شاعری انسانی احساسات وجذبات کا آئینہ ہوا کرتی ہے _اسی لئیے اکثر و بیشتر دانشور اسے دل کا ترجمان سمجھتے ہیں _شاعری کے بارے میں ایک عام راےُ یہ بھی ہے کہ یہ دماغ سے زیادہ دل کی چیز ہے اور جذبے کا تعلق کچھ دماغ سے ضرور ہے مگر انھیں حرکت دل کی دھڑکنیں عطا کرتی ہیں ،جب تک یہ دھڑکنیں تیز نہ ہوں جذبے ابال نہیں کھاتے _
جب ہم لوک گیتوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو ان میں شاعری کا کچھ ایسا ہی جذباتی وجدان دکھائی دیتا ہے حالانکہ لوک ادب یا لوک گیت کی کوئ جامع تعریف اب تک بن نہیں پائ ہے جس کی بنا پر ہم یہ کہ سکیں کہ شعری اصناف کی طرح یہ بھی صنفی اور ہیُتی شناخت حاصل کر چکی ہے
آج آزاد نظمیں ،نظم معری یا نثری نظمیں وغیرہ جس طرح سے شعرو شاعری کے دیگر لوازمات سے پاک ہیں لوک گیت بھی کم از کم صنفی اعتبار سے اسی صورت میں دکھائی دیتے ہیں ،انکے اندر ا نسانی جذبے کی ایک لہر اور محبت کے رشتوں کی ایک ترنگ دکھائ دیتی ہے
ہندوستان کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ گاوں پردھان دیش ہے ،اس کی بیشتر آبادی گاوُں میں گزر بسر کرتی ہے _لوک گیتوں کا رشتہ گاوں سے بہت گہرا ہے ،ہندوستان کے بھانت بھانت کے علاقوں کی ان گنت بولیوں ٹھولیوں کا حسن لیےُ لوک بیانیہ ملتے ہیں _کوئل کی کوک ،پپیہا کی ،،پی پی ،،کی آوز دیہی معاشرت کی موہنی تصویر لیےُ انسانی رشتوں میں محبت کا رس گھولتی ہے :
چھاپ تلک سب چھینی رے موہ سے نیناں ملائ کے
یا
لالی تورے لال کی چت دیکھوں ات لال
یا
منرابھئیا پہنا دے سج رنگ چوڑیاں
یا
گھر میں نہیں مورے ساجن برسن لاگے ساون رے ۔۔۔
ان سب جیسے بے شمار گیت صرف ہماری سائکی کا حصہ نہیں ہیں ان کے اندر انسانی رشتوں کے تہذیبی رکھ رکھاو اور زندگی کے نشیب و فراز کی کئ کہا نیاں انگڑ ائیاں لیتی ہیں ۔
شادی بیاہ کے موقع پر گاے جانے والے گیتوں میں زندگی کے مختلف رنگ ملتے ہیں _ان میں بنے اوربنی کے مخصوص رشتوں کے ساتھ ان کے گھر والوں کا ذکر رسومات کا تذکرہ ،کھانے پینے اور زر زیور کے ساتھ ملبوسات کا بیان بڑے خوبصورت انداز میں ملتا ہے
ہر یالا بنا آیا رے ۔۔۔۔بنری کے لیےُ شبھ گھڑی لایا رے ۔۔
سیجیں مخمل کی بچھیں ،تکیےُ شجّر کےلگے
نور تمبو تلے لا کے بٹھایا رے ۔۔۔۔۔
"””””””””‘”
واہ کیا صلی علی سر پہ سجایا سہرا
اپنے ہاتھوں سے ہے مالن نے بنایا سہرا
"””””””””‘”””‘
دولہا کی اماں بڑی ہر جائی ۔۔دولہا کے ابا سے آنکھ لڑائ
دولہا کی خالہ بڑی ہر جائ ۔۔دولہا کے خالو سے آنکھ لڑائ
بیاہ برات کے موقع پر ہوں توہر گیت اپنا ایک خاص رنگ رکھتے ہیں مبارکبادی ،سہرا ،ٹونا ،رخصتی ،وغیرہ لیکن ،،گالی،،کی خوش ذوقی اور بد ذوقی دونوں کے بڑے عمدہ نمونے ہماری معاشرت کے آئینہ دار ہیں ،،چنے کے کھیت میں ،،ایک مقبول عام گیت ہے جو مریاسنوں کی زبان سے شرفاء کی شرافت میں گد گدی پیدا کرتا ہے
بات صرف شادی بیاہ کے خوش گوار مراسم تک ہی نہیں ہے بلکہ اسکے بعد کی وہ تمام صورت بھی گیتوں کا حصہ ہیں مثلا ًّّ ملن ،جدائی ،بال بچے کی آمد کی خوش خبری ،پیدائش ،چھٹی ،چھلاّ ،رسم رواج ،اور اگر دونوں یعنی میاں بیوی میں ان بن ہوئی اور رشتوں کی کڑی ٹوٹنے لگی تو بھی گیت کے بول ابھرتےہیں
سنوریا سے موہے نا ہیں بنی رے۔۔۔۔
بلاو ڈولیا میں تو میکے چلی رے۔۔۔۔
ان سب گیتوں کا رشتہ ہماری معاشرتی زندگی سےجڑا ہوواہے ان کے اندر صدیوں کی گنگا جممنی تہذیبیں انگڑائیاں لیتی ہیں کئ تاریخی اور سیاسی حالات و حادثات کے عکس بھی ان میں ہیں ،اور یہ لوک بیانیہ سینہ بہ سینہ صدیوں سےسفر کرتے رہتےہیں _لاونی ،خیال ،ٹھمری ،لہرا ،رت جگا ،دوہد ،سوہر ،گالیاں ،سہرا ،رخصتی ، شادیانے ،مبارکبادی ،لوری ،چکہرے ،پسرگیت ، برہا ،ساون ،بیساکھی ،بسنتی ،ساکھا ،قوالی وغیرہ گویا بے شمار قسمیں ہیں جس نے دیہی زندگی کے محاکات کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے فلمی گیتوں نے بھی ان سے استفادہ کیاہے کاہ سےکہکشاں تک یہ گیت ہماری سماجی زندگی کے رزم و بزم اور،خلوت وجلوت کا بیان سمیٹے ہوے ہیں
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

