مولانا ابو الکلام آزاد مرحوم کی ذات جس طر ح مختلف الجہات تھی اسی طرح مالک رام کے تحقیقی و تنقیدی کاموں کی بھی ایک سے زاید جہتیں ہیں۔اس وقت مولانا ابوالکلام آزاد کی تین اہم کتب ’’غبار خاطر‘،’’تذکرہ‘‘ اور’’خطبات آزاد‘‘ کے حوالے سے مالک رام کی تحقیق و تدوین اورایک حد تک تفہیم کا بھی جائزہ پیش نظرہے۔مالک رام تین درجن سے زاید کتابوں کے مصنف اوراردو ،فارسی ،انگریزی زبانوں کے ساتھ ساتھ عربی زبان سے بھی واقفیت رکھتے ہیں لیکن انھوں نے اپنی تصنیفات کا ذریعہ زیادہ اردوکو اورتھوڑا بہت انگریزی کو بنایا۔تحقیق و تدوین میں فارسی زبان کو بھی شامل کیاہے ۔۲۵۔۲۶ ؍سال مصر اوردیگر عرب ممالک میں ہندوستان کے تجارتی سفیر کے بطور کام کیا،اس دوران عربی زبان سے کافی دل چسپی پیدا کر لی اوراس میں مہارت بھی۔کاش ان کی کوئی کتاب عربی زبان میں بھی ہوتی تو مجھ جیسے اردو اسکالرو ں کو ان کے تعین قدر میں آسانی ہوتی۔
مالک رام نے اسلامیات کا مطالعہ بھی بڑی گہرائی سے کیا تھا جس کا ثبوت’’ عورت اور اسلامی تعلیم‘‘ اور’’ اسلامیات‘‘ جیسی ان کی کتابوں سے بآسانی ملتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ مولانا آزاد کے انتقال(۲۲؍ فروری ۱۹۵۸)کے بعد جب ان کی کتابوں کو ازسر نو یکجا و مرتب کر نے کا مر حلہ آیا تو مالک رام سے زیادہ موزوں کوئی دوسرا شخص نظر نہیں آیا۔ در حقیقت وہ اس قابل بھی تھے کہ مولانا آزاد جیسے پختہ علم ،وسیع المطالعہ اور باریک بیںشخص کی تصانیف کی تدوین و تحقیق کی ذمے داری ان کے سپرد کی جائے۔
ابو سلمان شاہ جہاں پوری نے ’تذکرہ‘ کے ضمن میں لکھا ہے:
’’تذکرہ جیسی بے مثال تصنیف کے لیے کسی ایسے مرتب کی ضرورت تھی جو خود بھی صاحب علم و نظر ہو،عربی ،فارسی ادبیات پر نظر رکھتا ہو،اسلامی علوم و فنون کے بنیادی متون سے واقف ہو اورتاریخ اسلام کے مختلف ادوار اوران کے خصائص سے اس کا ذہن آشنا ہو،اس مقصد کی تکمیل کے لیے قرعۂ فال جناب مالک رام کے نام نکلااور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ وہ اس کار عظیم کے اہل نہیں تھے،یا اہل ثابت نہیں ہوئے۔جناب مالک رام نے تذکرہ کی تدوین کاکار نہیں کارنامہ انجا م دیا ہے۔‘‘(مالک رام: ایک مطالعہ۔ص:۲۹۱ )
مالک رام نے مولانا آزادکی حیا ت اورعلمی خدمات پر بہت سے مقالات تحریر کیے لیکن بحیثیت محقق ومدون مولانا کی چار کتابوں پر مالک رام کا کام غیر معمولی ہے۔تر جمان القرآن،غبار خاطر،تذکرہ اور خطبات آزاد۔ان میں اول الذ کر کو چھوڑ کر بقیہ تین کتابوں کاترتیب وار جائزہ ذیل میں پیش کیا جاتاہے:
غبار خاطر:
غبار خاطر مولانا آزاد کی ایک شاہ کار کتاب ہے۔اول روز سے اس نے ادبی دنیا میں ہلچل مچا رکھی ہے ،اس سے قطع نظر کہ یہ کتاب خطوط ،مضامین یا پھر انشائیوں کا مجموعہ،تا ہم ادبیت سے بھر پور، اردونثر کا اچھوتااوراعلیٰ نمونہ اورمولانا آزادکے خاص مذاق و مزاج کا تر جمان ہے۔
۱۹۴۶ء میں پہلی بار حالی پبلشنگ ہاؤس دہلی سے محمد اجمل خان نے مرتب کر کے شائع کیاتھا۔اسی سال کے اگست میں اسی ادارے نے اسے دوبارہ شائع کیا۔فروری ۱۹۴۷ میں لالہ پنڈی داس نے ایک خط کے اضافے کے ساتھ لاہور سے شائع کیا۔ساہتیہ اکیڈمی کے منصوبے کے تحت مولانا آزادکی کتابوں کی ایک اہم کڑی’غبار خاطر‘ہے۔۱۰؍ اگست ۹۴۲ء سے مئی ۱۹۴۳ء تک یہ خطوط مولانا آزاد نے اپنے دوست مولانا حبیب الرحمان خاں شیروانی کے نام تحریر کیے ۔ یہ کتاب کل ۲۴؍ خطوط کا مجموعہ ۔اول الذکر تین خطوط رہائی کے بعد کے ہیں اورچوتھا خط گرفتاری سے قبل کا ہے۔مالک رام کے تدوین شدہ ’غبار خاطر‘ کوساہتیہ اکیڈمی نے پہلی بار ۱۹۶۷ء میں شائع کیا۔اس وقت اس کاتیرھواں ایڈیشن میرے پیش نظر ہے۔تدوین و تحقیق کے بعد یہ کتاب۴۳۵؍صفحات پر مشتمل ہے۔۲۸۷سے ۴۰۸تک ۱۲۲؍ صفحات پر حواشی تحریر کیے گئے ہیں اور بقیہ ۲۷؍ صفحات پر فہارس درج ہیں ۔فہارس میں اعلام،بلادو اماکن،آیات قرآنی،فہرست مراجع متن اوراخیر میں ماخذِحواشی مذکور ہیں۔مآخذ میں عربی ،فارسی اوراردو کی ۱۹۲ تاریخی،سوانحی اوربیشتر شعرا کے کلیات و دیوان پر مشتمل کتابیں ہیں ۔ان کے علاوہ مالک رام نے بہت سے رسائل و اخبارات اورانگریزی کتابوںسے بھی استفادہ کیا ہے۔
مالک رام نے کتا ب پر ۲۰؍ صفحات کا ایک وقیع مقدمہ بھی تحریر کیا ہے ۔یہ مقدمہ پانچ حصو ں میں منقسم ہے۔پہلے حصے میں بمبئی میں منعقدکانگریس کے اجلاس اور رفقا سمیت مولانا کی گر فتاری کا ذکر ہے۔مالک رام نے ’غبار خاطر‘کو خط کم اورمضمون زیادہ قراردیا ہے اورساتھ ہی مولانا حبیب الرحمان خاں شیروانی کے حالات زندگی پر روشنی ڈالی ہے ۔دوسرے حصے میں اس بات کی طرف توجہ مبذول کر ائی گئی ہے کہ مولانا آزاد کے ابتدائی حالات کا سب سے اہم ذریعہ’غبار خاطر‘ ہے۔’غبار خاطر‘کے اسلوب و انداز کا جائزہ لیتے ہوئے مالک رام لکھتے ہیں :
’’زبان و بیان کے لحاظ سے ان کے اسلوب نگارش کا نقطۂ عروج غبار خاطر ہے۔‘‘(مقدمہ۔ص:۱۴)
آگے مولانا کے مختلف خطوط کا موضوعاتی تجزیہ کر تے ہوئے ان کے فکاہی رنگ کا بھی بطور خاص ذکر کیاہے۔
تیسرے حصے میں مولانا کی جائے پیدایش مکہ مکرمہ،مکہ مکرمہ میں مولاناآزادکی دس سالہ تعلیم و تر بیت اوراس کے زیر اثر مولانا کی زبان پر عربیت کے گہرا رنگ وغیرہ کا ذکرکیا ہے۔یہاں مولانا کے استعمال شدہ ان الفاظ کا بھی تجزیہ کیا گیا ہے جو اب متروک ہیں اور املا کی اختلافی شکلوں کو بھی مالک صاحب نے بیان کیا ہے۔چوتھے حصے میں ’غبار خاطر‘کے دیگر نسخوںکی اشاعتوںاور پانچویں حصے میں مولانا آزاد کے خاص املائی اصول سے بھی بحث کی گئی ہے۔
حواشی میں مالک رام نے قرآنی آیا ت کے تر جمے اوران کی سورتوں اورپاروں کا تعین کیا ہے۔ خطوط میں مذکورہ اشخاص پر مختصر تعارفی نوٹ اورخطوط کے اجمال کی تفصیل بیان کی ہے لیکن حواشی کا بیشتر حصہ عربی،فارسی اوراردو اشعارکی چھان پھٹک،ان کے شعرا اور شعرا کے احوال پر مشتمل ہے۔
ان تمام مراحل سے گزرتے ہوئے مرتب کوسب سے زیادہ دقتوں کا سامنا اشعار کے حوالوں کی تلاش میں ہوئی ۔مالک رام تحریر کر تے ہیں :
’’غبار خاطر کی تر تیب میں مجھے سب سے زیادہ دقت مختلف کتابوںاوراشعار کے حوالوں کی تلاش میں ہوئی ہے۔‘‘ (مقدمہ۔ص:۲۴)
مولاناآزاد نے پوری کتاب میں تقریباً سات سو اشعار تحریر کیے ہیں جن میں ستّر اسّی اشعار کے حوالے اب بھی پردۂ خفا میں ہیں ۔مالک رام لکھتے ہیں:
’’پوری کتاب میں کوئی سات سوشعرہیں۔پوری کوشش کے باوجود ان میں سے ستّر اسّی اشعار کی تخریج نہیں ہو سکی۔ ‘‘ (مقدمہ۔ص:۲۴)
تذکرہ:
’تذکرہ‘ کو مولانا آزادکی خود نوشت سوانح کا مقدمہ سمجھنا چاہیے۔اس کے دوسرے حصے میں مولانا کے حالا تِ زندگی کی تفصیلات تھیں مگر افسوس کہ وہ حصہ ضائع ہو گیا۔اس کتاب کے بارے میں لوگو ںکا خیا ل ہے کہ اس میں مولانا آزاد کے اپنے حالات نہیں ہیں ۔ایک حد تک یہ بات صحیح ہے مگر مولانا کے پیش نظرمحض کسی کی زندگی کے اوراق عوام کے سامنے کھول دینا کافی نہیں تھا بلکہ مطالعۂ سیر ت سے مقصود انقلابِ فکراورقیام ملت تھا۔یہی وجہ ہے کہ انھوں نے ایسے ہی اصحاب دعوت و عزیمت کے حالات قلم بند کیے ہیں کہ ان میں ان کے خاندانی بزرگ شیخ جمال الدین دہلوی کے احوال بھی آگئے ہیں۔
اس کتاب کے معرض وجود میں آنے کا قصہ یوں ہوا کہ جب مولانا رانچی میں نظر بند ہوئے تو ان کے ایک قدیم دوست مرزا فضل الدین احمد پنجابی نے مولانا سے اپنی سرگزشت تحریر کر نے پراصرار کیااور مولانا اس پر آمادہ بھی ہو گئے۔
بقول مرزا فضل الدین:’’یہ جون ۱۹۱۶ء کی سے ۱۷؍ اکتوبر ۱۹۱۶ء کے درمیانی پانچ مہینے میں قلم بند ہوئی۔‘‘(مقدمہ۔ص:۱۸)
اس کتا ب کا دوسرا حصہ بھی فضل َ الدین صاحب ہی کی تحویل میں تھا لیکن ۱۹۲۲میں ان کے اچانک انتقال کی وجہ سے یہ قیمتی مسودہ ضائع ہو گیا۔بعد میں مولانا آزاد کی بسیار تلاش و جستجو کے بعد بھی اس کا سراغ نہ مل سکا۔(پیش لفظ۔ص:۸)
سید عبد القوی دسنوی نے لکھا ہے کہ’ تذکرہ‘ پہلی بار۱۹۶۸ء میں شائع ہوا۔(مالک رام:ایک مطالعہ۔ص:۳۱۳)
جو صحیح نہیں ہے بلکہ فضل الدین احمد نے پہلی بار کلکتہ سے ۱۹۱۹ء کے اواخرمیں اسے شائع کیا تھا۔ہاں!۱۹۶۸ء میں مالک رام کی تحقیق و تدوین کے ساتھ ساہتیہ اکیڈمی نے پہلی مرتبہ ضرورشائع کیا ۔ فی الوقع اسے دوسرا ایڈیشن قرار دیا جائے گا۔اس وقت ’تذکرہ‘ کی گیارھویں اشاعت( ۲۰۱۵)میر ے سامنے ہے۔
مالک رام کی تحقیق و تدوین کے بعد اس کتاب کی ضخامت ۵۴۲؍صفحات ہو گئی ہے جن میں ۳۴۳سے۴۸۲؍صفحات تک ۱۴۰؍صفحات پر مشتمل حواشی ہیں۔ بقیہ صفحات میں فہارس کے تحت اعلام،بلادو اماکن،آیات قرآنی،فہرست مراجع متن اوراخیر میں حواشی کے مآخذ درج ہیں ۔
حواشی کی ترتیب میں مالک رام نے اپنی پوری صلاحیت جھونک دی ہے ۔حیرت ہوتی ہے کہ اس سلسلے میں اردو کی ۵۵،فارسی کی ۳۹، عربی کی ۱۷۲،اور چار متفرق کتابوں سے انھوں نے استفادہ کیا ۔
چوں کہ مالک رام کو مولاناکا ذاتی نسخہ ہاتھ لگ گیا تھا جس میں مولانا نے خود اپنے قلم سے بہت سی اصلاحات کی ہوئی تھیں،اس لیے مالک صاحب کوکتاب مدون کر نے میں اس سے بڑی مدد ملی۔مالک رام نے حواشی کیا تحریر کیے ہیں یہ تو خود مستقل ایک کتاب ہے ۔اس میں تاریخ اور مختصر سوانح بھی ہے ۔قرآن و حدیث کی تخریج دیکھ کر تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ برسوں در سِ حدیث کی مسند پر متمکن رہے ہوں اورجب حدیث کی حیثیت پر بحث کر تے ہیں تو ایسا لگتا ہے گویافن اسماء الرجال کے ماہر ہوں۔
بہت سے مقامات پر قرآنی آیات و احادیث کے نقل کر نے میں مولانا آزاد سے چوک ہوئی تومالک رام نے حوالے کے ساتھ اس کی مکمل نشان دہی کی اور اسے درست کیا ۔اشعار کے مآخذ، قرآنی آیات اورعربی عبارات کے ترجمے کا بھی اہتمام کیا ہے۔کتاب کے شروع میں بارہ صفحات کا ایک قابل ذکر مقدمہ بھی مالک رام نے تحریر کیا ہے جس میں’الہلال‘و ’البلاغ‘ کے آغاز و انجام کی روداد،اس وقت کی سیاسی صورت حال،مرزا فضل الدین احمد سے دوستی کا قصہ،کتاب کی تصنیف کا محرک، تاریخ تصنیف،مدت تصنیف،مولانا آزاد کی چندنایاب تصنیفات کی فہرست وغیرہ کی تفصیلات درج کی ہیں۔مالک رام نے اس کتاب کے اسلوب کو ’الہلال ‘و ’البلاغ‘کے اسلوب سے قریب تر قراردیا ہے۔لہجہ مبلغانہ اورداعیانہ ہے،اردو زبان عربی و فارسی الفاظ سے بوجھل ہے۔مقصد تصنیف کو واضح کر تے ہوئے مالک رام لکھتے ہیں:
’’پوری کتاب کا مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان اکابر کا جانشین خیال کر تے ہیں جن کی عزیمت ِدعوت کو وہ دنیا کے سامنے عموماًاورمسلمانوں کے سامنے خصوصاًبطور نمونہ و اسوہ پیش کر رہے ہیں۔‘‘(پیش لفظ۔ص:۱۰۔۱۱)
اخیر میں کتاب کی املائی اصلاحات پر بحث کی ہے اوراس کی درستگی بھی کی ہے۔
خطبات آزاد:
مولانا آزاد جہاں ایک ممتاز عالم دین،مجاہد آزادی ،بے باک صحافی اورصاحب طرز انشا پر داز تھے وہیں ایک شعلہ بیان مقرر اورخطیب بھی تھے۔ساہتیہ اکیڈمی کے پیش نظر مولانا آزادکی دیگر تحریروں کی تدوین و تر تیب کے بشمول خطبات کی جمع و ترتیب بھی تھی۔اسی منصوبے کے تحت مالک رام نے مولانا آزاد کے پندرہ خطبات پر مشتمل ’خطبات آزاد‘کی تحقیق و تر تیب کاکارنامہ بھی انجام دیا۔مالک رام نے نہ صرف یہ کہ مولانا آزادکے قیمتی خطبات کو یکجا کر دیا بلکہ یہاں بھی انھوں نے ’تذکرہ‘اور’غبار خاطر‘کی طرح تحقیق و تدوین کے متعلقہ اصولوں کو اپناتے ہوئے حواشی و فہارس کی ترتیب کا کام بھی بڑی عرق ریزی سے انجام دیا۔
ابو سلمان شاہ جہاں پوری کے مطابق اس سے قبل بھی مولانا آزاد کے خطبات کے ایک درجن کے قریب مجموعے وقفے وقفے سے شائع ہوتے رہے ہیں ۔ انھوں نے ’اسپیچز آف مولاناآزاد‘کو سب سے اہم مجموعہ قراردیا ہے۔
ان خطبات کی ترتیب و انتخاب میں کسی خاص طریقۂ کار کے بتانے سے مالک رام خاموش نظر آتے ہیں۔۴۳۶؍صفحات پر مشتمل اس مجموعے میں ۵۵؍صفحات پر حواشی درج ہیں ۔بقیہ ۲۶؍ صفحات پر فہارس مذکور ہیں۔یہاں بھی اعلام،بلاد واماکن،متن میں درج کتب و رسائل کا اشاریہ اورماخذِحواشی کے تحت عربی،فارسی اوراردو کی ۴۱؍کتابوںاورچھ انگریزی کتابوں سے استفادے کا ذکر ہے۔
’غبار خاطر‘اور’تذکرہ‘کے مقابلے’ خطبات آزاد‘ کا مقدمہ بہت مختصر صرف چھے صفحے کاہے ۔تاہم مالک رام نے خطبات سے متعلق جو ضروری معلومات بہم پہنچائی ہیںوہ کافی ہیں۔مقدمے میں انھوں نے خطابت کی تاریخ ،ان کے اجزائے ترکیبی، مولانا آزاد کے خطبات کے رنگ وغیرہ کا ذکر کرتے ہوئے مولانا کے اندر خطیب کے جملہ اوصاف کو یوں بیان کیا ہے:
’’ان کے علم و فضل اورعربی و فارسی پر قدرت کے سب معترف ہیں ،طلاقتِ زبان اورقو ت بیان کے ساتھ انھیں بے مثال حافظے کی نعمت بھی حاصل تھی اوریہی چیزیں کامیاب اورموثر خطابت کے اجزائے تر کیبی ہیں۔‘‘(مقدمہ۔ص:۷)
مولانا آزاد کے اندر خطابت کا جر ثومہ بچپن ہی سے موجودتھا۔وہ سات آٹھ سال کی عمر میں اپنے کھیل میں بھی تقریر کیا کر تے تھے۔مولانا اپنے خطبات میں جہاں اپنے علم و ذہانت کاخوب خوب فائدہ اٹھا تے تھے وہیں مخاطب کے فہم وادراک کے مطابق اپنی زبان اورلہجے کو آسان اورآسان تر کر لینے پر پوری قدرت رکھتے تھے۔مالک رام نے لکھا ہے :
’’آپ دیکھیں گے کہ تکلموا الناس علی قدر عقولہم کے مصداق وہ اپنے سامعین کے مطابق زبان بھی بدل لیتے ہیں۔‘‘(مقدمہ۔ص:۹)
مذکورہ تینوں کتابوں کی تحقیق و تدوین کے پیش نظر جناب مالک رام کے مطالعے کی وسعت و گہرائی،قرآن و حدیث،تفسیر و فقہ،اسمائے رجال،تاریخ اور ادب میں ان کا قد کس قدربلند تھااس کا صحیح اندازہ متعلقہ حواشی سے لگایا جا سکتا ہے، وہ حواشی کیا علم و معلومات کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہیں۔لسانیات پر بھی ان کی گہری نظر تھی ۔مالک رام کی زبان بھی انتہائی سہل اوررواں ،انداز نگارش واضح اورمعتدل ہے ۔ حواشی کے اسلوب و لہجے سے وہ محض مالک رام نہیں بلکہ مولانا مالک رام معلوم ہوتے ہیں۔
آزاد شناسی اورمولانا آزاد تحقیق و تنقید میں مالک رام کی حیثیت مسلّم ہے۔مولانا آزاد پر جوں جوںتحقیق کا سلسلہ آگے بڑھے گا ،مالک رام کے نام و کام کی بھی قدر و منزلت دو چند ہوتی جائے گی اورجب تک مولانا کی تحریرو ں کے مطالعے کا سلسلہ جاری رہے گا مالک رام بھی اہل علم و ادب کے ذہن و دماغ پر جگمگاتے رہیں گے۔
مراجع :
۱-غبار خاطر مولانا ابوالکلام آزاد۔ساہتیہ اکادمی۔نئی دہلی(۲۰۱۵ء)تیرھواں ایڈیشن
۲-تذکرہ مولانا ابوالکلام آزاد۔ساہتیہ اکادمی۔نئی دہلی (۲۰۱۵ء)گیارھواںایڈیشن
۳-خطبات آزاد مولانا ابوالکلام آزاد۔ساہتیہ اکادمی۔نئی دہلی (۲۰۱۵ء)ساتواں ایڈیشن
۴-مالک رام :ایک مطالعہ۔مرتب علی جواد زیدی،مکتبہ جامعہ نئی دہلی (۱۹۸۶ء)پہلا ایڈیشن
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

