‘باغ سنبھلی کی شعری کائنات’ پر ایک نظر – زیبا خان
اویس سنبھلی کی مرتب کردہ کتاب ‘ باغ سنبھلی کی شعری کائنات’ باغ سنبھلی کی شعری حیثیتوں کے ساتھ سنبھل کی تاریخی حیثیتوں کو بھی ہمارے سامنے واضح کرتی ہے۔ 352 صفحات پر مشتمل اس کتاب میں اویس سنبھلی صاحب نے باغ سنبھلی کی شعری کائنات کے ساتھ ساتھ قصبہ سنبھل کی پوری تاریخ کو سمو دیا ہے۔ ایک اچھے ادیب کی یہ خوبی ہے کہ کم لفظوں میں پوری بات کہہ جائے اور اویس صاحب کے اندر یہ خوبی بدرجہ اتم موجود ہے ۔ جس کا پرتو ہمیں اس کتاب کے ابتدائیہ میں بخوبی نظر آتا ہے۔
کتاب کی فہرست میں ‘ سنبھل کا باغ’ نام سے ڈاکٹر مسعود الحسن عثمانی کا مضمون اور ‘ دبستان داغ کا گمنام شاعر ‘ کے نام سے ڈاکٹر عمیر منظر صاحب کا مضمون شامل ہے۔ اسی کے ساتھ اویس سنبھلی کا ابتدائیہ ہے جو صفحہ نمبر 25 سے لے کر صفحہ نمبر 105 تقریباً اسی صفحات پر مشتمل ہے۔ محض ان اسی صفحات میں اویس سنبھلی نے سنبھل کی سر سبز و شاداب تاریخ بیان کر دی ہے جس کے لئے عموماً پورا تذکرہ درکار ہوتا ہے۔ سنبھل کے ماضی سے لے کر جو مغلیہ عہد بابر کی فتوحات کے ساتھ شروع ہوا اور قصبہ سنبھل کو ‘ سنبھل سرکار ‘ کا درجہ حاصل رہا تک قدیم عہد سے جدید دور کے شعراء و ادباء و علماء کے سلسلے وار حالات و واقعات بیان کیے ۔ تحریک آزادی میں سنبھل کی قربانیوں کا مختصراً ذکر کیا ہے۔
سنبھل کے علمی مقام میں جن علماء و ادباء نے علم و ادب کے نئے باب روشن کیے ان کے تعارف پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں،
” سنبھل ہمیشہ بادشاہوں کا مسکن رہا، یہاں کی رزم گاہوں میں ایک سے بڑھ کر ایک معرکہ آرائیاں ہوئیں، اسی سرزمین کی خاک سے علم و فضل کے وہ پہاڑ نمودار ہوئے جن کی چوٹیوں کو سر کرنا ،اب کسی معجزے سے کم نہیں اور اس کی تہوں میں آج بھی نہ جانے کتنے ایسے لعل و گوہر دفن ہیں جن کی تابانی کبھی آنکھوں کو خیرہ کر دیا کرتے تھیں ، تاریخ اس ثبوت میں ہمارے سامنے سیکڑوں ناموں کی فہرست پیش کرتی ہے۔” ( بحوالہ : مرتب اویس سنبھلی ، باغ سنبھلی کی شعری کائنات، احساس ایجوکیشنل اینڈ سوشل ویلفیئر فاؤنڈیشن ٹرسٹ، صفحہ 39)
سنبھل سے شائع ہونے والے قدیم اخبارات و رسائل کا مختصر ذکر کرتے ہوئے سنبھل کے فارسی ادب سے وجود میں آنے والی کتابوں سراج العارفین، تذکرہ اسرار یہ کشف صوفیہ، شرح قصیدۂ عرفی شیرازی، تذکرہ حسینی، تشریح الحروف کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر قمر عالم کے پی ایچ ڈی مقالے تصحیح نسخۂ خطی” تشریح الحروف از میر حسن دوست سنبھلی با مقدمہ و حواشی” کا تعارف بھی پیش کیا ہے۔
سنبھل کے شعری ادب میں سیکڑوں شعراء ہوئے ہیں جنہیں اویس سنبھلی کے لفظوں میں دبستان سنبھل کہہ کر ایک چھوٹا سا اسکول قرار دیا جا سکتا ہے۔ سنبھل کی زرخیز زمین سے اگنے والے شعراء میں پہلا نام شیخ مکھن عشقی کا ملتا ہے۔ اس کے علاوہ میر حسن دوست ذاکر جنہوں نے ” تذکرہ حسینی ” مرتب کیا تھا، محمد قدرت اللہ شوق ، حکیم کبیر علی، حکیم احمد علی، حکیم صغیر علی مروت، منشی احمد حسن خاں شاکر، مولوی اما م الدین انصاری، مولوی ذکاوت اللہ حسین، حافظ نسبت اللہ مجنوں، حافظ احمد علی وارثی، سوتی شیو پرشاد شاد، بہار حسین بہار، احمد حسین ملیح، غلام احمد شوق فریدی، سید مہدی حسن زیدی،مولوی عابد حسین خلش، ڈاکٹر ریاض الدین سنبھلی، ڈاکٹر وجاہت حسین عندلیب شادانی، اشک سنبھلی، تفکر سنبھلی،فضل رب باغ سنبھلی وغیرہ ایک لمبی فہرست ہے۔ ان شعراء میں کچھ صاحب دیوان شاعر بھی ہیں اور کچھ شعراء کے شعری مجموعے کتابیں وغیرہ بھی شائع ہوئی ہیں، لیکن بیشتر نایاب ہیں۔
نمونۂ کلام :
دین تو کھویا ہے دنیا بھی نہ کی کچھ حاصل
شوق ناکارہ ادھر کا نہ ادھر کا نکلا (قدرت اللہ شوق)
ہے وقت نزع وصل کی خاک آرزو کریں
ہم آپ گم ہیں یار کی کیا جستجو کریں (قادر سنبھلی)
امتحاں لیتا ہے میرا کیا تو اے کوئے صنم
میں تو ہوں کوئے صنم کی ٹھوکریں کھائے ہوئے ( احمد حسین ملیح)
خنجر چلا رہے ہیں مگر کس ادا کے ساتھ
ہلکی سی آہ بھی ہے لب نیم وا کے ساتھ
ساحل پہ کون پہلے پہونچتا ہے دیکھیے
کچھ ناخدا کے ساتھ ہیں کچھ ہیں خدا کے ساتھ (مولوی عابد حسین خلش)
یہ تو تھی ابتدائیہ کی بات، آییے اب باغ سنبھلی کی طرف چلتے ہیں۔۔۔جن کے کلام کا یہ مجموعہ ہے۔ حضرتِ باغ سنبھلی کا پورا نام محمد فضل رب باغ سنبھلی تھا۔ انیسویں صدی عیسوی کے ایک اہم شعراء میں ان کا ذکر ہوتا ہے جو داغ دہلوی کے شاگرد ہونے کے ساتھ ساتھ داغ دہلوی کے جانشین قرار پائے۔ باغ سنبھلی کی ولادت 1871ء سنبھل ضلع مرادآباد میں ہوئی۔ یہ عباسی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی۔ سنبھل کی شعری فضا سے متاثر ہوکر شاعری کا ذوق پیدا ہوا ۔ پہلے وارفتہ پھر ہمدم تخلص اختیار کیا۔ لیکن جب داغ دہلوی سے شرف تلمذ حاصل کیا تو باغ تخلص کرنے لگے۔ داغ دہلوی کے انتقال کے بعد ان کے جانشین مقرر ہوئے۔ ” جرس گل” کے مرتب عقیل سنبھلی حضرت باغ سنبھلی کا قصیدہ پڑھتے ہوئے رقم طراز ہیں،
” حضرت باغ سنبھلی اپنے استاد حضرت داغ دہلوی کی طرح زبان دانی اور سلاست زبان کے لئے اپنی حیات میں ہندوستان کے اساتذہ فن سے خراج تحسین حاصل کر چکے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جانشین داغ دہلوی کی حیثیت سے تا حیات ملک کی مایہ ناز محفلوں میں مسند نشین رہے۔” ( اویس سنبھلی،باغ سنبھلی کی شعری کائنات، ص 92)
باغ سنبھلی کی شاعری کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے داغ دہلوی کی شاگردی میں داغ کی فصیح زبان کی سلاست اور روانی سے بھی فیض حاصل کیا۔ لیکن داغ کی شاعری کا رنگ باغ کی شاعری پر نمایاں نہیں ہے۔ آپ کی شاعری میں بیک وقت شوخی، کے ساتھ تصوف، آپ کے چلبلے مزاج کی ہم آہنگی نظر آتی ہے۔ باغ سنبھلی کی شاعری کی خصوصیت ہے کہ وہ ندرت خیال، جدت طرازی، نئے نئے مضامین کے ساتھ انہیں پیش کرنے کا جداگانہ انداز رکھتے ہیں۔ تبھی تو داغ دہلوی کے چہیتے شاگردوں میں شامل رہے۔
حضرت باغ سنبھلی کی شاعری میں بامحاورہ زبان کا استعمال جس سلیقگی سے کیا گیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ آپ نے غزل کے علاوہ حمد، نعت ، منقبت، قصیدہ،رباعی، مخمس وغیرہ اصناف میں بھی طبع آزمائی کی لیکن آپ کا خاص رجحان غزل اور مخمس کی طرف رہا۔ حمد نعت اور منقبت میں حضرت باغ سنبھلی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عقیدت میں ڈوب کر جو شاعری کی ہے وہ آپ کے دلی جذبات کی ترجمانی کرتی ہے۔ یہ شعر ملاحظہ ہوں
نہ کیوں دل میں ہو آرزوئے محمد ﷺ
مناسب ہے اس گل میں بوئے محمد ﷺ
مری شرم رکھنا سر حشر یارب
نہ کرنا خجل روبروئے محمد ﷺ
باغ سنبھلی کی تمام گوناگوں شعری خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر مسعود الحسن عثمانی صاحب اپنے مضمون ‘ سنبھل کا باغ’ میں لکھتے ہیں،
” باغ کی نظر بہت وسیع اور فکر کا دائرہ بہت کشادہ تھا اس میں خالص ادب و شاعری بھی ہے، نظر کی پاکیزگی اور دل کی نفاست بھی ہے۔ شعری سنجیدگی کی توانائی بھی ہے۔ جذبۂ صادق اور کہیں کہیں تصوف کی ہلکی سی جھلک بھی ہے۔ نعت پاک کی عظمت و رفعت بھی ہے، احترام اور عقیدت بھی ہے، پیغام و دعوت بھی ہے، ٹوٹ کر شعر کہنے کی صلاحیت بھی ہے۔ رواداری میں گزرنے والے بھی بعض مقامات پر ٹھہرنے کے لئے مجبور ہوں گے۔ ” ( باغ سنبھلی کی شعری کائنات، ص 17)
باغ سنبھلی کی شاعری سے انتخاب کرتے وقت سمجھ میں نہیں آتا کون سا شعر لیا جائے اور کون سا چھوڑا جائے، دل چاہتا ہے تمام اشعار نقل کر دیے جائیں۔۔۔یہاں کچھ اشعار بطور نمونہ پیش ہیں۔۔۔ملاحظہ ہوں
نمونہ کلام :
لو آج تو پورب سے گھٹا جھوم کے آئی
اچھی نہیں ایسے میں صنم ہم سے جدائی،
گیسو تو میری جان صدا تونے سنوارے
بگڑی ہوئی قسمت نہ کبھی میری بنائی،
بگڑ جانا سنور جانا الجھ پڑنا بکھر جانا
مزاج یار میں بھی ہیں ادائیں زلف برہم کی،
میرا سینہ نمونہ بن گیا اے باغ گلشن کا
عجب ہی رنگ لایا ہے گل زخم جگر کھل کے،
داور محشر کے آگے داد خواہی کے لئے
باندھ کر دامن میں وہ اپنا گریباں لے چلے،
آرزو، حسرت، تمنا، یاس ، حرماں، رنج و غم
ایک سینہ میں ہزاروں داغ پنہاں لے چلے،
نحن اقرب سے بھی کچھ کام نہ نکلا اپنا
نہیں معلوم وہ کس گوشہ میں پوشیدہ ہے
نرگس بیمار سے تم آنکھ لڑا ہی بیٹھے
حضرتِ باغ تمہارا بھی بڑا دیدہ ہے
زیبا خان
گوپامؤ ، ہردوئی ، اتر پردیش
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

