Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
نصابی موادنظم فہمی

نظم آوارہ کا فکری و فنی مطالعہ – محمد فرقان عالم

by adbimiras ستمبر 6, 2021
by adbimiras ستمبر 6, 2021 0 comment

اسرار الحق مجاز[1911-1955]دنیا ئے اردو کا وہ نام ہے جو سرزمین ردولی کی خاک سے ذرہ بن کر اٹھا اور جلد ہی اردو شاعری کے افق پر آفتاب بن کر چھا گیا۔۔تقریباً دو دہائیوں تک اس کی کرنوں سے بے شمارمحفلیں،نشستیںاور بزمیں منور ہوتی رہیں اور ذہنی تازگی و دلی مسرت کے ساتھ ،زندگی کی شادابی کا سبب بنتی رہیں۔یہ کرنیں مجاز کی وہی نظمیں ہیں جو آج بھی ایک خاص لے اور غنائیت کی وجہ سے سماعتوں میں رس گھولنے کے ساتھ ذہنوں کو دستک دیتی ہیں اور دلوں میں تحریک بھی پیدا کرتی ہیں۔

مجاز کی نظموں میں مذکورہ خصوصیات کی وجہ ان کی زندگی کی جامعیت ہے۔ان کی زندگی ہمیشہ رومان اور انقلاب کا حسین سنگم رہی۔یہ الگ بات ہے کہ ابتدا میں رومانیت کا غلبہ زیادہ رہا ،تاہم اپنے ہم عصر خاص شعرا کی صحبتوں سے انقلابی عناصر بھی ایک خاص رفتار کے ساتھ مجاز کی زندگی میں شامل ہوتے رہے۔جس کا نتیجہ آگے چل کریہ ہوا کہ ان کی شاعر ی میں رومان اور انقلاب باہم اس طرح مربوط ہو گئے کہ ان کے درمیان تضاد کی دیواریں حائل نہ ہو سکیں جس کا اندازہ ان کی دوسرے مرحلے کی نظموں ’’اندھیری رات کا مسافر‘‘۔’’خواب سحر‘‘۔’’نوجوان سے‘‘۔’’سرمایہ داری‘‘اور ’’آوارہ‘‘ وغیرہ سے لگایا جاسکتا ہے۔جس کا اعتراف فیض احمد فیض نے بھی ’’آہنگ‘’کے دیباچے میں کیا ہے:

’’مجاز کی شاعری سازو جام اور شمشیر ،تین اجزا سے مرکب ہے۔مجاز کے یہاں بیشتر شعرا کے بر عکس ان عناصر میں فرضی تضاد کی دیواریں نہیں ملتیں بلکہ شمشیر کی صلابت اور سازوجام کا گداز ایک دوسرے میں گھل مل گئے ہیں۔‘‘

’’آوارہ‘‘ بھی دوسرے مرحلے کی نظموں میں سے ایک ہے ۔جو دیگر نظموں سے اس لیے بھی مختلف ہے کہ اس میں مجاز نے رومان سے انقلاب تک کا سفر آوارگی کی فضا میں طے کیا ہے اور اس آوارگی کی پشت پر 1937کا وہ سنگین ترین دور ہے جس میں مجاز محبت اور معیشت دونوں کی ناکامی کی بھینٹ ایک ساتھ چڑھے۔نتیجتاً وہ نظم تخلیق ہوئی جو ایک ناکام عاشق اور نامراد انسان کو آوارگی کی فضا میں انقلابی بناتی ہے اور ایسی بغاوت پر آمادہ کرتی ہے جس میں جذباتیت کا عنصرغالب ہی نہیں بلکہ اغلب ہے۔

’’آوارہ‘‘ پندرہ بندوں پر مشتمل ایک ایسی نظم ہے جس میں جہاں ترجیع بند کے استعمال سے فنی سطح پر ایک خاص قسم کی غنائیت کا احساس ہوتا ہے وہیں دو متضاد چیزوں کے ملاپ سے فکری سطح پر تین الگ الگ کیفیات سامنے آتی ہیں۔

I        ابتدائی چار بندوں میں شاعر کیف و نشاط سے پر رنگین فضا کے ذکر کے ساتھ اپنی زندگی کی بے کیفی اور طبیعت کی ناہمواری کو بیان کرتا ہے۔معاً اپنی ناکامی اور نامرادی کی وجہ بھی بیان کرتا ہے۔

II       بعد کے چھے بندوں میں شاعر اپنی آوارگی کی کیفیت سے فرار کی راہ تلاش کرتا ہے ۔اس کے سامنے مشورۃً ’’میخانہ‘‘۔’’کاشانہ‘‘اور ’’ویرانہ‘‘ جیسے الفاظ بھی پیش کیے جاتے ہیں تاہم شاعر اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ اس کی ناکامی اور بے رنگ زندگی کا بہ ظاہر کوئی علاج نہیں۔ (یہ بھی پڑھیں سوشل میڈیا کی ترقی اور اردو کا موجودہ منظرنامہ – محمد فرقان عالم )

III     مذکورہ چھے بندوں کے بعد ایک بند میں شاعر دونوں کیفیات کو باہم مربوط کر نا چاہتا ہے تا کہ اس بند کا سرا پچھلی اورا گلی کیفیات سے ملایا جاسکے نیز اسی طرح شاعراخیر کے چار بندوں میں اپنی بے چینی،اضطراب اور الجھنوں کو جذًبات کی آگ میں جھونک کر بغاوت کا ایسا شعلہ بھڑکانا چاہتا ہے جوسارے نظامہائے باطل اور قصر سلطانی کی گنبد کو جلا کر خاکستر کردے۔

زیر نظر مضمون میں مذکورہ کیفیات کا ہی قدرے تفصیل سے جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے۔

نشاط انگیز فضا اور شاعر کی بے کیفی

ابتدائی چار بندوں میں مجاز نے اپنی آوارگی کی کیفیت کے ساتھ اس کی وجہ بھی بتانے کی کوشش کی ہے ۔شاعر کا ماننا ہے کہ شہر کے خوب صورت مناظر،سڑکوں کی چہل پہل،قمقموں کی جھلملاہٹ یہ ساری چیزیں بلا شبہ ذہن کو تازگی اور دل کو سکون بخشنے کے ساتھ ساتھ نگاہوں کو خیرہ کرنے والی ہیں۔تاہم ان میں اس کے لیے بے چینی ،اضطراب اور وحشت کے سوا کچھ بھی نہیں ،وہ اس ماحول سے فرار کا متلاشی ہے اور پھر شاعرایسی رومانوی فضا میں اپنی آوارگی کا سبب بھی بیان کرتا چلا جاتا ہے ،جس کا اندازہ ذیل کے بند سے لگا یا جاسکتا ہے:

شہر کی رات اور میں ناشاد و ناکارہ پھروں

جگمگاتی جاگتی سڑکوں پہ آوارہ پھروں

غیر کی بستی میں کب تک دربدر مارا پھروں

اے غم دل کیا کروں، اے وحشت دل کیا کروں

اس خوب صورت بند کے تیسرے مصرعے میں شاعر نے اپنی آوارگی کی وجہ بھی بیان کردی ہے۔دراصل’’غیر کی بستی‘‘کے ذریعے شاعر کا مدعا یہی ہے کہ جس بستی میں ناکامی و نامرادی ہاتھ لگی ہو،دل میں تیشہ چلا ہو ،ذہن میں وحشت طاری ہوئی ہو،وہ بستی قطعی اپنی نہیں ہوسکتی ۔یہی وجہ ہے کہ اس بستی کی روشن گلیاں ،جگمگاتی سڑکیں شاعر کے لیے باعث تسکین ہونے کے بجائے وحشت کا سامان ہیں۔’’غیر کی بستی ‘‘سے اسی 1937کے سنگین حالات کی جانب اشارہ ہے جس میں جہاں ایک طرف مجاز کی محبت، ناکامی کی دہلیز پر دم توڑدیتی ہے وہیں دوسری طرف معاشی مسائل بھی بے روزگاری کی شکل میں مجاز کے سامنے منہ کھولے کھڑے نظر آتے ہیں ۔نتیجتاً یہ دونوں ناکامیاں مجاز کو جن کیفیات سے دوچار کرتی ہیں مذکورہ بند میں ان ہی کیفیات کا ذکر ہے۔

اس طرح شاعر اسی فضا میں آگے کا سفر طے کرتا ہے اور اس دوران میں وہ ایک نئے منظر اور اس کی کشش کو سامنے لا کر اس کی روشنی میں اپنی بے چارگی کی کیفیت کو واضح کرتا ہے ۔اس منظر کی دل چسپ بات یہ ہے کہ اس میں شاعر روپہلی چھاؤں اور آسمان کے تاروں کو صوفی کے تصور اور عاشق کے خیال سے تشبیہ دے کر شعر میں ایسی خوب صورتی پیدا کردیتا ہے کہ جس کے بعد اس کا درد بہت ہی واضح اور زخم بہت ہی ہرا نظر آنے لگتا ہے۔جس کا بہ خوبی اندازہ ذیل کے بندسے لگایا جاسکتا ہے:

یہ روپہلی چھانو، یہ آکاش پر تاروں کا جال

جیسے صوفی کا تصور، جیسے شاعر کا خیال

آہ! لیکن کون جانے، کون سمجھے جی کا حال

اے غم دل کیا کروں، اے وحشت دل کیا کروں

اس بند میں غور کرنے کا پہلو یہ ہے کہ شاعر نے ’’آہ!‘‘ کا لفظ استعمال کرکے اپنے درد کی شدت کو بہت ہی واضح انداز میں بیان کیا ہے ۔جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاعر کے درد کو محسوس کرنے والا نہ کوئی دل ہے،نہ ہی اس کو تسلّی دینے والی کوئی زبان اور نہ ہی اس کے زخم پر مرہم رکھنے والی انگلیاں۔شاعر ایسی حالت میں خود کو تنہا اور بے بس محسوس کررہا ہے اور پھر آپ ہی الجھن کی کیفیت کے ساتھ غم اور وحشت سے مشورہ طلب کررہا ہے ۔یہ غم اور وحشت سے مشورہ طلب کر نا ہی اس پوری نظم کی بنیاد ہے جس پر نظم’’آوارہ‘‘کی شان دار عمارت قائم ہے۔جس سے شاعر کی آوارگی کی کیفیت پورے طور پر سامنے آتی ہے۔جہاں اس بات کا بھی اندازہ ہوتا ہے کہ شاعر، شدت غم کی منزل کو پار کر کے وحشت کی منزل تک پہنچ چکا ہے۔جس کی وجہ سے پوری فضا اس کے لیے وحشت ناک ہے۔اس کے بعد نظم میں ایک نئی کیفیت کا احساس ہونے لگتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں احمد اشفاق: ’بے سمت منزلوں کا نشاں ڈھونڈتے ہیں ہم‘ – ڈاکٹر نوشاد منظر )

آوارگی کی شدت اور نئی منزل کی تلاش

آنے والے چھے بندوں میں نظم کا رخ ایک نئی سمت کی طرف متعین ہوتا نظرآتا ہے۔جہاں شاعر اپنی شدت آوارگی کو کم کرنے کے لیے ایک نئی منزل کی تلاش میں ہے ۔اپنے ارد گرد کے ماحول سے فرار ،اس کی توجہ کا مرکز ہے ۔ایسے میں اس فرار کے لیے اس کے سامنے ’’میخانہ‘‘۔’’کاشانہ‘‘اور ’’ویرانہ‘‘جیسی راہیں ہیں۔جن میں سے کسی ایک کو اختیار کر کے شاید وہ سکون کی منزل کو پالے۔شاعر کی اس کیفیت کو ذیل کے بند میں محسوس کیاجاسکتا ہے:

رات ہنس ہنس کر یہ کہتی ہے کہ میخانے میں چل

پھر کسی شہناز لالہ رخ کے کاشانے میں چل

یہ نہیں ممکن، تو پھر اے دوست! ویرانے میں چل

اے غم دل کیا کروں، اے وحشت دل کیا کروں

اس بند کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں اس بات کا بھرپور اندازہ ہوتا نظر آتا ہے کہ ایک آوارہ کی شدت آوارگی کم کرنے کی منزلیں کیا کیا ہوسکتی ہیں؟یا تو وہ میخانے میں جائے گا،لیکن یہاں شاعر جس کیفیت کا شکار ہے اس میں صرف میخانہ ہی کافی نہیں ،اس لیے کہ میخانے میں غم تو غلط ہوسکتا ہے لیکن وحشت سے فرار ممکن نہیں ہے۔وحشت سے فرار کی جگہ محبوبہ کا کاشانہ ہے جہاں تک رسائی ناممکن ہے ۔اخیر میں شاعر کو ویرانہ کا مشورہ ملتا ہے جس میں بلا شبہ آوارگی کی کیفیت میں کمی کا احساس ہوسکتا ہے لیکن ہنوز وحشت کا برقرار رہنا لازمی امر ہے۔ایسی صورت میں شاعر کے لیے مصائب کے دروازے ہنوز وا ہیں جس کا اظہار شاعر نے اگلے بند میں کیا ہے۔ان سب کے باوجود جب کہ شاعر غم کی شدت اور وحشت کی خطرناکی کا حد درجہ شکار ہے ۔اس کے پایۂ ثبات میں لغزش نہیں ہے۔ وہ سرگرم سفر رہنا ہی اپنی عادت و فطرت سمجھتا ہے ۔تاہم اس کو ایک کمی کا احساس اب بھی ہے کہ اس کی قسمت میں کسی کا ملنا نہیں ہے۔اس طرح اب وہ ا س آخری منزل تک پہنچ جانا چاہتا ہے،جہاں وہ بے جا آرزؤں اور تمناؤں کے شیش محل کو چکنا چور کرکے بالکل آزاد ہوجائے۔ عہد وفا کا اسے قطعی پاس و لحاظ نہ رہے۔شاید یہ تمنائیں اور یہ عہد وفا ہی اس کے لیے سد راہ ثابت ہورہے ہوں ۔اس لیے وہ اس سے بھی آزاد ہو کر آوارگی کی اس منزل پر پہنچ جانا چاہتا ہے جس میں اضطراب،بے چینی،چڑچڑاہٹ اور غصے کی شدت ہی ان کو کسی حدتک سکون بخش سکے جس کو شاعر اس بند میں واضح کرتا ہے:

جی میں آتا ہے کہ اب عہد وفا بھی توڑدوں

ان کو پاسکتا ہوں میں، یہ آسرا بھی توڑدوں

ہاں، مناسب ہے، یہ زنجیر ہوا بھی توڑدوں

اے غم دل کیا کروں، اے وحشت غم کیا کروں

اس بند میں شاعر کے تیور بدل جاتے ہیں ۔اس کے اندر بغاوت کی چنگاری روشن ہوتی نظر آتی ہے ۔شاعر رومانوی فضا و ماحول کو خیر آباد کہہ کر انقلاب کی دہلیز پر آن کھڑا ہوتا ہے ۔یہاں شاعر کی نگاہوں کا مرکز اس کے دل کا محور حکمراں و سلاطین ،ان کے مظالم اور ان کی ناانصافیاں ہیں اور شاعر شدت جذبات میں پورے نظام کو ہی نیست و نابود کردینا چاہتا ہے۔یہاں پر یہ بات بالکل واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ ایک عام انسان کسی بھی صورت میں بغاوت میں اتنا آگے نہیں بڑھ سکتا،وہ بغاوت پر آمادہ بھی ہوگا تو اس کا انداز مختلف ہوگا ،لیکن یہاں پر بغاوت کا یہ بے حد جذباتی انداز، اس نظم کے خدو خال پورے طور پر متعین کررہا ہے، کیوں کہ جس رَو میں یہ نظم یہاں تک پہنچی ہے اور شاعر جن کیفیات کے ساتھ اس میں نمو دار ہوتا رہا ہے،اس کے بعد شاعر سے ایسی ہی کیفیت کی امید ہے جو کہ اس کی ناکامی کا اظہار ہے،اس کے غم اور اس کی وحشت کو کم کرنے کا بہت ہی کارگر ہتھیار بھی ۔

رومان اور انقلاب کا حسین سنگم

مذکورہ منظر اور اس سے قبل کے مناظر کے بیچ جو خاص بات ہے،وہ یہ ہے کہ ایک بند میں شاعر نے گریز کی طرح دونوں مناظر کی کچھ خصوصیات شامل کردی ہیں۔جن میں موجودہ نظام کی ناہمواری بھی جھلکتی ہے اور نجی زندگی میں محبت کی ناکامی کے بے کیف مناظر بھی سامنے آتے ہیں،جن کو ذیل کے بند سے سمجھا جاسکتا ہے:

اک محل کی آڑ سے نکلا وہ پیلا ماہتاب

جیسے ملا کا عمامہ، جیسے بنیے کی کتاب

جیسے مفلس کی جوانی، جیسے بیوہ کا شباب

اے غم دل کیا کروں، اے وحشت دل کیا کروں

اس بند کی حیثیت پوری نظم میں گریز کی سی ہے ۔جس کے ذریعے شاعر رومانوی کیفیت سے انقلابی کیفیت کی طرف کوچ کرتا ہے۔اب تک شاعر رومانوی فضا میں بے کیفی کا شکار تھا جس سے مایوس ہوکراس نے انقلابی سفر طے کرنا چاہا لیکن یہاں بھی ظاہری مناظر کچھ اور ہیں اور باطنی کچھ اور۔اس بند کی دل چسپ بات یہ ہے کہ اس کے ذریعے رومانی اور انقلابی کیفیات کو جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔دراصل محل کی آڑ سے نکلا ہوا پیلا ماہتاب،دونوں کیفیات کے لیے بے کیف علامت ہے ۔یہاں پر پیلے ماہتاب کو دوالگ الگ مناظر سے تشبیہ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔

’’ملا کا عمامہ‘‘۔’’بنیے کی کتاب‘‘ یہ علامت ہے حقیقی زندگی میں ناسازگار فضا کی۔ دونوں کے رنگوں سے بہ ظاہر زندگی کی چمک کا احساس ہوتا ہے ۔لیکن اس چمک میں زندگی کی رمق نہیں ہے جس کی وجہ سے اس کی حیثیت فریب کے سوا کچھ بھی نہیں ۔اسی طرح مفلس کی جوانی اور بیوہ کا شباب بھی بے رنگ و بے معنی ہیں۔جوانی اپنی ناکامی اور شباب اپنی نامرادی کے باوصف اپنی اصل سے کوسوں دور ہے جس میں زندگی کی رعنائیاں اور شادابیاںنام کو بھی نہیں ہیں۔اس طرح شاعر نے دونوںکیفیات کو ایک بند میں جمع کرکے جہاں ایک طرف رومانیت و انقلابیت میں ہم آہنگی پیدا کی، وہیں نظم میں ایک الگ طرح کی خوب صورتی کو بھی پیش نظر رکھا ہے۔

بغاوت کی آندھی اورشاعر کی جذباتی کیفیت

اخیر کے چاربندوں میں شاعر مکمل طور پر باغی ہو چکا ہے ۔اب بس وہ بغاوت کی چنگاری روشن کر نے پر آمادہ ہے۔پورے نظام سے نالاں ہو کر اس کو درہم برہم کر دینے پر اس کو قرار حاصل ہو سکتا ہے۔جس کا پورا پورا اظہار اس بند سے ہوتا نظرآرہا ہے:

جی میں آتا ہے، یہ مردہ چاند تارے نوچ لوں

اِس کنارے نوچ لوں، اور اُس کنارے نوچ لوں

ایک دو کا ذکر کیا، سارے کے سارے نوچ لوں

اے غم دل کیا کروں، اے وحشت دل کیا کروں

اس بند سے یہ حقیقت بالکل واضح ہوتی نظر آرہی ہے کہ شاعر اب آوارگی کی اس منزل پر پہنچ چکا ہے جہاں اس کے لیے کسی بھی شے میں زندگی باقی نہیں۔وہ ذہنی الجھنوں اور درد انگیز دلی کیفیات کا اس درجہ شکار ہے کہ پورے نظام کو درہم برہم کر نے کے سوا اس کو کچھ بھی نظر نہیں آتا اور یہ وہ کیفیت ہے جس سے وہ اپنی محبت کی ناکامی سے لے کر حقیقت کی تلاش تک دوچار رہا اور جب حقیقت کی تلاش میں بھی وہ ناکام رہا تو پھر یہ کیفیت اس کے اندر مایوسی کی شکل اختیار کرگئی ۔نتیجتاً وہ جذبات کی آندھی میں بغاوت کا شعلہ بھڑکانے پر آمادہ ہوااور پھر شاعر اسی رَو میں آگے بڑھتا چلا جاتا ہے ۔ایک طرف وہ اپنی مفلسی کے سامنے بے بس ہے تو دوسری طرف سلطان جابر اورچنگیز خاں و نادر کو بھی وہ قطعی برداشت کرنے کو تیار نہیں ہے۔

نتیجتاًاس کے جذبات کی چنگاری اس درجے بھڑک اٹھتی ہے کہ وہ پھراپنے اندر کا سارا غبار اور اپنے غصے کا پورا خمار پورے نظام کو نیست و نابود کر نے کے ذریعے نکال دینا چاہتا ہے۔اس طرح نظم اپنی آخری منزل کو پہنچ جاتی ہے اور شاعر آخری بند میں اپنی مکمل بھڑاس نکال کر نظم کو یوں مکمل کرتا ہے:

بڑھ کے اس اندرسبھا کا سازو ساماں پھونک دوں

اس کا گلشن پھونک دوں، اس کا شبستاں پھونک دوں

تخت سلطاں کیا میں سارا قصر سلطاں پھونک دوں

اے غم دل کیا کروں، اے وحشت دل کیا کروں

خلاصہ:

بلا شبہ ’’آوارہ‘‘مجاز کی ایک بہت ہی اہم نظم ہے۔اس میں جہاں ایک طرف مجاز کی ذہنی فضا کا اندازہ ہوتا ہے اور اس کے انقلابی رجحان سے آگاہی ہوتی ہے وہیں رومان اور انقلاب کے خوب صورت ملاپ اور دونوں کی شدت سے ذہن پر ایک الگ منظر ابھرتا ہے اور طبیعت پر ایک خاص کیفیت طاری ہوتی ہے ۔ساتھ ہی ترجیع بند کی غنائیت سے دونوں میں چار چاند بھی لگ جاتے ہیں۔اس کی بڑی وجہ کتاب مادی کی ورق گردانی سے زیادہ کتاب زندگی کی سطورپر مجاز کی گہری اور اچٹتی دونوں نگاہوں کا ہونا ہے۔جیسا کہ منظر سلیم نے بھی اس جانب اشارہ کیاہے:

’’مجاز کتابوں کے نہیں ،زندگی کے شاعرتھے ۔کتابوں سے ان کا رشتہ اتنا گہرا اور پائے دار بھی نہیں ،جتنا زندگی سے تھا۔‘‘

اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ مجاز یہ نظم فکری اور فنی دونوں سطحوں پر اپنی الگ شناخت رکھتی ہے۔

کتابیات:

احتشام حسین،پروفیسر،مجاز کی شاعری میں رومانوی عناصر،مشمولہ: تنقید اور عملی تنقید،لکھنؤ،نصرت پبلی کیشنز،ص:112،1983

سروش،رفعت،اسرار الحق مجاز،یادوں کا دریچہ۔دہلی ،اردو اکادمی،دہلی۔2010

مجاز:آہنگ،دہلی، آزاد کتاب گھر،ص:11،1956

منظر سلیم،مجاز:حیات اور شاعری۔لکھنؤ،نصرت پبلی کیشنز۔ص:112،1983

 

 101   چند ربھاگا ہاسٹلجے این یو،نئی دہلی110067

موبائل:8800514745

  ای میل:frqnalam@gmail.com


(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

 

فرقان عالممجازنظم آوارہ
0 comment
3
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
احمد اشفاق: ’بے سمت منزلوں کا نشاں ڈھونڈتے ہیں ہم‘ – ڈاکٹر نوشاد منظر
اگلی پوسٹ
امارت شرعیہ کی فکری و انتظامی انفرادیت – مفتی محمد ثناءالہدیٰ قاسمی

یہ بھی پڑھیں

آزادی کے بعدکی نظمیہ شاعری کا اسلوب –...

نومبر 19, 2024

جدید نظم : حالی سے میراجی تک (مقدمہ)...

ستمبر 29, 2024

الطاف حسین حالؔی کی "مولود شریف "پر ایک...

اگست 27, 2024

نظم کیا ہے؟ – شمس الرحمن فاروقی

جولائی 23, 2024

ساحر کی نظمیں: سماجی اور تہذیبی تناظر –...

جولائی 9, 2024

فیض کا جمالیاتی احساس اور معنیاتی نظام –...

جون 2, 2024

طویل نظم سن ساٹھ کے بعد – پروفیسر...

جون 2, 2024

نظم ’’ابو لہب کی شادی ‘‘ایک تجزیاتی مطالعہ...

فروری 11, 2024

ساحر لدھیانوی کی منتخب نظموں میں امن کا...

جنوری 28, 2024

اخترالایمان کی نظموں میں رومانی عناصر – نہاں

اکتوبر 30, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں