اللہ نے دنیا بنائی بشر کو پیدا کیا ایک حساس دل کے ساتھ۔ غم اور خوشی دونوں جذبوں کے ساتھ!!۔ انسان دنیا میں آتا ہے۔ گھر بساتا ہے۔ والدین بنے کا شرف حاصل کرتا ہےاور اپنی ساری توجہ،امیدیں اور خوشیاں اپنی اولاد کی طرف لگا دیتا ہے اسکی بہترسےبہتر پرورش میں جان و مال سے قربان ہوتا رہتا ہے۔ اور جب اسمیں کامیابی حاصل ہوجاتی ہے تو اسکی خوشی کا ٹھکانہ نہیں رہتا۔لیکن کبھی اگر ناگہانی ہو جائے جس کی اس کو کبھی امید ہی نہ ہو تو وہ بکھر سکتا ہے۔ بکھر بھی جاتا ہے۔ ایک ایسا ہی سانحہ۔سوز صاحب کی زنگی میں رونما ہوگیا۔ ایسا حادثہ جسکو بھلانا برداشت کرنا کسی بھی والدین کے لئے مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ شکیب سوز صاحب کا لائق فائق بیٹا سڑک حادثے کا شکار ہوکر اس دنیاِ فانی سے رخصت ہوگیا۔ لیکن ان کے صبر اور اللہ کی ذات سے محبت نے انکو سہارا دے دیا۔ اللہ ان کو مزید صبر عطاء کرے آمین شکیب کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاء کرے۔ آمین۔
یہ چند اشعار عزیزی شکیب اکرم کیلئے بطور خراجِ الفت ہیں :-
*******
شکیب تیری شکیبائی، یاد آتی ہے
پسند تجھ کو تھی تنہائی، یاد آتی ہے
توبس خدا ہی کو رکھتا تھا دوست بھی اپنا
سو آج تیری وہ دانائی، یاد آتی ہے
ہر ایک یاد کو ہم نے سمیٹ رکھاّ ہے
تری وہ فکر وہ بینائی یاد آتی ہے
ترا مقام خدا کے یہاں بلند رہے
ترا وہ وجد جبیں سائی ، یاد آتی ہے
ترا وہ سب کے لئے دل میں درد کا رکھنا
ترے خیال کی گہرائی ، یاد آتی ہے
شکیب کے لئے ہر دل ملول ہے سنبل
جو بج سکی نہ وہ شہنا ئی ، یاد آتی ہے
( صبیحہ سنبل علی گڑھ۔ یو پی )
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

