Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      جون 6, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      جون 6, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقات

پروفیسر اعزاز افضل رثائی کلام کے گلشن میں ( بہہ رہی ہے فرات آنکھوں سے کے تناظر میں) – نسیم اشک

by adbimiras مارچ 14, 2022
by adbimiras مارچ 14, 2022 1 comment

روز ازل سے روز حاضر تک تاریخ کی آنکھوں نے بے شمار واقعات کو دیکھا ہے مگر ایک بھی واقعہ انسانی تہذیب میں بربریت اور ظلم کا ایسا نہیں ملتا جیسا کہ تپتے صحرا میں اہل بیت کے ساتھ واقع ہوا۔انسانی تہذیب میں ایسا کوئی واقعہ نہیں جس نے مجموعی طور پر ذات،مذہب اور عقائد کی سرحدوں کو لانگھ کر ایک عالم کو متاثر کیا ہو اور ایک عالم اس ظلم اور بربریت پر آنسو بہاتا رہے۔دنیا کی تاریخ اس بات کی بھی گواہ ہے کہ دکھ،غم اور ماتم خواہ کسی چیز کا بھی ہو ایک معین مدت تک لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتا ہے پھر وقت ان دکھوں کو بھلا دیتا ہے مگر سانحہِ کربلا ایک ایسا سانحہ ہے جس کی یاد وقت گزرنے کے ساتھ آج بھی اسی طرح دلوں میں آباد ہے جیسے یہ کل کی بات ہو۔دوسری زمینوں سے ذیادہ ، سرزمین ہند کو یہ افتخار حاصل ہے کہ اس نے اپنی محبت اہل بیت سے رکھی ۔پورے ہندستان کے ساتھ دنیا کے مختلف ملکوں میں  بسنے والے لوگوں کے دلوں میں اہل بیت کی محبت پانی جاتی ہے۔جوش نے اس لئے برجستہ کہا ہے.

انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین

کاروانِ عاشقانِ اہل بیت اپنی محبت کا اظہار مختلف طریقے سے کرتے ہیں پر ان تمام طریقوں میں ایک مماثلت ہے اور وہ ہے محبت۔محبت کا جذبہ جہاں کار فرما ہوتا ہے وہاں عقل و خرد کی حیثیت محض تماشائی کی ہوتی ہے۔
جب اس کاروانِ محبت کا گزر کلکتہ جیسے انقلابی شہر سے ہوتا ہے تو انقلاب کی علامت،صبر و رضا کی علامت حسین ابن علی کا ذکر لازم  ہو جاتا ہے۔

شہر کلکتہ،ایک ایسا شہر جس کے دل میں محبت کا ایک سمندر بہتا ہے جو پوری دنیا میں ایک ایسا شہر مانا جاتا ہے جہاں زندگی کے ہر روپ کو دیکھا جاسکتا ہے،زندگی کے ہر خانے کی ترجمان، کلکتہ نے اپنی ادب و ثقافت کو بڑی اہمیت دی ہے۔اسی سر زمین سے قلم کا ایک سپاہی قلم برداشتہ رثائی ادب پر اپنی عقیدتوں  کی آنکھوں کا سلام بھیجتا ہوا کہتا ہے”بہہ رہی ہے فرات آنکھوں سے”

رثائی ادب اردو ادب کا ایک اہم حصہ ہے اس کے تحت مرثیہ اور اس قبیل کے دوسرے اصناف شامل ہیں جن میں سلام، منقبت، نوحے،ماتم وغیرہ اہم ہیں۔
"بہہ رہی ہے فرات آنکھوں سے” اعزاز افضل کا رثائی کلام کا مجموعہ ہے جسے نعیم انیس نے ترتیب دی ہے۔اعزاز افضل کے اس مجموعے میں سلام،قصائد،نوحے،ماتم،قطعات کے علاوہ چند متفرق اشعار شامل ہیں۔مجموعہ دراصل عقیدت کا ایک گلدستہ ہے جس میں شاعر نے اہل بیت سے اپنی عقیدت و محبت کا برملا اظہار کیا ہے۔قول نبی ہے کہ "حسین مجھ سے ہیں میں حسین سے ہوں” اس قول کی روشنی میں محبت اہل بیت کی اہمیت واضح ہو جاتی ہے۔اعزاز افضل کی شخصیت اردو ادب میں غزل کے حوالے سے ایک معتبر شخصیت ہے۔موصوف نے مختلف اصناف سخن میں اپنے کمالات کے جوہر دکھائے ہیں۔غزل میں ان کا منفرد انداز اپنی مثال آپ ہے۔ان کے قطعات قابل رشک ہیں۔موصوف کی رثائی نگارشات مطالعے سے تعلق رکھتے ہیں۔
اس بات سے قطعئ انکار کی گنجائش نہیں کہ ہمارے نبی سا  دوعالم میں کوئی نہیں،ان کی مدحت  نہ کوئی زبان کرسکتا ہے اور نہ کسی زبان میں ممکن ہے۔یہ کام انسانی حدوں سے پرے ہے۔  ایک عاشق رسول بس اپنی بساط تک محبت کا، عقیدت کا اظہار کرتا ہے اور کرے گا وہی جس کی زباں سے رب چاہے۔انسانی فکر کے،بیان کے،اظہار کے دائرے اتنے ہی تنگ ہیں جتنا انسان کی زندگی،یہ بہت بڑی بات ہے کہ کسی قلم سے نبی کی شان میں چند الفاظ نکل جائے ،یقیناً یہ مرضئ رب پر منحصر ہے۔موصوف
سرکار دوعالم کی مدح کرتے ہوئے رقمطراز ہیں۔
مدح سرکار میں لب کشائی،اتنی بندوں میں جرأت کہاں ہے
وہ کرے نعت گوئی کا دعویٰ جس کے منہ میں خدا کی زباں ہے۔
خوبصورت اور منفرد لب و لہجہ کے شاعر اعزاز افضل نے اہل بیت کی شان اقدس میں شاندار ا ور  پر وقار اشعار کہے ہیں۔مناصب اور مراتب کا خاص خیال رکھا ہے۔قاسم ولایت،حضرت علی کی شان میں رقم طراز ہیں۔
شان رسول خالقِ اکبر سے پوچھئے
شان علی جناب پیمبر سے پوچھئے

کہتے ہیں یا علی تو لرزتے ہیں تخت و تاج
کیا دبدبہ ہے حاکم خود سر سے پوچھئے
نبی کے دل کا چین، شاہ کربل حضرت امام حسین کی شان اقدس میں عقیدت و محبت کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں۔

سوار دوش نبی کا مقام کیا کہئے
زمیں پہ عرش معلیٰ دکھائی دیتا ہے
حضرت امام حسین دنیا کی تاریخ کی وہ عظیم الشان شخصیت ہیں جس کی دوسری مثال نہیں ملتی۔صبر و رضا کے پیکر ابن علی نے دین حق کی عظمت کو بچانے کی خاطر جو قربانی پیش کی تا قیامت ایسی قربانی کسی اور سے نہیں ہونی ہے۔حضرت امام حسین نے عشق کا وہ امتحان دیا کہ کسی عقل نے کبھی ایسا نہ سوچا ہوگا،حرمت دین کی خاطر اپنی جان دینا تو الگ، ہر عمر کے لوگوں کو جو ان کے عزیز تھے ایک ایک کر کے راہ حق میں قربان کردیا۔گلشن زہرا اجڑا،ششماہی کی حلق میں تیر ترازو بنا،قاسم کے کلیجے  کے ٹکڑے ہوئے،اکبر کے سینۂ پاک میں  برچھی دھنسی،عباس کے بازوں کٹے،عابد بیمار کے جسم اطہر پر کیلوں کی کنگھی چلی،پیاسی سکینہ نے قید خانے میں دم توڑا،خیمے جلے،لاش اطہر پر گھوڑے چلیں تب بھی حسین میدان میں ڈٹے رہیں۔ایسی ہمت پر ایسے حوصلے پر زمین و آسمان کا سلام۔شاعر  میدان  کربلا  میں حسینی لشکر کی منظر نگاری کرتے ہوئے کہتے ہیں۔

ادھر حسن کے ستارے ادھر حسین کے چاند
فلک زمین پہ بکھرا دکھائی دیتا ہے
ہمارے دل میں ہے روشن حسینیت کا چراغ
ہمیں اندھیرے میں رستہ دکھائی دیتا ہے۔
غم حسین بھی عجیب کیفیت رکھتا ہے۔اس غم کو منانا باعث افتخار سمجھا جاتا ہے اور ہو بھی کیوں نہ غم حسین ہی واحد غم ہے جو غموں سے نجات دلاتا ہے۔غم حسین کا اہتمام کرنا شاعر کے نزدیک کار خیر ہے اور توشہ آخرت بھی ہے۔وہ اپنی شناخت کو حسینی ہونا کافی سمجھتے ہیں اور کوئی پہچان ضروری نہیں کیونکہ جو حسینی ہوتا ہے اس میں انسانی اعلیٰ اخلاق و اوصاف پائے جاتے ہیں۔مذہب اسلام نے اخلاق کو بڑی اہمیت دی ہے۔اسلام انسانیت کا پیغام دیتا ہے اور حسینی ذہن رکھنے والے انسانیت کے پر چارک ہوتے ہیں۔حضرت امام حسین کی محبت سرحدوں کی قید سے آزاد ہے۔غم حسین کو سینے میں بسانے والا شاعر بہ بانگ دہل کہہ اٹھتا ہے۔

شناخت کے لئے ماتم کے زخم کافی ہیں
حسینیوں کو ضرورت نہیں حوالوں کی

یزید کی سلطنت،حکومت،طاقت،دولت،شہرت مظلوم حسین سے لڑ کر غارت ہوئی۔حق سے ٹکرانے کا انجام یہی ہوتا ہے دیر لگتی ہے مگر انجام برا ہوکر ہی رہتا ہے۔حق ہمیشہ نیزے پر چڑھ کر اپنی فتح کا اعلان کرتا ہے اور باطل قتل کرکے  شکست زدہ ہوتا ہے۔شاعر نے یزید کی چند روزہ حکومت کا زوال یوں بیان کیا ہے۔

پلک جھپکتے ہی گل تھا یزیدیت کا چراغ
یہی بساط ہے مانگے ہوئے اجالوں کی

حضرت علی اکبر ابن حسین کی خوبصورتی کا تذکرہ کرتے ہوئے شاعر کا قلم بول اٹھتا ہے۔

ماہ کنعاں تھے حضرت یوسف
ماہ ایماں حسین کا جانی

باب الحوائض،ہاشمی قمر ،پیکر وفااور کربلا کے حیدر کی عقیدت میں یوں الفاظ کے گوہر لٹاتے ہیں۔

سرنگوں کیوں ہو مذہب اسلام
ہیں اٹھائے ہوئے علم عباس
سر زمین کربلا کو سلام پیش کرتے ہوئے شاعر اس دلدوز منظر کو  بیان کرتا ہے جب خیموں میں اہل بیت پیاسے تھے اور کچھ دور پر فرات بہہ رہی تھی۔ہائے رے قسمت فرات! کہ تیری قسمت میں اہل بیت کی ضیافت نہیں تھی اب  صدیوں فرات دیدار اہل بیت کی  پیاس لئے بہتی رہے گی۔
پیاس کے خیموں سے کتنی دور ہے نہر فرات
آج طے ہوتا نہیں کیوں فاصلہ اے کربلا
لشکر حسینی میں ششماہی علی اصغر نے بھی میدان جنگ میں شجاعت حیدری دکھائی اور  درندہ صفت ظالموں کو دیکھ پیاس کی شدت میں ایسا مسکرایا کہ یزیدی فوج چاروں خانے چت ہوگئ گویا ان کی مسکراہٹ اس بات کی یاد دہانی تھی کہ ظالموں کیا تمہیں فاتح خیبر یاد نہیں ؟ یہ کنبہ اسی فاتح خیبر کا ہے۔انہوں نے اپنے حلقوم پہ تیر کھاکر بتادیا کہ ہم ساقی کوثر ہیں تم ہمیں پانی دکھاتے ہو۔حضرت علی اصغر کے حلق کا تیر شکست یزید کی داستان لکھ گیا۔

لگا جو تیر تو بے ساختہ ہنسی آئی
جواب دے دئے اصغر نے سب سوالوں کے

حضرت علی اصغر کی شہادت کی خبر ملتے ہی ان کی  والدہ  حضرت بانو   زار و قطار رونے لگیں ۔شاعر ایک ماں کے جذبات کو  کس خوبصورتی سے  پیش کیا ہے۔

بولی بانو کیسی نیند آئی کے اصغر سوگئے
گود میں جاگا کئے،جلتی زمیں پر سو گئے

حضرت قاسم کی زوجۂ حضرت کبری کو جب اپنے شوہر کی شہادت کی خبر ملی تو ان کے دل پر غم کا پہاڑ ٹوٹ گیا شاعر نے انکی دلی کیفیت کو کتنا پر غم پیش کیا ہے۔

بولیں کبری مرے دولہا کا یہ بستر تو نہیں
دشت پر خار سے کیوں بوئے حنا آتی ہے
اعزاز افضل کے رثائی کلاموں میں خوبصورت قصائد ملتے ہیں جو اہل بیت کی شان میں رقم کئے گئے ہیں۔
بنت نبی، خیرانساء سیدہ حضرت فاطمہ کی شان اقدس میں عقیدت کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں۔
پردہ دارِ عصمت آل عبا ہیں فاطمہ
دھوپ میں اسلام کے سر کی ردا ہیں فاطمہ

اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا کوئی عزو شرف
زوجۂ حیدر ہیں بنت مصطفے ہیں فاطمہ

حضرت امام حسین کی شان میں عقیدت کے پھول پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں۔

روشن رہیں گے چودہ طبق جس کے نور سے
ہیں بارہ چاند تاروں کا وہ سلسلہ حسین

سر بلندی اسے خالق نے عنایت کی ہے
جس نے شمشیر کے سائے میں عبادت کی ہے

ایام محرم میں مختلف مقامات پر اعزاداری کی محفل منعقد کی جاتی ہے اور اہل بیت سے محبت رکھنے والے بلا تفریق مذہب و ملت اپنی عقیدت مختلف طریقے سے پیش کرکے شہدائے کربلا کو یاد کرتے ہیں۔شہدائے کربلا کی یادآوری کے طور پر ماتمی مجالس،محفل ذکر حسین،تبرکات کی تقسیم،جلوس تعزیہ کا اہتمام ہوتا ہے۔ان مواقع پر نوحہ پڑھا جاتا ہے اور مصائب اہل بیت بیان کی جاتی ہے۔اعزاز افضل کے رثائی تخلیقات میں قلیل تعداد میں ہی مگر  پر اثر نوحے ملتے ہیں۔یہ نوحے اشکوں کے نذرانے پیش کرتے ہیں۔نوحے کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں۔

ہیں غنی کون غلامان علی سے بڑھ کر
مال و زر لیتے نہیں جان دیا کرتے ہیں

کبھی ہنسے نہیں اہل حرم حسین کے بعد
بہائے آل پیمبر نے عمر بھر آنسو

تھا گلشن زہرا کی طہارت کا تقاضہ
مقتل میں نہایا گل تر اپنے لہو سے

مجلس اعزاداری میں ماتم کو اہمیت حاصل ہے۔ایام محرم میں کثرت سے ماتم مجلسوں میں پیش کئے جاتے ہیں۔موصوف صنف ماتم میں بھی اپنے نقوش چھوڑے ہیں۔ان ماتمی کلاموں میں میدان کربلا کے واقعات پر درد انداز میں ایک جذبے کے ساتھ پیش کئے جاتے ہیں جنہیں سن کر آنکھیں نم ہو جاتی ہیں اور آہ و بکا میں اس غم کا عزادار اظہار کرتے ہیں۔مظلوموں کے غموں کو یاد کرکے آنسوں بہائے جاتے ہیں۔میدان کربلا میں لشکر حسینی نے جس عزم کا مظاہرہ کیا تھا جو جواں مردی دکھائی تھی اور جن مصائب کو جھیلتے ہوئے جام شہادت نوش فرمایا اس کا ذکر رقت آمیز لہجے میں ملتا ہے۔

اتر کے نہر میں بھی تشنہ لب رہا عباس
زمانہ دیکھ لے کتنا ہے با وفا عباس

دلاسے دیتی ہیں زینب یہ کہہ کے بچوں کو
کہ پانی لےکے ابھی آئے گا مرا عباس

کوئی بچی در خیمہ پہ کھڑی ہو جیسے
آج بھی دشت سے رونے کی صدا آتی ہے

ہے تین دن سے قیامت کی پیاس یا عباس
نہ ٹوٹ جائے سکینہ کی آس یا عباس

یاد آ رہی ہے سینۂ اکبر کی برچھیاں
ہر قلب ایک درد مجسم ہے آج بھی

دشت غربت میں نہ راس آئی جوانی کی بہار
جاگنے کا وقت جب آیا تو اکبر سو گئے

حضرت قاسم حضرت امام حسن کے صاحبزادے تھے اور میدان کربلا میں اپنے چچا حضرت امام حسین کے ہمراہ تھے۔حضرت قاسم دولہا بنے تھے مگر یہ سہرا خون میں سنا تھا۔میدان کربلا میں اپنے تمام عزیزوں کے ساتھ انہوں نے بھی جام شہادت نوش فرمایا اور ان کے سہرے کا پھول مرجھانے سے قبل وہ راہ حق میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کردئے۔موصوف نے اس ہولناک منظر کو کتنے پر درد انداز میں پیش کیا ہے ملاحظہ فرمائیں۔

کیا تر و تازہ بنے قاسم کا چہرا ہوگیا
قطرہ قطرہ خون ٹپکا اور سہرا ہوگیا

ابن حسین حضرت علی اکبر بلا کے خوبصورت نوجوان تھے۔حضرت قاسم نبی کی ہو بہو تصویر تھے۔حضرت حسین  اپنے بیٹے حضرت قاسم میں  اپنے نانا کی زیارت کیا کرتے تھے۔ دوسرے لوگوں کے ساتھ اہل ستم بھی اس بات سے آگاہ تھے۔جب میدان جنگ میں حضرت قاسم جلوہ افروز ہوئے تو سب نے ایک زبان کہا لو نبی کا دیدار کرو۔ظلم کی انتہا ہوگئ کہ شبیہ پیمبر کے سینۂ اطہر میں برچھی اتار دی گئ۔شاعر نے حضرت علی اکبر کی رن میں آمد کو یوں بیان کیا ہے۔

رن میں جب آئے علی اکبر تو دنیا نےکہا
لو! نبی کو دیکھنے کا خواب پورا ہوگیا

حضرت زینب جو میدان جنگ میں اپنے بھائی حسین کے ہم قدم  رہی انہوں نے اپنے دو بیٹے عون ومحمد کو راہ حق میں خوشی خوشی  قربان کردیا۔حضرت زینب کربلا کی وہ شخصیت ہیں جس میں حیدر و حسین بیک وقت موجود تھے۔انہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنا پورا گھر اجڑتے دیکھا،اپنے بھائی حسین کو خاک و خون میں تڑپتے دیکھا،پیاسوں کو دم توڑتے دیکھا،خیمے جلتے دیکھے،سجاد کو  ستم اٹھاتے دیکھا گرچہ وہ کون سا دکھ نہیں جو انہوں نے نہ سہا۔میدان کربلا کے باہر حضرت زینب نے وہی کام انجام دیا جو میدان جنگ میں ان کے بھائی نے دیا۔دربار یزید میں جب اسیران مصیبت کا کارواں پہنچا وہاں حضرت زینب کے  حیدری خطبے نے یزید کی سلطنت ڈھا دی۔شاعر حضرت زینب کی حالت بیان کرتے ہوئے کہتا ہے۔

زینب ہیں بے سہارا اب آئے خدارا
عباس ہیں نہ اکبر فریاد یا محمد

لہجے کی دھار کہتی تھی میں ذوالفقار ہوں
بنت علی کا جوہر تقریر دیکھئے

عباس علمدار کی حالت کو بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں۔

پیاسوں کا غم الگ ہے،فکر علم الگ ہے
مشکل میں ہے دلاور فریاد یا محمد

عقیدت کے اس گلدستے میں خوبصورت قطعات بھی شامل ہیں۔دو قطعات آپ کی خدمت میں پیش کررہا ہوں۔

پھر وہی کربلا،وہی خیبر
سینکڑوں شمر،سینکڑوں عنتر
یا الٰہی ہمیں ودیعت کر
عزم شبیر و قوت حیدر

آب و غذا بھی بند ہے راہ اماں بھی بند
یارب ہمیں عطا ہو قناعت حسین کی
دنیا کو لے نہ ڈوبے سیاسی یزیدیت
اس کربلا کو پھر ہے ضرورت حسین کی

اعزاز افضل ایک قادرالکلام شاعر تھے انہوں نے جس  صنف سخن  کو چھوا اس میں اپنا ہنر بخوبی دکھایا۔
رثائی کلاموں میں انہوں نے اپنا نظریہ اپنی فکر کا برملا اظہار کیا ہے اور بہت واضح طور پر اظہار کیا ہے۔ان کے رثائی کلام ادب میں ایک گرانقدر اضافے کی حیثیت رکھتا ہے ۔
وہ اپنی شاعری کے بارے میں خود رقمطراز ہیں۔

خدائے پنجتن پاک کی ہے دین افضل
ہوئی نصیب جو پاکیزگی خیالوں کی

نسیم اشک
ہولڈنگ نمبر10/9گلی نمبر3
جگتدل 24 پرگنہ مغربی بنگال
فون۔9339966398
e-mail : nasimashk78@gmail.com

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

1 comment
5
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اگلی پوسٹ
2020 کا بزمِ صدف بین الاقوامی ایوارڈ ممتاز ناول نگار غضنفر اور نئی نسل ایوارڈ ابو بکر عباد کو پیش کیا جائے گا

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

1 comment

محمد غلام حسین مارچ 14, 2022 - 9:33 صبح

بہت بہت عمدہ مضمون۔۔۔۔

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (186)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (599)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (202)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (143)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,050)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (19)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (478)
  • گوشہ خواتین و اطفال (100)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,136)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (899)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں