کہانیوں میں جب ہیرو جرائم کا خاتمہ کرتا ہے،کوئ آسمانی معجزہ ہوتا ہے اور باطل پر حق کی فتح ہوتی ہے تو دیکھنے والا اور سننے والا ایک عجب توانائی محسوس کرتا ہے اور وہ اس کہانی کا ہیرو خود کو تصور کرنے لگتا ہے وہ تمام کارنامے جو ایک معمولی گوشت پوست کا حق پرست نہیں کرسکتا وہ ان کہانیوں میں خود کو ہیرو تصور کرکے مسرت حاصل کرتا ہے اس کی لذت ہر وہ شخص اٹھاتا ہے جو خود کو ان کہانیوں کے کردار میں دیکھتا ہے۔ یہ دل کی کیفیت کے اظہار کا ایک طریقہ ہے۔عام انسان سے ذیادہ حسا س فنکار کا دل ہوتا ہے وہ اپنے محسوسات کا اظہار اپنے فن کے ذریعہ ہی کرتا ہے اپنے مخصوص طریقے سے۔ اور شاعر کا دل تو ویسے ہی بڑا نازک ہوتا ہے۔زندگی کے پر خار راہوں سے گزرتے وقت سردی کی تنہا راتوں میں کسی بے کس کو ٹھنڈ سے ٹھہرتے دیکھتا ہوا آہیں بھرتا ہے وہی کچھ دور پر عالیشان محلوں کو بھی دیکھتا ہے جہاں سردی دوگز دور ہاتھ باندھے کھڑی رہتی ہے۔روٹی کے چند نوالوں کی خاطر مار کھاتے بچے کو دیکھ کر جب اس کا کلیجہ پھٹنے کو ہوتا ہے وہی کچھ دور ریسٹورینٹ میں پر تکلف دعوتوں کا شاندار انتظام دیکھ کر وہ اپنے بہکتے قدم کو صراط مستقیم پر گامزن کرتے ہوۓ نظریں اوپر کرتا ہے اور کہہ اٹھتا ہے اللہ رحم۔۔۔۔۔۔۔
ٹرین کی بھاگ دوڑ میں ٹرین کی طرح دوڑتا ہوا ایک حساس دل روز ان واقعات کا مشاہدہ بہ نظر خود کرتا ہے۔اس کے ہاتھوں میں وہ طاقت نہیں ہوتی کہ ایک جھٹکے میں حق و انصاف کی ندیاں رواں کردے جب دم گھٹنے لگتا ہے تو وہ اس کیفیات کا اظہار کرنے سے خود کو روک نہیں پاتا اور جس نے قلم کو اپنی زندگی سونپ دی ہو جس کے اجداد نے قلم کو اپنے احتجاج کا ذریعہ بنایا ہو وہ چاہ کر بھی اظہار کا دوسرا ذریعہ نہیں بنا سکتا لہذا وہ قلم سے اپنے تمام تر کیفیات کا اظہار کرتا ہے کبھی قلم محبت کی داستان سناتا ہے تو کبھی سر پر کفن باندھے سر مقتل نظر آتا ہے۔مشتاق احمد حامی ایک ایسا ہی قلم کار ہیں جنہوں نے عمر کا ایک طویل حصہ ادب کی آبیاری کے نام وقف کردیا۔
مشتاق احمد حامی زندگی کی تلخ حقیقتوں کے شاعر ہیں انکے لہجے میں کھردرا پن ان کی شناخت ایک ایسے شاعر کے بطور پیش کرتا ہے جس نے ظلم کو ظلم کہنے میں کبھی پش و بیش نہ کی،خمیازہ کی پرواہ نہ کی جب حالات نے زندگی میں کڑواہٹ لانی چاہی حامی صاحب نے اس میں اپنی ہمت کی چینی ملائ اور گڑگڑا ہٹ کے ساتھ پی لیا۔
مشتاق احمد حامی صحافی،شاعر،مرتب ،ادیب اور مبصر ہیں ان کی کئی کتابیں منظر عام پر کر داد و تحسین وصول کر چکی ہیں۔تیس سالوں تک اردو روز نامہ اخبار مشرق سے وابستہ رہیں اور معتدد کتابوں پر ان کے تبصرے بھی شائع ہوئے۔ اردو زبان و ادب سے گہری عقیدت و محبت رکھتے ہیں اور اس بات کی ترجمانی انکی تصانیف کرتی ہیں۔”زرد ہواؤں سے” ان کا شعری مجموعہ ہےجو 2010 میں شائع ہوا۔اپنے احساسات کی ترسیل کے لئے انہوں نے نظم اور غزل دونوں کو چنا۔غزل کا جادو ایسا جادو ہے جس کی اثر سے بچنا ممکن نہیں۔ولیم ورڈس ورتھ نے لندن شہر کی خوبصورتی کے لئے جو فقرہ استعمال کیا تھا میں وہی فقرہ غزل کے حسن کے لئے استعمال کر رہا ہوں”Dull would he be of soul who could pass by”۔غزل اردو ادب کی شان ہے۔بدلتے حالات کے موافق جس نے خود کو ڈھالا وہ غزل ہی ہے جس کے موضوعات وقت کے ساتھ بدلتے گئے اوروسیع سے وسیع تر ہوتے گئے۔اس نے ہمیشہ بدلتے وقت کے ساتھ کندھے سے کندھے ملا کر چلی اور شاید اس لئےآج تک اس کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔
مشتاق حامی کے اشعار شہد میں ڈوبے نہیں ہوتے ان کا لب و لہجہ تیکھا ہے جو تیز اثر بھی ہے اور زمینی حقیقتوں کی ہو بہ ہو تصویر بھی۔
اب تو غنچوں کے رگوں سے بھی ٹپکتا ہے لہو
اس قدر گرم ہواؤں نے ستم ڈھایا ہے
بدلتے وقت کے ساتھ انسانی تہذیب بھی بدلتی گئ آج خاکی پتلے کے پاس بہت کچھ ہے مگر اخلاق نہیں۔ہماری تہذیب تو یہی عمر رسیدہ لوگ ہیں جن کے وجود سے ہمارے گزرے کل کی داستان بیان ہوتی ہے اور مستقبل کی رہنمائی ہوتی ہے یہ ہمارا اثاثہ ہیں مگر علم و دولت کی بے انتہا حصولیابی نے ہمارے دلوں کو اس قدر پھیر دیا ہے جہاں ہمیں اپنے علاوہ کوئی دوسرا دکھتا ہی نہیں اور ہم ان کی توہین کرتے ہوئے بھی نہیں شرماتے۔موصوف نے اس خیال کو یوں پیش کیا ہے
کتنا مردہ ہوا اس عہد کے انسان کا ضمیر
اپنے محسن کی برائی پہ اتر آیا ہے
ہمارا ملک جو امن کا گہوارہ تھا اسے کسی بدرو کی نظر لگ گئی اور اس کے لبوں سے مسکراہٹ چھن گئی۔گنگا جمنی تہذیب کا علمبردار ہمارا ملک ذات ، فرقہ، زبان اور رسم و رواج کے بنیاد پر بٹتا گیا، ایک دوسرے پر جان نچھاور کرنے والے ایک دوسرے کی جان کے دشمن بن گئے۔ اس پاک دھرتی پر قومی یک جہتی کے سارے پودے مرجھانے لگے، نفرت اور تشدد کا بازار گرم ہو گیا اب حال یہ ہے کہ انسان ڈرا سہما نہیں بلکہ انسانیت نگاہ نیچی کی ہوئی شرمسار ہے۔شاعر کا دل اس کربناک لمحوں کی تاب نہیں لا پاتا لہذا وہ چیخ پڑتا ہے۔
لاشیں زمیں پہ خون کے چھینٹیں فصیل پر
سڑکوں پہ جیسے خون کا دریا ابل پڑا
موصوف کے ہاں شعر گوئی کا بالیدہ شعور ملتا ہے۔الفاظ کے استعمال پر دسترس حاصل ہے۔زبان و بیان پر گرفت مظبوط ہے۔اپنی بات کہنے کا ہنر انہیں خوب آتا ہے۔آسان الفاظ کا استعمال ان کی شاعری کو زینت بخشتا ہے اور وہ جو کہنا چاہتے ہیں بابانگ دہل کہہ جاتے ہیں۔بے ساختگی، برجستگی اور ظرافت ان کے شعروں کو پر اثر بنا دیتی ہے۔
داغ تھا دل میں ریا کاری کا جب
آپ کا سجدہ ادا کیسے ہوا
موصوف حق پسند ہیں لہذا وہ کفر کے گھنگھور بادلوں سے خوف زدہ نہیں ہے۔جھوٹ،ریا کاری اور فریب اس کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتی،وہ صداقت پر مستحکم یقین رکھتا ہے اسے یقین ہے کہ سچ آخر سچ ہوتا ہے اور جیت آخر حق کی ہوتی ہے۔
اندھیرے کفر و باطل کے بڑھے ہیں جب تو ہم نے ہی
صداقت کا امیں بن کر چراغ حق جلایا ہے
مشتاق حامی کی شاعری حوصلے اور ہمت کی شاعری ہے،زیست کے سفر میں انسانی دل بے شمار ایسے حالات سے دوچار ہوتا ہے جہاں سواۓ مایوسی کوئی حقیقت نہیں ہوتی لیکن شاعر ان حالات میں بھی فاتح بن کر ابھرتا ہے اور یہ کہہ اٹھتا ہے
سخت حالات میں جو سینہ سپر ہوجاؤ
عزم کے سامنے طوفاں بھی ٹھہر جائے گا
موصوف کے شعری صندوقچے میں رومانی اشعار بھی بھرے پڑے ہیں جو اکثر ہماری نظروں سے اوجھل رہتے ہیں کیونکہ موصوف کے ہاں رومانیت کے عناصر کم ملتے ہیں انہوں نے اپنی شاعری کو بطور اظہار کرب ذیادہ استعمال کیا ہے۔ایک زندہ ضمیر شاعر روزمرہ کی کھردری حقیقتوں سے کنارہ کشی اختیار نہیں کرسکتا،وہ ان تمام بد ترین انسانی کرامتوں کو دیکھ کر بیزار ہو اٹھتا ہے پھر بھی شاعر کا دل خوبصورتی کا شیدائی ہوتا ہے اس کے آنکھوں میں بھی بہاروں کا منظر ابھرتا ہے جس میں کوئی نازنین سنہرے خواب سجائے اپنے راجکمار کا انتظار کرتی ہے لہذا شاعر اس کے انتظار کا حسن کے ساتھ حسن عشق کی سلامتی کے لئے دعا کرتا ہے۔
تمہارا حسن سلامت رہے زمانے میں
اسی دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے رکھتا ہوں
شاعر کو دیدار محبوب کی طلب بھی ہے، دل میں وصل کا خواب بھی،خواب میں وہ سراپا انتظار بھی۔اس ضمن میں موصوف کے چند اشعار پیش خدمت کر رہا ہوں۔
تمہاری دید کی حسرت لئے تڑپتا ہوں
خدا کے واسطے آجاؤ دو گھڑی کے لئے
پہنچ گیا ہے میرا عشق اس جگہ پہ جہاں
ترا خیال ہی کافی ہے بندگی کے لئے
جب ان کی مخمور نظر نے کی سرگوشی شوخی سے
پھر کیسے قابو میں رہتا آخر دل تھا ،مچل گیا
موصوف کے شعروں میں خدا کی وحدانیت پر مکمل ایمان کا جذبہ موجیں مارتا دکھائی دیتا ہے۔یہ حقیقت بھی کہ اس چند روزہ زندگانی کی حقیقت کچھ بھی نہیں، انسان کی عظمت،مرتبہ،بلندی کچھ بھی نہیں موصوف اس خالق دوجہاں کے آگے ہی اپنے دست طلب کو دراز کرنا چاہتا ہے جہاں سے کوئی خالی نہیں لوٹتا اور جہاں مانگنا باعث فخر ہے۔وہ دنیائے رنگ وبو کی اصلیت سے واقف ہے لہذا وہ ہاتھ اٹھائے رب دو جہاں سے کہتا ہے۔
میں خاکسار بن کے رہوں اس جہان میں
دل کو میرے غرور،تکبر،ریا نہ دے
موصوف اپنی شاعری میں بہت چوکس دکھائی دیتے ہیں۔وہ شاعری کو محض ایک شوق نہیں بلکہ بطور اپنے خیال کی ترسیل کا ایک ذریعہ مانتے ہیں۔الفاظ پر گرفت رکھتے ہیں اور ان کا شعری شعور اتنا بالغ ہے کہ اشعاروں میں جو اشارے ملتے ہیں بالکل واضح ہوتے ہیں ان کے شعروں میں مبہم استعارے،موضوعات نہیں ملتے اور نہ ہی مشکل پسندی ملتی ہیں میرے نزدیک آسان اور عام فہم زبان میں بڑی بات کہہ ڈالنا بڑی بات ہے اور یہ بڑی بات ان کی ذات میں پائی جاتی ہے۔سہل ممتنع کی شاعری نہ آسان ہے نہ سب کے بس کی بات ہے ہاں!مگر تیز اثر ضرور ہے۔آئے چند اشعار کا لطف اٹھاتے ہیں۔
قدم قدم آرزو کا مقتل
وفاؤں کے درمیان کیوں ہے
سکھاتا ڈوبنا ہر ظلم کو پسینے میں
میں ایک دن اگر آفتاب بن جاتا
وہ میرے دل کی دھڑکن
میں اس کے قدموں کی دھول
لڑتے لڑتے تیز ہوا کے جھونکوں سے
سوکھے پیڑ کا آخری پتہ ٹوٹ گیا
جھکا سجدے میں کوئی سر کہاں ہے
کسی دل میں خدا کا ڈر کہاں ہے
مشتاق احمد حامی کو اپنی تہذیب سے بے انتہا محبت ہے جب بھی کوئی واقعہ رگ حمیت بھڑکاتا ہے تو شاعر کا قلم چیخ اٹھتا ہے۔موصوف کو اپنی شاندار ماضی کا بھی پاس ہے وہ اکثر شعروں میں اس کا اظہار بھی کرتے ہیں جس قوم کی تاریخ اتنی شاندار رہی ہو وہ قوم آج تنگدستی،ناچاری،مفلسی،ناانصافی کا شکار بنی ہوئی ہے شاعر ان کے لئے خون کے آنسوں بہاتا ہے،انہیں ان کا ماضی کی تاریخ بھی یاد دلاتا ہےاور خداوند کریم سے دعا گو بھی ہے کہ حالات بہتر ہوں،موصوف کا کل ایمان بھی اس ذات حق پر ہے وہ ایسے اس لگائے ہوئے منتظر ہے،موصوف کے اشعار میں تلمیحات وافر مقدار میں ملتے ہیں جس سے ان کی تاریخ سے دلچسپی اور تاریخی حقائق سے ان کی آشنائی کا پتہ چلتا ہے۔
یہ آج غزنوی کے حق میں
شکست کی داستاں کیوں ہے
جو چل پڑے تھے حضرت موسی کے ساتھ ساتھ
دریائے نیل نے بھی انہیں راستہ دیا
ہم تو ابراہیم کی اولاد ہیں
ہم جلیں گے کیا تمہاری آگ میں
سمجھ کے وہ تمہیں سقراط دیکھنا حامی
تمہارے جام میں بھی زہر گھول جاۓ گا
مسائل زیست اور موضوعاتِ زیست بند فلیٹوں سے ذیادہ سڑکوں،گلیوں،راستوں اور بستیوں میں ملتے ہیں۔ایک قلم کار ان مسائل کو الفاظ کی زبان دیتا ہے اور ایک عام انسان دیکھ کر یونہی گزر جاتا ہے۔حامی صاحب اپنی شاعری کو ان موضوعات سے نہیں بچا سکے اور بچانا بھی نہیں چاہئے تھا ورنہ اشعار میں شاعر کا دل نہیں دھڑکتا بلکہ الفاظ ایک دوسرے کو زیر ،زبر کرتے دکھائی دیتے۔ شاعری حقیقت سے دور ہوجاۓ تو شاعری لفظوں کی ہنر کاری سے ذیادہ کچھ نہیں رہتی۔اس لۓ شاعری میں جذبات،کیفیات اور پرواز تخیل ہونی چاہئے جو حامی صاحب کی شاعری میں بدرجہ اتم موجود ہے۔شاعر کی اس بات پر آپ سے تھوڑا وقفہ لیتا ہوں کہ
اس کو سنانے کے لئے اک عمر چاہئے
میرا فسانہء غمِ دل مختصر نہیں۔
نسیم اشک
ہولڈنگ نمبر10/9گلی نمبر3
جگتدل 24 پرگنہ مغربی بنگال
فون۔9339966398
e-mail : nasimashk78@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page


1 comment
بہت عمدہ۔۔۔۔لاجواب