اردو صحافت کی دو صدی تقریبات ۲۶۔۲۷ ؍ مارچ کو حیدر آباد میں
2019 کا اعلان شدہ بین الاقوامی ایوارڈ پروفیسر مظفر حنفی کے صاحب زادگان تقریب میں شامل ہو کر حاصل کریں گے
پروفیسر محمود الاسلام(بنگلا دیش)، اجے سحاب ،راہی فدائی، حقانی القاسمی اور سہیل انجم کو بھی اُن کی خدمات کے اعتراف میں ایوارڈ دیے جائیں گے
حیدر آباد(۱۴؍مارچ): شہریت ترمیماتی قانون کے خلاف ردِّ عمل میں بزمِ صدف انٹر نیشنل نے ۲۰۱۹ کے اپنے بین الاقوامی ایوارڈ کی تقریبات کو ملتوی کیا تھا ۔پھر ۲۰۲۰ کے آغاز سے ہی کورونا کی وبائی صورتِ حال میں گذشتہ دو برسوں کے دوران کسی عالمی پروگرام کی گنجایش ہی پیدا نہ ہو سکی جس کی وجہ سے بزمِ صدف کی ایوارڈ تقریبات منعقد نہ کی جا سکیں۔اب حالات کی بہتری کو دیکھتے ہوئے ۲۰۱۹ اور ۲۰۲۰ کے ایوارڈ کی تقریبات اردو زبان و ادب کے پہلے گھر ، محمد قلی قطب شاہ کی بسائی ہوئی بستی شہرِ حیدر آباد میں ۲۶۔۲۷؍ مارچ ۲۰۲۲ کو منعقد کی جا رہی ہیں جس میں ممتاز ناول نگار غضنفر کو اُن کی مجموعی خدمات کے اعتراف میں بزمِ صدف بین الاقوامی ایوارڈ ۲۰۲۰ تفویض کیا جا رہا ہے۔۲۰۲۰ کا بزمِ صدف نئی نسل ایوارڈممتاز نقّاد پروفیسر ابوبکر عباد کی خدمت میں پیش کیا جائے گا۔
اِس موقعے سے ۲۰۱۹ کا بین الاقوامی ایوارڈ جو پروفیسر مظفر حنفی کو دیا جاناتھا مگر اِس دوران وہ ہمارے ساتھ نہیں رہ سکے؛ اب اُن کے صاحب زادگان جناب پرویز مظفر اور جناب فیروز مظفر کو اِس تقریب میں پیش کیا جائے گا۔ واضح ہو کہ ۲۰۱۶ میں بزمِ صدف بین الاقوامی ایوارڈ کا قیام عمل میں آیا اور اب تک جناب جاوید دانش، کینیڈا( ۲۰۱۶)، جناب مجتبیٰ حسین، ہندستان(۲۰۱۷)، جناب باصر سلطان کاظمی، برطانیہ(۲۰۱۸) اور پروفیسر مظفر حنفی، ہندستان(۲۰۱۹) ؛ اِس ایوارڈ کے لیے منتخب ہو چکے ہیں۔ اِسی طرح ڈاکٹر واحد نظیر، ہندستان(۲۰۱۶)، ڈاکٹر عشرت معین سیما، جرمنی(۲۰۱۷)، ڈاکٹر راشد انور راشد، ہندستان(۲۰۱۸) اور ڈاکٹر ثروت زہرا، دوبئی(۲۰۱۹)؛ بزمِ صدف نئی نسل ایوارڈ سے نوازے جا چکے ہیں۔ بزمِ صدف انٹر نیشنل کے چیر مین جناب شہاب الدین احمد نے میڈیاپلس آڈیٹوریم، حیدر آباد میں اخبار اور میڈیا کے افراد کے لیے منعقدہ خصوصی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مذکورہ باتیں بتائیں۔وہ قطر سے براہِ راست حیدر آباد تشریف فرما ہوئے تھے۔
انھوں نے بتایا کہ ۲۶؍ مارچ ۲۰۲۲ کو منعقدہ اِس پروگرام میں بزمِ صدف محمد صبیح بخاری ایوارڈ برائے ادبی خدمات پروفیسر محمود الاسلام (بنگلا دیش۔۲۰۱۹) اور جناب اجے سحاب (ہندستان۔ ۲۰۲۰) کو دیا جائے گا۔ اس موقعے سے پروفیسر ناز قادری ایوارڈ برائے نعت گوئی ۲۰۲۱ جناب راہی فدائی کو پیش کیاجائے گا۔اشرف قادری ایوارڈ برائے تاریخ نویسی ۲۰۲۱ ممتاز صحافی جناب سہیل انجم کو دیا جائے گا اور ضیا الدین احمد شاہد جمال ایوارڈ برائے ادبی صحافت ۲۰۲۱ معتبر ادیب اور مختلف رسائل و جرائد کے مدیر جناب حقانی القاسمی کو دیا جائے گا۔
بزمِ صدف کے چیر مین جناب شہاب الدین احمد نے کہا کہ ۲۰۲۱۔۲۰۲۲ کے برسوں کو اردو صحافت کی دو صدی تقریبات کے طور پر عالمی سطح پر منانے کا فیصلہ کیا گیاتھا۔ اردو کا پہلا اخبار ’ جامِ جہاں نما‘۲۷؍ مارچ ۱۸۲۲ کو شہرِ کلکتہ سے شایع ہوا تھا۔اِس اعتبار سے ۲۶؍ مارچ ۲۰۲۲ کو اردو صحافت اپنے دو سو برس مکمّل کر رہی ہے۔بزمِ صدف نے نومبر ۲۰۲۱ میں ہی اردو صحافت کی دو صدی تقریبات کا ایک بین الاقوامی سے می نارمنعقد کر کے آغاز کر دیا تھا۔۲۵؍ مارچ ۲۰۲۲ کو کلکتہ میں جہاں سے ’جامِ جہاں نما‘ شایع ہوا تھا، وہیں بھیرب گنگولی کالج کے اشتراک سے اردو صحافت کی دو صدی کے حوالے سے ایک بین الاقوامی سے می نار منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں برطانیہ ، بنگلا دیش، کویت،قطر اور ہندستان کے مختلف صوبوں کے ماہرین شرکت کریں گے۔
۲۶؍ مارچ ۲۰۲۲ کو حیدر آباد میں عثمانیہ کالج فار وی مین کے ہال میں بزمِ صدف انٹرنیشل کی ایوارڈ تقریبات برائے ۲۰۱۹، ۲۰۲۰ اور ۲۰۲۱ منعقد کی جا رہی ہیں جس میں تمام ایوارڈ یافتگان، حیدر آباد اور ملک کے دوسروں گوشوں سے افراد شریکِ بزم ہو رہے ہیں۔اِس موقعے سے۷۵۲ صفحات پر مشتمل ’صحافت :دو صدی کا احتساب(۱۸۲۲ سے ۲۰۲۲)‘کتاب جس میں اردو صحافت کی تاریخ کے مختلف ادوار کے حوالے سے ۷۰ مضامین شامل کیے گئے ہیں، اِس کتاب کا اردو صحافت کی دوصدی کی تکمیل کے موقعے سے اجراکیا جائے گا۔’بزمِ صدف‘ اور’ مکتبۂ صدف‘ نے ۶۲۴ صفحات پر مشتمل ڈاکٹر محمد ذاکر حسین کی ترتیب دادہ قاموسی کتاب ’صحافت(کتابیات)‘کا بھی اجرا کیا جائے گا۔جناب سہیل انجم( جدید اردو صحافت کا معمار: قومی آواز:)، ڈاکٹر تسلیم عارف( نیند کھُلی تنہائی ہے:ایم۔جے۔ اظہر)،پروفیسر محمود الاسلام (پیاسا مَن) اور متعدد کتابوں کا ایوارڈ تقریب میں اجراکیا جائے گا۔
مورخہ ۲۷؍ مارچ ۲۰۲۲ کو اردو صحافت کی دو صدی کے تعلق سے عالمی سے می نار کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں مختلف ممالک کے نمایندگان اور ہندستان کے مختلف صوبوں سے مدیران، صحافی، صحافت کے محققین اور ناقدین کے علاوہ ریسرچ اسکالرزاور حیدر آباد سے تعلق رکھنے والی نمایندہ اور سربرآوردہ شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔ بزمِ صدف کی روایت کے مطابق بین الاقوامی مشاعرہ، بزمِ موسیقی اور دیگر تقریبات بھی ساتھ ساتھ چلتی رہیں گی۔
بزمِ صدف کے چیر مین جناب شہاب الدین احمد نے پریس کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے یہ کہا کہ وبائی دور سے بہ فضلِ خدا نجات کی صورت پیدا ہوتے ہی بزمِ صدف نے اپنی ایوارڈ تقریبات اور عالمی سے می ناروں کے انعقاد کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ہمیں توقع ہے کہ بہت جلد عالمی صورتِ حال کی درستگی پر ۲۰۲۱ اور ۲۰۲۲ کی ایوارڈ تقریبات قطر میں بہ اہتمام منعقد کریں گے جہاں حسبِ روایت مختلف ملکوں سے نمایندگان شریک ہوں گے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

