احمد اشفاق کا شمارمعاصر عہد کے ان نمائندہ غزل گو میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے شاعری کو نئی جہتیں عطا کی۔ بہار کے سمستی پور سے تعلق رکھنے والے احمد اشفاق کا اصل نام اشفاق احمد ہے۔ اپنی شاعری کی ابتدائی دنوں میں انہوں نے اشفاق قلق کے نام سے شاعری کی۔شاعری سے دلچسپی نو عمری میں ہی پیدا ہوگئی تھی اور محض اٹھارہ برس کی عمر میں انہوں نے شعر گوئی کا باضابطہ آغاز کیا حالانکہ ان کی پہلی تخلیق ۱۹۹۵روزنامہ پندار، پٹنہ میں شائع ہوئی۔آج وہ بیرون ملک(قطر) میں قیام کے باوجود ادبی حلقے میں اپنی موجودگی قائم رکھا ہوا ہے۔یہ ان کی شاعری سے دلچسپی اور اعلی ذوق کا نمونہ ہے کہ انہوں نے بسمل عارفی کے ساتھ مل کر ’شعرائے سمستی پور‘ کے نام سے سمستی پور کے شاعروں کے کلام کا انتخاب پیش کیا ۔اس فہرست میں وہ شعرا بھی ہیں جن کی شاعری ایک عرصے تک اہل علم حضرات کو مسحور کرتی رہی مگرآج وقت کی گرد نے دھندلا دیا۔بسمل عارفی اور احمد اشفاق کی مشترکہ کاوشوں نے ان شعرا کو نئی زندگی عطا کی ہے۔احمد اشفاق کی شاعری کاپہلا مجموعہ ’’دسترس‘‘ستمبر ۲۰۱۴ میں شائع ہوا۔اس مجموعے میں غزلوں کے ساتھ حمد باری تعالیٰ اور رسول پاک ﷺ کے حضور نذرانہ عقیدت اور معاصر عہد کے نمائندہ ناقدین اور مبصرین کی تحریریں شامل ہیں۔
اللہ کی ذات اور اس کی عظمت کو بیان کرنا انسان کیا کسی مخلوق کے بس میں نہیں اور ان کے عنایات کا شکریہ ادا کرنا بھی ناممکن ہی ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ انسان اپنے معبود کے سامنے سجدہ ریز ہو کر اپنی حقیر حیثیت اور اللہ کی عظمت کا اظہار بھی کرتا ہے اور اس کا شکریہ بھی ادا کرتا ہے۔ احمد اشفاق کی شاعری میں اللہ کی عظمت اوراس کے عنایات کا اظہار ملتا ہے۔
نہیں ہے در کوئی جس پہ جاؤں، طلب کا منشا جسے سناؤں
بس ایک تیرا ہی آستاں ہے، تو ہی خدا ہے تو ہی خدا ہے
کہاں ہماری ہے اتنی جرأت، کہ لکھیں تیری ثنا و مدحت
ثنا تری بحر بیکراں ہے، تو ہی خدا ہے تو ہی خدا ہے
ہر ایک سجدہ ترے لئے ہے ہر اک عبادت ہے تیری خاطر
تو ہی تو آقائے بندگاں ہے، تو ہی خدا ہت تو ہی خدا ہے
اللہ پاک کی عظمت بھلا کوئی کیا لکھ سکتا ہے۔زمین اور آسمان کاغذ ہوجائیں اور سمندر سیاہی پھر بھی اللہ کی عظمت نہیں لکھی جاسکتی۔احمد اشفاق نے بالکل درست لکھا ہے کہ معبود برحق کی ثنا خوانی لکھنے کی جرأت بھی انسان میں نہیں ہوسکتی۔
احمد اشفاق نے حضور پاک ﷺ کی خدمت کی شان میں چند نعت کہی ہیں ، ان کے مطالعے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ متکلم کو اپنے نبیﷺ سے کس قدر محبت ہے۔نعت کا فن دو دھاری تلوار کے مانند ہوتا ہے۔ شاعر کے پیش نظر کئی چیزیں ہوتی ہیں، محبت اور عقیدت بعض موقعے پر شرک کے قریب بھی کرسکتی ہیں۔ شاعر کا کمال یہ ہے کہ وہ حضور پاک ﷺ کی خدمت میں گلہائے عقیدت پیش کرتے ہوئے قرآن و حدیث کو پیش نظر رکھے تاکہ بہکنے کا ڈر دور ہوجائے۔احمد اشفاق کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے خوبصورت انداز میں اپنی عقیدت کا اظہار کیا ہے وہ قرآن و سنت کے مطابق ہے۔چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
دنیا جو نہیں میری، نہ ہو، میری بلا سے
اک ربط ہے کافی مرا، محبوب خدا سے
بخشش کا اس نے حشر میںسامان کرلیا
دین محمدی کا ہواجو بھی پاسباں
علم و ہنر میں آپ کا ثانی نہیں کوئی
لاریب بے مثال نمونہ رسول ہیں
روز محشر ہم بھی ہوں گے سرفراز
مل گیا ہم کو وسیلہ آپ کا
رسول پاکﷺ کی عظمت کا بھلا کون انکار کرسکتا ہے۔ان کی شخصیت لاریب ہے ۔ قیامت کے دن جس شخص کو ان کی شفاعت مل گئی وہ کامیاب ہوگیا۔ متکلم کے یہاں عقیدت ، محبت اور امید کا ایک خوبصورت امتزاج نظر آتا ہے۔مذکورہ اشعار مختلف نعت سے لیے گئے ہیں۔ان اشعار کی قرأت قاری کے روح کو محبت اور عقیدت سے سرشار کردیتی ہیں۔
احمد اشفاق کی شاعری بنیادی طور پر غزل کی شاعری ہے۔ ان کی شاعری کی کئی جہتیں ہیں۔ وہ غزل کے روایتی رنگ کو برتنے کا ہنر تو جانتے ہی ہیں شاعری کی جدید اصطلاحات سے بھی اچھی واقفیت رکھتے ہیں۔چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
ہماری تشنگی کو اب تھکن محسوس ہوتی ہے
یہی صحرا نوردی ہے تو صحرا چھوڑ دیتے ہیں
اس عہد خزاں میں کسی امید کے مانند
پتھر سے نکل آوں مگر ابر تو برسے
ظاہر ہے پتھر پہ گھاس کے نکلنے کی اصطلاح جتنی نئی ہے اتنی پرانی بھی۔غالب نے درو دیوار کا ذکر کیا تھا، ان کے یہاں در ودیوار پر سبزہ کے اگنے کا ذکر ملتا ہے مگر احمد اشفاق کے یہاں امید اور نا امید کی کشمکش نظر آتی ہے۔امید اس بات کی کہ وہ اگر ابر بن کے برسے تو پتھر بھی سبزہ زار بن سکتے ہیں باوجود وہ برسنے کو تیار نہیں۔احمد اشفاق کی شاعری پر گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر شہپر رسول لکھتے ہیں:
’’ؑغزل میںسچے تخلیقی اظہار کی راہ وہی تلاش کر پاتا ہے جس کی ذہنی اور دلی مناسبتوں کا ادراک ہو اور جس کے یہاں جذبے کی صداقت، احساس کی نزاکت اور اظہار کے حسن میں متناسب اختلاط راہ پاگیا ہو۔علاوہ ازیں احمد اشفاق کی غزل میں کلاسیکی رچاؤ اور موضوعات کی تازگی پر بھی نظر ٹھہرتی ہے۔‘‘
(فن شعر پر دسترس کا شاعر۔ پروفیسر شہپر رسول، دسترس ۔ص ۲۴)
پروفسیر شہپر رسول نے احمد اشفاق کی شاعری میں جن خوبیوں کا ذکر کیا ہے وہ ان کی شاعری میں جابجا نظر آتی ہے۔چند اشعار بطور ملاحظہ فرمائیں۔
زخم ترتیب دے رہا ہوں میں
اور کچھ وقت دے ادھار مجھے
ٹوٹ جاتا ہے دم محبت کا
بد گمانی اگر جواں ہوجائے
ہجرتوں میں بڑی تمازت تھی
لمحہ لمحہ پگھل رہا ہوں میں
زخم کو ترتیب دینے کی اصطلاح نئی معلوم ہوتی ہے مگر مجموعی طور پریہ خیال پرانا ہے۔ متکلم کا یہ کہنا کہ کچھ وقت اور دے مجھے ،اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ متکلم اس درد کی لذت سے محظوظ ہورہا ہے وہ نہیں چاہتا کہ وہ اس تکلیف سے آزاد ہو ۔دوسرے شعر میں متکلم کا خیال رشتے کی مضبوطی کی طرف اشارہ کرتا ہے،کسی بھی رشتے کی بنیاد اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب اس میں محبت و خلوص کے ساتھ بھروسہ اور اعتماد موجود ہو۔شاید یہی وجہ ہے کہ رشتے کے ٹوٹنے اور بکھرنے میں سب سے اہم کردار بدگمانی اور عدم اعتماد کا ہوتا ہے۔ احمد اشفاق نے نہایت سلیقے سے رشتے کی اہمیت کو بیان کیا ہے۔اس ضمن کے اور بھی شعر’ دسترس‘ میں شامل ہیں۔جس میں محبوب سے شکایت اور رشتے کی نازکی کا ذکر ملتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں شاکر کریمی کی غزلیہ شاعری – ڈاکٹر نوشاد منظر )
کسی بھی فن پارے کی تکمیل میں انسان کے ذاتی تجربات بہت اہم ہوتے ہیں بعض موقعوں پر یہی تجربہ فن پارے کو اہم بھی بناتا ہے۔احمد اشفاق کے یہاں انسانی تجربات کی عمدہ مثال نظر آتی ہے۔ حسن و عشق اور محبوب کے لب و رخسار کا خوبصورت اظہار ملتا ہے۔احمد اشفاق کی شاعری میں محبوب کی روایتی شبیہ بھی نظر آتی ہے۔ ہماری کلاسیکی شاعری میں محبوب کے ہجر کی مختلف احساسات تو نظر آتے ہیں مگر وصال کی شادمانی نظر نہیں آتی ۔اردو شاعری کا بیشتر حصہ حسن وعشق کے واردات سے متعلق ہے ۔ اردو شاعری میں محبوب کی ظاہری خد وخال کا ذکر بھی بڑے خوبصورت انداز میں کیا جاتا رہا ہے، حالانکہ احمد اشفاق کی شاعری میں محبوب کی ظاہری خدو خال کا ذکر کم ہی نظر آتا ہے۔ ان کے یہاں محبوب کا کلاسیکی رنگ نظر آتا ہے جو ہماری اردو شاعری کا وطیرہ ہے ۔
میں انتظار میں صدیاں گزار دوں لیکن
تو میری یاد کے لمحوں کو ماہ و سال تو کر
ہے اعتبار کہ وہ میری بات مانے گا
اگرچہ کرتا ہے کافی اگر مگر پھر بھی
ہماری کلاسیکی شاعری کا وصف خاص محبوب کا ہجر بھی رہا ہے ۔عاشق اپنے محبوب کے انتظاراس امید سے کرتا کہ اس کا محبوب اس سے ملنے آئے گا مگر محبوب وعدہ کے باوجود نہیں آتا۔مذکورہ شعر کے متکلم کے یہاں محبوب کے ہجر کی تکلیف نظر نہیں آتی بلکہ وہ یہ کہتا ہے کہ میں محبوب کی انتظار میں صدیاں گزار دوں مجھے کوئی پریشانی نہیں ہوگی مگر ہاں میرا محبوب بھی مجھے یاد کرے۔ یہ جدید شعری نظام ہے ،جہاں محبوب سے وصال کو برا نہیں سمجھا جاتا بلکہ اس کا ظہار بڑی خوبی کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ احمد اشفاق نے عاشق کے کلاسیکی کردار کو بدل دیا ہے اب وہ محبوب سے برابری کا رشتہ رکھنا چاہتا ہے۔ احمد اشفاق کی شاعری پر گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر کوثر مظہری لکھتے ہیں:
’’احمداشفاق کی شاعری میں نجی زندگی کے تجربات سے لے کر آفاقی موضوعات تک کی کارفرمائی نظر آتی ہے۔عشق اور محبت،جنوں اور اس جنوں کے آثار کے ذکر سے اردو شاعری بھری پڑی ہے۔جدید ذہن اور فکری رویے کے تحت جو شاعری ہورہی ہے اس میں اس نوع کے نمونے سامنے آرہے۔‘‘
(احمد اشفاق کا شعری تناظر۔پروفیسر کوثر مظہری۔ دسترس ،ص ۳۸)
پروفیسر کوثر مظہری کے خیال کو احمد اشفاق کی شاعری تقویت پہنچاتی ہے۔احمد اشفاق نے اردو شاعری کی اس روایت کا اختیار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جس کا آغاز دراصل فراق گورکھ پوری سے ہوتا ہے۔ چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
میں تجھ کو لکھتے لکھتے تھک گیا میری دنیا
مری تحریر اب ہر پل محبت چاہتی ہے
فاصلہ اب بہت ضروری ہے
تیری قربت سے جل رہا ہوں میں
نام تیرا آگیا تھا درمیان گفتگو
میری آنکھوں کے جزیرے میں سمندر آگیا
اس کی خاموشی مری راہ میں آ بیٹھی ہے
میں چلا جاتا مگر اس نے اجازت نہیں دی
فراق کو محبوب کے پہلو میں محبوب کی یاد آئی تھی جب کہ احمد اشفاق محبوب کی قربت سے جلتا ہوا محسوس کرتے ہیں۔دراصل عاشق چاہتا ہے کہ محبوب سے وصال میسر نہ ہو اور وہ اس کے ہجر میں تڑپتا رہے۔ یہ اردو کی کلاسیکی شاعری کا اہم حصہ رہا ہے جہاں محبوب کے وصال کو محبت کی موت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ احمد اشفاق کی شاعری میں انانیت کا عنصر بھی غالب ہے۔ وہ محبوب کی بے رخی سے حیران و پریشان تو ہیں مگر وہ اب اس سے برابری کا رشتہ رکھنے کے خواہاں ہیں۔
ہر ایک بات پہ لبیک مت کہا کرنا
زمانہ رہتا ہے گر بدگمان رہنے دے
ملاقاتیں مسلسل ہوں مگر کھل کر نہ ہوں باتیں
ہم ایسی کیفیت میں ملنا جلنا چھوڑ دیتے ہیں
انا منھ آنسوؤں سے دھو رہی ہے
ضرورت سر بسجدہ ہورہی ہے
ریاکاری لیے جاتی ہے سبقت
حقیقت سر جھکائے رو رہی ہے
فاصلے یہ سمٹ نہیں سکتے
اب پرایوں میں کر شمار مجھے
احمد اشفاق نے اپنی شاعری سے ان لوگوں پر بھی طنز کیا ہے جن کے یہاں رشتوں کی بنیاد دراصل ضرورت پر ہوتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ آج سماج کی آدھی آبادی جھوٹ، فریب، ریاکاری، چال بازی، بے ایمانی اور اس جیسی دوسری بیماریوں کے شکار ہیں، دراصل ان بیماریوں کی اصل وجہ انسان کے اندر کا لالچ ہے ۔ہم چھوٹی چھوٹی کامیابی اور کسی منصب کی لالچ میںایک دوسرے کے یقین اور اعتماد کا روزانہ قتل کرتے ہیں اور ہمیں اس پرذرہ برابر افسوس بھی نہیں ہوتا ہے۔احمد اشفاق نے بڑے خوبصورت انداز میں اس موضوع کو اپنی شاعری میں پیش کیا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں افسانہ تنقید کے ابتدائی نقوش – ڈاکٹر نوشاد منظر )
احمد اشفاق نے اپنے معاصر شعرا کے کلام اور ان کے موضوعات سے بھی استفادہ کیا ہے، اور یہ کوئی بری بات بھی نہیں۔ایک شعر بطور نمونہ ملاحظہ کریں:
کشمکش میں کاٹ دی اشفاق یونہی زندگی
پاؤں کو ڈھانپا تو سر چادر سے باہر آگیا
اب بشیر بدر کا ایک شعر ملاحظہ ہو۔
زندگی تو نے مجھے قبر سے کم دی ہے زمیں
پاؤں پھیلاوں تو دیوار سے سر لگتا ہے
اردو شاعری کا مجموعی طور پر جائزہ لیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ایک ہی زمین اور ایک ہی موضوع پر بہت سے شعرا نے اپنا کلام پیش کیا ہے۔موضوع تو عموما پرانے ہی ہوتے ہیں مگر شاعر کا کمال فن یہ ہے کہ وہ کس طرح اس پرانے اورد بعض موقعوں پر فرسودہ مضامین کو نیا اور اپنا بناکر پیش کرتا ہے۔
اردو شاعری اور فکشن دونوں ہی جگہ ہجرت کے موضوع کو پیش کیا گیا ہے۔ہجرت سے عام مراد اس تاریخی واقعے بلکہ حادثے کو لیا جاتا ہے جب ہندوستان کی تقسیم اور پاکستان کا وجود عمل میں آیا، اور دونوں طرف کے لوگ اپنا مکان ،زمین جائیداد کے ساتھ اپنی یادوں کو بھی چھوڑ کر دوسرے مقام پر بسنے کے لیے مجبور ہوئے۔ احمد اشفاق کے یہاں بھی ہجرت کا بیان ملتا ہے مگر ان معنوں میں نہیں جن کا ذکر اوپر کیا گیا۔ احمد اشفاق کے ہجرت کا مفہوم دراصل بیرون ملک روزگار کی تلاش میں مقیم لوگ ہیں۔ روزگار کی تلاش میں اپنے وطن اور اہل خانہ سے دور زندگی کیسی تکلیف دہ ہوتی ہے اس کا احساس ان لوگوں کو زیادہ ہوسکتا ہے جو خود بھی اس تکلیف میں مبتلا رہتے ہیں۔احمد اشفاق کے یہاں مہاجر( بیرون ملک میں نوکری کے خاطر مقیم) کی ترجمانی نظر آتی ہے۔احمد اشفاق کے یہاں ایسے بہت سے اشعار مل جاتے ہیں جن میں مہاجر کی تکلیف کو بیان کیا گیا ہے۔احمد اشفاق کی شاعری میں ہجرت کے بیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حقانی القاسمی لکھتے ہیں:
’’احمد اشفاق کی شاعری کا سارا حسن معاشی ہجرت اور وطن سے جذباتی قربت کے تجربے میں مضمر ہے۔ہجرت کی آگ نہ ہوتی تو مٹی کی مہک اور وطن کی خوشبو سے یہ شاعری گلزار نہ بن پاتی۔انہوں نے خارجی ماحول اور تغیرات کو بھی ذہن کے موسموں کا محرک عنصر اور انگ بناکراپنے داخلی آہنگ کو زندہ و تابندہ رکھا ہے۔ دیار غیر کے افق پر انہیں اپنی مٹی کاہی چاند چمکتا نظر آتا ہے اور یہی چاند اس تمازت کو سکون و اطمینان عطا کرتا ہے جو اجنبیت یا ہجرت کی وجہ سے اکثر ذہنوں میں پیدا ہوجایا کرتی ہے۔‘‘
(باغ سخن کا گل تازہ۔حقانی القاسمی، دسترس، ص۲۵)
ہجرت کا کرب وہ لوگ بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں جنہوں نے اس درد کو محسوس کیا ہو۔ہجرت کی نوعیت خواہ کیسی بھی ہو درد کم و بیش ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔احمد اشفاق کے یہاں ہجرت کی تکلیف اور درد کو بآسانی تلاش کیا جاسکتا ہے۔چند اشعار بطور نمونہ ملاحظہ ہو :
صلہ بس یہ ملا ترک وطن کا
ہماری گھر میں وقعت ہورہی ہے
جب بھی میرے سامنے ہجرت کا منظر آگیا
یوں ہوا محسوس دل سینے سے باہر آگیا
بے سمت منزلوں کا نشاں ڈھونڈ رہے ہیں ہم
کتنی ہیں راہِ شوق میں دشواریاں نہ پوچھ
احمد اشفاق کی شاعری کا مطالعہ کرتے ہوئے ایسے بہت سے اشعار ہمیں مل جاتے ہیں جن میں وطن کی یاد، اس سے محبت اورروزگار کی تلاش میں ہجرت کے کرب کا احساس بدرجہ اتم موجود ہے۔ احمد اشفاق کی شاعری اپنے ماحول کی شاعری ہے ۔ وہ اپنے تجربات و احساسات کو کچھ اس انداز میں پیش کرتے ہیں کہ آپ بیتی جگ بیتی بن جاتی ہے۔
احمد اشفاق کی شاعری میں عصری مسائل کو نہایت خوبصورت پیرائے میں پیش کیا گیا۔ دہشت گردی آج ایک بڑا مسئلہ ہے اور اس مسئلہ سے پوری دنیا متاثر نظر آتی ہے۔ہمارے شعرا اور ادبا نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے دیکھا اور محسوس کیا۔معاصر اردو شعر و ادب کا مطالعہ کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے شاعر و ادیب نے ا مسئلہ کو نہ صرف سنجیدگی سے لیا بلکہ اس کو موضوع بنا کر اپنی عمدہ تخلیقات سے اس دہشت گردی کے خلاف صف آرا بھی ہوئے۔احمد اشفاق نے بھی اس موضو ع پر کچھ اشعار کہے ہیں۔
وقت نے معصوم بچوں کی پڑھائی چھین لی
جن کے ہاتھوں میں قلم ہونا تھا خنجر آگیا
معاصر عہد کا سب سے بڑا مسئلہ موجودہ سیاست اور ہمارے سیاسی لوگ ہیں ، حقیقت یہ ہے کہ آج کی گندی سیاست نے ہی دنیا بھر میں نفرت ، خون ریزی اور دہشت گردی کو بڑھایا ہے۔آج پوری دنیا میں مذہب کے نام پر ایک دوسرے کو متحد کرنے کے بجائے ایک دوسرے کا دشمن بناکر پیش کیا جارہا ہے۔ عدم مساوات، عدم رواداری اور عدم تحفظ کا احساس ہر مذہب کے ماننے والو ں کے دلوںمیں خوف بنائے ہوئے،ہماری حکومتیں ان مسائل کو دور کرنے کے بجائے اس میں اضافے کئے جارہے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ مذہب انسان کو جینے کا سلیقہ سکھاتا ہے، وہ خون ریزی نہیں محبت کا پیغام دیتا ہے۔ہمارا کوئی دشمن اگر ہے تو وہ بھوک اور افلاس ہے۔ امیر اور غریب کے درمیان اتنی بڑی مالی خلیج بن گئی ہے جس سے نفرت کا عنصر دن بہ دن بڑھتا جارہا ہے۔احمد اشفاق نے افلاس اور بھوک کے درد کو سمجھا ہے۔ وہ سیاسی نظام پر بھی طنز کرتے ہیں۔چند اشعار دیکھئے:
نحوست بھوک اور افلاس کی ہر سمت پھیلی ہے
مگر پھر بھی ہمارے ملک کی سرکار چلتی ہے
مسئلے مشترک ہیں ہم سب کے لیے
مشترک کوئی رہنما ہی نہیں
نہ جانے کیسے کیسے مسئلے حل ہوگئے ہوتے
اگر ہوتے نہیں،گرچہ، مگر، لیکن،اگر باقی
جسے دیکھو وہی تلوار سا ہے
محبت اب غنیمت ہو رہی ہے
یہ ایک شاعر کے محض احساست نہیں ہمارے ملک کی مٹتی تہذیب و ثقافت،محبت و خلوص اور رواداری کے خاتمے کا رونا ہے۔مذہب کے نام پر ایک دوسرے سے نفرت کرنے والوں کو بھوک، غریبی ، تعلیم کا فقدان اور سماجی عدم برابری اور عدم رواداری کا بالکل خیال نہیں بلکہ وہ انہیں دور کرنے کے بجائے اس میں اضافہ کرتے ہیں تاکہ ان کی حکومت برقرار رہے۔یہی وجہ ہے کہ آج دوستی ، محبت، ہمدردی اور آپسی میل جول ہماری زندگی سے دور ہوتی جارہی ہیں ۔ڈاکٹرمشتاق صدف لکھتے ہیں:
’’احمد اشفاق کی غزلوں میں تہذیب و ثقافت کا نوحہ بھی ملتا اور دوستی سے اٹھتا ہوا اعتبار کا ماتم بھی۔مسائل زندگی سے رشتوں کی ٹوٹتی طنابوں کی آواز بھی سنائی دیتی ہے لیکن اس دعا سے کہ زخموں کر ترتیب دینے کے شاعر کو وقت ملے چاہے وہ ادھار کی شکل میں ہہی کیوں نہ ہو،شاعری کی ایک نئی فضا تشکیل ہوتی ہے۔‘‘
(نئی نسل کا سنجیدہ شاعر۔ ڈاکٹر مشتاق صدف۔ دسترس ص: ۳۹)
یا الہی تعلقات کی خیر
دوستی حاشیے پر چل رہی ہے
ہم قید احتیاط سے آزاد ہوگئے
جب اس نے میرے ساتھ نہیں برتی احتیاط
بظاہر دوست ہے وہ میرا لیکن
پس الفت عداوت ہورہی ہے
احمد اشفاق کی شاعری عہد حاضر کے تقاضوں کو پورا کرتی ہیں مگر اس بات کا خیال بھی رکھنا ضروری ہے کہ یہ ان کا پہلا شعری مجموعہ ہے اور ابھی انہیں بہت دور کا سفر طے کرنا ہے۔ بسمل عارفی نے درست لکھا ے کہ جب کسی اچھے شاعر کا نام ابھرتا ہے تو لوگوں کے توقعات بھی بڑھ جاتے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ احمد اشفاق کے یہاں نئے اور پرانے موضوعات کا جو خوبصورت امتزاج ملتا ہے وہ ان کی شاعری کو عظمت بخشتی ہے۔وہ پرانے موضوعات کو بھی اس سلیقے کے ساتھ پیش کرتے ہیں کہ وہ نیا معلوم ہوتا ہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

