مولانا ابو الکلام آزاد کی شخصیت جامع الکمالات تھی۔وہ گونا گوں اوصاف اورمحاسن جن سے ان کی ذات متصف تھی، شاذ ہی کسی ایک شخص میں مجتمع ہوتے ہیں۔ علم و فضل، دین افکار، فلسفہ و حکمت، شعر و نغمہ ، تصنیف و تالیف غرض کون سا دائرہ یا کون سا حلقہ ہے جس میں وہ فرو فرید نہ تھے۔ انھوں نے زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنی راہیں الگ منتخب کیں ۔روشِ عام پر چلنا ان کے مزاج کے خلاف تھا۔ کسی کی تقلید کرنا انھوں نے کبھی منظور نہیں کیا۔انھیں اپنی ا س خود بینی کا احساس بھی تھا۔اس لیے انھوں نے اپنے تشخص کو قائم رکھنے کے لیے اپنی تحریروں اور تقریروں میں مخاطب کو احساس دلایا کہ ا ن کی ذہنی سطح ، ان کا شعور ، ان کا علم ، ان کی پسند و نا پسند ، ان کا ذوق سبھی کچھ عام انسانوں سے مختلف ہے۔ اس انفرادیت کا احساس خود ابو الکلام آزاد کو کس درجہ تھا اس کا اندازہ ان کے اس بیان سے لگایا جا سکتا ہے۔
’جس حال میں رہے نقص اور ناتمامی سے دل کو گریز رہا اور شیوہ تقلید اور روش عام سے پرہیز۔ جہاں کہیں رہے اورجس رنگ میں رہے کبھی کسی دوسرے کے نقشِ قدم کی تلاش نہ ہوئی۔اپنی راہ خود ہی نکالی اور دوسروں کے لیے اپنا نقش قدم چھوڑا۔‘ (تذکرہ ابو الکلام آزاد ، ص ۳۲۹)
مولانا آزاد کی شخصیت کی تشکیل بلند نظری ،درد مندی اور عظمت کے عناصر سے ہوئی ہے۔ عظمتِ نفس کے احساس نے انھیں تقلید سے بچا کر اپنی انفرادیت قائم رکھنے پر اکسایا۔ ان کی انفرادیت انھیں ذہنی سطح سے نیچے نہیں آنے دیتی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی آواز بالکل منفرد نظر آتی ہے۔
مولاناابو الکلام آزاد کو عربی ، فارسی ،اردو اور انگریزی پر عبور حاصل تھا ۔ علم اور فن کے مختلف شعبوں سے انھیں طبعی مناسبت تھی۔ علم کے اکثر شعبوں میں انھوں نے مستقل یا دگار چھوڑی ہیں جنھیں آج بھی قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھاجا سکتا ہے۔
ابو الکلام آزاد کی زندگی او ر علمی کارناموں پر متعدد کتابیں اور بے شمار مضامین لکھے گئے ہیں ۔ بہت کم ایسے لوگ ہیں جن کے متعلق ان کی زندگی میں اور بعد میں اتنا کچھ لکھا گیا ہو مگر افسوس اس بات کا ہے کہ ابو الکلام کا موسیقی سے شغف اور اس فن میں مہارت کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں تحریر کیا گیا جبکہ ابو الکلام آزاد ایک کتب فروش خدا بخش کی دکان پر جایا کرتے تھے۔ جہاں ایک دن فقیر اللہ سیف خاںکی’ راگ درپن‘ کے ایک نسخہ پر ان کی نظرپڑی جسے وہ شوق سے دیکھنے لگے کہ اچانک مسٹر ڈینسن راس آگئے جو مدرسۂ عالیہ کے پرنسپل تھے۔ انھوں نے جب کمسن لڑکے کو فارسی میں فن موسیقی سے متعلق کتاب پڑھتے ہوئے دیکھا تو بہت متعجب ہوئے اور ابو الکلام سے اس کتاب کے متعلق دریافت کیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ ابو الکلام آزاد نے کتاب میں لکھے الفاظ تو پڑھ لیے مگراس کامطلب نہ سمجھ سکے۔ یہ با ت مولانا آزادکے د ل کو لگی اور اس کے بعدہی ان کے دل میں موسیقی سیکھنے کا شوق پیدا ہوا۔
’میں نے کتاب لے لی اور گھر آکر اسے اوّل سے آخر تک پڑھ لیا لیکن معلوم ہواکہ جب تک موسیقی کی مصطلحات پر عبور نہ ہو اور کسی ماہر فن سے اس کی مبادیات سمجھ نہ لی جائیں، کتاب کا مطلب سمجھ میں نہیں آسکتا۔۔۔۔ اور خیال ہوا کہ کسی واقف کار سے مدد لینی چاہیے ۔۔۔۔ میرا خیال مسیتا خاں کی طرف گیا اور اس سے اس معاملہ کا ذکر کیا۔۔۔۔ تو بہت خوش ہوا کہ مرشد زادہ کی نظر توجہ اس کی طرف مبذول ہوئی ہے لیکن ا ب مشکل یہ پیش آئی کہ یہ تجویز عمل میں لائی جائے تو کیسے! گھر میں جہاں ہدایہ اور مشکوٰۃ کے پڑھنے والوں کا مجمع رہتا تھا۔ سا ، رے ، گا ، ما ،کی سبق آموزیوں کا موقع نہ تھااوردوسری جگہ بالالتزام جانا اشکال سے خالی نہ تھا۔ بہرحال اس مشکل کا حل نکال لیاگیا اور ایک رازدار مل گیا جس کے مکان میں نشست و برخاست کا انتظام ہو گیا ۔ پہلے ہفتہ میں تین دن مقررکیے تھے۔ پھر روزسہ پہر کے و قت جانے لگا۔ مسیتا خاں پہلے سے وہاں موجود رہتا اوردو تین گھنٹے تک موسیقی کے علم و عمل کا مشغلہ جاری رہتا۔ ‘ (غبارِ خاطر از ابوالکلام آزاد، ص ۲۵۶)
ابو الکلام آزادکے لیے مشکل یہ تھی کہ ان کے گھر کاماحول ایسانہ تھاجہاں وہ فنِ موسیقی سیکھ سکیں ۔اس کے لیے انھیں ایک رازدارمل گیا مسیتا خاں ، جو اُن کے وا الد کے مرید تھے ۔آزاد، ان کے مکان پر موسیقی کا درس لینے لگے۔ موسیقی کے آلات میں سب سے زیادہ ا ن کی توجہ کا مرکز ستار بنا جس میں انھوں نے مہارت حاصل کی۔ یہاں تک کہ جب رات کا پچھلا پہر شروع ہوتا تواس وقت بھی وہ ستار بجاتے اورستار لے کر تاج محل چلے جاتے جس کا ذکر مولانا آزاد نے اپنے ان الفاظ میں کیا ہے:
’ اپریل کا مہینہ تھا اور چاندنی کی ڈھلتی ہوئی راتیں تھیں ۔ جب رات کی پچھلی پہر شروع ہونے کو ہوتی تو چاند پردۂ شب ہٹا کر یکایک جھانکنے لگتا۔ میں نے خاص طور پر کوشش کرکے ایسا انتظام کر رکھا تھا کہ رات کو ستار لے کر تاج چلا جاتا اور اس کی چھت پر جمنا کے رُخ بیٹھ جاتا۔ پھر جیوں ہی چاندنی پھیلنے لگتی، ستار پر کوئی گت چھیڑ دیتا اور اس میں محو ہو جاتا۔ کیا کہوں اور کس طرح کہوں کہ فریب تخیل کے کیسے کیسے جلوے انھی آنکھوں کے آگے گذر چکے ہیں ۔‘ (غبارِ خاطر، ص ۲۵۸)
ابو الکلام آزاد کی خوبی یہ ہے کہ وہ عام اور معمولی بات میں بھی ایک لطف اور دلچسپی کا پہلوپیدا کر دیتے ہیں ۔انھوں نے چاند نکلنے کا ذکر نہایت خوبصورت انداز میں کیا ہے۔ موسیقی کی مناسبت سے ماحول بھی ویسا ہی رومانی بنایا ہے۔ چاندنی رات میں جمنا ندی کے رُخ پر بیٹھنا اور وہ بھی تاج محل کی چھت پر۔
مولانا آزاد کو موسیقی سے دلچسپی تھی۔ موسیقی سے اپنے شغف کے متعلق دوسری جگہ لکھتے ہیں:
’میں نے بارہا اپنی طبیعت کو ٹٹولا ہے۔ میں زندگی کی احتیاجوں میں سے ہر چیز کے بغیر خوش رہ سکتا ہوں ۔ آوازِ خوش میرے لیے زندگی کا سہارا، دماغی کاوشوں کا مُداوا اور جسم و دل کی سا ری بیماریوں کا علاج ہے۔۔۔۔
مجھے اگر آپ زندگی کی رہی سہی راحتوں سے محروم کر دینا چاہتے ہیں تو صرف اس ایک چیز سے محروم کر دیجیے۔آپ کا مقصد پورا ہو جائے گا۔ یہاں احمد نگر کے قید خانہ میں اگر کسی چیز کا فقدان مجھے ہر شام محسوس ہوتا ہے تو وہ ر یڈیو سیٹ کا فقدان ہے۔‘ (غبارِ خاطر،ص ۲۵۸)
آواز خوش مولانا آزاد کے لیے زندگی کا سہارا تھی۔ دماغی الجھنوں کو دور کرنے کا ایک ذریعہ اور دل و دماغ کی بیماریوں کا واحد علاج ۔ مولانا آزاد زندگی کی سبھی راحتوں کے بغیر خوش ر ہ سکتے تھے، سوائے موسیقی کے۔ انھیں قید خانہ میں اگر کسی شے کی کمی کااحساس ہوتا تھا تو فقط موسیقی کا۔
مولانا ابو الکلام آزاد نے موسیقی اور شعر و نغمہ کو باہم ملا دیا ہے۔وہ موسیقی اور شعر ونغمہ کو ایک سکہ کے دو پہلو سمجھتے تھے۔ لکھتے ہیں :
’حقیقت یہ ہے کہ موسیقی اور شاعری ایک ہی حقیقت کے دو مختلف جلوے ہیں اور ٹھیک ایک ہی طریقہ پر ظہور پذیر بھی ہوتے ہیں۔موسیقی کا مؤلف الحان کے اجزاْء کو وزن و تنا سب کے ساتھ ترکیب دے دیتا ہے۔ اسی طرح شاعر بھی الفاظ و معانی کے اجزاء کو حسن ترکیب کے ساتھ باہم جوڑ دیتا ہے۔
تو حنا بستی و من معنی رنگیں بستم
جو حقائق شعر میں الفاظ و معانی کا جامہ پہن لیتے ہیں ، وہی موسیقی میں الحان و ایقان کا بھیس اختیار کر لیتے ہیں ۔ نغمہ بھی ایک شعر ہے لیکن اسے حرف و لفظ کا بھیس نہیں ملا، اس نے اپنی روحِ معنی کے لیے نواؤں کا بھیس تیار کر لیا۔۔۔۔ یہ کیا بات ہے کہ بعض الحان درد و الم کے جذبات برانگیختہ کر دیتے ہیں ، بعض کے سننے سے مسرت و انبساط کے جذبات اُمنڈنے لگتے ہیں ۔ بعض کی لے ایسی ہوتی ہے جیسے کہہ رہی ہو کہ زندگی اور زندگی کے سارے ہنگامے ہیچ ہیں ۔ بعض کی لے ایسی محسوس ہوتی ہے جیسے اشارہ کر رہی ہو کہ
یاراں !صلائے عام ست ، گرمی کنید کارے
یہ وہی معانی ہیں جو موسیقی کی زبان میں اُبھرنے لگتے ہیں ۔ اگر یہ شعر کا جامہ پہن لیتے ہیں تو کبھی حافظ کا ترانہ ہوتا، کبھی خیام کا زمزمہ ،کبھی شیلے کی ماتم سرائیاں ہوتیں ، کبھی ورڈس ورتھ کی حقائق سرائیاں۔‘ (غبارِ خاطر، ص ۲۶۵)
ابو الکلام آزاد نے موسیقی اور شاعری کی حقیقت کو ایک ہی قرار دیا ہے۔ جس طرح شعر الفاظ کے باہم وزن و تناسب سے بنتا ہے ۔ اسی طرح موسیقی بھی باہم وزن اور تناسب سے ترکیب پاتی ہے۔ جس طرح شعر کو سننے کے بعد ہمارے دل میں خوشی یا غم کے جذبات پیدا ہوتے ہیں ۔اسی طرح موسیقی کی مختلف لے اورسروں کو سننے کے بعد دل میں خوشی اور غم کے جذبات اُبھرتے ہیں۔ خوش آہنگ لے سننے کے بعد انسان کے دل میں جوش و ولولہ پیدا ہوتا ہے اور غمگین لے سننے کے بعد انسان بھی افسردہ ہو جاتا ہے۔
مولانا آزاد کو موسیقی کے فن میں اس قدردلچسپی تھی کہ وہ ہندوستانی راگ کے ساتھ یونانی راگوں سے بھی واقف تھے۔ ایک جگہ لکھتے ہیں :
’کافی تصریحات موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ یونان کے فنِ موسیقی پر عربی میں کتابیں لکھی گئیں ۔۔۔۔یو نانیوں نے آسمان کے بارہ فرضی بُرجوں کی مناسبت سے راگنیوں کی بارہ بنیادی تقسیمیں کی تھیں اور ہر راگنی کو کسی ایک بُرج کی طرف منسوب کر دیا تھا۔ عربوں نے بھی اسی بنیاد پر عمارت اٹھائی ۔ یونان اور روم کے آلات میں قانون پر ایک ارغنوں (آرگن) عام طور پر رائج ہو گئے تھے۔ ابو نصر فارابی نے قانون پر ایک مستقل رسالہ بھی لکھا ہے۔ اخوان الصفا کے مضمون کو بھی موسیقی سے اعتنا کرنا پڑا۔‘ (غبارِ خاطر، ص ۲۶۷)
اقتباس کے مطالعے کے بعد یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ مولانا آزاد نے یونانی راگوں کا بھی باریک بینی سے مطالعہ کیا تھا۔ راگ سے متعلق معلومات اور فنِ موسیقی سے متعلق کتا بیں انھیں ازبر تھیں ۔ توجہ طلب بات یہ ہے کہ مولانا آزاد نے یہ تحریر قید خانے میں اپنے حافظے کی مددسے لکھی ہے ۔ امیر خسرو کے بارے میں ایک جگہ لکھتے ہیں :
’چنانچہ ساتویں صدی میں امیرخسرو جیسے مجتہدِ فن کا پیدا ہونااس حقیقت حال کا واضح ثبوت ہے۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اب ہندوستانی مو سیقی ہندوستانی مسلمانوں کی موسیقی بن چکی تھی ا ور فارسی موسیقی غیر ملکی سمجھی جانے لگی تھی۔ساز گریؔ،ایمن ؔاور خیالؔ تو امیر خسرو کی ایسی مجتہدانہ اختراعات ہیں کہ جب ہندوستانیوں کی آوازمیں رس اورتار کے زخموں میں نغمہ ہے، د نیاا ن کا نام نہیں بھول سکتی۔۔۔۔قولؔ،ترانؔ، سوہلہؔتو گانے کی ایسی عام چیزیں بن گئی ہیں کہ ہر گویّے کی زبان پرہیں ۔حالانکہ یہ سب اسی عہد کی اختراعات ہیں ۔‘ (غبارِ خاطر، ص ۲۶۸)
اس اقتباس کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ مولانا آزاد نے موسیقی ، اس کی تاریخ اور فن کا گہرا مطالعہ کیا تھا ۔ انھوں نے اپے خط میں البیرونی ، اکبر اور اور نگ ز یب کے عہد میں موسیقی کے ارتقا اور اس کے اثرات پر تفصیل سے بحث بھی کی ہے۔ لکھتے ہیں:
’یہ خیال کہ جانور گانے سے متاثر ہوتے ہیں، دنیا کی تمام قوموں کی قدیمی روایتوں میں پایا جاتا ہے۔تورات میں ہے کہ حضرتِ داؤد کی نغمہ سرائی پرندوں کو بے خود کر دیتی تھی۔۔۔۔قدماے ٔ فن نے تو اسے ایک مسلّمہ حقیقت مان کر اپنے بے شمار علمیات کی بنیادیں اسی عقیدہ پر استوار کی تھیں ۔سانپ، گھوڑے اوراونٹ کا تاثرعام طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔ حدی کی لے اگر رک جاتی ہے تو محمل کی تیز رفتاری بھی رک جاتی ہے۔
البیرونی نے کتاب الہند میں راگ کے ذریعے شکار کرنے کے طریقوں کا ذکر کیا ہے۔ وہ خود اپنا مشاہدہ نقل کرتا ہے کہ شکاری نے ہر ن کو ہاتھ سے پکڑ لیا تھا اور ہرن میں بھاگنے کی قوت باقی نہیں رہی تھی۔ وہ ہندوؤں کا یہ قول بھی نقل کرتا ہے کہ اگر ایک شخص اس کام میں پوری طرح ماہر ہو تو اسے ہاتھ بڑھا کر پکڑنے کی بھی ضرورت پیش نہ آئے۔وہ صید کو جس طرف لے جانا چاہے صرف اپنے راگ کے زور سے لگائے لے جائے۔ پھر لکھتا ہے جانوروں کی اس محویت و تسخیر کو عوام تعویذ اور گنڈے کا اثر سمجھتے ہیں حالانکہ یہ محض گانے کی تاثیر ہے۔‘ (غبارِ خاطر، ص ۲۸۱)
موسیقی سننے کے بعد جانور اور پرندے بھی بے خود ہو جاتے ہیں اور شکار کرنے والے کے پاس خود بخود چلے آتے ہیں جسے لوگ جادو سے تشبیہ دیتے ہیں ۔ یہ کوئی جادو نہیں بلکہ موسیقی کا اثر ہے جسے مصنف نے ثابت بھی کیا ہے کہ اگر حدی کی لے رک جاتی تھی تو ریگستان میں چلنے والے اونٹوں کی رفتار بھی ازخود سست ہو جاتی تھی۔
اکبر اور جہانگیر کی قدر شناسیاں موسیقی کے متعلق کافی مشہور ہیں۔ جہانگیر کے عہد میں جس پائے کے موسیقی کا ر جمع ہوئے وہ شاید ہی کسی عہد میں ہوئے ہوں۔ اس زمانے میں لوگوں کا موسیقی سے شغف اتنا بڑھ گیا تھا کہ ہر شخص اس میں مہارت حاصل کرنا چاہتا تھا۔مولانا آزاد لکھتے ہیں:
’اس عہد میں یہ بات ہوئی کہ موسیقی کا فن بھی فنون دانشمندی میں داخل ہو گیا اور اس کی تحصیل کے بغیر تحصیل علم اور تکمیلِ تہذیب کا معاملہ ناقص سمجھتا جانے لگا۔امراء اور اشرفاء کی اولاد کی تعلیم و تربیت کے لیے جس طرح تمام فنونِ مدراس کی تحصیل کااہتمام کیا جاتا تھا، اسی طرح موسیقی کی تحصیل کا بھی اہتمام کیا جاتا۔ملک کے ہر حصے سے باکمالانِ فن کی مانگ آتی تھی اور دہلی، آگرہ، لاہور اور احمد آباد کے گویّے بڑی بڑی تنخواہوں پر امراء اور شرفا ء کے گھروں میں ملازم رکھے جاتے تھے۔ جو نوجوان تکمیلِ علم کے لیے بڑے شہروں میں آتے وہ وہاں کے عالموں اور مدرسوں کے ساتھ وہاں کے باکمالانِ موسیقی کو بھی ڈھونڈتے اور پھر ان کے حلقہ تعلیم میں زانوے تحصیل تہہ کرتے۔‘ (غبارِ خاطر، ص ۲۷۰)
موسیقی جسے مخصوص اخلاقی نظام میں ایک بازاری چیز سمجھا جاتا تھا ۔ جہانگیر کے عہد میں وہ شرفا کے گھروں میں سیکھی اور سکھائی جانے لگی۔
مولانا آزاد نے صوفیوں کی موسیقی سے دلچسپی ، موسیقی کی اہمیت اور اس علم کی منزلت کا ذکر بھی کیا ہے۔
’شیخ عبدالواحد بلگرامی شیر شاہی عہد کے ایک عالی قدر بزرگ تھے۔ سلوک و تصوف میں ان کی کتاب سنابلؔ مشہور ہو چکی ہے۔ بدایونی ان کے حالات میں لکھتے ہیں کہ ہندی موسیقی میں نقش آرائیاںکرتے تھے اوروجد و حال کی مجلسیں اُن سے گرم ہوتی تھیں ۔‘ (غبارِ خاطر،ص ۲۷۲)
غرض مولانا آزاد نے بادشاہوں سے لے کر صوفیوں تک کی موسیقی میں رغبت کا ذکر کیا ہے ۔ مولانا آزاد کی موسیقی سے غیر معمولی دلچسپی تھی۔ وہ اپنے اس ذ وق کی تسکین کی خاطر کیا کیا کرتے اور خود پر کس طرح کی کیفیت طاری کرتے تھے، اس کا کسی قدر اندازہ درج ذیل اقتباس سے بھی ہوتا ہے:
’رات کا سناٹا، ستاروں کی چھاؤں ، ڈھلتی چاندنی اور اپریل کی بھیگی ہوئی رات، چاروں طرف تاج کے مناریہ سر اُٹھائے کھڑے تھے۔ بُرجیاں دم بخود بیٹھی تھیں۔ بیچ میں چاندنی سے دھلاہوا مرمریں گنبد اپنی کرسی پر بے حس و حرکت متمکن تھا۔ نیچے جمناکی روپہلی جدولیں بل کھا کھاکر دوڑ رہی تھیں اور اوپر پرستاروں کی ان گنت نگاہیں حیرت کے عالم میں تک رہی تھیں۔ نور و ظلمت کی اس ملی جلی فضا میں اچانک پردہ ہائے ستار سے نالہ ہائے بے حرف اُٹھتے اور ہوا کی لہروں پر بے روک تیرنے لگتے۔ آسمان سے تارے جھڑ رہے تھے اور میری انگلی کے زخموں سے نغمے۔‘ (غبارِ خاطر، ص ۲۵۹)
رات خاموش تماشائی بنی ہوئی مولانا آزاد کی بے خودی اور وارفتگی کے نظارے میں محو ہے۔ تارے اس محویت پر حیرت زدہ اور جمنا کی لہر میں رقص کناں ہیں۔
مولانا آزاد کو موسیقی سے بچپن ہی سے شغف تھا۔ وہ موسیقی کے بغیر زندگی کو بے کیف قرار دیتے تھے جس کا اظہار انھوں نے کئی موقعوں پر کیا ہے۔ ایک جگہ لکھتے ہیں:
’جس کوچہ میں بھی قدم اٹھایا۔ اسے پوری طرح چھان کر چھوڑا۔۔۔۔ چنانچہ اس کوچہ میں بھی قدم رکھا ، تو جہاں تک راہ ملی ،قدم بڑھائے جانے میں کوتاہی نہیں کی۔ ستار کی مشق چار پانچ سال تک جاری رہی تھی، بین سے بھی انگلیاں نا آشنا نہیں رہیںلیکن زیادہ دلبستگی اس سے نہ ہو سکی۔ پھر اس کے بعد ایک وقت آیا کہ یہ مشغلہ یک قلم متروک ہو گیا اور اب تو گذرے ہوئے وقتوں کی صرف ایک کہانی باقی رہ گئی ہے۔البتہ انگلی پر سے مضراب کا نشان بہت دنوں تک نہیں مٹا تھا۔
اب جس جگہ کہ داغ ہے، یاں پہلے درد تھاـ‘
(غبارِ خاطر، ص۲۵۷)
اس مختصر جائزے کے بعد کہا جا سکتا ہے کہ مولانا ابو الکلام آزاد موسیقی میں بھی کسی ماہر فن سے کم نہیں تھے۔ وہ اس فن کی تاریخ اور اس کی نزاکتوں سے پوری طرح واقف تھے۔ یہ اور بات ہے کہ ان کی قومی اور سیاسی مصروفیات نے انھیں اس فن پر پوری توجہ دینے کا موقع نہیں دیا۔ مولانا آزاد کی خوش ندائی، ان کی تحریر کی شگفتگی، شعر و ادب سے ان کا گہرا شغف اور روزمرہ کے معمولات میں خوش سلیقگی دراصل ان کی فطری موزونیت اور خوش آہنگی کے غماز ہیں۔
ڈاکٹرحنا آفریں
اسسٹنٹ پروفیسر
اکادمی برائے فروغ استعدادِ اردو میڈیم اساتذہ
جامعہ ملیہ اسلامیہ۔ نئی دہلی
مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

