخذول یعنی زلیل و رُسوا دین و دُنیا میں ہوگا۔ناسخ نے عدوِ علی ؓؓ پر لعین و نفرین وطعین کر کے خود کو متعقدِ علی ؓؓ قرار دیا ہے۔
شکراے ناسخؔ کہ میں منصور ہوں/جو علی ؓ کا ہے عدو، مخذول ہے[کلیات ناسخ،جلد۲،ح،۲،ص:38]
برسے لعنت دشمنانِ مرتضیٰ کی خاک پر/ہر برس بارانِ رحمت کا وہاں امساک ہے[کلیات ناسخ،جلد۲،ح،۲،ص:188]
علی ؓؓ ،علی ؓ مرتضیٰؐ :علی ؓؓ سے مراد حضرت علی ؓؓ ہیں جو ابن ابی طالب کے بیٹے،حضور اکرمؐ کے اخی بھائی اور داماد تھے۔امام حسنؓ اور امام حسین ؓ کے والد اور بی بی فاطمہ ؓ کے خاوند تھے۔ رب تعالیٰ نے آپؐ کو بے شمار اعزازات ودرجات سے نوازا ہے۔ دینِ اسلام کے لیے آپؐ کی قربانیوں اور کوششوں کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔میرؔ کے ہاں ان عظیم شخصیات کے اُسوہ کو دُنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ آتش نے خود کو شیدائے عشقِ علی ؓ مرتضی ؓ قرار دیا ہے اور اپنے دل کی نصیری کو بندگی علی ؓ ؓ سے تعبیر کیا ہے۔ قلزم قدرت کا حاصل کُل گوہر علی ؓ ہے جس کی اہمیت کون و مکان سے ماورا ہے۔
؎ یا مرتضیٰ علی ؓؓ ہے تیرا گدائے در یہ کر حالِ میرؔ پر بھی ٹُک التفات شاہا [دیوان ششم،میر،ص:۲۲۳]
پوچھا جو حال تختِ سلیمان سے ایک نے/بولا کہ زینہ ہے یہ علی ؓؓ کے سریر کا[دیوان ناسخ،جلد اول،ص:01]
بخشش کی ہے اُمید علی ؓ کبیر سے/ہوتا ہوں مرتکب جو گناہِ کبیر کا[دیوان ناسخ،جلد اول،ص:01]
جو معتقد نہیں ہے علی ؓؓ کے کمال کا/ہر بال اُس کے تن پہ ہے موجب وبال کا[دیوان دوم،میر،ص:۱۳۷]
عاشقِ شیدا علی ؓ مرتضیٰؓ کا ہو گیا/دل میرا بندہ نصیری کے خدا کا ہوگیا[کلیات آتش،ر،الف،ص:146]
مثلِ علی ؓؓ گیارہ فرزند :مثلِ علی ؓ گیارہ فرزند کا معاملہ مولا علی ؓ ؓ کی ذات و شخصیت سے انسلاک رکھتا ہے۔ روایت میں منقول ہے کہ حضرت علی ؓ ؓ کی اُولادِ ذکور میں گیارہ بیٹے ہیں۔ ان گیارہ بیٹوں کی نسبت سے مولا علی ؓ ؓ کی آل کا سلسلہ چلا جو ہنوز جاری ہے۔محمد شبیر قادری لکھتے ہیں:
”حضرت علی ؓ ؓ نے نو شادیاں کیں۔ آپ کا پہلا نکاح بی بی فاطمہ ؓ سے ہوا۔ ان سے تین صاحبزادے( امام حسنؓ، حسینؓ اور محسنؓ) پیدا ہوئے۔ حضرت محسن ؓ کا انتقال چھوٹی عمر میں ہوگیا تھا۔بی بی فاطمہ ؓسے مولا علی ؓ ؓ کی دو صاحبزادیاں زینب کبریٰؓ اور ام کلثوم کبریٰ ؓ پیدا ہوئیں۔ جب تک حضرت فاطمہ حیات رہیں ۔مو لا علی ؓ ؓ نے کسی اور سے نکاح نہ کیا۔ بی بی فاطمہ کے انتقال کے بعد مختلف اوقات میں آپ نےاُم البنین بنت حرام عامریہ ؓ( ان سے چار فرزند حضرت عباس، حضرت جعفر، حضرت عبداللہ اور حضرت عثمان ؓ )،لیلیٰ بنت مسعود تیمیہ ؓ: (ن سے دو بیٹے عبیداللہ اور ابوبکر ؓ )،اسما بنت عمیس خثیمہ ؓ(ان سے یحییٰ اور محمد اصغر) ؓ،ام حبیبہ بنت زمعہ ( عمر اور سیدہ رقیہ ؓ)،امامہ بنت ابوالعاص ؓ( محمد اوسط ؓ )،خولہ بنت جعفر حنفیہ ( محمد اکبر ؓ )، ام سعید بنت عروہ ( ام الحسین اور رملہ کبریٰ) ؓ،محیاۃ بنت امراءالقیس( ایک بیٹی )سے شادیاں کیں۔اس کے علاوہ باندیوں سے ہونے والی اُولاد میں ام ہانی، میمونہ، زینب صغریٰ، رملہ صغریٰ، ام کلثوم صغریٰ، فاطمہ، امامہ، خدیجہ، ام الکبریٰ، ام سلمہ، ام جعفرؓ شامل ہیں‘‘۔11؎
مولا علی ؓ حضور اکرم ؐ کے بعد سب سے زیادہ شادیاں کرنے والے اور کثیر صاحبِ اُولاد تھے۔ تعددازواج کی ضرورت اُس وقت دینِ اسلام میں زیادہ سے زیادہ افراد کو شامل کرنا کی غرض سے تھا۔ وہ خواتین جن کو کوئی کمانے والا ،سہارنے والا نہ تھا اور وہ کسی بڑے اونچے خاندان سے تھیں اور باپ بھائی اہل کفار تھے مارے گئے تو ان کی دلجوئی کے لیے مولا علی ؓؓ نے حضور اکرم ؐ کی روایت کو نبھاہتے ہوئے یہ شادیاں کیں تھیں ۔ناسخ نے اسی پس منظر کی طرف تلمیحی انداز میں اشارا کیا ہے۔
نہیں ممکن ، ہو کوئی مثلِ علی ؓؓ ، پر ناسخؔ/گیارہ فرزند ہوئے اُس کے برابر پیدا[کلیات ناسخ،جلد۲،ح،اول:108]
مشکل کشا: مشکل کشا خلیفہ چہارم علی ؓ المرتضیٰ کو دیا گیا لقب ہے۔اہل سنت کی اکثریت حضرت علی ؓ ؓ کو مشکل کشا مانتی ہے۔میرؔ مسلکی اعتبار سے اہل تشیع ہیں۔ اہل تشیع مسلک اور اہل سنت کے نزدیک مولا علی ؓ ؓ مشکل کشا ہیں۔میرؔ بھی مولا علی ؓ ؓ کو مشکل کشا مانتے ہیں۔ میرؔکہتے ہیں کہ گھبرانے اور سراسیمہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ مصیبت و نزاعت میں مشکل کشائی کرنے والی ذات ہمارے مولا علی ؓ ؓ کی ہے۔ ان کے ہوتے ہوئے ہمیں گھبرانے ،کسی اور کے آگے دامن پسارنے کی ضرورت نہیں ہے۔
میرؔ کہتے ہیں میری ہر مشکل آسان ہو جاتی ہے جب میں مولا علی ؓ ؓ کا ذکر کرتا ہوں اور ان کے سامنے دادِ فریاد کرتا ہوں۔ آتش اہل تشیع ہیں۔ ان کے نزدیک مولاعلی ؓ ؓ کی عقیدت بہت بڑھی ہوئی ہے اور جذباتیت کی حد تک متعقد دانہ عقیدت کے پیشِ نظر آتش مو لا علی ؓ ؓ کو مشکل کُشا کہتے ہیں۔ مرزاداغؔ بھی مولا علی ؓ ؓ کو مشکل کشا مانتے ہیں۔ داغؔ کہتے ہیں کہ مولا علی ؓ کے ہوتے ہوئے ہمیں گھبرانے کسی اور کے آگے دامن پسارنے کی حاجت نہیں ہے۔
ؔ اس دل گرفتہ کی یاں تو ملی نہ داد/عقدہ یہ لے کے جاوں گا مشکل کشا کے پاس[دیوان چہارم،میر،ص:۳۲۷]
دل کی گرہ نہ ناخنِ تدبیر سے کھلی /عقدہ کھلے گا میرؔ یہ مشکل کشا کے ہاتھ[دیوان پنجم،میر،ص:۵۴۴]
وقتِ مشکل میں کہا جس قت یا مشکل کُشا!/سہل چھٹکارا گرفتارِ بلا کا ہو گیا[کلیات آتش،ر،الف،ص:146]
نہ گھبرا عقدۂ دشوار سے اے داغؔ تو ہرگز/قسم مشکل کشا کی یہ کوئی مشکل میں مشکل ہے[یادگار داغ،ص:۶۹۵]
مشکیں لباس کعبہ علی ؓ ،ناف زمیں : غالب نے خانہ کعبہ کی زمین کو ’ناف زمین‘ یعنی پوری دُنیا کا مرکز قرار دیا ہے ۔ مشکین لباس کو حضرت علی ؓ کی پیدایش سے منسوب خیال کیاہے۔خانہ کعبہ کا غلاف چوں کہ سیاہ ہوتا ہے اس لیے اس کی سیاہ رنگت کی نسبت سے ناف ِغزال کی تشبیہ استعمال کی گئی ہے۔ ہرن کے ناف کی کستوری کی خوشبو سے سارا حرم مہک اُٹھا ہے۔ یہ مہک دراصل مولا علی ؓ ؓ کی پیدائش کی خوشبو ہے جو ہرن کے ناف کی خوشبو کا منبع بن گئی ہے ۔کعبہ کی زمین کو مرکزیت بھی مولا علی ؓ ؓ کی پیدایش سے نصیب ہوئی ہے۔ غالب نے حضرت علی ؓ ؓ سے اپنی عقیدت کے اظہار کے پیشِ نظر شعری تلازموں کا باہم ادغام اس انداز سے کیا ہے کہ بات کی پچ کو زمین سے اُٹھا کر آسمان پر لے گئے ہیں۔
مشکیں لباس کعبہ علی ؓ کے قدم سے جان/نافِ زمین ہے نہ کہ ناف غزال ہے[دیوان غالب،ص:۱۲۷]
معجزہ ذوالفقار: معجزہ ذو الفقار سے مراد مولا علی ؓ ؓ کی تلوار کا کرشمہ ہے۔ مولا علی ؓ ؓ نے غزوہ خیبر میں جب مرحب کا سر ذوالفقار سے دو ٹکرے کر ڈالا تھا اور آپ ؓ کی دہشت نے پورے قلعے کے کفار کو لرزہ ڈالا تھا تب سے ذوالفقار کی نسبت سے آپ ؓ کو حیدرِ ذوالفقار اور حیدر کرار کے لقب سے ملقب کیا جاتا ہے اور ہنوز آپؓ کو انھیں القاب سے عزت دی جاتی ہے اور تحسین کی جاتی ہے۔ آتش نے ذوالفقار کی رعایت سے محبوبِ ارضی کے آگے دل کو دو نیم کرنے کی پیش کش کی ہے۔ اپنے کلام کو معجزہ ذوالفقار قرار دیا ہے اور یہ تاثر دیا ہے کہ میرے کلام میں بھی مو لاعلی ؓ ؓ کی ذوالفقار ایسی تابناکی اور حدت موجود ہے اگر کوئی اس کو دل سے غور سے سُنے تو دل کو دو نیم کرنے کے لیے یہ کافی ہے۔
آتشؔ ہو دل دو نیم،سخن چیں اگر سُنے/اپنا کلام معجزہ ء ذوالفقار ہو[کلیات آتش،ر،و،ص:322]
وصف علی ؓؓ: میرؔ نے بجا کہا ہےکہ حضرت علی ؓ ؓ کے اوصاف حمیدہ کو کیسے کوئی بیان کر سکتا ہے ۔ جس کے بارے میں حضور اکرم ؐ نے فرما دیا :” میں علم کا شہر اور ہوں اور علی ؓ ؓ اس کا دروازہ ہے”(فتاویٰ رضویہ)۔ رب تعالیٰ نے جن کی پیدائش کو مکہ کے احاطے میں ہونے کو قبولیت بخشی؛ بی بی فاطمہ ؐ جن کے نکاح میں آئیں؛ امام حسن و حسین جن کی آل ہیں۔فتح خیبر کے جو فاتح ہیں۔ ان کے اُسوہ پر عمل عاشقان مولائے جہان کی کامیابی کا مظہر ہے۔
ممکن نہیں کہ وصفِ علی ؓؓ کوئی کر سکے/تفرید کے جریدے میں وہ پہلی فرد ہے[دیوان دوم،میر،ص:۶۴۳]
یا علی ؓ:یا علی ؓ ؓ سے مراد مو لاعلی ؓ ؓ کی ذات و شخصیت مراد ہے۔ حضرت علی ؓ ؓ کو یاعلی ؓ ؓ کہہ کر پکارنا اہل تشیع کے ہاں بہت مستعمل اور عام دیکھا گیا ہے۔ "یا” کی اضافت سے تقابل مسالک کے درمیان ایک لاحاصل قسم کی نزاعت نے صدیوں سے جنم لے رکھا ہے اور اس کا تاحال کوئی واضح اور متفقہ حل سامنے نہیں آسکا۔اس کے بارے میں مختلف آرا ء ہیں کہ اضافتِ "یا” سے کسی متوفیٰ شخصیت کے زندہ ہونے کو ثابت کرنا ہے اور اگر اس اضافت کے بغیر کسی کو مخاطب کریں تو مطلوب نتائج برآمد نہیں ہوتے۔
آتش نے بحرحال یا علی ؓ ؓ کہہ کر مو لاعلی ؓ ؓ سے اپنی عقیدت اور محبت کا اظہار کیا ہے اور یہ تاثر دیا ہے کہ راہ سلوک میں مو لا علی ؓ ؓ کی معیت میں سفر کی تکمیل منزل کے حصول کا واحد ذریعہ ہے۔ آتش کہتے ہیں کہ نفسِ اماراہ کے بُتِ پندار کو "یا علی ؓؓ” پکار کر توڑا جا سکتا ہے اور اس کی گردن مڑوری جا سکتی ہے ۔مولا علی ؓ ؓ تصوف کے امام اور سرخیل ہیں ۔ان کے وسیلے کے بغیر فنا فی الرسول تک پہنچنا ناممکن ہے۔
آتشؔ کی اِلتجا ہے یہی تم سے یا علی ؓؓ/صدمہ نہ ہو فشارِ لحد کے عذاب کا[کلیات آتش،ر،الف،ص:104]
یا علی ؓؓ کہہ کر بُتِ پندار توڑا چاہیے/نفسِ امارہ کی گردن کو مڑوڑا چاہیے[کلیات آتش،یا ےتختانی:439]
یا علی ؓ ؓپیر فقیر: یا علی ؓ پیر فقیر؛اسلامی تلمیح ہے جس کا تذکرہ کلاسیکی شعرا نے کلام میں مددواستعانت کے استعارہ کے حوالے سے کیا ہے۔ میرؔ کے ہاں حضرت علی ؓ ؓ کے بارے میں عقیدت و محبت و احترام کا جذبہ بہت بڑھا ہوا ملتا ہے۔ میرؔ کہتے ہیں یا علی ؓ ؓ کہنے سے ہر وہ ناممکن کام ممکن ہو جاتا ہے جس کی کوئی ممکنہ صورت دکھائی نہیں دیتی۔میرؔ کا صوفیانہ مزاج اس بات کی دلیل ہے کہ میرؔ نے مذہبی معاملات کے بارے میں کبھی سطحیت سے کام نہیں لیا بلکہ جہاں تک ممکن ہوا انھیں سہل اور آسان پیرائے میں بیان کیا ہے۔ کلامِ میر کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے؛ میرؔ کی انسان دوستی اور رواداری کا تصور صوفیانہ افکار کا نباض ہے۔
یا علی ؓؓ ہے گا میرؔ پیر فقیر/اب سزاوارِ لطف شاہا ہے[دیوان پنجم،میر،ص:۷۰۹]
حوالا جات:
1۔وحید الدین سلیم تلمیحات،اوکسفرڈ یونی ورسٹی پریس،کراچی،2019،ص3
2۔ علی ؓ محمد الصلابی،ڈاکٹر،سیدنا علی ؓ بن ابی طالب:شخصیت اور کارنامے،الفرقان پبلشرز،مظفر گڑھ،2018،ص42
3۔ مصاحب علی ؓ صدیقی،ڈاکٹر،اُردو ادب میں تلمیحات،نظامی پریس، لکھنو،1990،ص:112
4۔ مفتی محمد قاسم عطاری، شان ِ ولی، ماہنامہ،فیضانِ مدینہ،دعوت اسلامی پبلی کیشنز،کراچی،جنوری،2018ء
5۔عطا الرحمن صدیقی ندوی،ڈاکٹر،اردو شاعری میں اسلامی تلمیحات،عالمی رابطہ، ادبِ اسلامی،لکھنو،2004،ص187
6۔ محمد عباس عطاری،غزوہ خیبر،ماہنامہ،فیضانِ مدینہ،دعوت اسلامی پریس،کراچی،نومبر،2017ء
7۔ ضمیر نقوی،شہدائے کربلا،عباس بک ایجنسی ،لکھنو1999،ص125
8۔ عطا الرحمن صدیقی ندوی،ڈاکٹر،اردو شاعری میں اسلامی تلمیحات،ص214
9۔ محسن بلال خان،حضرت علی ؓؓ کی تلوار کا وزن،رُوزنامَہ،اوصاف،14 مارچ،2022ء
10۔ علامہ یوسف بنوری،دار الافتا،غدیر خم کی حقیقت کیا ہے؟بنوری ڈاٹ کام،17،مارچ،2022ء
11۔ محمد شبیر قادری، اِمَام علی ؓ کی آل و ازدواج کا قضیہ،رُوزنامَہ،حُریت،22،فروری،2017ء
Reference in Roman:
- Waheed u din Saleem,Oxford University Press, Karachi, 2019; p.3
2, Ali Muhammad Alsabi,Syeduna Ali Bin Abi Talib, Shakseat Aur Karnamy, Al-furqan Publisher,Mazzfar Garh, 2018, p. 42
3.Musahib Ali Saddique, dr.,urdu adab ma telmihat,nizami press, Lakhno,1990, p112
- Mufti Muhammad Qasim Attari, Shan e Wali, Mahnama,fiazan e Madina, Dawat e Islami Publication, Karachi,janwary,2018
5.Atta u Rehman Saddique, Nadvi, Dr., Urdu Shairi Ma islami Telmihat, Aalmi Rabta e Islami Adab, Lakhno, 2004, p. 187
6.Muhammad Abbass Attari, Ghazva e Khaibr, Faizan e Madina, Dawat e Islami Press, Karachi, Nov,2017.
- Zameer Naqvi, Shudya e Karbla, Abbass Book Ajancy, Lakhno, 1991, p. 125
8.Atta u Rehman Saddique, Nadvi, Dr., Urdu Shairi Ma islami Telmihat, P214
9.Mohsin Bilal khan,hazrat Ali ki talvaar ka wazan,rozmana,Osaaf,Lahore, March 14, 2022
10.allama Yousaf Banuri,dar-ul-ifta,ghad-e-kham ki haqeeqat kia hai? Banuri dot kam, 17 March, 2022
- Muhammad Shabbir qadri, imam e Ali ki aal o azdvaj ka qazea, rozman,Hurreat 22,Feb,2017
CONTACT:
MUHAMMAD MOHSIN KHALID
H.NO 03,ST.NO 09,SHADAB COLONY CHUNG MT/RD LHR
+92-301-4463640
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

