Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
افسانہ کی تفہیم

اردو افسانوں میں خود کلامی کے عناصر – محمد علیم اسماعیل

by adbimiras نومبر 10, 2021
by adbimiras نومبر 10, 2021 0 comment

اردو افسانوں میں خود کلامی کے عناصر ابتدا سے ہی ملتے ہیں۔ پریم چند نے اپنے کئی افسانوں میں اس تکنیک کا استعمال کیا ہے۔ اس حوالے سے ان کا افسانہ ’شکوہ شکایت‘ کافی اہمیت رکھتا ہے۔ پریم چند کے بعد کے افسانہ نگاروں کے وہاں بھی خود کلامی کے عناصر پائے جاتے ہیں۔ ویسے خود کلامی کے پیرائے میں افسانہ لکھنا آسان نہیں ہوتا۔ اس تکنیک میں حاضر راوی کہانی بیان کرتا ہے۔ یہ راوی یا تو خود کی کہانی سناتا ہے یا پھر جس سے وہ مخاطب ہوتا ہے اس کی کہانی پیش کرتا ہے۔ یعنی راوی میں، ہم یا تم کی کہانی بیان کرتا ہے۔ ایسے افسانوں میں راوی خود بھی موجود ہوتا ہے۔

خود کلامی کی تکنیک اور واحد متکلم بیانیہ کی تکنیک ملتی جلتی تو ہیں لیکن یکساں نہیں ہیں۔ دونوں قسم کے افسانوں میں حاضر راوی ”میں“ کہانی بیان کرتا ہے۔ خود کلامی میں راوی خود ہی سے باتیں کرتا ہے، خود ہی سے سوال کرتا ہے اور خود ہی جواب دیتا ہے، پیش ہو چکے واقعات کو دہراتا ہے اور اپنے آپ کو یا پھر مخاطب کو سناتا ہے۔ راوی جس سے مخاطب ہوتا ہے ضروری نہیں وہ شخص اس کے سامنے موجود ہو اور زندہ بھی ہو۔ راوی کسی کردار کے خیالی وجود سے یا پھر مردے سے بھی باتیں کر سکتا ہے۔ جبکہ واحد متکلم بیانیہ میں حاضر راوی (میں) براہ راست قارئین کو کہانی سناتا ہے، ایسی کہانیوں میں جزوی طور پر خود کلامی ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی۔ ویسے تو خود کلامی کے عناصر غائب راوی کے افسانوں میں بھی ہو سکتے ہیں لیکن حاضر راوی کے افسانوں میں اس کا تناسب زیادہ ہوتا ہے۔

اس تکنیک کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ کہانی میں بیان ہونے والے تمام واقعات ایک ہی شخص (میں، ہم یا تم) کے حوالے سے سنائے جاتے ہیں۔ مطلب ایک ہی شخص کہانی کا مرکز ہوتا ہے اور پوری کہانی اسی کے حوالے سے بیان ہوتی ہے۔ اس لیے اگر کوئی قاری کہانی کو درمیان سے یا کہیں سے بھی پڑھنا شروع کردے تو اسے کہانی سمجھنے میں دشواری نہیں ہوتی۔ اور کہانی اسے اپنی گرفت میں لے لیتی ہے، لیکن اس کے برعکس کہانی اگر کوئی غائب راوی بیان کر رہا ہے تو قاری کو یہ سہولت نہیں ملتی۔ ایسی کہانی کو قاری اگر درمیان سے یا کہیں سے بھی پڑھنا شروع کر دے تو اُسے جلد یہ پتا نہیں چلتا کہ راوی کس کے بارے میں بات کر رہا ہے؟ اور افسانے کا مرکزی کردار کون ہے؟ حاضر راوی کے افسانوں میں کردار کی تعداد کم ہوتی ہے۔ شمس الرحمٰن فاروقی ’افسانے کی حمایت میں‘ فرماتے ہیں:

”چونکہ حاضر راوی بہر حال کثیر تعداد میں لوگوں سے نہیں مل سکتا اور نہ کثیر واقعات کا عینی شاہد ہو سکتا ہے، اس لیے حاضر راوی کے افسانوں میں کردار کی تعداد نسبتاً کم ہوتی ہے۔ اگر کردار بڑھائے جائیں تو راوی کی حیثیت محض مشاہد (Onlooker) کی ہو جاتی ہے۔“

خود کلامی (Monologue) کی تکنیک میں ویسے تو کئی افسانے لکھے گئے، لیکن اُن میں پریم چند کا شکوہ شکایت، احمد ندیم قاسمی کا بین، جیلانی بانو کا موم کی مریم، سلام بن رزاق کا آوازِ گریہ، اور محمد حمید شاہد کا منجھلی، کامیاب، دلچسپ اور متاثر کن افسانے ہیں۔ کچھ افسانے ایسے ہوتے ہیں جن میں جزوی طور پر خود کلامی سے کام لیا جاتا ہے اور کچھ افسانے مکمل طور پر اسی تکنیک میں لکھے گئے ہیں۔ داخلی خود کلامی، خارجی خود کلامی اور ڈرامائی خود کلامی، یہ خود کلامی کی مختلف صورتیں ہیں۔

 

1)شکوہ شکایت:

یہ افسانہ پریم چند کے افسانوی مجموعے ”واردات“ میں شامل ہے۔ جو مجموعے کا سب سے پہلا افسانہ ہے۔ کہانی خود کلامی (Monologue) کی تکنیک میں بیان ہوئی ہے۔ جس میں ایک عورت اپنے شوہر کی خامیوں کا ذکر کرتی ہے۔ اُسے شوہر سے کئی شکایتیں ہیں، اور وہ اُن شکایتوں کو یکے بعد دیگرے بیان کرتی چلی جاتی ہے۔ جس سے شوہر کے ساتھ ساتھ بیوی کا کردار بھی مکمل طور پر سامنے آتا ہے۔ اس افسانے کو کردار نگاری کا فسانہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ ایک عام سی گھریلو کہانی ہے جو قاری کو اپنی کی معلوم ہوتی ہے۔

بیوی کو اپنے شوہر سے کئی شکایتیں ہیں۔ مثلاً:

شوہر کا ٹٹپو نجیوں کی دکان سے سودا سلف لانا، زیور بنانے میں دھوکے باز سنار کا انتخاب کرنا، ہر وقت ضرورت مندوں کی مدد کرنا، دل کھول کر مہمان نوازی کرنا، نوکر سے ہمدردی رکھنا، بیوی کو کبھی کوئی تحفہ نہ دینا، بچوں پر سختی نہ کرنا، دفتر میں مروت اور رواداری سے کام لینا، رشتے داروں کو خوب اہمیت دینا لیکن کسی سے مدد نہ چاہنا، بیٹی کی شادی میں کنیا دان کی رسم ادا نہ کرنا، جہیز کی مخالفت کرنا، اور دیگر سماجی رسم و رواج میں دلچسپی نہ لینا، وغیرہ باتوں سے بیوی ناراض ہے اور شکوہ کرتی جاتی ہیں۔

افسانے سے اقتباس دیکھیے جس میں سودا سلف لانے کے متعلق شکوہ کیا گیا ہے:

”باہر سے کوئی چیز منگواؤ تو ایسی دکان سے لائیں گے جہاں کوئی گاہک بھول کر بھی نہ جاتا ہو، ایسی دکانوں پر نہ چیز اچھی ملتی ہے، نہ وزن ٹھیک ہوتا ہے، نہ دام ہی مناسب، یہ نقائص نہ ہوتے تو وہ دکان بدنام ہی کیوں ہوتی، انہیں ایسی ہی دکانوں سے سودا سُلف خریدنے کا مرض ہے۔ بارہا کہا کہ کسی چلتی ہوئی دکان سے چیزیں لایا کرو، وہاں مال زیادہ کھپتا ہے، اس لیے تازہ مال آتا رہتا ہے، مگر نہیں ٹٹپونجیوں سے ان کو ہمدردی ہے اور وہ اِنہیں اُلٹے استرے سے مونڈتے ہیں۔ گیہوں لائیں گے تو سارے بازار سے خراب، گُھنا ہوا، چاول ایسا موٹا کہ بیل بھی نہ پوچھے، دال میں کنکر بھرے ہوئے، منوں لکڑی جلا ڈالو کیا مجال کے گلے، گھی لائیں گے تو آدھوں آدھ تیل اور نرخ اصلی گھی سے ایک چھٹانک کم، تیل لائیں گے تو ملاوٹ کا، بالوں میں ڈالو تو چکٹ جائیں، مگر دام دے آئیں گے اعلٰی درجے کے چنبیلی کے تیل کے، چلتی ہوئی دکان پر جاتے تو جیسے انہیں ڈر لگتا ہے، شاید اونچی دکان اور پھیکے پکوان کے قائل ہیں، میرا تجربہ کہتا ہے کہ نیچی دکان پر سڑے پکوان ہی ملتے ہیں۔“

بہت ساری شکایتوں سے پرے بیوی آخر میں جو کہتی ہے اس سے وہ ایک مشرقی عورت کے روپ میں سامنے آتی ہے:

”مگر کچھ عجیب دل لگی ہے کہ ان ساری برائیوں کے باوجود میں اُن سے ایک دن کے لیے بھی جدا نہیں رہ سکتی، ان سارے عیوب کے باوجود میں اُنہیں پیار کرتی ہوں، ان میں وہ کون سی خوبی ہے جس پر میں فریفتہ ہوں، مجھے خود نہیں معلوم، مگر کوئی چیز ہے ضرور، جو مجھے اُن کا غلام بنائے ہوئے ہے۔ وہ ذرا معمول سے دیر میں گھر آتے ہیں تو میں پریشان ہو جاتی ہوں، اُن کا سر بھی درد کرے تو میری جان نکل جاتی ہے، آج اگر تقدیر ان کے عوض مجھے کوئی علم اور عقل کا پُتلا، حُسن کا دیوتا بھی دے تو میں اُس کی طرف آنکھ اُٹھا کر نہ دیکھوں۔“

 

2)بین:

افسانہ ’بین‘ میں پیش ہونے والی کہانی کو احمد ندیم قاسمی کے اسلوب نے خاص بنا دیا ہے۔ یہ افسانہ بھی مکمل طور پر خود کلامی کی تکنیک میں لکھا گیا ہے۔ افسانے کا مرکزی کردار رانو ہے۔ جو خوبصورت اور جوان ہے، جب وہ تلاوت کرتی ہے تو اس کی آواز میں چاندی کی کٹوریاں بجتی ہیں۔ اللہ اور رسول کے بعد وہ سائیں دولہے شاہ سے بے حد عقیدت رکھتی ہے۔ رانو مر چکی ہے۔ ماں مری ہوئی بیٹی سے مخاطب ہو کر بین کرتی جاتی ہے اور رانو کی پیدائش سے لے کر موت تک کی کہانی بیان کر دیتی ہے۔ زبان و بیان میں روانی اور جذبات نگاری ایسی ہے کہ قاری اس میں کھو سا جاتا ہے۔ افسانے سے اقتباس ملاحظہ فرمائیں:

”قرآن شریف تم نے اتنا پڑھا میرے جگر کی ٹکڑی، کہ اب بھی جب چاروں طرف سناٹا اور صرف ادھر ادھر سے سسکی کی آواز آتی ہے، میں تمھارے آس پاس، تمھاری ہی آواز میں قرآن شریف کی تلاوت سن رہی ہوں۔ تمھارے ہونٹ تو نہیں ہل رہے، پر میں اپنے دودھ کی قسم کھا کر کہتی ہوں کہ یہ آواز تمھاری ہے۔ زمین پر ایسی نورانی آواز میری رانوں کے سوا اور کس کی ہو سکتی ہے۔“

اس کہانی کے ذریعے احمد ندیم قاسمی نے درگاہوں اور مزاروں پر ہونے والے بداعمالیوں سے پردہ اٹھایا ہے۔ افسانہ نگار نے کھُل کر کچھ بھی نہیں کہا لیکن قاری سب کچھ سمجھ جاتا ہے کہ بچی کے ساتھ زنا بالجبر ہوا ہے اور یہ بد فعل سائیں دولہے شاہ کے مجاور سائیں حضرت شاہ نے کیا ہے۔ افسانے سے اقتباس دیکھیے:

”اے میری بچی، اے میری جگر کی ٹکڑی، اے میری صاف ستھری رانو بیٹی! پھر جب تین دنوں کے بعد ہم دونوں سائیں دولھے شاہ جی کے مزار شریف پر گئے تھے تو تم وہیں بیٹھی تھیں جہاں ہم تمھیں بٹھا گئے تھے، مگر کیا یہ تم ہی تھیں، تمھاری آنکھوں کی پتلیاں پھیل گئی تھیں، تمھارے ہونٹوں پر جمے ہوئے خون کی پپڑیاں تھیں، تمھارے بال الجھ رہے تھے۔ چادر تمھارے سر سے اتر گئی تھی مگر اپنے بابا کو دیکھ کر بھی تمھیں اپنا سر ڈھانپنے کا خیال نہیں آیا تھا۔ تمھارا رنگ مٹی مٹی ہو رہا تھا اور ہمیں دیکھتے ہی تم چلا پڑی تھیں ”مجھ سے دور رہو بابا، میرے پاس نہ آنا اماں۔ میں اب یہیں رہوں گی۔ میں اس وقت تک یہیں رہوں گی جب تک سائیں دولھا شاہ جی کا مزار شریف نہیں کھلتا اور اس میں سے ان کا دستِ مبارک نہیں نکلتا۔ جب تک فیصلہ نہیں ہوتا میں یہیں رہوں گی۔ جب تک انصاف نہیں ہوگا میں یہیں رہوں گی۔“

 

3)موم کی مریم:

افسانہ موم کی مریم اپنوں کی ستائی ہوئی محبت کی ماری، بے سہاروں کی ہمدرد ایک دوشیزہ قدسیہ کی کہانی ہے۔ اسے زندگی کے ہر موڑ پر فریب، دھتکار اور پھٹکار کے سوا کچھ نہ ملا۔ اس نے اپنی چھوٹی خالہ کے لڑکے امجد کے رشتے سے انکار کیا۔ ریاض سے شادی کرنے کے لیے وہ ہر قیمت ادا کرنے کو تیار تھی۔ ریاض جو اُن کے گھر کے دستر خوان کے ٹکڑوں پر ہی پلا تھا۔ اُسے ابّا نے قبول نہ کیا۔ ابّا کی ایک ڈانٹ پر محبت اچھل کر دور جا پڑی اور ریاض اپنا بوریا بستر لے کر بھاگ گیا۔ وہ ماسٹر جو اُسے پڑھانے آتا تھا جس کی محبوبہ غربت کی وجہ سے اُسے دھوکا دے کر بھاگ گئی تھی۔ اُس نے اپنی بے چارگی اور دکھ کے افسانے سنائے تو قدسیہ نے ہمدردی سے اُس کا دکھ کم کرنا چاہا۔ وہ جہاں جہاں بھی گئی تاریکی نے اس کے گرد حلقے بنا لیے۔ حقارت بھری نظروں نے خودی کا احساس بیدار کیا۔ اس کے متعلق چاروں طرف بدنامیاں اور سرگوشیاں بڑھتی چلی گئی اور وہ ہنس کر ہر زخم سہتی رہی۔ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھی اور ابّا اسے تنہا ہاسٹل میں چھوڑنے پر تیار نہ تھے۔ قدسیہ کو ہمیشہ بجھے ہوئے دل اور بیمار ذہنوں سے ہمدردی رہی۔ ایک روز اطہر اور قدسیہ اچانک غائب ہوگئے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ دونوں لکھنؤ میں رہ رہے ہیں۔ پھر اچانک قدسیہ ایک معمولی بیماری سے مر گئی۔ قدسیہ کی کہانی کے ایک ایک لفظ میں درد پیوست ہے۔ خود کلامی کا انداز ایسا ہے کہ کہیں ٹھہرنے نہیں دیتا۔ قاری شروع سے آخر تک قدسیہ کو پڑھتا چلا جاتا ہے لیکن کہانی کا انجام اس کے دل میں بھی کہیں نہ کہیں ایک کسک پیدا کر دیتا ہے کہ جو دکھوں کا پہاڑ سہہ گئی آخر وہ اتنی آسانی سے کیسے مر گئی؟ یہی ادھیڑبن کافی دیر تک قاری کے ذہن پر کچوکے لگاتا رہتا ہے۔

افسانے سے اقتباس:

”آج صبح عائشہ کے خط سے مجھے تمہاری موت کی خبر مل چکی ہے مگر میں اس موت پر اظہار افسوس نہ کر سکا۔ روزانہ جانے کتنے بادل بنا برسے گزر جاتے ہیں۔ کتنے نغے ساز کے اندر ہی دم توڑ دیتے ہیں۔ کتنے انسان ایک لمحہ کی خوشی ڈھونڈتے ڈھونڈتے مر جاتے ہیں۔ پھر تمہاری موت تو میرے سامنے کتنی بار ہو چکی ہے۔ اگر مادی طور پر تم چلتی پھرتی نظر آتی تھیں۔ بالکل اسی طرح جیسے آج میرے کمرے میں آ بیٹھی ہو۔“

افسانے میں حاضر راوی (میں) خود کلامی کی تکنیک میں سیکنڈ پرسن (تم) کی کہانی بیان کر رہا ہے۔ افسانے میں، ’میں‘ بھی شامل ہے لیکن مرکزی کردار ’تم‘ ہے۔ کہانی کا راوی احمد ہے جو مرکزی کردار قدسیہ کا تایا زاد بھائی ہے۔

 

4)آواز گریہ:

آواز گریہ سلام بن رزاق کا افسانہ ہے۔ افسانہ حاضر راوی کی خود کلامی کے ذریعے آگے بڑھتا ہے۔ افسانے کا مرکزی کردار جو افسانے کا راوی بھی ہے، وہ اپنی بیوی کے حوالے سے اپنی زندگی کی کہانی بیان کر رہا ہے۔ راوی مر چکا ہے۔ گھر میں اس کی لاش پڑی ہے۔ اس کی موت دراصل آدھی ادھوری موت ہے۔ وہ دیکھ سکتا ہے لیکن بول نہیں سکتا، محسوس کر سکتا ہے لیکن جنبش نہیں کر سکتا، تارے نفس کٹ چکے ہیں لیکن بیرونی دنیا سے اس کا رشتہ ہنوز استوار ہے۔ کہانی کا راوی، اس کی بیوی زینب، بیٹیاں انوری اور نازو، بیٹا آصف اور ڈرائیور سلیمان افسانے کے اہم کردار ہیں۔

افسانے سے اقتباس دیکھیے:

”میں مر چکا ہوں۔ کم از کم لوگوں کا ایسا خیال ہے کہ میں مر چکا ہوں۔ ڈاکٹر نے بھی تصدیق کردی ہے۔ گھر کے اندر اور باہر ایک کہرام مچا ہے۔ میری دونوں بیٹیاں انوری اور نازو رو رہی ہیں۔ میری بیوی زینب بال کھولے سینا کوبی کر رہی ہے۔ البتہ میرا بیٹا آصف دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ حسب معمول اپنے لُچّے لفنگے دوستوں کے ساتھ کہیں آوارہ گردی کر رہا ہوگا۔ زینب نے اپنی چوڑیاں توڑ دی ہیں۔ منگل سوتر نوچ کر پھینک دیا ہے۔ اس کا پلو اس کے سینے سے ڈھلک گیا ہے۔ بلاوز کے اوپر کا بٹن کھل گیا ہے اور جب وہ سینے پر ہاتھ مار کر بین کرتی ہے تو اس کی گداز چھاتیاں ابل ابل پڑتی ہیں……

تارِنفس کٹ چکے ہیں مگر جسم کے اندھے غار میں وہ کونسا چراغ بجھنے سے رہ گیا ہے جس کے سبب بیرونی دنیا سے میرا رشتہ ہنوز استوار ہے۔ رہ رہ کر میرے اندرون میں یہ کیسی ٹیسیں اٹھ رہی ہیں؟ کیا عذابوں کا سلسلہ شروع ہو چکا؟ اے خدا! مجھے زندہ رہنے کے اس کرب ناک احساس سے نجات دے۔ میری آنکھوں کو بصارت کے عذاب سے بچا۔ میرے کانوں کو ساعت کی سزاؤں سے محفوظ رکھ۔ میری کشتی کو زندگی کے بھنور سے نکال۔ مجھے موت دے۔ مکمل موت……“

کہتے ہیں جنگ اور پیار میں سب جائز ہے، بس ایسا ہی کچھ اس افسانے میں نظر آتا ہے۔ زینب اور سلیمان کے ناجائز تعلقات ہیں جو شادی سے پہلے سے تھے۔ اس لیے زینب سلیمان کو ڈرائیور کے روپ میں اپنے گھر لے آتی ہے۔ پھر محبت، دھوکا، عداوت، ڈراما، انتقام وغیرہ واقعات دھیرے دھیرے سامنے آتے جاتے ہیں۔ زینب اور سلیمان مل کر راوی کو دھیرے دھیرے موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔ کہانی میں تجسّس ہے اور وہ تجسّس نہ یکدم سے بڑھتا ہے اور نہ ہی ختم ہوتا ہے۔ اس کے بڑھنے اور ختم ہونے کا عمل آہستہ آہستہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کہانی پوری طرح قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔

 

5) منجھلی:

محمد حمید شاہد کا افسانہ منجھلی میں خود کلامی کے بھرپور عناصر ملتے ہیں۔ یہاں حاضر راوی کہانی بیان کرتا ہے۔ راوی اپنی منجھلی بیٹی کو اپنے بڑے بھائی اور بھابی کو گود دے دینے کے بعد گھر کے سبھی افراد جس ذہنی کشمکش سے گزرتے ہیں، راوی نے اسے بڑے ہی پراثر اسلوب میں بیان کیا ہے۔ راوی کے بھائی اور بھابی بڑی محبت والے ہیں لیکن ان کی کوئی اولاد نہیں۔

افسانے سے اقتباس ملاحظہ فرمائیں:

اَب سوچتا ہوں کہ میں نے اِتنا بڑا فیصلہ کیسے کر لیا تھا، تو حیرت ہوتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اِتنا بڑا فیصلہ میں نے نہیں کیا تھا، خود بخود ہو گیا تھا۔ دراصل بھائی اور بھابی دونوں اِتنی محبت کرنے والے اور خیال رکھنے والے ہیں کہ اُن کے لیے کچھ بھی کیا جا سکتا ہے۔ بیگم نے بھی مخالفت نہ کی تھی۔ بس ہکا بکا مجھے دیکھتی رہی تھی۔ اگرچہ وہ کچھ نہ بولی تھی مگر اس کی آنکھیں نمی سے بھر گئی تھیں۔ اور اَب جب کہ میرے اَندر بھیگی آنکھوں کی فصل اُگ آئی ہے، سوچتا ہوں، میں نے اپنا فیصلہ بدل کیوں نہ دیا تھا۔ پھر یوں ہوا کہ اس نے میرا فیصلہ اپنا فیصلہ بنا لیا۔ سب کو کہتی پھرتی۔

”دیکھو جی گڑیا ابھی دودھ پیتی ہے اور بڑی بھی تو ناسمجھ ہے، بات بے بات ضد کر بیٹھتی ہے تو سنبھالے نہیں سنبھلتی۔ میں منجھلی کو کیسے سنبھالوں گی؟اَپنی دادی اور پھوپھی سے بہت مانوس ہے، بھابی اور بھائی بھی تو ماں باپ جیسے ہیں، پیچھے رہ لے گی۔“

اور وہ پیچھے رہ گئی۔

 

خود کلامی یعنی خود سے باتیں کرنا۔ بہت سے واحد متکلم بیانیہ افسانوں میں بھی خود کلامی کے عناصر ملتے ہیں۔ اس تکنیک میں لکھے گئے دیگر افسانوں میں کرشن چندر کا کالوبھنگی، خواجہ احمد عباس کا میری موت،حسین الحق کا میں تمھاری کہانی،محمد بشیر مالیر کوٹلوی کا خطاوار، پروفیسر طارق چھتاری کا نیم پلیٹ، سید محمد اشرف کا وہ لمحہ، مشتاق احمد نوری کا چھت پر ٹھہری ہوئی دھوپ، پروفیسر اسلم جمشید پوری کا تم چپ رہو بیر پال، صادقہ نواب سحر کا راکھ سے بنی انگلیاں، ڈاکٹر شاہد جمیل کا محاجر، غیاث الرحمٰن کا ہم وطن، رضوان الحق کا زوال جسم سے پہلے، شبیر احمد کا شہرِ اماں کی تلاش، طاہر انجم صدیقی کا درندے، وسیم عقیل شاہ کا تعبیر، اور محمد علیم اسماعیل کا چھُٹّی، قابلِ ذکر ہیں، جس میں کچھ افسانوں میں مکمل تو کچھ میں جزوی طور پر خود کلامی سے کام لیا گیا ہے۔

٭٭٭

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

علیم اسماعیل
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
مولانا آزادؔ بحیثیت شاعر – کامران غنی صبا
اگلی پوسٹ
ملک کی موجودہ صورت حال اور فکر آزاد کی ضرورت – محمد خوشتر

یہ بھی پڑھیں

منو بھنڈاری: ہندی افسانوی ادب کامقبول ترین کردار...

مئی 26, 2026

بیدی کا فن – پروفیسر محمد حسن

مئی 15, 2026

آج کی اردو کہانی: زبان اور ساخت –...

فروری 2, 2026

شموئل احمد کا افسانہ ’’سنگھار دان‘‘ – طارق...

فروری 1, 2026

منٹو اور نیا افسانہ – پروفیسر شمیم حنفی

اکتوبر 11, 2025

عزیز احمد کی افسانہ نگاری! وارث علوی

اپریل 12, 2025

اکیسویں صدی کی افسانہ نگارخواتین اور عصری مسائل...

مارچ 21, 2025

ہمہ جہت افسانہ نگار: نسیم اشک – یوسف...

جنوری 15, 2025

ڈاکٹر رُوحی قاضی : ایک فراموش کردہ افسانہ...

نومبر 25, 2024

اکیسویں صدی کے افسانے – ڈاکٹر عظیم اللہ...

ستمبر 15, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,049)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,135)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں