نئے ادب کی شناخت کا پہلا میزان اس کو اپنے پیش رو ادب سے مختلف ہونا ہے۔جس میں نئے لفظیات کی دھمک سنائی دیتی ہے۔نئے تجربے ہوتے ہیں ۔عصری عناصر کی بو ہو تی ہے نیز عصری مسائل کا بھر پور ادراک ہوتا ہے۔ایسی تبدیلی اس وقت آتی ہے جب خلاق ذہن اپنی فکری وژن کے دریچے کو کھول دیتا ہے اور بدلے منظر نامے پر زندگی کی حقیقتوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے اورماضی کی تمام ادبی جکڑ بندیو ںسے آزاد ہوکر فنپارے کی تخلیق کرتا ہے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نئی تخلیقی جہت کا ظہور ہوتا ہے جو عصری ادب کی انفرادیت کو واضع کرتا ہے۔لیکن لاشعوری طور پر اس جہت کی جڑیں روایت کی نم مٹی میں پیوست ہوتی ہیں اگر ایسا نہیں تو اس نقطے کو ذہن میں رکھنا چاہئے کہ بے جڑ کے پودے بہت جلد دم توڑدیتے ہیں۔اردو ادب میں ویسے کئی تحاریک اور رجحانوں نے اپنے اثرات کو مرتب کیا لیکن ترقی پسند تحریک اور جدیدیت نے اپنا جو نقش چھوڑا وہ لافانی ہے۔ترقی پسندتحریک نے رومانیت کی پناہ گاہوں میں قلم کاروں کی منتشر فکر کو ایک نقطہ انسانیت پر مرکوز کرنے کی کوشش کی جسکا ایمان مادہ کے محور پر گردش کررہا تھا۔اس تحریک کے دوران اجتماعیت کی فکر قلم کاروں کو زیادہ لاحق ہوئی۔جب اجتماعیت کی فکر زیادہ ہونے لگی تو ردِ عمل میں وجودیت کے احساس نے قلم کاروں کو بیدار کیا۔ وجودی فلسفے کے محورپر گردش کرنے والے اس رجحان نے وابستگی کی زنجیروں کو توڑا اور انفرادی فکری رجحان کی پرورش کی لیکن جب اس رجحان نے خود کو غیر وابستگی سے وابستہ کرلیا تو اس کی شاخیں بھی ۶۰ کے ارد گرد زرد ہونے لگیں ۔ کیونکہ لوگ اس احساس سے بہت جلد اُب گئے کہ ڈر،خوف،ناسٹلجیا کو انسان زیادہ دیر تک برداشت نہیں کرسکتا ہے کیونکہ اس سے دماغی توازن بگڑنے کا خدشہ ہوتا ہے ۔ردِعمل کے طور پریہاں سے ادب اپنا علم اٹھائے تازہ دم ہوکر اپنی منزل کی جانب رجائیت کاعلم اٹھائے گامزن سفر ہوا ۔در اصل رجائیت پسند ادب ہی کو ما بعد جدید ادب کہا جاتا ہے ۔جس میں ولولہ انگیزی کی شدت زیادہ ہے۔ لیکن جینوئین قلمکار ولولہ انگیزی کی رو میں نہیں بہتے ہیں بلکہ وہ اپنی تخلیقات میں خواب دیکھتے ہیں اور خالق کے ساتھ ساتھ قاری بھی ان تخلیقات میں خوابوں کی تعبیر تلاش کرتے ہیں۔خوابوں کی تعبیر تلاش کرنے والے ایسے ہی لوگوں سے سماجی،سیاسی،تہذیبی اور ثقافتی سطح پر قدریں اور قوموں کی تقدیریں بدلتی ہیں۔ ان بدلتی قدروں کے طلاطم سے زندگی کی ہر سطح پر انقلاب کی آہٹ سنائی دیتی ہے لیکن یہ عمل اس قدر سست رفتار ہوتا ہے کہ زندگی پراس کے واضع نقوش مرتب ہونے کے لئے کئی دہائیوں کا انتظار کرنے پڑتا ہے۔فوری طور پر اس کے واضع نقوش دیکھائی نہیں دیتے ہیں خصوصا ثقافتی اور تہذیبی سطح پر ہونے والی تبدیلی کا مدتِ انتظار ذرا طویل ہوتا ہے لیکن عصر کے شعلہ بار موضوعات پر جب تخلیق کار خواب دیکھتا ہے تو اس کاردِعمل بہت جلد واضع دیکھائی دینے لگتاہے۔ نشان خاطر رہے کہ ان خوابوں پر ہی انسانی زندگی کی بقا اور ارتقا کا دارومدارہوتا ہے لیکن اگر تخلیق میں خواب کے برعکس صرف آرزو ہی آرزو ہو تو پھر اس کے مضبوط اثرات سماجی زندگی پر مرتب نہیں ہوتے کیونکہ آرزو میں ذاتیات کا دخل اور خواب میں اجتماعیت کا زور زیادہ ہوتا ہے۔ترقی پسند قلمکاروں نے خواب زیادہ دیکھا۔جب کہ جدید رجحان کے علمبرداروں نے احساس شکستگی کا آلاپ زیادہ کیا اور یہ فطری بات ہے کہ کوئی بھی آدمی احساسِ شکستگی اور خواب کے نرغے میں زیادہ دیر رہنا نہیں چاہتا ہے۔یہی حقیقت زمانے کو ایک نئی کروٹ سے سرفراز کرتی ہے جو زمانے کے بدلنے کی بشارت دیتی ہے۔جب زمانہ بدلتا ہے تو سوچ بدلتی ہے اور جب سوچ بدلتی ہے تو فکر بدلتی ہے اور جب فکربدلتی ہے تو ادب بدلتا ہے ۔اس لئے ہر زمانے کا ادب نیا ہوتا ہے جس میں نئے ادبی عناصر کی شمولیت ہوتی ہے ۔جسکا خمیر نئے افکار اور نئے معنی و مفہوم سے تیار ہوتا ہے۔ جس کی جڑیں اپنے عصری کلچر کی زمین سے پیوست ہوتی ہیں ۔اس کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہوتی ہے کہ یہ اپنے پیش رو رجحان یا تحریک سے یکسرے منحرف ہوتی ہے یا اس کے صالح عنصر کی پرچھایاں اس کے کینوس پر دکھائی دیتی ہیں اور جس عنصر سے قاری اُب گیا ہوتا ہے اس سے یکسرے پہلوتہی کی جاتی ہے یہی دامن کشی اسکی شناخت کو واضع کرتی ہے۔ ا س لئے جو ادب اپنے عصری مسائل کا ترجمان ہوتا ہے وہی نئے ادب کے زمرے میں آتا ہے ۔جس میں عصری اجتماعی شعور کی ترجمانی کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے لیکن جب ادب صرف دلبستگی کا وسیلہ بن جاتا ہے تو اس میں سماج میں ہونے والی تبدیلی کا احساس دلانے والی مقناطیسی سوئی کی مقناطیسی صفت زائل ہونے لگتی ہے جو ادب میں جمود کی راہ ہموار کرتی ہے۔
مغربی بنگال میں اکیسویں صدی کی دہلیز پر جونئی نسل آئی ہے اس کی تخلیقات کی شاخیں نہ تو فلسفوں اور نہ ہی مبہم ابہام سے ثمر آور ہوئی ہیں اور نہ ہی موضوع کے اعتبار سے ایک رخی کا شکارہوئی ہے بلکہ اس عصر میں ادبی نظریات کی تبلیغ یا بے جا خوف کی ترجمانی کم اوراجتمائی شعور کی ترجمانی زیادہ ہوئی ہے۔ ایسااس لئے کہ ادراک سے احساس اور احساس سے اظہار کا سفر تخلیقی عمل کا سفر ہے۔مغربی بنگال میں مذکورہ مدّت کے دوران اُبھرنے والی نئی نسل کا جو قافلہ اکیسویں صدی کی دہلیز پراپنا دستک دیا ہے۔ان کی شاعری کا ایک مختصر جائزہ حاضر خدمت ہے۔ (یہ بھی پڑھیں آزادی کے بعد مغربی بنگال میں ممتاز نظم گو شعرا – اصغر شمیم )
۱
ادھر بھی ماند ہوا جاتا ہے جنوں کا چراغ
ادھر بھی عقل کے دامن میں روشنی کم ہے
(مصطفّے اکبر)
۲
ہر حالت میں امیدوں کی شمع کو روشن رکھیں گے
ہم نے مانا مایوسی کا چاروں جانب پہرا ہے
(نوشادمومن)
۳
تمام عمر برہنہ رہے پرانے شجر
مگر یہ زعم کہ سایہ بنے سبھی کے لئے
(نسیم عزیزی)
۴
گھروں میں چاروں طرف قمقمے تو روشن ہیں
مگر دلوں سے اندھیرا نہیں نکلتا ہے
(احمد کمال حشمی)
۵
کبھی وجود کے کو فے کی سمت مت جانا
ہر ایک سانس جہاں عمر کا خسارہ ہے
(حلیم حاذق)
۶
آنکھوں میں ڈھونڈتے ہو مری راکھ تم عبث
کتنے تھے خواب جو مرے سینے میں مر گئے
(عنبر شمیم)
۷
شاہوں سے قربت خوب تھی دل کا بھی سودا کرلیا
کشکول خالی ہی رہا کاسہ گری آئی نہیں
(جاوید ہمایوں)
۸
بچوں ہم سے کچھ تو لے لو اک سپنا یا اک مسکان
کل جب ہم پردیس میں ہوں گے جو سہنا ہے سہناتب
(کلیم حاذق)
۹
طوفان بلا سے تو نکل آئے ہو،لیکن
آکر تو کنارے پہ بھی ڈوبے ہیں سفینے
(عاصم شہنواز شبلی)
۱۰
ابھی گلاب سلامت ہیں اپنی شاخوں پر
یہ گل فروش کے دست ہوس سے باہر ہیں
(معراج احمد معراج)
۱۱
ذہنوں کے بیچ بڑھتا گیا فاصلہ تو پھر
یہ تیری رہگذر ،یہ مرا راستہ الگ
(شوکت عظیم )
۱۲
ہم ہجر کے ماروں پہ ہر اک رات تھی بھاری
پھر کس لئے بیدار رہے میر بھی ہم بھی
(فراغ روہوی)
۱۳
وہ منفی بولتے ہیں اور مثبت ہوتا جاتا ہے
کہ ہم نے دیکھے ہیں ایسے قلندر بولنے والے
(فیروز اختر)
۱۴
دیا مجھکو سمجھ کر تو بجھا دیتے ہیں سب لیکن
میں جگنو ہوں اجالے کا سماں پھر سے بناتا ہوں
(ممتاز انور)
۱۵
یہ کہانی ہے نہ قصّہ ہے،اسے رہنے دو
میرے اجداد کا شجرہ ہے،اسے رہنے دو
(ارشاد آرزہ)
۱۶
جانے کدھر کو اڑ گئیں لمحوں کی تتلیاں
یادوں کی انگلیوں پہ فقط رنگ رہ گیا
(ارشد جمال حشمی)
فہرست کو مختصر کرتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ مغربی بنگال میں اکیسویں صدی کی دہلیز پر دستک دینے والی نسل جس نے ۱۹۸۰ یا اس کے آس پاس لکھنا شروع کیا اور اس مدّت میں اپنی شناخت کو مستحکم کیا،ان کے اشعاروں کی عرق ریزی سے اس مفہوم پر بڑے آسانی کے ساتھ پہنچا جاسکتا ہے کہ اندیشے،خدشات اور حوصلے کا جز انسانی شعور کی پختگی سے لیکر۱۹۸۰ تک رہا وہ اکیسویں صدی میں بھی ادب کا حصہ بنا ہے نیزترقی پسندی کی خارجیت اور جدید یت کی داخلت سے مذکورہ نسل کی تخلیقات کا خمیر اٹھا ہے ۔جن میں نہ زیادہ سیاست کی گونج ہے ۔نہ فلسفیانہ دائو پیچ ہے اور نہ ہی بے جا مذہبی رواداری کی پاسداری ہے بلکہ ان کے یہاں خالص انسانی جذبے کی ترجمانی کا عنصر زیادہ ہے۔اگر ہم شاختیات کی بات کرتے ہیں تو کیا ایسا نہیں لگتا کہ مذکورہ اشعار کے الفاظ دریا میں بہتے ہوتے روشن چراغ کی طرح شعری آہنگ کے دھارے پر سبک روی کے ساتھ بہے جارہے ہیں۔!!
ادب جب روایت کے بت کدوں سے دامن کش ہوکر رجائیت سے وابستگی حاصل کرلیا تو ایسے ادب کو مابعد جدید ادب کہا جانے لگا اور ایسا ادب ۱۹۸۰ کے بعد منظر عام پر آنا شروع ہوا لیکن اگر گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو اکیسویں صدی کی پہلی دہائی اور دوسری دہائی کے نصف اوّل کے پانچ برسوں کے دوران مغربی بنگال میں جو ادب تخلیق ہوئے ہیں ان میں ان ہی دو (ترقی پسندی اور جدیدیت)کا عنصر کسی نہ کسی صورت میں اظہار کی منزل تک پہنچے ہیں لیکن اتنا طے ہے کہ ان کے بال و پر اور قوتِ پرواز اپنے ہیں۔اور یہ کوئی عیب کی بات نہیں ہے ایسا اس لئے کہ جب مشترک جذبے کا اظہار ادب میں ہوتا ہے تو اس کے بطن سے نئے میلان کا جنم ہوتا ہے۔جس سے ادب کے ارتقائی کڑیوں میں کئی گنا اضافہ ہوتا ہے ۔ایسا مقام ادب میں تب آ تا ہے جب تخلیق کار اپنے ذہن و فکر کے تمام دریچے کو کھول کر تازہ اور ٹھنڈی ہواؤں کو اندر آنے کی اجازت دیتا ہے۔ایسے میں روایت کی لکیریںپٹ بھی جاتی ہیں یا پھر ان میں ترمیم کے خمیر شامل ہوجاتے ہیں جو ارتقائی کی کڑیوں کو دراز کرتا ہے۔!ارتقائی کی بات جب اٹھی ہے تو پہلے یہ دیکھنا ہے کہ ہماری زندگی میں انقلاب آیا ہے یا نہیں۔ اگر جواب اثبات میں ہے تو ادب میں بدلاؤ لازمی ہے کیونکہ نامیاتی ارتقائی کے اثرات ادب پر پڑتے ہیں۔ اگر جواب نفی میں ہے تو مان کر چلنا ہوگا کہ ادب کی پگڈنڈی پر ہم وہیں پرخیمہ زن ہیں جہاں ہمارے بزرگوں نے اپنا آخری پڑاؤ ڈالاتھا ۔اس تناظر میں اگر بنگال میں ۱۹۸۰ کے بعدکے ادب کا مطالعہ کیا جائے تو یہ محسوس ہوگا کہ بنگال میں رواں صدی کی پہلی دہائی اوردوسری دہائی کے پانچ برسوں کے درمیان جو شعری تخلیقات منظر عام پر آئی ہیں۔ ان میں نہ صرف روایت کی کڑیوں کی جھنکار سنائی دیتی ہے بلکہ اسلوب اور موضوعات میں بھی بدلاؤ آیا ہے جو مغربی بنگال کی شعری روایت سے کچھ مختلف ہے۔جسکا Analysisکرنا اس مختصر مضمون میں ممکن نہیں ہے۔
شاعری کی طرح نثری فن پاروں میں بھی بیانیہ نے جو صورت اختیار کی ہے وہ اپنے عصر کے ذہن و مزاج سے مطابقت رکھتا ہے۔ان میں روایت کے صحت مند قدروں اور صالح عناصر کی توسیع ہوئی ہے۔اس دوران سائنس کے عروج سے جہاں دنیا مٹھی میں سمٹ آئی ہے وہیں اس کے اثرات سے اخلاقی گراوٹ بھی آئی ہے۔انٹرنیٹ اور روبوٹ کے دور میں مسائل کی پیچیدگیاں بڑھی ہیں جس کے اثرات خالق کے ذہن و فکر کو متاثر کررہے ہیں ۔لازمی ہے کہ ایسے میں ادب میں اس کے واضع نقوش ابھر کر سامنے آئیں گے اور جب اس کے نقوش ابھریں گے تو ادب کانیا ہونا فطری بات ہے۔
فکشن کی سطح پر جو نئی ماجرا سازی ہورہی ہے وہ آنے والے دنوں میں نئے ادب کا پتہ دے رہی ہے۔اس صدی کی ابتدائی میں آزاد تخلیقی روئے کا رجحان نئے ادب کی انفرادی خصوصیت میں شمار کیا جاسکتا ہے۔جو جبر اور ادعائت سے پاک ہے۔ جس میں ابہام و اشکال کی طونابیں ڈھیلی پڑ گئی ہیں۔اس عصر میں گذرے ماضی کا شعور اور حال کے ادراک کے خمیر سے ادب کے معیار کو متعین کرنے میں نیا ذہن جد و جہد کررہا ہے۔غزل کی کشتی نعرہ زنی ،پُرسراریت اور موضوع کی یکسانیت کے جس بھنور میں ہچکولے کھارہی تھی وہ اب دھیرے دھیرے اس سے باہر نکل آئی ہے۔اس میں کلاسیکی لفظیات اور شعریات کی بازیافت کی شعوری کوشش دکھائی دے رہی ہے۔جس کے باعث اس میں شگفتگی اور لطافت آئی ہے۔فکشن کی سطح پر بیانیہ کی واپسی،تجریدیت کا خاتمہ،علامتوں کی صفائی اور کینوس پر قابلِ قبول فضا کی واپسی ہوئی ہے۔سب سے بڑی کامیابی موضوع کی یکسانیت سے اردو فکشن کو چھٹکارہ ملا ہے۔اب فکشن میں جن مسائل کو پیش کیا جارہاہے وہ انفرادی نہیں بلکہ مشترکہ ہے ۔ (یہ بھی پڑھیں اکیسویں صدی کی دہلیز پر بنگال میں نِسائی ادب (شاعرات کے حوالے سے) – ڈاکٹر عظیم اللہ ہاشمی )
ادب اگر مسائل انسانی کو طشت ازبام اس طرح کرتا ہے کہ قاری نامساعد حالات اور حوصلہ شکن ماحول میں اس کو پڑھ کر زندگی کے مثبت قدروں پر ایمان لے آئے تو وہ ادب ہے ورنہ وہ صرف اور صرف دلبستگی کا وسیلہ بن کر رہ جاتا ہے جس کے اندر صدیوں کی مار جھیلنے کی توانائی نہیں رہ جاتی ہے کیونکہ ہر عہد میں دلبستگی کے نئے نئے لوازمات سامنے آتے رہتے ہیں۔لیکن اس حقیقت سے انکار بھی ممکن نہیں کہ اس دلبستگی میں بھی زمانے اور زندگی سے جڑے تمام مسائل کی نشاندہی ملتی ہے ۔ اس حقیقت سے کسی کو بھی انکار نہیں ہونا چاہئے کہ فکر و خیال تخلیقی سانچے میں ڈھل کر ادب کی صورت ظہور پزیر ہوتے ہیں جس پر شخصیت کا گہرا ثر ہوتاہے اور شخصیت ماحول کے خمیر سے تیار ہوتی ہے ۔اس لئے واسطہ یا بلاواسطہ ادب پر ماحول کا اثر ہوتا ہے۔دہشت گردی،فرقہ واریت،کرپشن،بے روزگاری،مشرقی تہذیب کو روندتے ہوئے مغربی تہذیب و اقدار،انسانیت کا استحصال ،مشرقی اقدار کی پسپائی،سیاست کے گرتے ہوئے معیار اور تہذیب و تمدن کی بکھرتی کرچیاں ہمارے نئے ادب خلق کرنے والوں کے تخلیقی مسائل ہیں۔دہشت گردی ،کرپشن اور جنسی بے راہ روی کو چھوڑ کر باقی تمام کے تمام مسائل وہی ہیں جن سے ہمارے پیش رو افسانہ نگار نبرد آزما ہوئے لیکن انہوں نے ان مسائل کو جس نقطۂ نگاہ سے دیکھا ،نظر کا وہ زاویہ نئے ادیبوں کے یہاں کچھ مختلف ہے کہ آج کا قلمکار انٹرنیٹ روبوٹ کے عہد میں سانس لیتا ہے ۔لہذاجب زمانہ بدلتا ہے تو سوچ و فکر کے زاویے بھی بدلتے ہیں۔مشرقی تہذیب پر مغربی تہذیب کا یلغار رفتہ رفتہ ایک بھیا نک روپ اختیار کرتا جارہا ہے اسی کے بطن سے جنسی بے راہ روی عام ہوئی ہے جس کے اثرات ہماری زندگی کے اخلاقی شجر کو دن بدن زرد کررہے ہیں۔جس کے اثرات یہاں کے ادب پر پڑے ہیں۔اس روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مغربی بنگال میں عصرِرواں کا اردوادب نیا اس معنوں میں ہے کہ یہ کسی نظریے یا رجحان کے زیر ِ سایہ مذکور ہ موضوعات کو لے کر نہیں پنپ رہاہے بلکہ یہ تخلیقی لمحے کی تفسیر لکھ رہاہے جس میں عصری مسائل کا بھر پور ادراک ہے۔جس میں عصری نیرنگیاں بھی ہیں اور زمانے کے کرب انگیز لمحوں کا ذکربھی ہے۔قابل ِاحترام بزرگ نقاد شمس الرحمان فاروقی صاحب جن کی تخلیقات ایک عہد کومتاثر کی ہیں کے نزدیک نئی نسل کی سب سے بڑی پسپائی یہ ہے کہ وہ کسی بھی موضوع کو اپنے وجدان و لاشعور میں جذب کر کے کچھ دیر تک اس کو پکنے نہیں دیتا ہے یہاں تک کہ اس کو تحت الشعور تک پہنچنے ہی نہیں دیتا ہے۔! موصوف کا یہ خیال درست ہوسکتا ہے لیکن بنگال میںیہ مسئلہ ہر قلم کار کے ساتھ درپیش نہیں ہے ۔جن کے پاس صبر ہے، Passion ہے۔وہ اپنا کام خاموشی سے کئے جارہے ہیں اور ایسے ہی سنجیدہ قلم کاروں کارہین منت آج کا نیا ادب ہے ۔نظریوں کی غلامی سے آزادی حاصل کرنا مغربی بنگال کے نئے تخلیق کاروں کی سب سے بڑی فتح ہے ساتھ ہی ساتھ اس نسل کی سب سے بڑی پسپائی یہ ہے اس مدت میں اس نے اپنا ترجمان پیدا کرنے سے قاصر رہا ہے۔لیکن اس سے مایوس بھی نہیں ہونا ہے کہ گوہر کان میں چاہے جتنی صدیاں دبارہے گوہر ہی رہتا ہے اور کبھی نہ کبھی کوئی کان کن اس کو پاتال کی گہرائی سے نکال کر طشت ازبام کرسکتا ہے۔بس ہمیں دلجمعی اور برق رفتاری کے ساتھ اپنا ادبی سفر جاری رکھنا ہے بس اس ایمان پر کہ نسلیں اپنا نقش چھوڑ جاتی ہیں۔! جس کی نشاندہی کی ذمہ داری آنے والی نسل کے کاندھے پر ہوتی ہے۔بس ہم میں یہ شعور جاگزیں رہنا چاہئے کہ ہمارے اندر روایت پرستی کی بجائے روایت فہمی کا شعور پیدا ہو۔کیونکہ روایت فہمی نئے ادب کی اساس ہے۔!!
ڈاکٹر عظیم اللہ ہاشمی
ہولڈنگ نمبر1-A،بی ایل نمبر 23،کیلا بگان ،
جگتدل ،نارتھ 24 پرگنہ(مغربی بنگال)،پن کوڈ: ۷۴۳۱۲۵
mob:9339327323
ای میل:mail.com ahashmi3012@g
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

