مغربی ادب کی تاریخ میں انقلاب فرانس (1799-1789) کی حیثیت بہت ہی اہم ہے،اس لیے کہ اس کے بعد جو تبدیلیاں عمل میں آئیں اور جو حالات پیدا ہویے ان کا براہ راست اثر ادب پر بھی پڑا،یہاں پر ادب نے نئی کروٹ اس طور پر لی کہ اس نے پرانے اصول اور بنے بنائے راستوں پر چلنے سے گریز کیا جس کی وجہ سے شاعری کی زبان،اس کے موضوعات کو قلعئہ معلی،امراء و رؤ ساء کے درمیان تلاش کرنے کے بجائے ان کو عام زندگیوں میں تلاش کرنے کی کوشش کی گئی،اس کا رشتہ عقل کی سطح سے زیادہ دل کی صدا اور جذبات کی ندا سے جڑ گیا،جس کا اندازہ "ورڈزورتھ” اور "کولرج” کی شاعری پر مبنی تصنیف "Lyrical Ballads” کی نظموں سے لگایا جا سکتا ہے،،”Lyrical Ballads”کی تمہید میں "ورڈزورتھ ( Wordsworth)”نے اپنی شاعری کے مقاصد اور اسباب و محرکات پر جو بحث کی ،وہ بحث دراصل اس تنقید کا آغاز ہے،جس پر کولرج کے ذریعہ ایک "نئی تنقید” کی مضبوط و مستحکم عمارت "Biographia Literaria” کی شکل میں تعمیر ہوئی
اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ "ورڈزورتھ” کی فکری جڑیں درج ذیل انقلابات اور انقلابی و فکری شخصیت سے ضرور وابستہ رہیں:
1-انقلاب فرانس
2-صنعتی انقلاب
3-سائنسی ترقی
4-روسو
"ورڈزورتھ” نے تمہید میں جن نظریات سے سروکار رکھا ان کو موٹے طور پر ان الفاظ کے ذریعہ سمجھا جا سکتا ہے:
° شاعری و نثر میں کوئی فرق نہیں ہے
°شاعری کے لیے دیہات میں رہ رہے افراد کی زبان زیادہ موزوں ہے
شاعری کا مقصد علم دینا یا ہدایت عطا کرنا نہیں بلکہ مسرت بہم پہنچانا ہے،علم دور کی چیز ہے،شاعری اس میں روح پھونک کر اسے قریب کر دیتی ہے۔ شاعر،تہذیب کا معلم نہیں بلکہ ایک ایسا آدمی ہے جس کا ادراک زندہ ہے،جس کے جذبات زیادہ ہیں اور وہ انسانی فطرت سے بہت زیادہ واقف ہے-
مذکورہ نظریات کی پیشکش میں "ورڈزورتھ” سے جو غلطیاں ہوئیں "کولرج” نے نہ صرف یہ کہ "Biographia” میں ان کی اصلاح کی بلکہ ان میں توازن قائم کرکے تنقید کے لیے نئی راہیں روشن کیں،”Biographia” کولرج کی سب سے اہم تصنیف ہے،اس کی اہمیت صرف اس اعتبار سے نہیں کہ اس میں انہوں نے "ورڈزورتھ” کی غلطیوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنے جوابات سے ان میں ایک قسم کا توازن پیدا کیا بلکہ رومانوی نظریۂ شاعری کے حوالے سے جو باتیں سامنے آییں اور جو مسائل پید ہوئے ان کی بھر پور وضاحت کولرج کا بڑا کارنامہ ہے ،،Biographia میں کولرج کے انداز تحریر سے اس بات کا صاف پتہ چل جاتا ہے کہ تنقید ایک نئی اور ایسی راہ پر گامزن ہے،جس میں کلاسیکی تنقید کے بندھے ٹکے اور سکہ بند اصول اس کے راستے کا روڑا قطعی نہیں بن سکتے،یہی وجہ ہے کہ شعر کیا ہے؟شاعرکی فطرت میں کن خصوصیات کا ہونا ضروری ہیں؟طرزادا کی روایات کہاں تک درست ہیں؟ اور انہیں کیسے درست ہونا چاہیے؟ جیسے سوالات پر کولرج کی تنقید کی بنیاد پڑتی ہے،یہاں پر ادب کی تفہیم کے لیے فلسفہ کا سہارا لینے کی شعوری کوشش ہے ،اور یہ ایسی کوشش ہے جس کے ذریعہ تنقید بھی علم کے دائرے میں داخل ہوتی نظر آتی ہے اور شاعر کی حیثیت کا تعین میکانکی پابندی سے نہیں بلکہ روح کے آہنگ سے ہوتا نظر آتا ہے
"بائیو گرافیا” کا آغاز کولرج نے شاعری سے متعلق دو کلیوں کے قائم کرنے سے کیا ہے
1-"عمدہ شاعری وہ ہے ،جس کا لطف بار بار پڑھنے سے بڑھتا ہی جاۓ”
2-"جن اشعار میں الفاظ کو بدل دینے سے فرق نہیں پڑتا،وہ بیکار ہوتے ہیں”
اسی بنیاد پر کولرج کا ماننا ہے کہ "ملٹن” اور”شیکسپیئر” جیسے شعراء کے کلام میں اگر ایک لفظ بھی اپنی جگہ سے ہٹا دیا جائے یا پھر اس میں ردو بدل ہو پورے معنی ختم ہو جاتے ہیں،Biographia کی دلچسپ اور اہم بحث تخیل (Imagination) اور محاکات (Fancy) کی بحث ہے ،اس میں کولرج نے تخیل کو محاکات کا نچلا درجہ قرار دے کر ملٹن اور کاوٹلی کو بالترتیب دونوں کی عملی مثال کے بطور پیش کیا ہے ،تخیل اور محاکات کے متعلق کولرج کی رایے یہ ہے کہ اگر دونوں کی مکمل تشریح ہو جائے تو فنون کی بالعموم اور شاعری کی بالخصوص مکمل تعریف کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اور ایسے اصول بھی وضع کیے جاسکتے ہیں جو شاعری کی پرکھ میں ہمیشہ مفید ثابت ہوں،اسی ضمن میں کولرج ،ورڈزورتھ کی اولین کوشش کوقدر کی نگاہوں سے دیکھ کر خود کی سرگرمیوں کواس سے ان الفاظ میں جوڑنے کی کوشش کرتا ہے”ورڈزورتھ نے شاخوں اور پھلوں کی تصویر کھینچ دی ہے،کولرج تنا اور جڑ شامل کر دینا چاہتا ہے” لیکن اس جملے کے معا بعد کولرج اس بحث سے قطع نظر پانچویں باب سے تیرہویں باب تک فلسفے کی بحث چھیڑتا ہے ، جس میں وہ فلسفے کے سارے dimensions پر تفصیلی گفتگوکرتا ہے،جس کو تخئیل کی تمہید کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے
اس تمہید کے بعد کولرج تیرہویں باب کی سرخی ان الفاظ میں قائم کرتا ہے "Imagination or EsemplasticPower” تاہم اس سرخی کے باوجود وہ ان پر تفصیلی بحث نہیں کرتا بلکہ دو الگ الگ پیراگرافس پر ہی اکتفا کرتا ہے،لیکن یہی دونوں پیراگرافس Biographia کی اساس قرار پاتے ہیں اور ان کی اہمیت مغربی ادب کے باب میں مسلم ہو جاتی ہے:
تخیل (Imagination)-"تخیل کو میں بنیادی اور ثانوی دو حیثیتوں سے دیکھتا ہوں،بنیادی تخیل میری نظر میں زندہ طاقت ہے جو انسانی فہم کا خاص محرک ہے ،یہ محدود ذہن کے لامحدود خالق کی قوت خودی کا عکس ہے،ثانوی کے سلسلہ میں میرا مطمح نظر یہ ہے کہ یہ بنیادی آواز کی بازگشت ہے جو شعوری قوت ارادہ کے ساتھ رہتی ہے مگر پھر بھی اپنی حرکت میں بنیادی کی طرح ہے ،یہ تخلیق کو عمل میں لانے کے لئے چیزوں کو حل کرتی ہے،پھیلاتی ہے ،برباد کرتی ہے،جہاں یہ عمل نا ممکن ہوتا ہے وہاں عینی اور متحد تاثرات پیدا کرتی ہے،یہ خاص طور پر زندہ ہے جیسے کہ تمام چیزیں ساکت اور مردہ ہیں” (یہ بھی پڑھیں نظم آوارہ کا فکری و فنی مطالعہ – محمد فرقان عالم )
محاکات (Fancy)-"محاکات کے پاس ساکت و جامد اشیاء سے کھیلنے کے علاوہ کوئ کام نہیں،محاکات حافظہ کا ایک جزء ہے ،حافظہ زمان و مکان سے بالاتر ہو جاتا ہے جبکہ محاکات ان سے ملحق ہو جاتی ہے اور قوت ارادہ کے اس جزء میں تبدیل ہو جاتی ہے جس کو انتخاب سے موسوم کیا جاتا ہے،مگر عام حافظے کے ساتھ محاکات اپنے تمامتر مواد کو بنا بنایا حاصل کرتی ہے”
مذکورہ دونوں پیراگراف ایسے ہیں جن پر جدید نفسیاتی تنقید کے باب میں کافی زور دیا گیا ہے،،تخیل اور محاکات کی تعریف پر مبنی یہ الفاظ حرف آخر تو نہیں ہو سکتے ،ہاں البتہ ایک دایمی حقیقت کو دایمی الفاظ کے سانچے میں ڈھالنے کی شعوری کوشش ضرور ہوی ہے ،چودہ سے بیس تک کے ابواب Biographia میں اس طور پر اہمیت کے حامل ہو جاتے ہیں کہ ان میں نہ صرف یہ کہ شاعری پر تخیل کی کارفرمائی کے اشارے ہیں بلکہ جدید شاعری کے فنی تقاضوں اور انداز و اسالیب پر بہت سی ایسی مفید باتیں سامنے آ جاتی ہیں جو دایمی ہونے کے ساتھ تنقید نگاری کے باب میں کافی اہم متصور ہوتی ہیں،،ان ابواب میں کولرج ،ورڈزورتھ کی دوستی پر روشنی ڈالتے ہوئے ان دو اہم موضوعات کو بھی سامنے لاتا ہے جو دونوں کے درمیان زیر بحث رہے
1-ایک وہ قوت جو فطرت کی نقل کرکے قاری کے ذہن کو حقیقت سے آشنا کرتی ہے
2-وہ طاقت،جو تخیل کے رنگوں کے ذریعہ حقیقت کو بدل کر دلچسپی پیدا کرتی ہے
دراصل انہیں دونوں موضوعات کو زیر بحث لا کر،کولرج اور ورڈزورتھ نے مغربی شاعری کو ایک نۓ دور سے آشنا کرنے کی کوشش کی، کولرج نے مافوق البشر حالات اور کردار کو اپنی نظموں کا موضوع اس طور پر بنانا چاہا کہ وہ نمایاں ہونے پر قدرتی معلوم ہوں ،جبکہ ورڈزورتھ نے عام واقعات اور کردار کواس انداز میں موضوع بنایا کہ تخیل کی روشنی سے وہ مافوق البشر معلوم ہوں۔انہیں مقاصد کے تحت دونوں نے نظمیں تخلیق کیں جو Lyrical Ballads نام کے مجموعے میں شامل ہوئیں،یہیں پر کولرج ،شعر،شاعری اور شاعر کے حوالے سے سوالات قایم کرتا ہے اور پھر ان کے جوابات کے طور پر سب کی الگ الگ تعریف بیان کرتا ہے:
شعر کی تعریف:”شعر یا نظم میں مواد وہی ہوتا ہے جو نثر میں ،صرف فرق یہ ہوتا ہے کہ اس میں وزن،قافیہ وغیرہ کے ذریعے وہ صوتی اثر پیدا ہوتا ہے جو شعر سے مخصوص ہے ” شعر کی تعریف پر مبنی ان الفاظ کے ساتھ کولرج کا یہ بھی ماننا ہے کہ محض میکانکی تعمیر سے شاعری ممکن نہیں بلکہ شاعری کے لیے ایک لطف انگیز رفتار کی ضرورت پڑتی ہے،جو مصر کے سانپ کی چال کی طرح ہو جس کو مصر والوں نے اپنی طاقت کا نشان بنایا تھا،یعنی یہ محسوس ہو کہ ایک طاقت رک رک کر قوت حاصل کر رہی ہے اور بڑھ رہی ہے،شعر کی تعریف اور اس سے متعلق بحث کے بعد کولرج شاعری کی طرف آتا ہے لیکن شاعری کے ضمن میں وہ درج ذیل الفاظ پر ہی اکتفا کرتا ہے”اس نے جو کچھ تخیل اور محاکات کے سلسلے میں کہا اس میں شاعری کی تعریف آ جاتی ہے” اس طرح پھر وہ آگے شاعر کی تعریف ان الفاظ میں کرتا ہے”شاعر اپنی عینی حالت میں انسان کی پوری روح کو حرکت میں لاتا ہے اور اس روح کی مختلف طاقتوں کو ایک دوسری کی قیمت اور وقعت کے مطابق ترتیب دیتا ہے،وہ ایک اتحاد کا آہنگ پھونکتا ہے جو ہرچیز کو دوسری میں اس جادو کی طاقت سےگلاتا اور ملاتا ہے جس کو مخصوص طور پر میں تخیل کہتا ہوں” مذکورہ تعریف کے علاوہ وہ ان صفات کی بھی نشاہدہی کرتا ہے جن کے ذریعے ایک پیدائشی شاعر کو پہچانا جا سکے،اس سلسلہ میں وہ مثال کے طور پر شیکسپیئر کی پہلی نظم Venus and Adonis 1593 کو پیش کرتا ہے،جس میں فن خام ہے مگر فطری قوتیں اچھی طرح نمایاں ہیں،،صفات درج ذیل ہیں:
°اشعار کے ترنم کی دلکشی
°شاعر کی عام دلچسپیوں اور حالات سے موضوع کی دوری
°تصورات
°خیالات کی گہرائی اور زور
درج بالا صفات کے ذکر کے بعد کولرج جدید دور کے شعراء کا پندرہویں اور سولہویں صدی کے شعراء سے موازنہ کرکے اس خواہش کا اظہار کرتا ہے کہ ایک ایسے شاعر کی ضرورت ہے جو دونوں ادوار کے شعراء کا امتزاج ہو،،Biographia کے سترہویں اور اٹھارہویں باب میں کولرج نے ورڈزورتھ کے نظریۂ طرز ادا پر جو ورڈزورتھ نے Lyrical Ballads میں قائم کیا تھا بحث کی ہے،یہاں پر خاص بات یہ ہے کہ ورڈزورتھ کی کولرج نے دل کھول کر تعریف کی ہے اور پھر اس کے نظریات کا بہت ہی ہمدردانہ لیکن منصفانہ جائزہ لیا ہے،ورڈزورتھ کا ماننا ہے کہ "شاعری کی زبان عام دیہاتی زندگی گذار رہے افراد کی زبان ہونی چاہیے” ورڈزورتھ کے ان الفاظ کا مقصد یہ ہے کہ دیہاتی لوگوں میں انسانی جذبات بہترین طریقے پر پاۓ جاتے ہیں،اس کے برعکس کولرج اس کی وضاحت ان الفاظ میں کرتا ہے”اگر دیہاتی زبان میں سے دیہاتی پن نکال دیا جائے تو وہ شریف لوگوں کی زبان ہو جائے گی پھر دیہاتی زبان پر زور دینے کے کیا معنی؟” وہ یہ بھی واضح کرتا ہے کہ "دیہاتیوں کا ذہن پست ہوتا ہے،ان کی زبان کا تہذیب یافتہ فن کے سلسلے میں نام لینا فضول ہے” در اصل یہاں پر کولرج کا نظریہ یہ ہے کہ بلاشبہ شاعری تصنع اور بناوٹ سے عاری ہونی چاہیے لیکن اس کی زبا ن معیاری ہو جو روز مرہ کی معیاری زبان سے قریب ہو جس میں شاعر حسب حال اضافہ وتغیر سے بھی کام لے اسی طرح کولرج ،ورڈزورتھ کے اس نظریہ کی بھی خوبصورت تردید کرتا ہے کہ شاعری اور نثر میں کوئ فرق نہیں،جس کی وضاحت ورڈزورتھ کی شاعری اور نثر کے ذریعہ ہی وہ بہتر انداز میں کرتا ہے،ساتھ ہی ہر ملک وقوم اور ہر دور کے شعراء کے عمل سے یہ ثابت کرتا ہے کہ شاعری کی زبان نثر کی زبان سے مختلف ہوتی ہے،ان سب کے بعد کولرج ،ورڈزورتھ کے نظریہ کی تہوں تک پہنچ کر یہ بتانے کی کوشش کرتا ہے کہ دراصل ورڈزورتھ رائج الوقت شاعری کے بناوٹی انداز سے حد درجہ پریشان ہو کر مناسب زبان کی تلاش میں انتہا پسندی کا شکار ہو گیا. (یہ بھی پڑھیں قاضی عبدالودودکا اسلوبِ تحقیق – ڈاکٹر صفدر امام قادری )
حالانکہ کولرج نے ورڈزورتھ کے فنی اعتراف میں کوی کمی نہیں ہونے دی ہے یہی وجہ ہےکہ انہوں نے ورڈزورتھ کی نمایاں نظموں کو نیچرل شاعری کی عمدہ مثال قرار دے کر انگریزی شاعری کے باب میں ورڈزورتھ کا پانچواں مقام متعین کیا ہے،Biographia کے مذکورہ بالا ابواب اپنی متنوع بحث کی وجہ سے یورپ کی تنقید نگاری میں شاہکار کی حیثیت رکھتے ہیں،اس لیے کہ تنقید کے دونوں عناصر، اصول کی وضاحت اور افراد کی خصوصیات کا تعین یہاں پر مکمل انداز میں پایۂ تکمیل کو پہنچے ہیں
خلاصہ یہ کہ کولرج نے Biographia میں اپنے نظریات کو بہت ہی واضح انداز میں پیش کیا ہے ،ساتھ ہی ورڈزورتھ کی بعض بے اعتدالیوں کو بھی پیش نظر رکھا ہے جس کی وجہ سے اس کے تنقیدی نظریات بہت ہی متوازن معلوم ہوتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ "بوطیقا” کے بعد یورپ میں Biographia کے بعض نظریات کو ابدی حیثیت حاصل ہو گئی بلکہ کولرج کا Imagination ارسطو کے Imitation کا متوازی محسوس ہوا،بلاشبہ کولرج اپنی گرانقدر تصنیف Biographia کی وجہ سے مغربی تنقید کے باب میں تابندہ رہے گا
کتابیات:
1-S.T Coleridge, Biographia Literaria-Vol 1
New York,Holt &Williams,October,1872
2-Lyrical Ballads,T.N Longman,Paternoster
-Row, London,1798
3-محمد احسن فاروقی،کولرج کی بایوگرافیہ،لٹریریہ-مشمولہ کلاسیکیت اور رومانویت۔علی جاوید 1999,ص 289-282
4-ڈاکٹر جمیل جالبی،ارسطو سے ایلیٹ تک،ایجوکیشنل پبلیشنگ ہاؤس،دہلی ،2015,
5-کلیم الدین احمد،قدیم مغربی تنقید،اتر پردیش اردو اکادمی،2004,
6-پروفیسر شارب ردولوی،جدید اردو تنقید اصول ونظریات،اتر پردیش اردو اکادمی،2015
***
8800514745
frqnalam@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
آپ کی کوششیں قابل ستائس ہیں۔