مولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت، ان کی علمی و ادبی، سیاسی و مذہبی خدمات کے حوالے سے بہت کچھ لکھا جاتا رہا ہے۔ محققین نے مولانا آزاد کی زندگی کے مختلف گوشوں کو ہمارے سامنے لانے کی کوشش کی ہے۔ اُن کی شخصیت کے مختلف گوشوں پر اتنا کچھ لکھا گیا ہے کہ شاید ہی کوئی پہلو اچھوتا رہ گیا ہو۔ البتہ جہاں تک میں نے مولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت کا مطالعہ کیا ہے مجھے محسوس ہوا ہے کہ اُن کی شخصیت کا ایک پہلو اب بھی ہماری توجہ کا متقاضی ہے۔
دنیا محی الدین احمد یعنی مولانا ابوالکلام آزاد کو بحیثیت دانشور ، ادیب،سیاسی رہنما، مفکر، مدبر،مفسر، ماہر تعلیم کی حیثیت سے تو خوب جانتی ہے لیکن بہت کم لوگ واقف ہیں کہ مولانا آزاد ایک شاعر بھی تھے۔مولانا آزادؔ کا شعری سرمایہ کتنا ہے اِس پر آج تک تحقیق نہیں ہو سکی ہے، البتہ ان کے ابتدائی زمانے کے اشعار سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وہ ایک باکمال اور فطری شاعر تھے۔دس سال کی معمولی سی عمر میں اُن کا شعری ذوق پروان چڑھ چکا تھا۔مولانا آزادؔ میں شاعری کا ذوق کس طرح پروان چڑھا اس کی تفصیل وہ خود بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"یہ عجیب بات ہے کہ درسیات کے باہر جس چیز سے سب سے پہلے آشنا ہوا ووہپ شاعری تھی۔ مجھے ٹھیک یاد نہیں پڑتا کہ پہلے پہل کیونکر میں اس چیز سے واقف ہوا لیکن یہ اچھی طرح یاد ہے کہ زیادہ شوق اس کا مولوی عبدالواحد خاں سہسرامی کی وجہ سے ہوا۔”
(آزاد کی کہانی خود آزاد کی زبانی)
عبدالواحد خان کون تھے؟ اُن کے بارے میں بتاتے ہوئے مولانا آزاد لکھتے ہیں:
"وہ ایک غریب گھر کے آدمی تھے۔اُن کی بہن ہم لوگوں کے یہاں گھر کے اوپر کام کے لیے ملازم تھی۔ اس تعلق سے ان کی بھی آمد و رفت شروع ہوئی۔اس وقت میری عمر دس گیارہ برس سے زیادہ نہ تھی۔دوپہر کے وقت یہ آیا کرتے اور بہن سے ملتے۔اس میں ہم لوگوں کی بھی بات چیت ہونے لگی”
(آزاد کی کہانی خود آزاد کی زبانی)
اسی زمانے میں کلکتے میں ایک بڑا سہ روزہ مشاعرے کا انعقاد ہوا تھا۔ یہ مشاعرہ مولانا آزاد کی شاعری کا محرک بنا۔ اس مشاعرہ کا تفصیل سے ذکر کرتے ہوئے مولانا آزاد لکھتے ہیں:
"اس زمانے میں کلکتے میں ایک بڑا مشاعرہ ہوا تھا۔اس کا انتظام پٹنہ کے بادشاہ میاں نامی ایک رئیس نے کیا تھا۔اس کے لیے کلکتے کے باہر کے بھی مشہور اشخاص مثلاً جلال مرحوم بلائے گئے تھے۔۔۔۔ تین دن تک مسلسل مشاعرہ جاری رہا تھا۔مولوی عبدالواحد نے غزلیں لکھی تھیں اور مشاعرے میں پڑھی تھیں۔انھوں نے اس کا حال ہم لوگوں کو سنایا اور اپنی غزلیں بھی سنائیں۔یہ پہلی منظم دلچسپی جو میرے حافظے میں شاعری کی نسبت پائی جاتی ہے۔”
(آزاد کی کہانی خود آزاد کی زبانی)
اب اس دلچسپی کا نتیجہ کیا نکلا یہ بھی خود مولانا آزاد کی زبان سے سماعت فرمائیں:
"۔۔۔۔۔۔۔چنانچہ میں نے بعض اساتذہ کے دوانین خریدے مثلاً سوداؔ اور میرؔ وغیرہ اور فرصت کے اوقات میں اُن کا مطالعہ کرنے لگا۔ساتھ ہی خود بھی کہنے کا شوق ہوا اور روز بروز طبیعت میں اس کا شوق اور کاوش بڑھتی گئی۔ چنانچہ مختلف زمینوں میں بہت سے اشعار کہے مگر خود اعتمادی پیدا نہیں ہوئی تھی، اس لیے مولوی عبدالواحد خاں کو کبھی نہیں سنائے۔۔۔۔۔۔۔ اسی زمانے میں بمبئی گلدستہ ارمغان فرخ نکلتا تھا اور کلکتے میں بعض لوگ اس کی طرحوں پر ماہوار مشاعرہ بھی منعقد کیا کرتے تھے۔ سب سے پہلی غزل جو میں نے لکھ کر دوسروں کو سنائی دوہ اسی ایک طرح پر تھی۔ اس میں طرح ہوئی تھی ۔۔۔عہ "پوچھی زمین کی تو کہی آسمان کی”۔۔۔۔۔۔ اور کلکتے کے مشاعرے میں بھی یہی طرح قرار پائی تھی۔ عبدالواحد نے اپنے چند اشعار اس میں سنائے اور مجھ کو اس درجہ شوق ہوا کہ بڑی کوشش اور جانکاہی سے تقریباً تیس شعر لکھ کر ان میں سے سترہ شعر منتخب کیے تاہم طبیعت مطمئن نہ تھی اور کسی کو سناتے ہوئے ہچکچاتی تھی۔
(آزاد کی کہانی خود آزاد کی زبانی)
مولانا آزادؔ کی اس اولین غزل کے تین اشعار ان کی خود نوشت میں درج ہیں ؎
نشتر بدل ہے آہ کسی سخت جان کی
نکلی صدا تو فصد کھلے گی زبان کی
گنبد ہے گردبار تو ہے شامیانہ گرد
شرمندہ میری قبر نہیں سائبان کی
آزاد بے خودی کے نشیب و فراز دیکھ
"پوچھی زمین کی تو کہی آسمان کی”
مولانا آزادؔ کی یہ غزل کلکتے کے طرحی مشاعرہ میں عبدالواحد نے ہی پڑھی تھی اور غزل کو خوب پسند بھی کیا گیا۔ یہ واقعہ بھی خود مولانا آزادؔ کی زبان سے ہی سنیے:
"۔۔۔۔۔ اس کے دوسرے ہی دن مشاعرہ تھا۔ خود تو جانے کی جرات نہ ہوئی لیکن انہیں (عبدالواحد) کو غزل دے دی۔ انھوں نے مشاعرے میں پڑھی ۔ وہاں کی تعریف خصوصاً مصرعۂ طرح کی تضمین کی ترجیح پر مشاعرہ کا اتفاق جب صبح کو مجھ کو سنایا گیا تو میں بالکل مخمور ہو گیا تھا۔”
(آزاد کی کہانی خود آزاد کی زبانی)
مولانا آزادؔ کی یہ پہلی غزل تھی جو پہلے تو مشاعرہ میں سنائی گئی اور پھر "ارمغان فرخ” میں شائع ہوئی۔
مولانا آزادؔ کی خود نوشت کے مرتب مولانا عبدالرزاق ملیح آبادی نے اپنے دیباچہ میں ان کی رباعی لکھی ہے ؎
تھا جوش و خروش اتفاقی ساقی
اب زندہ دلی کہاں ہے باقی ساقی
میخانے نے رنگ و روپ بدلاایسا
میکش میکش رہا نہ ساقی ساقی
مولانا آزادؔ کی ایک غزل "مخزن” لاہور کے اپریل 1903 کے شمارے میں شائع ہوئی تھی۔ اس غزل کے اشعار ملاحظہ فرمائیں:
کیوں اسیرِ گیسوئے خم دار قاتل ہو گیا
ہائے کیا بیٹھے بٹھائے مجھ کو ائے دل ہو گیا
کوئی نالاں، کوئی گریاں کوئی بسمل ہو گیا
اس کے اٹھتے ہی دگرگوں رنگ محفل ہو گیا
اس نے تلواریں لگائیں ایسے کچھ انداز سے
دل کا ہر ارماں فدائے دستِ قاتل ہو گیا
یہ بھی قیدی ہو گیا آخر کمند زلف کا
لے اسیروں میں ترے آزاد شامل ہو گیا
ایک اور غزل کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
ان شوخ حسینوں کی ادا اور ہی کچھ ہے
ایسوں کی ادائوں میں مزا اور ہی کچھ ہے
ہم آپ کی محفل میں نہ آنے کو نہ آتے
کچھ اور ہی سمجھے تھے ہوا اور ہی کچھ ہے
بے خود بھی ہیں، ہشیار بھی ہیں دیکھنے والے
ان مست نگاہو ں کی ادا اور ہی کچھ ہے
آزادؔ ہوں اور گیسوئے بیچاں میں گرفتار
کہہ دو کہ مجھے تم نےسنا اور ہی کچھ ہے
مختلف حوالوں سے مولانا آزاد کی کئی غزلیں، رباعیات، قطعات وغیرہ کا سراغ ملتا ہے۔جہاں تک شاعری کے حوالے سے مولانا آزادؔ کے نظریے کی بات ہے، یہاں بھی ان کا نظریہ واضح ہے۔شاعری اور موسیقی کو وہ ایک ہی حقیقت کے دو روپ قرار دیتے ہیں۔ غبارِ خاطر کے ایک مکتوب میں لکھتے ہیں:
"موسیقی اور شاعری ایک ہی حقیقت کے دو مختلف جلوے ہیں اور ٹھیک ایک ہی طریقے پر ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ یہ وہی معانی ہیں جو موسیقی کی زبان میں ابھرنے لگتے ہیں۔ اگر یہ شعر کا جامہ پہن لیتے تو کبھی حافظؔ کا ترانہ ہوتا، کبھی خیامؔ کا زمزمہ، کبھی شیلے کی ماتم سرائیاں ہوتیں، کبھی ورڈس ورتھ کی حقائق سرائیاں۔”
ایک ایسا شاعر جو اپنا ایک وژن رکھتا تھا۔جس کے اشعار اپنے وقت کے مقتدر رسائل و جرائد میں شائع ہوئے۔ اس کی شاعرانہ حیثیت کو اگر کسی وجہ سے نظر انداز کیا گیا تو اس کی تلافی ہونی چاہیے۔کوئی محقق چاہے تو اس سمت میں پیش رفت کر کے مولانا آزادؔ کے شعری سرمایے کی بازیافت کر سکتا ہے۔ اس طرح جہاں اردو کے شعری جہان میں ایک گراں قدر اضافہ ہوگا وہیں تاریخ کی اس عظیم اور کثیر الجہات شخصیت کے افکار و نظریات کی تفہیم کی راہیں بھی وا ہوں گی۔
کامران غنی صبا
اسسٹنٹ پروفیسر
شعبۂ اردو نتیشور کالج، مظفرپور
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

