میڈیا،عوامی ذراءع ترسیل و ابلاغ ہے،جس کو انگریزی زبان میں (mass communication) سے موسوم کیا جاتا ہے،جس کے ذریعہ حقائق،واقعات،حالات اور افکار و خیالات کا تبادلہ ہوتا ہے ،دراصل یہ سماجی دو طرفہ عمل ہے ،اس کی بنیاد عربی زبان کا لفظ "ترسیل” اور لاطینی زبان کا لفظ "communis” ہے،ترسیل کے معنی روانہ کرنا جبکہ communis کامن اور مشترک کو واضح کرتا ہے، انگریزی communication کا ماخذ لاطینی communis ہے، یہی وجہ ہے کہ اردو میں میڈیا کا مکمل نام عوامی ذرائع ترسیل و ابلاغ قرار پایا جبکہ انگریزی میں Mass communication ،ان دونوں ناموں میں وہ ساری چیزیں پوشیدہ ہیں جو میڈیا کی خصوصیات شمار کی جاتی ہیں،اس میں give & take کا عمل ہمیشہ جاری رہتا ہے
مذکورہ باتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے ڈاکٹر شاہد حسین نے اپنی کتاب "ابلاغیات” میں میڈیا کے حوالے سےEdwin Emery Phillip کی درج ذیل تعریف کو نقل کیا ہے "Delivering to information,ideas,and attitudes to a sizable and diversified audience through use of a media developed for that purpose”1 ایڈون ایمیری کی یہ تعریف راقم کے ابتدائی الفاظ سے بہت حد تک مطابقت رکھتی ہے ساتھ ہی "ترسیل” اور "communis” جیسے الفاظ کی مکمل ترجمان بھی نظر آتی ہے،میڈیا کی دو قسمیں ہیں:
١- پرنٹ
٢-الیکٹرانک
پرنٹ،میں اخبارات،رساءل اور مجلات شامل ہیں جبکہ الیکٹرانک میں،ریڈیو،ٹی وی اور ٹیلی ویژن وغیرہ،اول الذکر میں تحریر کو بنیادی حیثیت حاصل ہے اور آخر الذکر میں تقریر یعنی آواز کو،دونوں میں تبادلہ کے لیے کسی زبان کی ہی ضرورت پڑتی ہے، زبان انسانوں کا آپس میں متعارف ہونے کا سب سے اہم ترین آلہ ہے،انسان کے جذبات،احساسات،افکار، زبان ہی کے پیرایہ میں ایک دوسرے تک پہنچتے ہیں،تہذیبوں کا تعارف،تمدن کی شناخت اور طرز بود و باش کا مکمل اندازہ زبان کے ذریعہ ہی ممکن ہو پاتا ہے،غرض انسانی زندگی کی مکمل تصویر زبان ہی واضح کرتی ہے،ایسے میں میڈیا کے لیے زبان ضروری قرار پائی ،نتیجتا محل کے اعتبار سے میڈیا نے الگ الگ زبانوں کا انتخاب کیا اس طرح اردو زبان بھی میڈیا کے لیے اہمیت کی حامل زبان ثابت ہوءی اور پھر میڈیا کے ذریعہ اردو زبان و ادب کا غیر معمولی فروغ ہوا۔
بر صغیر ہند و پاک سے کثیر تعداد میں اخبارات منظر عام پر آئے جن کا سلسلہ ہنوز جاری ہے،یہ اخبارات عوامی ذہن کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی خبریں بہم پہنچاتے ہیں،کالمز کی شکل میں دلچسپ مضامین شائع کرتے ہیں ، بزنس،روزگار اور کھیل وغیرہ کے صفحات کے ذریعہ بھی اردو زبان میں مفید چیزیں قارئین تک پہنچانے کی کوشش میں مصروف عمل ہیں، بلاشبہ اردو زبان کو عوامی سطح پر بھی خاصی مقبولیت عطا کرنے میں ان اخبارات کا کردار غیر معمولی رہا ہے جن میں جہاں ہندوستان سے،سہارا،انقلاب،آگ،قومی تنظیم،فاروقی تنظیم، ہماراسماج، سیاست، اعتماد، اخبارمشرق، اودھنامہ، ہندوستان ایکسپریس،وغیرہ جیسےاخبارات شامل کیے جا سکتے ہیں وہیں پاکستان سے، ایکسپریس،جنگ، دنیا، امت، نوائے وقت،مشرق،خبریں،آج،جسارت،محاسب،آزادی،ملت اور جرات وغیرہ جیسے اخبارات بھی اہمیت کے حامل ہیں،،ان کے علاوہ ادبی،فکری اور خالص مذہبی مجلات بھی خواص کے طبقہ میں اہم رول ادا کر رہے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں اردو ادب پر سوشل میڈیا کے مثبت اثرات – ساجد حمید )
الیکٹرانک میڈیا کے باب میں،نیوز چینلز،اور ان کے مختلف پوگرامس بہت ہی اہم ہیں،،خبروں کے علاوہ اردو کے ثقافتی پروگراموں نے چینلز کے پلیٹ فارم سے اردو کے داءرہ کو کافی وسعت بخشی،پاکستان کے ساتھ ہندوستان میں بھی چینلز کے ذریعہ اس طرح کے پروگرام پیش کیے جاتے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ پاکستان میں اس طرح کے پروگرامس کثیر تعداد کے ساتھ بڑے پیمانے پر پیش کیے جاتے ہیں ،اس کی بڑی وجہ اردو کو ملکی زبان کا درجہ حاصل ہونا ہے۔
ہندوستان میں جو نیوز چینلز اردو میں پروگرامس نشر کرتے ہیں اورمختلف ثقافتی محفلیں بھی آراستہ کرتے ہیں ان میں،زی سلام،ڈی ڈی اردو،نیوز ١٨ اردو،عالمی سمے،ای ٹی وی اردو اور منصف وغیرہ سر فہرست ہیں جبکہ پاکستانی نیوز چینلز میں،اے آر وائی زندگی،اے آر وائی ڈیجیٹل،ہم ٹی وی،ہم ستارے،سماں ٹی وی،آج نیوز،دنیا نیوز اور روہی جیسے چینلز اہم شمار کیے جا سکتے ہیں
درج بالا سطور سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ میڈیا کے ذریعہ اردو کی راہیں کس طرح ہموار ہوئیں اور ہو رہی ہیں،یہی وجہ ہے کہ عوامی مقبولیت کے پیش نظر کارپوریٹ سیکٹرز نے بھی اس میدان میں طبع آزمائی شروع کی اور اردو کے ذریعہ اپنے بزنس کو فروغ دینے میں بھی وہ کسی طرح پیچھے نہیں رہے
بہر کیف!یہ میڈیا کے ذریعہ اردو کے فروغ کا ایک پہلو تھا جو یقیناً اہم پہلو ہے تاہم اکیسویں صدی کی دوسری دہائی میں میڈیا کی دنیا ایک نئے انقلابی دور سے آشنا ہوئی،جس میں میڈیا کی رسائی اجتماعی زندگی کے ساتھ انفرادی زندگی تک بھی ہو گئی،موبائل کی غیر معمولی مقبولیت نے اس کو مزید مضبوطی عطا کی،اس طرح "سوشل میڈیا” کی شکل میں میڈیا کے ایک نئے اور بہت ہی حساس دور کا آغاز ہوا،جس کے ذریعہ دیگر زبانوں کے ساتھ اردو زبان کا دائرہ بھی کافی وسیع ہوا،لوگ براہ راست ایک دوسرے سے وابستہ ہوئے،تبادلہ خیال کا طویل سلسلہ شروع ہوا نتیجتاً زبان کی دنیا میں بھی ایک اہم تبدیلی ممکن ہو سکی،جس سے اردو کا بھی مستثنیٰ رہنا ممکن نہیں تھا۔
یوں تو "سوشل میڈیا” کے باب میں "فیسبک” ، "واٹس ایپ”, "انسٹا گرام” ،”یو ٹیوب” ،”زوم” ،”گوگل میٹ” وغیرہ کافی اہم ہیں تاہم زیر نظر مقالہ میں ان میں سے چند کاہی جاءزہ پیش کیا جاتا ہے تاکہ ان کے سیاق میں یہ سمجھا جا سکے کہ اردو کا موجودہ منظرنامہ کس حد تک "سوشل میڈیا” سے متاثر ہے؟ اور اردو زبان و ادب کی ترقی "سوشل میڈیا” کی ترقی سے کتنی وابستہ ہے؟ ذیل میں "فیسبک” ،”واٹس ایپ” اور "زوم” کا قدرے تفصیل سے جائزہ پیش کیا جاتا ہے:
١-فیسبک
"فیسبک” Mark Zuckerberg اور ان کے دوستوں کے ذریعہ 2004 میں تیار کی گئی سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ ہے ،جس کو 2006 تک ،”ہارورڈ یونیورسٹی” کے طلباء و طالبات کےلئے ہی مخصوص رکھا گیا،اگر موجودہ تناظر میں کہا جائے تو یہ ایک قسم کا واٹس ایپ گروپ تھا ،جس میں ہارورڈ یونیورسٹی کے طلباء و طالبات کے درمیان تبادلہ خیالات ہوتے تھے،لیکن جب 2006 کے بعد جونہی اس کے دروازے عام لوگوں کے لیے بھی کھولے گئے تو ایک قسم کا انقلاب آ گیا،اس وقت اس کے صارفین کی تعداد تقریباً ٣ بلین کے قریب ہے،اس میں تبادلہ خیال کے لیے ،ویڈیوز،میسیجز اور پوسٹس کا سہارا لیا جاتا ہے،جن کی مختلف زبانیں ہوتی ہیں،صارفین اپنی پسند کے مطابق زبانوں میں اپنے خیالات،جذبات،احساسات اور تجربات ایک دوسرے سے شییر کرتے ہیں،اس پلیٹ فارم کے ذریعہ اردو داں طبقہ نے بھی غیر معمولی دلچسپی لی اور پھر غیر اردو داں طبقہ تک بھی ان کی زبردست رسائی ممکن ہو سکی،اس میں شاعری،افسانے ،افسانچے اور انشائیے وغیرہ کافی مؤثر ثابت ہوئے، ان کے ساتھ سیاسی مضامین،سماجی موضوعات،مذہبی خیالات اور فکری تناظرات بھی اردو کے قالب میں ڈھل کر ذہن کے دریچے اور دل کے گوشے وا کرنے میں معاون تسلیم کیے گءے،بلاشبہ مذکورہ مواد کو فیسبک کے پلیٹ فارم سے دنیا کے سامنے پیش کرنا دراصل اردو کا ایک خوشگوار ماحول پیدا کرنا ثابت ہوا،اس سلسلہ کو مزید وسعت ان گروپس سے ملی جو ادبی،سیاسی ،سماجی اور تہذیبی گتھیوں کو سلجھانے کے مقصد سے create کیے گئے، ان میں بیک وقت کءی ممالک کے افراد کی شراکت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ یہ گروپس صرف تفریح کے ذرائع نہیں بلکہ اردو زبان و ادب اور ہندوستانی تہذیب و ثقافت کو آفاقیت بخشنے کے غیر معمولی آلات بھی ہیں،خود راقم کءی ایسے "فیسبک گروپ” کا گواہ ہے جس میں الگ الگ "ایونٹس” منعقد کیے جاتے ہیں اور ان کے مواد یعنی تخلیقات پر بے باکانہ رائے رکھنے کی کھلی اجازت بھی ہوتی ہے،نتیجتا تخلیقات کے ساتھ بعض ایسی تحریریں بھی سامنے آ جاتی ہیں جو "ادبی مجلات” کے تنقیدی مضامین سے بھی زیادہ اہم معلوم ہوتی ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں سوشل میڈیا پراردوتلفظ اور لفظیات کی حالتِ زار عوامل اورتدارک- نایاب حسن )
اسی طرح کسی خطے کی تاریخ،تہذیب اور ادبی منظر نامہ پرمشتمل سلسلے وار مضامین بھی "سوشل میڈیا” کے ذریعہ اردو کے دائرہ کی وسعت کو بیان کرتے نظر آتے ہیں،اس سلسلہ میں بہت ہی اہم نام ،احسان الاسلام (احسان قاسمی) صاحب کا بھی ہے جنہوں نے سیمانچل کے ادبی منظر نامہ کو بہت ہی باریک بینی کے ساتھ فیسبک کے ذریعہ علمی و ادبی دنیا کے سامنے پیش کیا ہے،اگر یہ مضامین کتابی شکل میں جمع کر دے جائیں تو ان کی حیثیت ایک دستاویز کی ہو جائے گی،اسی لیے کہنا چاہیے کہ "ہارڈ کاپی” کے ساتھ "سافٹ کاپی” میں بھی کسی دستاویز کوپیش کیا جا سکتا ہے، اس کی پہل احسان قاسمی صاحب کے ذریعہ ہوءی اور اس کی راہ فیسبک نے ہی ہموار کی. بلاشبہ اردو زبان و ادب کی ترویج و اشاعت میں فیسبک نے بہت ہی اہم کردار ادا کیا،جس سے انحراف ممکن نہیں.
٢-واٹس ایپ
واٹس ایپ،ایک سوشل نیٹ ورکنگ ایپ ہے،یہ Jan Koum اور Brian Acton کے ذریعہ 2009 میں منظر عام پر آیا،یہ دونوں Yahoo میں ملازم تھے،انہوں نے iPhone کے ذریعہ واٹس ایپ کا پہلا تجربہ کیا،یہ ایپ بھی فیسبک کے زیر اثر ہی ہے،اس ایپ کا بنیادی مقصد بھی تحریر،تقریر اور ویڈیوز کے ذریعہ ہم کلامی کی راہ ہموار کرنا ہے.
اس کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ 2020 تک کی رپورٹ کے مطابق اس کے صارفین کی تعداد تقریباً ٢ بلین کے قریب ہے،اس میں الگ الگ زبانوں میں لوگوں نے اپنی زندگی کے لمحات،احساسات اور خیالات ایک دوسرے سے شییر کیے،گروپس create کے معاملے میں اس نے فیسبک کو بھی پیچھے چھوڑ دیا،اس کی وجہ یہ رہی کہ اس کا براہ راست تعلق موبائل نمبر سے رہا ،نتیجتا بالمقابل فیسبک کے ،صارفین کے لیے اس میں آسانیاں زیادہ پیدا ہو گئیں اور پھر براہ راست رابطہ کے لئے یہ بہت ہی اہم پلیٹ فارم ثابت ہوا،اردو داں طبقہ نے بھی اس سے خاطر خواہ فائدہ اٹھایا،ادبی گروپس کے ساتھ، تعلیمی ،سماجی اور خاندان کے افراد پر مشتمل گروپس بھی بنائے،جن میں رابطہ کی زبان اردو ہی رہی،دلچسپ بات یہ رہی کہ بعض وہ افراد جو یا تو اردو سے نا آشنا تھے یا پھر جن کی اردو کمزور تھی،ان کے لیے بھی واٹس ایپ،اردو سے دلچسپی لینے کا بہترین ذریعہ ثابت ہوا،راقم کئی ایسے گروپ سے وابستہ ہے جس میں اردو کے تقریباً معاملات نہ صرف یہ کہ زیر بحث آتے ہیں بلکہ مواد کی سطح پراردو کے اہم سرمایوں سے استفادہ کا بھر پور موقع بھی میسر ہوتا ہے
اس لیے کہنا چاہیے کہ "سوشل میڈیا” کی دنیا میں اردو کے فروغ کا ایک بہت ہی اہم،موثر اور مضبوط آلہ واٹس بھی ثابت ہوا،جس کی افادیت سے انکار ممکن نہیں
٣-زوم
زوم،ویڈیو کانفرنسنگ کے لیے بہت ہی معاون ایپ ہے،اس کے ذریعہ آن لائن کلاسیز،سیمینارز،سمپوزیمز اور پبلک میٹنگز وغیرہ بحسن و خوبی پایہ تکمیل کو پہنچتے ہیں،یہ Eric Yaun کے ذریعہ 2012 میں منظر عام پر آیا،اس کی اہمیت کا مکمل اندازہ covid19 میں ہوا ،جب تمامتر وسائل بے معنی ٹھہرے،انسانی زندگی جامد بن کر رہ گئی،ایک دوسرے سے تبادلۂ خیال اور استفادہ کی راہیں مسدود ہوکر رہ گئیں،کلاس رومز،سیمینارہالز اور علمی مجالس ویرانے میں تبدیل ہو گئے،ایسے میں خاص طور پر zoom اور Google meet کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم ثابت نہیں ہوئے،یقینا ان کا استعمال پہلے بھی تھا،لیکن لوگوں کی بڑی تعداد ان ایپس سے ناواقف تھی،ظاہر ہے عام حالات میں ان کی ضرورت اتنی نہیں پڑی تھی جتنی کہ covid19 میں کووڈ،میں تعلیمی مشاغل سے لے کر،ادبی،سماجی اور سیاسی مذاکرات ،ہر سطح پر zoom اورmeet سے بھر پور فائدہ اٹھانے کی کوشش کی گئی،یہی وجہ ہے کہ 2020 میں zoom عالمی سطح پر پانچ سب سے زیادہ down load کیے گئے ایپس میں سے ایک ٹھہرا،477 ملین لوگوں نے اس کو down load کیا اور اس کو اپنے فائدے کے لئے بہتر طور پر استعمال کیا،اس کے پلیٹ فارم سے جہاں بڑے پیمانے پر اردو کی کلاسیں لی گئیں وہیں کثرت سے سیمینار اور مذاکرے بھی کرائے گئے،اردوداں طبقہ کے ساتھ غیر اردو داں طبقہ نے بھی اس طرح کے پروگراموں میں کافی دلچسپی لی،جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عالمی سطح پر اردو زبان و ادب کا نہ صرف یہ کہ بہترین تعارف ہوا بلکہ اپنے مختلف اور متنوع پروگراموں کی وجہ سے کسی بھی طرح دوسری زبانوں کے بالمقابل پیچھے نہیں رہی،بلاشبہ اردو کی وسعت و ہمہ جہتی کے ذرائع کے باب میں یہ ایپس بہت ہی سود مند ثابت ہوئے،جن کی حقیقت سے نگاہیں نہیں چرائی جاسکتیں۔ (یہ بھی پڑھیں اردو ویب پورٹل‘ ادبی میراث ’ میری نظر میں – ڈاکٹر قمر جہاں )
خلاصہ یہ کہ موجودہ دور "سوشل میڈیا” کی ترقی کا دور ہے،یہ "مین اسٹریم میڈیا” کے شانہ بہ شانہ چل رہا ہے،کئی معاملوں میں اس سے بھی دو قدم آگے ہے،ایسے میں کسی بھی زبان کے فروغ میں اس کا کردار بہت ہی اہم ہو جاتا ہے، اردو زبان و ادب کا موجودہ منظرنامہ بھی بہت حد تک "سوشل میڈیا” سے وابستہ ہے بلکہ اس پلیٹ فارم کے ذریعہ اردو کی رفتار زیادہ تیز متصور ہوتی نظر آ رہی ہے جو یقیناً خوش آءند بات ہے،اس لیے اردو کے فروغ میں "سوشل میڈیا” کی خدمات تسلیم کرنے کے ساتھ اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعہ فروغ پا رہے ادب کو قابل اعتنا سمجھا جائے اور اس کی اصلاح کے لیے وہی اقدامات کیے جائیں جو عموماً اس کے علاوہ ادب کے لیے کیے جاتے ہیں،اگر ایسا کیا جاتا ہے تو زبان کے ساتھ میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعہ ادب کا بھی مزید بہتر فروغ ممکن ہو سکے گا ساتھ ہی "سوشل میڈیائی ادب” بھی اردو ادب کے قیمتی سرمایوں میں شمار ہوگا۔
کتابیات:
1-ڈاکٹر محمد شاہد حسین،ابلاغیات،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،دہلی 2004،ص 10,11
2-ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز،اردومیڈیا،کل،آج،کل-ہدی پبلیکیشنز،حیدرآباد 2015
3-ڈاکٹرسید سلیمان اختر،الیکٹرونک میڈیا کی تاریخ،کتابی دنیا دہلی 2010
4-گوگل،ویکیپیڈیاز
محمد فرقان عالم
ریسرچ اسکالر،دہلی یونیورسٹی،دہلی
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

